JUI Echo

JUI Echo The digital echo of JUI's vision, voice, and struggle.

27/01/2026

جماعت کے اندر ایک واضح اور سخت ڈسپلن ہونا چاہیے کہ کون میڈیا پر جماعتی پالیسی پر بات کرے گا اور کون نہیں کرے گا۔

اگر کسی کو پالیسی پر اظہارِ خیال کی اجازت دی جائے تو اس کے لیے بھی باقاعدہ ضابطہ طے ہونا چاہیے۔

یہ طرزِ عمل کسی صورت قابلِ قبول نہیں کہ جب جس کا دل چاہے، وہ میڈیا پر آ کر کوئی جملہ اچھال دے۔

یہ کوئی جگت بازی کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی جماعت کا سنجیدہ اور ذمہ دار بیانیہ ہے، جس کے الفاظ تول کر بولے جاتے ہیں۔

حافظ حمداللہ جیسے افراد کو یا تو جماعتی پالیسی کا مکمل پابند کیا جائے،

یا پھر انہیں میڈیا پر جماعت کے نمائندہ کے طور پر بولنے سے واضح طور پر روک دیا جائے۔

کیونکہ غیر ذمہ دار بیانات صرف فرد کی نہیں، پوری جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اور ایک منظم سیاسی جماعت ایسی عیاشی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan
Maulana Fazl ur Rehman

31/12/2025

رفتار کے گمراہ کن پراپیگنڈے کا مدلل جواب

یہ بیان مولانا کی وسعت نظری، سفارتکاری اور عالمی بصیرت و ذمہ داری  کا واضح ثبوت ہے۔ایک لمحے سوچیے کہ جو قیادت پاکستان کے...
15/11/2025

یہ بیان مولانا کی وسعت نظری، سفارتکاری اور عالمی بصیرت و ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔

ایک لمحے سوچیے کہ جو قیادت پاکستان کے اندر ملکی پالیسیوں اور حکومتی امور پر کھل کر اپنے تحفظات اور اختلافات کا اظہار کرتی ہے، وہی قیادت بنگلہ دیش کی سرزمین پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین محبت، بھائی چارے اور خطے کے مشترکہ مستقبل کے لیے اتحاد کا پیغام دے رہی تھی۔ یہی وہ رویّہ ہے جو ایک قومی قیادت کو عالمی سطح پر معتبر بناتا ہے۔

پاکستان کو بھی ایسی ہی متوازن اور وسیع الظرف قیادت کی ضرورت ہے۔ایسی قیادت جو اندرونِ ملک اختلاف رکھ سکتی ہو، مگر بیرونِ ملک اپنے وطن کی سفارت، وقار اور مثبت امیج کی نمائندگی کرے۔ داخلی سیاسی اختلافات اپنی سرزمین تک محدود ہونے چاہیئیں، جبکہ دنیا کے سامنے ملک کی عزت، اتحاد اور مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان مدظلہ ٗ نے بنگلہ اسی بالغ نظری اور بہترین سفارتی کردار کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ مولانا جیسی قیادت ہی پاکستان کو اسکا حقیقی مقام دلانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

دو بھائیوں کے اپنے گھر میں جائیداد تقسیم کرنے سے ان کے بھائی چارے میں کوئی فرق نہیں آتا: سربراہ جے یو آئی
مزید تفصیلات: https://www.geonewsurdu.tv/latest/420735-

یہ مضمون دی اکنامسٹ میں 14 نومبر کو چھپا“صوفی، کرکٹر اور جاسوس: پاکستان کا گیم آف تھرونز”تحریر: اووَن بینیٹ جونز اور بشر...
15/11/2025

یہ مضمون دی اکنامسٹ میں 14 نومبر کو چھپا
“صوفی، کرکٹر اور جاسوس: پاکستان کا گیم آف تھرونز”

تحریر: اووَن بینیٹ جونز اور بشریٰ تسکین
اُردو ترجمہ
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی پہلی ملاقات)

