Pakistan ISI

Pakistan ISI اس پیج کا فوج یا آئی ایس آئی اور کسی بھی سرکاری اداروں سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ صرف محب وطنی پر بنایا گیا ہے

08/04/2026
05/04/2026

ایران نے امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ جیٹ ایف-35 کو کیسے نشانہ بنایا؟
2 دن قبل
ایران نے وہ طریقہ کیسے ڈھونڈ نکالا، وہ کمزور کڑی کیسے پکڑی، جو روس اور چین جیسے ایڈوانسڈ بھی نہ ڈھونڈ سکے؟

ایران نے 19 مارچ کو امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ایف-35 کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کردیا تھا۔ جس کے بعد ہر نیوز چینل پر یہی ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر دنیا کے اس جدید ترین جنگی جہاز، جسے روس کے اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار سسٹم بھی نہیں دیکھ پاتے، اسے ایران کے ایک معمولی سے میزائل نے کیسے ڈھونڈ نکالا؟

لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کا تیار کردہ ایف-35 لائٹننگ ٹو ففتھ جنریشن ایوی ایشن سسٹم بے تاج بادشاہ ہے۔ امریکا نے اس جہاز کے ڈیزائن پر 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے تاکہ یہ دشمن کے ریڈار کو چکمہ دے کر خاموشی سے اس کے علاقے میں داخل ہو سکے۔

اس طیارے کا بنیادی کام دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنا اور آسمانوں پر اپنی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ دنیا کی سب سے جدید اور انتہائی خفیہ ’اسٹیلتھ ٹیکنالوجی‘ استعمال کرتا ہے۔

گزشتہ آٹھ سالوں سے یہ جہاز مسلسل جنگی مشن مکمل کرتا آرہا ہے، لیکن اسے کبھی ایک خراش تک نہیں آئی۔

تو پھر بڑا سوال یہ ہے ایران نے وہ طریقہ کیسے ڈھونڈ نکالا، وہ کمزور کڑی کیسے پکڑی، جو روس اور چین جیسے ایڈوانسڈ بھی نہ ڈھونڈ سکے؟

یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم سمجھیں موجودہ دور میں طیارہ شکن میزائل کام کیسے کرتے ہیں۔

آج کل طیارہ شکن نظام میزائل کی رہنمائی کے لیے دو طریقے ریڈار اور حرارت کی شناخت (Heat-seeking) استعمال کرتے ہیں۔

اب ایف-35 ریڈار کو چکمہ دینے میں تو ماہر ہے ہی، کیونکہ اس کی مخصوص ساخت اور ریڈار جذب کرنے والے مواد کی وجہ سے یہ ریڈار اسکرین پر ایک ننھے سے پرندے جتنا نظر آتا ہے۔ روسی ساختہ ایس-300 اور ایس-400 جیسے مہنگے ترین سسٹم بھی اس پر لاک نہیں کر پاتے۔

لیکن ہر چیز کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے، اور ایف-35 کی کمزوری اس کا انجن ہے۔

ایف-35 میں ’پریٹ اینڈ وہٹنی ایف-135‘ انجن لگا ہے، جو دنیا کے طاقتور ترین انجنوں میں سے ایک ہے۔ اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ ساتھ یہ انجن شدید تپش اور حرارت بھی پیدا کرتا ہے، اور یہی شدید حرارت اس کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔

ایران نے اس دن اپنے دفاع کے لیے ریڈار پر بھروسہ کرنے کے بجائے ’انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم‘ (آئی آر ایس ٹی) کا استعمال کیا۔

یہ سسٹم آسمان میں ریڈار سگنلز کے بجائے حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ اس سسٹم نے ایف-35 کے انجن سے نکلنے والی شدید گرم گیسوں کو فوراً پکڑ لیا۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ آئی آر ایس ٹی اپنا کوئی سگنل خارج نہیں کرتا، اس لیے پائلٹ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی کہ اسے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اب بات کرتے ہیں ایران کے اس میزائل کی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے اس حملے میں ’358 میزائل‘ استعمال کیا، جسے ’ایس اے-67‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ کوئی عام میزائل نہیں بلکہ ایک عجیب و غریب امتزاج ہے؛ آدھا خودکش ڈرون اور آدھا میزائل۔

یہ بہت سست رفتاری سے اڑتا ہے اور ایک مخصوص علاقے میں ’آٹھ‘ (8) کے ہندسے کی شکل میں منڈلاتا رہتا ہے۔ اس میں اپنے آپٹیکل اور ہیٹ سینسرز لگے ہوتے ہیں۔

