Jammu Kashmir Peoples National Party

Jammu Kashmir Peoples National Party قومی آزادی کمیونزم اور عالمی امن ہماری جدوجہد کا محور ہیں

ایڈمن رپورٹ) جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی پونچھ ڈویژن میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی طرف سے عوام کے قتل عام کی شدید مزمت ...
14/07/2026

ایڈمن رپورٹ)
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی پونچھ ڈویژن میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی طرف سے عوام کے قتل عام کی شدید مزمت کرتی ہے۔ فاشیست ریاست کی سیکورٹی فورسیز نے متیالمیرہ پُرامن عوامی دھرنے پر حملہ کیا۔ اس حملہ کے دوران نہتے عوام پر گولیاں برسائی گئی جس سے 2 نوجوان شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ گردونواح کے محکوم و مظلوم لیکن بہادر لوگ دھرنے میں پہنچ گئے عوام کی اجتماعی مزاحمت نے قاتل فورسیز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے۔
راولاکوٹ دھریک میں قائم عوامی دھرنے پر قاتلانہ سیکورٹی آپریشن کرنے کی غرض سے بڑی تعداد میں کوٹلی سے آنے والی فورسیز کو بیٹھک اور بلوچ کے مقام پر عوام نے سڑکوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کہ سیکورٹی فورسز کو روک کر راولاکوٹ کے پرامن عوامی دھرنے کو تحفظ دیا ہے۔

بلوچ اور بیٹھک کے مقام پر قاتل فورسیز نے عوام پر فائرنگ کر کہ 8 افراد کو قتل اور درجنوں کو زخمی کیا ہے۔ لہو لہو ہونے والے بیٹھک بلوچ کے عوام نے یہ لازوال قربانیاں دینے کے باوجود، سیکورٹی فورسیز کے سامنے نہتی حالت میں اپنے سینے پیش کیے لیکن سیکورٹی فورسیز کو ابھی تک روکے رکھا ہے، راولاکوٹ میں جاری پرامن دھرنوں کو تحفظ دینے کے لیے ریاست جموں کشمیر کے عوام سڑکوں پر ہیں۔ عوام قابض بندوق بردار کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ قبضہ گیریت کے پہنجے مضبوط کرئے اور پُرامن عوام کو قتل کرنے کے لیے دھندناتا پھرئے۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی عوام کی اس عظیم اجتماعی جدوجہد پر ریاست جموں کشمیر کے عوام بالخصوص خواتین اور معصوم بچوں کو لال سلام پیش کرتی ہے۔ متیالمرہ بیٹھک بلوچ میں شہید ہونے والے شہداء کی جدوجہد اور عظیم قربانی کو خراج پیش کرتی ہے۔ قابض بندوق بردارؤں کو 40 دن سے مسلسل مزاحمت دیکر ریاست جموں کشمیر کے بہادر عوام نے مزاحمت اور آزادی کی تاریخ اور نصاب میں انمٹ باب کا اضافہ کیا ہے۔

ریاست جموں کشمیر کے پاکستانی مقبوضہ حصے کے عوام نے قابض بندوق برداروں کے خلاف ان 40 دنوں میں اپنے حق کی لڑائی لڑی یہ صرف ریاست جموں کشمیر کے محکوم عوام کے حقوق اور غلامی سے نجات کی لڑائی نہیں ہے بلکہ اس ریجن کے محکوموں اور مظلوموں کی لڑائی لڑی ہے۔ سامراج مخالف یہ لڑائی پاکستان کی محکوم قومیتوں کے عوام کی بنیادی حقوق اور آزادی کی لڑائیوں کا اٹوٹ ہے۔ اس لڑائی میں محکوم اقوام کی سامراج مخالف جدوجہد کا درس ہے۔جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی محکوم اقوام کے عوام سے اپیل کرتی ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کی اس جدوجہد میں نہتے عوام کا ساتھ دیں۔ سفاک ریاست کی طاقت، ظلم و جبر ، سفاکیت کو ملکر چیلنج کرنے اور اجتماعی انکار کا وقت ہے۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی نے ریاست پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ فی الفور سیکورٹی فورسیز کو واپس بلایا جائےاور ریاست جموں کشمیر کے عوام کو اپنے بنیادی حقوق پر احتجاج کرنے کا حق دیا جائے۔ عوامی تحریک کے منظور اور تسلیم شدہ مطالبات پر فوری عمل کیا جائے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

