14/04/2024
لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے 9 اپریل کو پنجاب گورنمنٹ کو حکم دیا ہے کہ پندرہ دن کے اندر اندر کم عمری کی شادی کے تدارک کے لئے لڑکے اور لڑکی کے عمر میں امتیاز ختم کیا جائے کیونکہ یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے۔
اس وقت پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں وفاقی قانون کی طرح شادی کے لئے لڑکے کی عمر اٹھارہ اور لڑکی کی عمر سولہ سال ہے جو آئینی پاکستان اور بین الاقوامی معاھدہ برائے حقوق اطفال جس پر نہ صرف پاکستان نے دستخط کیا ہے بلکہ توثیق بھی کی ہے۔
View post چیف کورٹ گلگت بلتستان کے حکم پر بارہ سالہ فلک نور سترہ سالہ اغوا کار فرید عالم کے ساتھ بھیج دی گئی جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے فلک نور کے ساتھ شادی کی ہے۔...