24/08/2026
باچا خان بابا کے راستے کا ایک وفادار خاندان — مرحوم حاجی عبدالقدوس کے چار سپوت
میاں کلے کی تاریخ میں کچھ خاندان ایسے ہیں جن کا تذکرہ صرف ایک گھرانے کے طور پر نہیں، بلکہ گاؤں کی سماجی، سیاسی اور عوامی زندگی کے ایک روشن باب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ مرحوم حاجی عبدالقدوس کا خاندان بھی انہی باوقار خاندانوں میں شمار ہوتا ہے، جس نے شرافت، دیانت، خدمت اور باچا خان بابا کے فکر و فلسفے سے وفاداری کو نسل در نسل زندہ رکھا۔
مرحوم حاجی عبدالقدوس ایک نیک، ایماندار، خوش اخلاق اور خوش بخت انسان تھے۔ اگرچہ مرحوم کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا، لیکن ان کی اپنی زندگی کا بڑا حصہ دینی تبلیغ اور خدمت میں گزرا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے لیے جو نمایاں اور عملی خدمات اس خاندان کی پہچان بنی ہیں، وہ زیادہ تر ان کے بچوں نے آگے بڑھائیں۔
آج ان کے چار بیٹے، حاجی فضل الرحمن، حاجی صالح الرحمن، غلام الرحمن اور ولی الرحمن، اپنے والد کے اسی نیک نام اور فکری ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اس خاندان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور باچا خان بابا کے نظریے سے ان کی وابستگی محض دعوے یا وقتی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک عملی اور نظریاتی سفر ہے۔
*حاجی فضل الرحمن اس خاندان کے ان بزرگوں میں شامل ہیں جنہوں نے باچا خان بابا کے ساتھ اپنی عقیدت کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھا۔ 1988ء میں جب باچا خان بابا کے جنازے کے لیے میاں کلے اور گردونواح سے لوگ جلال آباد روانہ ہوئے تو حاجی فضل الرحمن بھی اس تاریخی سفر میں شریک تھے۔
جلال آباد میں اُس وقت جنازے اور قافلے کی وجہ سے بہت زیادہ رش تھا۔ حاجی فضل الرحمن جس گاڑی میں جلال آباد گئے تھے، وہ جنازے کے قریب پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی۔ تدفین کے دوران اچانک وہاں ایک زوردار بم دھماکہ ہوا، جس کی زد میں وہ گاڑی بھی آ گئی۔ اس خوفناک دھماکے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
میاں کلے کے کئی دیگر بزرگ بھی اسی قافلے کے ساتھ جلال آباد پہنچے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا کہ دھماکے کے وقت حاجی فضل الرحمن اور میاں کلے سے آئے ہوئے دیگر بزرگان گاڑی کے اندر موجود نہیں تھے اور اس خوفناک سانحے میں محفوظ رہے۔ موت جیسے قریب آکر گزر گئی، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حفاظت میں رکھا۔
یہ واقعہ حاجی فضل الرحمن کی زندگی کا محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ باچا خان بابا کے ساتھ ان کی نظریاتی وفاداری کی ایک ایسی یادگار داستان ہے جسے وقت گزرنے کے باوجود فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ جنازے میں صرف ایک شخص کی حیثیت سے نہیں گئے تھے، بلکہ ایک ایسے نظریے سے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے گئے تھے جس کے ساتھ ان کا خاندان آج بھی وابستہ ہے۔
حاجی فضل الرحمن نے عوامی نیشنل پارٹی اور باچا خان بابا کے فکر و فلسفے کے لیے زندگی بھر بہت سی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی جدوجہد اور وابستگی کے کئی ایسے واقعات ہیں جنہیں ایک مختصر تحریر میں مکمل طور پر سمیٹنا ممکن نہیں۔
*حاجی فضل الرحمن کا بھائی حاجی صالح الرحمن بھی ایک باوقار، خاموش طبیعت، خوش مزاج اور سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی پہچان بلند دعووں سے نہیں بلکہ خاموشی، کردار اور مستقل مزاجی سے ہوتی ہے۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی باچا خان بابا کے نظریے اور عدم تشدد کی راہ کے ساتھ گزاری۔ اس طویل سیاسی سفر میں ذاتی مفاد یا لالچ کو کبھی اپنے اصولوں پر غالب نہیں آنے دیا۔
ان کے لیے سیاست کسی عہدے یا ذاتی فائدے کا ذریعہ نہیں، بلکہ نظریے، عوام اور خدمت کا نام ہے۔ یہی خاموش مگر مضبوط وابستگی ان کے کردار کو مزید قابلِ احترام بناتی ہے۔
*ان کا بھائی غلام الرحمن اس خاندان کے وہ فرد ہیں جو آج بھی عوامی نیشنل پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت عوامی نیشنل پارٹی یونین کونسل میاں کلے کے سالار بھی ہیں۔
پارٹی کی میٹنگ ہو، تنظیمی اجلاس ہو، جلسہ ہو یا کارکنوں سے رابطے کی ضرورت، غلام الرحمن اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے موجود نظر آتے ہیں۔
ان کی مسلسل سیاسی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس خاندان کی وابستگی صرف نام کی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کی وابستگی ہے۔
*اسی طرح ولی الرحمن بھی روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں گلگت میں مقیم ہیں، لیکن پردیس نے انہیں اپنے گاؤں اور لوگوں سے دور نہیں کیا۔
وہ گلگت کی ایک فلاحی تنظیم کے اہم رکن ہیں اور وہاں مسافروں، ضرورت مندوں اور اپنے علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی خدمت اور مدد میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ بھی انہیں خاص محبت ہے۔ انتخابات کے دنوں میں، اگرچہ وہ اپنے کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں گلگت میں ہوتے ہیں، لیکن چھٹی لے کر خاص طور پر اپنے گاؤں میاں کلے آتے ہیں اور پارٹی کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔
یہی حقیقی وابستگی ہے کہ انسان جہاں بھی ہو، اپنے نظریے، اپنے لوگوں اور اپنی سیاسی جماعت کو نہ بھولے۔
حاجی عبدالقدوس کے ان چاروں بیٹوں کی داستان کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید یہی کہا جا سکتا ہے:
چار بھائی، چار مزاج، چار میدان — مگر نظریہ ایک۔
حاجی فضل الرحمن نے وفا کو سفر میں نبھایا، حاجی صالح الرحمن نے خاموشی میں سنبھالا، غلام الرحمن نے تنظیمی میدان میں آگے بڑھایا اور ولی الرحمن نے پردیس میں بھی اسے زندہ رکھا۔
اس خاندان کے چاروں بھائیوں کی سیاسی سوچ میں ایک ہی نظریہ، ایک ہی راستہ اور ایک ہی فکری سمت نظر آتی ہے۔ یہ وابستگی کسی وقتی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک طویل نظریاتی سفر کا تسلسل ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم حاجی عبدالقدوس کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندان والو کو شرافت، خدمت اور باچا خان بابا کے عدم تشدد کے راستے پر مزید ثابت قدمی عطا فرمائے۔ (آمین)
عوامی نیشنل پارٹی میاں کلے