(ایڈمن رپورٹ)اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی 13 اگست 1948 کی قرارداد کے پہلے حصے کے تحت ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت ک...
13/07/2026

(ایڈمن رپورٹ)
اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی 13 اگست 1948 کی قرارداد کے پہلے حصے کے تحت ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کی بحالی کو یقینی بنائے۔ 13 اگست 1948 کی قرارداد کو ثبوتاژکرتے ہوئے پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں کی متنازعہ حیثیت کو ختم کر کہ مقبوضہ حثیت میں بدل چکا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام پر شدید مقبوضہ حثیت مسلط کرتے ہوئے پچھلے 36 دن سے عوام کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں لوگوں کو جبری گمشدہ کر دیا گیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر گزرتے لمحے اس میں شدت اور تیزی آ رہی ہے۔ راولاکوٹ شہر میں کرفیو کا نفاذ ہے۔ خوراک کی ترسیل بند کر کے پاکستانی قابض ریاست اجتماعی سزاؤں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ تھانوں جیلوں میں معصوم لوگوں کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔لوگوں کی دکانوں اور گھروں میں لوٹ کھسوٹ کی جارہی ہے۔ مسجدوں کی اعلان کیے جا رہے ہیں کے پرامن عوامی دھرنوں میں احتجاج کرنے والے بچوں اور خواتین کا قتل عام کیا جائے گا ۔پکستانی فورسیز پر طرح کے جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ 15 جولائی کو دارلحکومت مظفرآباد کی طرف عوام پرامن عوامی مارچ کریں گے جس کو کچلنے کے لیے 50 ہزار سیکورٹی فورسیز اہلکار ان علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں جو 13 اگست 1948 کی قرارداد کی ادا سر خلاف ورزی ہے۔ اور ریاست جموں کشمیر کے ان علاقوں کی متنازعہ حیثیت کو بندوق کے زور پر مقبوضہ بنا دیا گیا ہے۔ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی اقوام متحدہ سے یہ اپیل کرتی ہے کہ ایمر جنسی حالات میں سیکورٹی کونسل کو پاکستانی زیر انتظام علاقوں میں بھیج کر انسانیت کے قتل عام کے اس منصوبے کو روکے۔ اور عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تحفظ دیتے ہوئے یقینی بنایا جائے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

(ایڈمن رپورٹ)ریڑہ نوجوان مزاحمت کار کامریڈ تیمور کے گھر سیکورٹی فورسیز کے چھاپوں اور دہشت گردی کی جموں کشمیر پیپلز نیشنل...
13/07/2026

(ایڈمن رپورٹ)
ریڑہ نوجوان مزاحمت کار کامریڈ تیمور کے گھر سیکورٹی فورسیز کے چھاپوں اور دہشت گردی کی جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی شدید مذمت کرتی ہے۔

سیکورٹی فورسیز نے چوریوں اور ڈاکے ڈالنے کا سلسلہ تیز کیا ہوا ہے۔ زیورات کیش رقم گھر سے کھانے پینے کے سامان سمیت دیسی مرغیاں بھی پنجرئے توڑ کر ساتھ لے جاتے ہیں۔ گاڑیاں چوری کر کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ دوران آپریشن بچوں اور خواتین کو حراساں کر کہ لوٹ مار کرتے ہیں۔

گزشتہ دن جنذالہ کے مقام پر 8 گھروں سے 37 لاکھ روپے کیش 18 تولے سونا اور دیگر اشیاء سمیت اشیاء خوردونوش بھی ساتھ لے گئے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی بندوق برداروں کی اس لوٹ کھسوٹ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتی ہے اور اسے انسانیت دشمن فعل سمجھتی ہے۔ پاکستانی سیکورٹی فورسیز جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہیں۔

