28/09/2024
شیخ وقاص اکرم:
"عمران خان کی رہائی کے لیے دو ہی آپشن ہیں ایک یہ کہ عدالتیں آزادی سے فیصلہ کریں اور تمام جعلی کیس اڑا دیں۔۔
جبکہ دوسرا یہ کہ ہم شدید عوامی دباؤ پیدا کر دیں۔۔
جبکہ تیسرا آپشن جو نہ عمران خان کو قبول ہے اور اور نہ ہی ہم سب کو۔۔ وہ ہے مذاکرات کے ذریعے خان باہر نکلے۔۔
عمران خان کی رہائی کے لیے جس لیول کے احتجاج کی ضرورت ہے۔۔ بھرپور فسطائیت کے سبب ہم اس لیول تک احتجاج نہیں کر پائے۔۔ لیکن اب ہم احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر رہے ہیں۔۔
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے سارے کے سارے ایم این ایز کو احتجاج کرنے سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔۔ ہم بلکل یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے ایم این ایز کو احتجاج کے دوران گرفتار کر لیا جائے۔۔ (اور دوران حراست انکو آئینی ترامیم میں ووٹ کیلئے مجبور کیا جائے)۔۔ ہم نہیں چاہتے کہ این این ایز محفوظ مقامات سے باہر نکلیں۔۔ اس لیے ہم نے سارے ایم این ایز کو احتجاج سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔۔
ہم نے احتجاج کے لیے ایم پی اے کے یونٹس کا انتخاب کیا ہے۔۔ ہدایات ہیں کہ ہر حلقے سے ایم پی اے لوگ لے کر آئیں۔۔ اور یوتھ کو زیادہ سے زیادہ ایکٹو کریں۔۔
پنجاب میں گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں۔۔ ہمارے بہت سے لوگ پہنچ چکے ہیں۔۔ ایک پوائنٹ کا انتخاب کر رہے ہیں۔۔ وہاں سے ایک ساتھ 2 بجے لیاقت باغ کی طرف روانگی کریں گے ۔ اس دوران چاہے گرفتاریاں ہوں یا شیلنگ۔۔ ہم لیاقت باغ پہنچیں گے"۔