یہ بس فضا میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے اور جیسے ہی اسے کسی جیٹ کی حرارت محسوس ہوتی ہے، یہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے۔

اس میزائل کو زمین پر موجود انفراریڈ سینسرز کے نیٹ ورک سے بھی گائیڈ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ریڈار وارننگ نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف-35 اس میزائل کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ اس جہاز میں ایک انتہائی جدید ’ڈسٹری بیوٹڈ اپرچر سسٹم‘ (ڈی اے ایس) لگا ہے جس میں چھ انفراریڈ کیمرے پائلٹ کو جہاز کے گرد 360 ڈگری کا منظر دکھاتے ہیں۔

جیسے ہی 358 میزائل نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس کے راکٹ موٹر سے حرارت نکلی، ڈی اے ایس نے اسے فوراً پکڑ لیا اور پائلٹ کے ہیڈسیٹ میں خطرے کا الارم بج اٹھا۔ اب پائلٹ کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند سیکنڈز تھے۔

میزائل کا نشانہ خطا کرنے کے لیے پائلٹ نے جہاز کو تیزی سے گھمایا اور ساتھ ہی ’فلیئرز‘ (شعلے) چھوڑنا شروع کر دیے۔

اس مینوور مقصد یہ تھا کہ میزائل کا سینسر دھوکہ کھا جائے اور وہ جہاز کے بجائے ان چمکتے ہوئے شعلوں کا پیچھا کرنے لگے۔

اور یہ طریقہ کام کر گیا! میزائل شعلوں کے دھوکے میں آگیا لیکن اس کے باوجود وہ جہاز کے انتہائی قریب سے گزرا۔

جیسے ہی میزائل کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے ہدف کو تباہ کرنے لائق حد کے اندر ہے، وہ فضا میں ہی پھٹ گیا۔

اس دھماکے کی لہروں اور میزائل کے تیز رفتار ٹکڑوں نے ایف-35 کے پرخچے اڑا دیے۔ اس کی اسٹیلتھ کوٹنگ اتر گئی اور فلائٹ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا۔

یہ کوئی براہِ راست ہٹ نہیں تھی جس سے جہاز آگ کا گولہ بن جاتا، اور یہی وجہ ہے کہ اتنا زیادہ نقصان ہونے کے باوجود پائلٹ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کروانے میں کامیاب رہا۔

اس نقصان کے بعد امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

ایران کی اس حکتمتِ عملی نے ثابت کر دیا کہ امریکا کے جدید ترین طیارے کو گرانے کے لیے آپ کو اربوں ڈالر کے ریڈار کی ضرورت نہیں ہے.

A10
03/04/2026

A10

03/04/2026

آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی جانب سے ایک امریکی A10 جہاز کو بھی مار گرایا گیا ہے اور یہ آج ایران کی جانب سے مار گرایا جانے والا دوسرا امریکی جہاز ہے

متحدہ عرب امارات فرانس کے رافال ایف فائیو ورژن کے جوائنٹ ڈویلپمنٹ کے پروگرام سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور اب فرانس اس ڈویلپمنٹ کو اکیلے فنانس کرے گا اور ممکنہ طور پر اسکی وجہ فرانس کی جانب سے اہم ٹیکنالوجیز کا ٹرانسفر نہ کیا جانا تھا

امریکہ نے ایک تیسرے ملک کے زریعے ایران کو دو دن کے سیز فائر کی آفر کی جسکا جواب ایران نے بھاری جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کی صورت میں دیا ہے اور اسکے علاوہ ایران کی جانب سے پہلے پیش کیا جانے والے پندرہ نکاتی امریکی امن مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے اور پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات سے بھی انکار کر دیا ہے

03/04/2026

امریکہ کی جانب سے اسکے ایف پندرہ جہاز کے مار گرائے جانے کی کنفرمیشن کی گئی ہے اور دونوں پائلٹوں کو ریسکیو کرنے کے لیے ریسکیو مشنز جاری ہیں اور مغربی اور اسرائیلی میڈیا سورسز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک پائلٹ کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ ریسکیو آپریشن میں شریک ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کو ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے ہٹ کیا گیا جسکو عراق واپس جاتے دیکھا گیا اور وہ دھویں کی لہر چھوڑتا ہوا جا رہا تھا اسکے علاوہ ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جو امریکی پائلٹوں کو پکڑے گا اسکو انعام دیا گیا جائے گا اور ایرانی مسلح قبائل اس وقت امریکی پائلٹوں کو ڈھونڈنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں

برطانیہ اور فرانس کی جانب سے سے مستقبل میں میٹیور ائیر ٹو ائیر میزائل کی جگہ لینے والے میزائل کے لیے سٹڈی شروع کر دی گئی ہے

برطانیہ جاپان اور اٹلی کی جانب سے بنائے جا رہے چھٹی نسل کے جہاز کے لیے Edgewing کو 850 ملین ڈالر کا کانٹریکٹ دے دیا گیا ہے جس کے تحت یہ کمپنی اس جہاز کے ڈیزائن فیز کو لیڈ کرے گی

چین نے اپنے نئے ٹائپ 055 کلاس ڈسٹرائر Anqing سے تائیوان کے قریب لائیو فائر ایکسرسائز کی ہے

برطانیہ کی جانب سے کنفرم کیا گیا ہے کہ سال 2027 سے اسکے ڈریگن فائر لیزر ویپن سسٹم کو ٹائپ 45 ڈسٹرائرز پر نصب کر دیا جائے گا

امریکی E/A 18G growler جہاز نے جاپانی OP 3C سرویلنس جہاز کے ساتھ مشترکہ پرواز کی ہے

یوکرین نے اپنے زیر استعمال ایم 1 ابراہم ٹینکوں کو ڈرونز کے حملوں سے بچنے کے لیے ایکسپلوسیو ری ایکٹیو آرمر اور حفاظتی گرلز سے لیس کر دیا ہے

جنوبی کوریا سال 2029 سے اپنا کورین سٹائل آئرن ڈوم سسٹم LAMD ڈیپلائے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔یہ ائیر ڈیفینس سسٹم آئرن ڈوم کی طرح آرٹلری پروجیکٹائلز کو انٹرسیپٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے

امریکی نیوی کی جانب سے جنرل ڈائنامکس کو 1.27 ارب ڈالر کی مالیت کا کانٹریکٹ دیا گیا ہے جس کے تحت یہ کمپنی ورجینیا کلاس آبدوزوں کی موڈیفیکشن کا کام کرے گی

امریکی آرمی اور نیوی کی جانب سے common ہائپر سونک میزائل کا ٹیسٹ کیا گیا ہے

02/04/2026

یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایرانی ڈرون ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔
یہ ایران سے 1500 کلومیٹر دور سعودی عرب کی پرنس سلطان ائیر بیس پر کھڑا 700 ملین ڈالر کا اواکس طیارہ ہے جسے صرف 5 ہزار مالیت کے ایرانی شاہد ڈرون نے اس قدر درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا کہ سیدھا امریکی طیارے کے درمیان میں اس کا ریڈار والا حصہ تباہ ہو گیا۔
یہ اواکس طیارہ 400 کلومیٹر ریڈار رینج رکھتا تھا اور بغیر فیول بھرے 7 ہزار کلومیٹر تک پرواز کر سکتا تھا یعنی جنگ کے دوران یہ 7400 کلومیٹر کی رینج میں امریکہ طیاروں اور دیگر جنگی آلات کو فوری معلومات فراہم کر سکتا تھا۔
یہ اواکس طیارے اور خطے میں دیگر ریڈار امریکہ کی آنکھیں ہیں اور انہیں تباہ کر دینا امریکہ کو اندھا کر دینے کے مترادف ہے جو ایران بہت کم پیسوں میں کر رہا ہے۔ کہنے کو یہ ہاتھیوں اور چیونٹیوں کی لڑائی ہے لیکن نڈر چیونٹیاں ہار نہیں مان رہیں اور ہاتھیوں کے ناک میں گھس چکی ہیں۔

01/04/2026

Air. Jet

01/04/2026

I got over 500 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

27/03/2026

ایران اپنی جیت کو ہار میں نہیں بدلے گا!!

ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کہہ رہا ہے کہ ہم مزاکرات کرنا چاہتے ہیں ہمیں امن کی ضمانت دی جائے۔ امریکہ نے مزاکرات کے لیے 15 نکات بھیجے۔ جواب میں ایران نے مزاکرات کے لیے 6 نکات بھیجے۔ تو مزاکرات ایسے ہی شروع ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں کچھ ذہنی مریض کہہ رہے ہیں کہ مزاکرات نہیں ہورہے۔

اس جنگ میں ایران کا پلڑا اس وقت بھاری ہے لہذا یہ بہترین وقت ہے مزاکرات اور اپنی زیادہ سے زیادہ شرائط منوانے کا۔ لیکن اگر یہ موقع ایران نے ضائع کر دیا تو شائد آگے پھر ایسا موقع نہ ملے اس کی وجہ میں بتاتا ہوں۔

ایران کا اس جنگ کے لیے سارا دارومدار چین پر ہے۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور ایرانی معیشت کو کم از کم 70٪ سہارا دیتا ہے۔ ایران یہ ساری جنگ میزائلز کے زور پر لڑ رہا ہے۔ یہ میزائل روسی ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔ لیکن ان میزائلوں کو فیول بھی چین دیتا ہے اور یہ چین کا ہی گائیڈڈ سسٹم بیدو 3 استعمال کر رہے ہیں۔ اگر چین صرف یہ گائیڈڈ سسٹم بند کردے تو اسی لمحے ایرانی کے تمام میزائل اور ڈرون ناکارہ ہوجائنگے۔ چین کا اس خطے میں سب سے بڑا، پرانا اور قابل بھروسہ اتحادی پاکستان ہے اور تزویراتی طور پوری دنیا میں چین سب سے زیادہ انحصار پاکستان پر کرتا ہے۔

پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے اور پاکستان اپنی معیشت کے لیے سب سے زیادہ انحصار سعودی عرب پر کرتا ہے۔ ذرا اس پیچیدگی کو سمجھیں۔ اس کے باؤجود پاکستان نے ایران کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا اور اب تک سعودی دباؤ کو نہ صرف خود برداشت کیا ہے بلکہ اسکو ایران کو جواب دینے سے بھی روکا ہے۔ فیلڈ مارشل نے شیعہ علماء سے ملاقات میں کہا تھا کہ "مجھے امید ہے اس جنگ میں ایران کو شکست نہیں ہوگی۔" پاکستان ایران کو فاتح دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اس خطے میں امریکی اور اسرائیلی اثرورسوخ کم ہو۔ اس لیے اس نے سعودی عرب پر بےپناہ معاشی انحصار اور دفاعی معاہدے کے باؤجود انکا دباؤ برداشت کیا اور اب ایسی صورتحال تک معاملات لے آیا ہے جہاں جنگ بندی میں وہ مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور وہ بھی اس وقت جب ایران کا پلڑا بھاری ہے اور وہ بات چیت میں بہت کچھ حاصل سکتا ہے۔

لیکن اگر یہ نہ ہوا اور پاکستان کی معیشت جواب دینے لگی تو دو کام ہونگے۔ پاکستان اپنی زمین فوج سعودی عرب بھیج کر ان جگہوں پر تعینات کر دے گا جن کو ایران ہٹ کر رہا ہے۔ پھر دیکھنا ہوگا کہ ایران پاکستانی فوج کو میزائل مارتا ہے اور کیا چین ایرانی میزائلوں کو پاک فوج کو نشانہ بنانے کے لیے گائیڈ کرتا ہے؟ شائد دونوں ملک یہ نہ کریں۔ دوسرا امریکہ خلیج سے اپنی فوجیں ہٹا کر ایران کے حملوں کا وہاں جواز ختم کر دے گا اور ذرا دور سے ایران کو نشانہ بنانا شروع کر دے گا۔ ساتھ ہی وہ ان علاقوں میں زمینی جنگ چھیڑ دے گا جہاں سے ایرانی چین کو بدستور تیل سپلائی کر رہے ہیں اور ان سے میزائل فیول لے رہے ہیں۔ یہ چیزیں ایران کے پاس آپشنز کو محدود کردینگی اور اس وقت ایران کو جو پوزیشن حاصل ہے وہ کھو دے گا۔

جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ ایرانی احمق نہیں ہیں جو اس کو سمجھ نہ رہے ہوں اور اس بہترین موقع کو ضائع کردیں۔ لہذا مجھے قوی امید ہے کہ بات چیت ہوگی اور اللہ نے چاہا تو کامیاب ہوگی اور اس خطے کو استحکام اور خوشحالی نصیب ہوگی جس کا بیش بہا فائدہ پاکستان کو بھی ہوگا۔

ہرمز کی بندرگاہ پر یہ نام کیسے پڑایہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کا نام ایک ایسے فارسی کمانڈر “ہرمز...
26/03/2026

ہرمز کی بندرگاہ پر یہ نام کیسے پڑا
یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کا نام ایک ایسے فارسی کمانڈر “ہرمز” کے نام پر رکھا گیا، جسے تاریخ کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک فردی مقابلے میں شکست دی—ایک ایسی شکست جس نے فارسی لشکر کو ذلت سے دوچار کیا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی پسپائی کا سبب بنی۔
تو کیا یہ عجیب نہیں کہ اس تاریخی مقابلے کے باوجود اس مقام کو حضرت خالد بن ولیدؓ کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا؟

تفصیلی بیان:

فارسی لشکر کا سپہ سالار ہرمز اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں نکلا اور مبارزت (دو بدو جنگ) کا مطالبہ کرتے ہوئے پکارا: “خالد کہاں ہے؟!”