ہزاروں شہریوں کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے سینکڑوں لوگوں کو شہید کیا گیا ہے جن کے برئے میں دھرنوں کی وجہ سے معلومات درست نہیں ہیں لیکن خدشات ہیں کہ 07 جون کے فورسیز کی طرف سے آپریشن میں سینکڑوں لوگوں کو شہید کر کے میتیں غائب کی گئی ہیں جن کے بارئے میں دھرنوں کے بعد درست معلومات حاصل ہوں گی۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی ریاست جموں کشمیر کے عوام کو قابض بندوق برداروں کے خلاف عظیم جدوجہد پر سلام پیش کرتی ہے۔
بالخصوص خواتین اور بچوں کو قابض فورسیز کے جبر اور سفاکیت سے اعلانیہ انکار پر خراج پیش کرتی ہیں۔ پارٹی عوامی تحریک کے شہداء کی لہو رنگ جدوجہد کو خراج پیش کرتی ہے۔ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام اس وقت نہ صرف اپنی سر زمین کے دفاع اور عوامی عزت و وقار کے لیے لڑ رہے ہیں بلکہ اس ریجن کی محکوم اقوام اور مظلوم عوام کی نجات کی لڑائی بھی لڑ رہے ہیں۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی دنیا بھر کے محکوم و مظلوم عوام۔ جمہوریت پسند ، امن پسند اور مزاحمتی قوتوں سے یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کی اس لڑائی میں ان ک ساتھ دیں اور قابض جابر اور فاشیسٹ ریاست پاکستان کا کردار کو پوری دنیا کے عوام کے سامنے بے نقاب کریں۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی بین الاقوامی میڈیا سے یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ 15 جولائی کے عظیم پرامن عوامی مارچ کے موقع پر یہاں تشریف لائیں تا کہ دنیا کے سامنے حقائق پہنچ سکیں۔ پارٹی سیکورٹی کونسل سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ 13 اگست 1948 کی قرارداد کے تحت ہماری متنازعہ حثیت کو فی الفور بحال کروانے میں اپنا کردار ادا کرئے۔ ہماری متنازعہ حثیت کو ختم کر کے بدترین مقبوضہ حثیت قائم کر دی گئی ہے جو 13 اگست کی قرارداد کو اوور رول کرنے کے مترادف ہے
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے وائس چیرمین آصف کشمیری کی بے بنیاد گرفتاری قابل مزمت ہے۔(ایڈمن رپورٹ)آج ایک ہفتہ ہو گیا ...
12/07/2026

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے وائس چیرمین آصف کشمیری کی بے بنیاد گرفتاری قابل مزمت ہے۔
(ایڈمن رپورٹ)

آج ایک ہفتہ ہو گیا آصف کشمیری کو بغیر کسی جرم کے پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ سیاسی کارکنوں کے خلاف جبر و تشدد اور سفاکیت نا قابل قبول ہے۔

ہمارئے لوگوں کا نہ صرف قتل عام کیا جا رہا ہے بلکہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اب تک ہزاروں لوگوں کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے اور ہزاروں نوجوان پابند سلاسل ہیں۔

ہم سیکورٹی فورسیز کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ ظلم و جبر بند کیا جائے۔ تمھارا ہر عمل سفاکیت پر مبنی ہے اور قابل نفرت ہے۔ آصف کشمیری سمیت تمام قید لوگوں کو غیر مشروط رہا کیا جائے۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی قیادت کو شدوکوب کیا جا رہا ہے اور اس کیساتھ ساتھ باغ میں پارٹی کی قائم کردہ لائبریری کو سیل کیا گیا ہے ۔
علم شعور و تحقیق کے اس ادارے کو فی الفور کھولا جائے تا کہ لوگ موجودہ حالات اور واقعات پر
مکالمہ جاری رکھ سکیں۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی قیادت کے بینک اکاؤنٹس منجمد، شناختی کارڈ اور موبائل سمز بلاک کر دیے گئےایڈمن رپورٹپاکست...
11/07/2026

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی قیادت کے بینک اکاؤنٹس منجمد، شناختی کارڈ اور موبائل سمز بلاک کر دیے گئے

ایڈمن رپورٹ

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے مرکزی چیئرمین واجد علی واجد ایڈووکیٹ، سیکریٹری جنرل الیاس کشمیری، سابق چیئرمین ذوالفقار ایڈووکیٹ، کرن کنول، شہزاد حسرت، سلمہ حمید سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی موبائل سمز بلاک کر دی گئی ہیں، جبکہ ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد اور شناختی کارڈ بھی بلاک کر دئیے گے۔