2010
کی دہائی کے وسط میں عمران خان کی زندگی ایک مشکل دور سے گزر رہی تھی۔ 1992 کا ورلڈ کپ جیت کر وہ پاکستان میں ایک بڑے ہیرو بن چکے تھے، مگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ شُہرت، پارٹیوں اور چمک دمک نے انہیں اندر سے خالی محسوس کرایا۔ اسی دوران وہ سیاست میں بڑا کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔

ابتدائی برسوں میں بڑی سیاسی جماعتوں نے ان سے رابطہ کیا تاکہ ان کی شہرت کا فائدہ اٹھایا جا سکے، مگر عمران خان نے انہیں کرپٹ سمجھ کر انکار کر دیا اور پاکستان تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھ دی۔ دو بڑی سیاسی خاندانوں کی سیاست میں ایک نئی جماعت بنانا بہت مشکل تھا۔ وہ کئی سال سیاسی طور پر غیر سنجیدہ سمجھے جاتے رہے؛ صحافی ان سے ملک کے مسائل کے بجائے کرکٹ اور ان کی ذاتی زندگی پر بات کرتے تھے۔

2014 میں انہوں نے نواز شریف کے خلاف احتجاج شروع کیا، اور کچھ لوگوں نے سمجھا کہ شاید فوج حکومت بدلنے میں دلچسپی رکھتی ہے، مگر احتجاج ناکام ہوگیا۔ پھر 2016 میں پاناما لیکس آیا، عمران خان نے جلسے کیے، مگر اسلام آباد مارچ نہ ہو سکا۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ عمران خان کا وقت گزر چکا ہے۔

گھر کی زندگی بھی بہتر نہیں تھی۔ ان کی دوسری بیوی ریحام خان سے تعلقات خراب ہو چکے تھے۔ انہی دنوں ان کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی جس نے ان کی زندگی بدل دی — بشریٰ مانیکا۔

بشریٰ بی بی صوفی ازم میں دلچسپی رکھنے والی، درمیانی عمر کی، شادی شدہ خاتون تھیں۔ پاکستان میں صوفی لوگ روحانی رہنماؤں سے مشورہ لینا عام بات ہے۔ بشریٰ بی بی بھی اپنے خاندان اور دوستوں کو روحانی مشورے دیتی تھیں۔

عمران خان سے ان کا رابطہ ان کی بہن نے کروایا، جس نے عمران خان کو کہا کہ روحانی رہنمائی کے لیے وہ اس کی بہن سے بات کریں۔ بشریٰ بی بی پہلے ہچکچائیں — کہ وہ نامحرم مردوں سے نہیں ملتیں — مگر آخرکار فون پر بات کی۔ باتیں گھنٹوں چلتی رہیں، رات بھر فون کالز ہوتی تھیں۔

پھر ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ ان کے شوہر پہلے خوش ہوئے کہ اتنا مشہور شخص ان کے گھر آ رہا ہے۔ مگر جلد ہی وہ غیر مطمئن ہو گئے، کیونکہ ان کی بیوی اور عمران خان کے درمیان گہری قربت بڑھ رہی تھی۔

مانیکا خاندان کے مطابق، بشریٰ بی بی عمران خان کو بتاتی تھیں کہ مستقبل میں اگر وہ دونوں شادی کریں تو عمران خان وزیراعظم بنیں گے۔ (بشریٰ بی بی نے اس بات کی تردید کی ہے۔)

2017 کے آخر میں بشریٰ بی بی نے اپنے شوہر سے طلاق لی، اور 1 جنوری 2018 کو عمران خان سے خفیہ شادی کر لی۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے شادی سے پہلے اپنی بیوی کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا، اور انہیں صرف ان کی روحانیت نے متاثر کیا تھا۔ وہ انہیں ایک ایسی بلند روحانی شخصیت سمجھتے تھے جیسی انہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔

چند ماہ بعد پی ٹی آئی الیکشن جیت گئی— جس سے عمران خان کا اپنی بیوی کی روحانی بصیرت پر یقین اور بڑھ گیا

عمران خان کی حکومت، فوج سے تعلقات، اور بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی

اگرچہ عمران خان وزیراعظم بن گئے تھے، مگر پاکستان میں اقتدار کو سنبھال کر رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ یہاں سیاست بہت غیر مستحکم ہے — کبھی حکومتیں چند مہینے میں بدل جاتی ہیں، کبھی سیاست دان جیل میں ہوتے ہیں، اور فوج اکثر پسِ پردہ فیصلے کرتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک جمہوری حکومت اپنی مدت مکمل کر پائی ہے۔

اقتدار میں آ کر عمران خان کے لیے بڑے چیلنج شروع ہوئے۔ انہوں نے 1 کروڑ نوکریاں، اسلامی فلاحی ریاست اور کئی بڑے اصلاحاتی وعدے کیے تھے، جو پورے نہ ہو سکے۔ فوج اور سیاسی اشرافیہ سے ان کے تعلقات جلد خراب ہونے لگے۔

وزیراعظم ہاؤس کے اندر بھی معاملات مشکل ہوتے گئے۔
کئی وزراء اور گھر کے ملازمین شکایت کرتے تھے کہ بشریٰ بی بی بہت زیادہ مداخلت کرتی ہیں۔
ایک وزیر نے کہا:
“ان کی مداخلت مکمل تھی۔”

جیسے جیسے اختلافات بڑھے، عمران خان کو 2022 میں پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا دیا — یہ کام عام طور پر فوج کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔ مگر عمران خان پیچھے نہیں ہٹے؛ انہوں نے فوج پر تنقید شروع کر دی اور عوامی احتجاج شروع کیے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوج نے انہیں جیل میں ڈال دیا۔

جیل کے باوجود عمران خان کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی

ٹی وی چینلز پر ان کا نام لینا منع کر دیا گیا، مگر لوگ انہیں “پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین” کہہ کر بات کرتے رہے۔
فوج کے لیے یہ صورتحال پریشان کن تھی۔

بشریٰ بی بی بھی جیل میں ہیں، اور پی ٹی آئی کے کچھ لوگ امید رکھتے ہیں کہ وہ عمران خان کو سمجھائیں گی کہ فوج سے سمجھوتہ کر لیں تاکہ پارٹی کو دوبارہ موقع مل سکے۔

پاکستان میں افواہیں اور سازشیں کیسے چلتی ہیں؟

بشریٰ بی بی کی طاقت نے ملک میں عجیب و غریب قصے پھیلانے شروع کر دیے۔
کچھ کہتے تھے کہ عمران خان بہت سادہ ہیں اور آسانی سے لوگوں کے روحانی اثر میں آ جاتے ہیں۔
کچھ کہتے تھے کہ پسِ پردہ فوج (ISI) نے بشریٰ بی بی کو استعمال کیا تاکہ عمران خان کے فیصلوں پر اثر پڑے۔
کہانیاں یہ تک تھیں کہ وہ مبینہ طور پر چہرے دیکھ کر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، اور عمران خان ان پر ہر اہم معاملے میں بھروسہ کرتے تھے۔

گھر کے اندر ‘روحانی عملیات’ کے الزامات

وزیراعظم ہاؤس کے ملازمین میں سے کچھ — جو بعد میں نکالے گئے — یہ دعویٰ کرتے تھے کہ:
• روزانہ کالے بکرے کے سر منگوائے جاتے
• سر اور گوشت قبرستانوں میں پھینکنے کی ہدایات ہوتیں
• لال مرچیں سر کے گرد گھمائی جاتیں
• گوشت چھت پر کوّوں کو کھلانے پھینکا جاتا

پی ٹی آئی کے ترجمانوں نے ان باتوں کو ’’غلط پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیا، مگر کہانیاں میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلتی رہیں۔

پارٹی کے بڑے رہنماؤں کے ساتھ ٹکراؤ

جہانگیر ترین — جو پی ٹی آئی کی انتخابی کامیابی کے اہم آرکیٹیکٹ تھے — بشریٰ بی بی سے اختلاف کے بعد پارٹی چھوڑ گئے۔
انہیں بشریٰ بی بی نے کھانے کی میز پر کہا:

“میں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں کہ تم مجھے کالی جادوگرنی نہ سمجھو۔”

اسی واقعے کے بعد ترین نے پارٹی چھوڑ دی۔

کئی اور رہنما بھی اسی طرح دور ہوتے گئے، کیونکہ ’’اگر کوئی بشریٰ بی بی پر تنقید کرے، وہ پارٹی سے باہر ہو جاتا‘‘۔

فوج کا غصہ بڑھنے لگا

جنرل باجوہ — سابق آرمی چیف — بشریٰ بی بی سے سخت نا خوش تھے۔
ایک سابق وزیر نے بتایا:
“باجوہ صاحب کہتے تھے کہ وہ جادو ٹونے کرتی ہیں، اور عمران ان کی بات میری بات سے زیادہ سنتے ہیں۔”

پھر ایک بڑی غلطی سمجھی جاتی ہے:
عمران خان نے 2019 میں ISI کے DG جنرل عاصم منیر کو فارغ کیا، صرف 8 مہینے بعد۔
افواہوں کے مطابق جنرل منیر نے عمران کو بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی کرپشن میں ملوث ہو رہی ہیں۔
عمران خان نے اسے سازش قرار دیا۔

عمران خان کی برطرفی، حملہ، گرفتاری، عوامی ردِعمل اور فوج سے کھلا ٹکراؤ

اپریل 2022 میں وہی ہوا جو پاکستان میں اکثر طاقت ور وزیرِاعظموں کے ساتھ ہوتا ہے:
فوج نے فیصلہ کر لیا کہ عمران خان حکومت نہیں رہنی چاہیے۔

پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کامیاب ہوئی، اور عمران خان حکومت سے نکل گئے۔

عمران خان نے سمجھوتہ کرنے کے بجائے جنگ کا راستہ چُنا

وہ فوج کے خلاف کھل کر بولنے لگے۔ اس سے پہلے کبھی کسی سابق وزیراعظم نے اتنی کھلی تنقید نہیں کی تھی۔

نومبر 2022 میں ایک جلسے کے دوران عمران خان کو ٹانگ میں گولی ماری گئی۔
انہوں نے فوراً الزام فوج پر لگا دیا کہ انہیں قتل کرنے کی سازش کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا:

“کیا جنرل قانون سے بالاتر ہیں؟ کیا ان کا احتساب نہیں ہو سکتا؟”

جنرل عاصم منیر آرمی چیف بنے — عمران خان کے سب سے بڑے مخالف

24 نومبر 2022 کو عاصم منیر — جنہیں عمران خان نے 2019 میں فارغ کیا تھا — نئے آرمی چیف بن گئے۔
یہ وہ لمحہ تھا جس کے بعد ریاست اور عمران خان میں کھلا تصادم شروع ہو گیا۔

مئی 2023 میں عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، اور ایک لمحے میں پورا ملک سڑکوں پر نکل آیا۔

پاکستان کی تاریخ کا سب سے حیران کن احتجاج

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں عوام نے:
• کور کمانڈر کے گھر پر حملہ کیا
• فوجی تنصیبات کو آگ لگائی
• حساس عمارتوں پر دھاوا بولا

یہ سب اس ملک میں کبھی نہیں ہوا تھا۔

عمران خان نے جنرل منیر پر الزام لگایا کہ وہ ڈر رہے ہیں کہ اگر عمران واپس آ گئے تو انہیں برطرف کر دیں گے۔

فوج کی سخت جوابی کارروائی

فوج نے:
• پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکن گرفتار کیے
• لیڈرز کو غائب کر دیا
• ٹی وی پر ’’عمران خان” کا نام لینے پر پابندی لگا دی
• پی ٹی آئی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی

انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو کرکٹ بیٹ کا نشان نہیں دیا گیا تاکہ عوام انہیں پہچان نہ سکیں۔
اس کے باوجود پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار 93 نشستیں جیت گئے — جو بہت بڑا سیاسی کارنامہ تھا۔

بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات شروع

فوج اور حکومت نے عمران خان کے خلاف درجنوں مقدمے بنائے۔
ان میں سے تین بڑے کیسز بشریٰ بی بی پر بھی ڈالے گئے:



1) شادی کا کیس — “عدت پوری نہیں ہوئی”

پراسیکیوشن نے کہا کہ:
• بشریٰ بی بی نے 14 نومبر 2017 کو طلاق لی
• مگر 1 جنوری 2018 کو عمران خان سے شادی کر لی
• اسلام میں عدت کا وقت پورا نہیں ہوا

عدالت میں تو بشریٰ بی بی کے “حیض” پر بحث تک ہوئی، جس سے ملک بھر میں غصہ پھیل گیا۔
دونوں کو 7 سال قید سنا دی گئی، جو بعد میں اپیل میں ختم ہو گئی۔



2) القادر ٹرسٹ کیس — یونیورسٹی کے نام پر مبینہ فائدہ حاصل کرنا

دوسرا کیس یہ تھا کہ:
• ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی پر برطانوی حکومت نے اربوں روپے کا جرمانہ کیا
• پراسیکیوشن کا الزام تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے یہ پیسہ اپنی یونیورسٹی منصوبے کے لیے استعمال کیا

اس کیس میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید سنائی گئی — فیصلے پر اپیل جاری ہے۔



3) توشہ خانہ کیس — سعودی ولی عہد کے تحائف

الزامات:
• بشریٰ بی بی کو قیمتی زیورات
• عمران خان کو ہیروں والی گھڑی
• دونوں نے یہ تحائف مکمل لاگت جمع کر کے خزانے میں جمع نہیں کروائے
• تحائف کم قیمت پر ظاہر کر کے بیچے گئے

یہ کیس تاحال جاری ہے۔

ایک آڈیو ٹیپ بھی سامنے آئی جس میں بشریٰ بی بی اپنے ہاؤس منیجر کو تحائف کی تصاویر لینے پر سخت ڈانٹ رہی ہیں۔



⭐ عمران خان کی مقبولیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا

بہت سے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ تمام کیسز سیاسی انتقام ہیں۔
لوگوں کی نظر میں عمران خان کرپٹ نہیں ہیں۔

یہاں تک کہ ان کے ناراض سابق ساتھی فیصل واوڈا بھی کہتے ہیں:

“عمران خان کو پیسے میں کوئی دلچسپی نہیں۔”

بشریٰ بی بی کا پہلا بڑا احتجاج، فوج کی سخت کارروائی، اور دونوں کا قید میں حال

اگرچہ عمران خان جیل میں تھے، مگر ان کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی تھی۔
ملک میں عام تاثر تھا کہ عمران خان ہی وہ شخص ہیں جو پاکستان کو کرپشن اور طاقت ور طبقے کی گرفت سے نکال سکتے ہیں۔

نومبر 2024 میں پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لیے ایک بڑا احتجاجی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب بشریٰ بی بی پہلی بار خود عوام کے سامنے آئیں۔

بشریٰ بی بی کا ڈرامائی منظر — ٹرک پر کھڑی، مکمل پردے میں، ہزاروں لوگوں کی قیادت

بشریٰ بی بی—جو ہمیشہ پردے میں رہتی تھیں—
پشاور سے اسلام آباد تک ایک بڑے جلوس کی قیادت کرتی ہوئیں نظر آئیں۔
کئی صحافیوں نے اس لمحے کو حیران کن قرار دیا کیونکہ:
• پاکستان میں خواتین سیاست میں کم نمایاں ہوتی ہیں
• مکمل پردہ کرنے والی خواتین تو اور بھی کم
• اور فوج کے خلاف احتجاج کی قیادت کرنا تو تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے

صحافی عطیقہ رحمٰن نے کہا:

“یہ ایک تاریخی لمحہ تھا — ایک غیر سیاسی خاندان کی عورت، ہزاروں مردوں کی قیادت کرتے ہوئے فوج کو چیلنج کر رہی تھی۔”

تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
کچھ لوگ تو یہ تک کہنے لگے کہ شاید مستقبل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی کی سربراہ بن جائیں۔

اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی ریاست کا حملہ

یہ احتجاج زیادہ دیر نہ چل سکا۔

جب قافلہ اسلام آباد کے قریب پہنچا تو:
• سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر دی
• ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی
• آزاد ذرائع کے مطابق کم از کم 8 لوگ شہید ہو گئے
• فوج نے دعویٰ کیا کہ کوئی نہیں مرا

واقعہ بہت خوفناک تھا، اور یوں احتجاج ختم ہو گیا۔

اسی دوران — بشریٰ بی بی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔



⭐ قید میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودہ حالت

عمران خان نے عدالت کو لکھے ایک خط میں کہا کہ:
• انہیں ایک ’’پنجرے‘‘ جیسی تنہا کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے
• نہ ٹی وی ہے، نہ اخبار
• نہ کتابوں کی اجازت
• نہ کسی سے ملاقات
• اور انتہائی سخت نگرانی

انہوں نے کہا کہ:

“بشریٰ بی بی کو بھی نہ کتابیں ملتی ہیں، نہ مکمل طبی سہولت۔”

حکومت نے بدسلوکی کے الزامات کی تردید کی، مگر خان کے خط نے ملک بھر میں تشویش پیدا کی۔

دوسری طرف فوج چیف جنرل عاصم منیر کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے

جنرل منیر نے:
• امریکی صدر ٹرمپ سے قریبی تعلقات بنا لیے
• پارلیمنٹ سے خود کے لیے ’’عمر بھر استثنیٰ‘‘ منظور کروا لیا
• فوج پر مکمل کنٹرول مضبوط کر لیا

دوسری طرف جنرل فیض—جنہیں کچھ لوگ عمران کا دوست سمجھتے تھے—
اپنی ہی فوج میں کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور گرفتاری میں ہیں۔



⭐ سیاسی بحران کا مستقبل—مزاحمت یا سمجھوتہ؟

عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں دو گروہ ہیں:

1) سخت گیر گروہ (جیسے ان کی بہن علیمہ):

کہتے ہیں:
• عمران خان کو جھکنا نہیں چاہیے
• ڈیل نہیں کرنی چاہیے
• فوج کے سامنے کھڑا رہنا چاہیے

2) دوسرا گروہ — جس میں مبینہ طور پر بشریٰ بی بی بھی شامل ہیں:

ان کی رائے:
• حالات بہت سخت ہیں
• ملک کو بھی استحکام چاہیے
• شاید فوج سے بات چیت کر لینا بہتر ہو

ایک سابق وزیر نے کہا:

“بشریٰ بی بی فوج سے بات چیت کرنے کے حق میں زیادہ مائل ہیں۔”



⭐ عمران خان کا آخری بیان

جیل سے اپنے تازہ بیان میں عمران خان نے کہا:

“بشریٰ بی بی میری کمزوری نہیں بنی۔
ان کی بہادری نے مجھے مزید مضبوط کر دیا ہے۔”

خان کی مقبولیت کا راز، فوج سے کشمکش، اور بشریٰ بی بی کا کردار — آخری تجزی

اگرچہ ظاہری حالات عمران خان کے حق میں نہیں ہیں —
وہ 74 سال کی عمر میں جیل میں بند ہیں،
مقدمے در مقدمے چل رہے ہیں،
فوج پہلے سے زیادہ طاقتور ہے،
اور سیاسی نظام مکمل طور پر ان کے خلاف ہے —
پھر بھی وہ آج بھی عوام میں “اخلاقی رہنما” کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ایک ممتاز مورخ نے کہا:

“عمران خان آج بھی لوگوں کے دلوں میں وہ مقام رکھتے ہیں جو حقیقی طاقت سے بھی بڑا ہوتا ہے — اخلاقی اختیار۔”

عوام فوج کی مداخلت سے تنگ ہیں

پاکستان میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ:
• سیاست ہمیشہ طاقت ور ادارے چلا رہے ہیں
• حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں صرف اس وجہ سے
• لوگ کسی ایسی شخصیت کو چاہتے ہیں جو سسٹم کو چیلنج کرے

یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی مقبولیت ختم نہیں ہوئی۔

بشریٰ بی بی—عوامی تاثر اور حقیقت

بشریٰ بی بی کے بارے میں کہانیاں، افواہیں اور الزامات بہت زیادہ ہیں —
کبھی انہیں روحانی رہنما کہا جاتا ہے،
کبھی “جادوگرنی” کہا گیا،
کبھی کہا گیا کہ وہ فوج کا ذریعہ تھیں،
کبھی کہا گیا کہ وہ عمران خان کو کنٹرول کرتی ہیں۔

اصل حقیقت کیا ہے؟ آرٹیکل کا خلاصہ یہ ہے:
• کچھ لوگ کہتے ہیں عمران خان بہت سادہ ہیں، اور وہ بشریٰ کے روحانی اثر میں آ گئے
• کچھ کہتے ہیں آئی ایس آئی نے ان کی روحانی شخصیت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا
• کچھ کہتے ہیں کہ بشریٰ صرف ایک ایسی عورت ہیں جن کی مذہب اور روحانیت میں دلچسپی بہت زیادہ ہے
• اور کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ عمران خان کی کمزوری نہیں، بلکہ طاقت تھیں

کیا وہ فوج سے ڈیل کریں گے؟

سب سے اہم سوال یہ ہے:

کیا عمران خان فوج سے سمجھوتہ کریں گے؟

ان کے قریبی حلقوں میں اختلاف ہے:
• کچھ انہیں ڈیل کرنے سے روکتے ہیں
• کچھ کہتے ہیں کہ حالات بہت خراب ہیں اور بات چیت ضروری ہے
• بشریٰ بی بی مبینہ طور پر بات چیت کے حق میں زیادہ مائل ہیں

اب عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں جیل میں ہیں۔
جیل میں حالات سخت ہیں — کتابیں تک نہیں دی جاتیں،
اور راشن اور علاج کی بھی پابندیاں ہیں۔
مگر تمام تر مشکلات کے باوجود عمران خان کا مؤقف سخت ہے۔

جیل سے عمران خان کا اہم بیان

عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا:

“بشریٰ بی بی نے خود کو میری کمزوری نہیں بنایا۔
ان کی بہادری نے مجھے مزید مضبوط کیا ہے۔

بنگلہ دیش: انٹرنیشنل فدائے ملت سیمینار سے قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہٗ خطاب فرمارہے ہیں         🇧🇩  🇵🇰
13/11/2025

بنگلہ دیش: انٹرنیشنل فدائے ملت سیمینار سے قائد جمعیة حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہٗ خطاب فرمارہے ہیں


🇧🇩 🇵🇰

‏مارشل لاء لگا تو مشرف کا صوبائی وزیر بن گیا شوکت صدیقی کو فیض کے ساتھ مل کر نکالا تو چیف جسٹس بن گیا ، مشرف پر آئین توڑ...
13/11/2025

‏مارشل لاء لگا تو مشرف کا صوبائی وزیر بن گیا شوکت صدیقی کو فیض کے ساتھ مل کر نکالا تو چیف جسٹس بن گیا ، مشرف پر آئین توڑنے کامقدمہ چلا اس کا ٹرائل روک دیا ، عدم اعتماد کے دوران جنرل باجوہ کے لیے رات کو عدالت کھول کر بیٹھ گیا ، انٹرا پارٹی کیس میں جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے والے کو ساتھ لا کر ججوں کو influence کرنے کی کوشش کی ، - - -پاوں پکڑ کر سپریم کورٹ کا جج بنا اور الزام دوسروں پر واہ بئی واہ۔۔۔۔ بقول شخصے عدلیہ غلام ہو گئی لیکن سرکار کی نوکری اور مراعات لیتے ہوئے ابھی تک دل نہیں بھرا ، جعلی انقلابی

عبدالقیوم صدیقی

10/11/2025
09/11/2025

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Echo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share