یہ آواز سن کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں تشریف لائے تاکہ اس سرکش کے چیلنج کا جواب دیں۔

دونوں لشکروں کے قریب پہنچ کر—اور خاص طور پر فارسی فوج کے زیادہ قریب—یہ دونوں جرنیل آمنے سامنے ہوئے۔
ہرمز اپنے گھوڑے سے اترا اور حضرت خالدؓ کو اشارہ کیا کہ اگر تم واقعی بہادر ہو تو زمین پر اتر کر مقابلہ کرو۔

حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہ چیلنج قبول کیا اور اپنے گھوڑے سے اتر آئے۔
ہرمز نے اپنے گھوڑے کو واپس لشکر کی طرف بھیج دیا، اور حضرت خالدؓ نے بھی یہی کیا۔

میدان میں ایک سنسنی خیز خاموشی طاری ہوگئی…
دونوں لشکر اضطراب اور بے چینی کے عالم میں یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
یہ ایک غیر معمولی موقع تھا کہ مسلمانوں کا سپہ سالار اور فارس کا عظیم کمانڈر آمنے سامنے تھے—ایسا منظر تاریخ میں ش*ذ و نادر ہی پیش آتا ہے۔

دونوں پیدل حالت میں لڑ رہے تھے، اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی یا فرار کا کوئی راستہ نہیں—یقیناً ان میں سے ایک کی موت مقدر تھی۔

چند ہی لمحوں میں حضرت خالدؓ نے ہرمز کے ساتھ گھمسان کا رَن باندھا اور اپنی غیر معمولی جنگی مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خود ہرمز بھی حیران رہ گیا۔

کچھ ہی دیر بعد…
حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے قدموں پر قائم تھے—اور ان کے ہاتھ میں تلوار تھی جو فارسی کمانڈر کے خون سے تر تھی۔

یہ منظر دیکھ کر فارسی لشکر پر سکتہ طاری ہوگیا، جبکہ مسلمانوں کے دل خوشی سے بھر گئے۔
ہرمز کی ہلاکت نے فارسیوں کو شدید صدمے میں ڈال دیا—کیونکہ وہ عربوں کو اپنی سلطنت، تہذیب اور عسکری قوت کے مقابلے میں حقیر سمجھتے تھے۔

مگر “سیفُ اللہ المسلول” نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا، فوراً عام حملے کا حکم صادر فرمایا۔

سپہ سالار کی ہلاکت اور تنظیم کے فقدان کے باعث فارسی لشکر زیادہ دیر ٹھہر نہ سکا۔
ان کی صفیں منتشر ہوگئیں، اور مسلمان ان کے درمیان گھس گئے، یہاں تک کہ انہیں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ عظیم معرکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں “کاظمہ” کے مقام پر پیش آیا، اسی نسبت سے اسے معرکۂ کاظمہ کہا جاتا ہے، اور فارسیوں کی طرف سے لشکر کو زنجیروں سے باندھنے کے سبب اسے معرکۂ ذات السلاسل بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ—اور یہ تھا ان کا اندازِ جنگ۔
ایک ایسا سپہ سالار جس پر مسلمانوں کو بجا طور پر فخر ہے۔

پھر بھی… ایران نے اس گزرگاہ کا نام “مضیقِ ہرمز” رکھا؟!

25/03/2026

‏پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے جنگ کے خاتمے کے لیے 5 شرائط سرکاری ذرائع کے ساتھ شائع کی ہیں:

1- دشمن کی طرف سے "جارحیت اور قتل و غارت" کو مکمل روکنا۔ 2- ٹھوس ضمانت دیتا ہے کہ ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہیں کی جائے گی۔
3- ضمانت یافتہ اور واضح طور پر بیان کردہ جنگی معاوضہ۔
4- خطے کے تمام مزاحمتی گروپوں سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ۔
5- آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری کی بین الاقوامی شناخت اور ضمانتیں۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan ISI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share