27/01/2026
جماعت کے اندر ایک واضح اور سخت ڈسپلن ہونا چاہیے کہ کون میڈیا پر جماعتی پالیسی پر بات کرے گا اور کون نہیں کرے گا۔
اگر کسی کو پالیسی پر اظہارِ خیال کی اجازت دی جائے تو اس کے لیے بھی باقاعدہ ضابطہ طے ہونا چاہیے۔
یہ طرزِ عمل کسی صورت قابلِ قبول نہیں کہ جب جس کا دل چاہے، وہ میڈیا پر آ کر کوئی جملہ اچھال دے۔
یہ کوئی جگت بازی کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی جماعت کا سنجیدہ اور ذمہ دار بیانیہ ہے، جس کے الفاظ تول کر بولے جاتے ہیں۔
حافظ حمداللہ جیسے افراد کو یا تو جماعتی پالیسی کا مکمل پابند کیا جائے،
یا پھر انہیں میڈیا پر جماعت کے نمائندہ کے طور پر بولنے سے واضح طور پر روک دیا جائے۔
کیونکہ غیر ذمہ دار بیانات صرف فرد کی نہیں، پوری جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اور ایک منظم سیاسی جماعت ایسی عیاشی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan
Maulana Fazl ur Rehman