ذرائع کے مطابق ان اقدامات کے باعث متاثرہ رہنماؤں اور کارکنوں کو روزمرہ معاملات، مالی لین دین اور مواصلاتی سہولیات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے ان کارروائیوں کی وجوہات یا قانونی بنیاد کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ضلع باغ میں قائم معروف کیمون لائبریری کو بھی سیل کر دیا گیاہے۔

مقامی حلقوں نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی و علمی مراکز کو بند کرنے کے فیصلے سے طلبہ، محققین اور عام قارئین متاثر ہوں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر میں مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کے خلاف انتظامی اقدامات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث سیاسی سرگرمیوں اور شہری آزادیوں کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

جون 2026ء ایڈمن رپورٹجون 2026ء  یہ مہینہ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں درخشاں نقوش چھوڑ گیا ہے۔ پاکستانی مقبوضہ جموں کشم...
06/07/2026

جون 2026ء
ایڈمن رپورٹ
جون 2026ء یہ مہینہ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں درخشاں نقوش چھوڑ گیا ہے۔ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگ اپنے بنیادی جمہوری حقوق کی جدوجہد میں نہتے اور پُرامن ہو کر لڑ پڑئے ہیں ۔ جون کے ان دنوں میں ایسی تاریخ بنا گئے ہیں جو رہتی دنیا تک محکوم اقوام اور محنت کش طبقے کی قومی و طبقاتی محکومی کے خلاف جدوجہد اور تحریکوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ بندوق بردار بیرونی قابض کی قبضہ گیریت کے خلاف اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے عزت و وقار کی حفاظت کرنے کی منظم عوامی طاقت کا پر امن اظہار مزاحمت کی تاریخ رقم کر گیا ہے۔
05 جون سے 30 جون تک پاکستانی سیکورٹی فورسیز نے راولاکوٹ شہر میں مکمل کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ راولاکوٹ شہر کے بڑئے کاروبار والی دکانوں کو لوٹ لیا ہے۔ دکانوں اور گھروں کی چھتوں پر گنیں لگائی ہوئی ہیں۔ شہر کے چاروں اطراف داخلی راستوں پر خندقیں کھودی ہیں اور مورچے بنائے ہوئے ہیں ۔یہ لوگوں کا اجتماعی قتل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس منصوبہ بندی پر عمل کرتے ہوئے ان 25 دنوں میں پُرامن عوامی دھرنے پر سیکورٹی فورسز نے چار حملے کیے ہیں جن میں درجنوں شہریوں کو شہید کیا ہے اور سینکڑوں شہریوں کو زخمی کیا لیکن پُرامن عوام کو پیچھے نہیں دھکیل سکے ہیں۔ راولاکوٹ سمیت تینوں ڈویژن میں سیکورٹی فورسیز کے اہلکار روزانہ لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں ۔ بچوں اور خواتین کو ہراساں کرتے ہیں۔ تشدد فائرنگ کیساتھ ساتھ گھروں کو لوٹتے ہیں توڑ پھوٹ کرتے ہیں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ لوگوں کو جبری لاپتہ کرنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے اور شدت آ رہی ہے۔ ہم نے جو کچھ 1947 کے ظلم و جبر کے بارئے میں پڑھا اور سنا تھا اور بلوچستان کے بارئے میں پڑھتے سنتے تھے وہ اب اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اس ظلم، جبر، تشدد، لا قانونیت، سفاکیت پر پردہ ڈالنے کی غرض سے انٹرنیٹ سروس بند کر کے مکمل بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے۔ اس لوٹ کھسوٹ، جبری گمشدگیوں اور اجتماعی نسل کشی کے فاشسٹ عمل سے بین الاقوامی انسانی اور جنگی قوانین کی بد ترین خلاف ورزی کی مرتکب ہونے والی قابض و قاتل ریاست اس عوام دشمنی میں اجتماعی سزاؤں جیسے جرائم کی بھی مرتکب ہو رہی ہے۔ گزشتہ 21 دن سے تمام انٹری پوائنٹس سے خوراک کی ترسیل بند کی گئی ہے۔ خوراک کی ترسیل پر اتنی شدید پابندی ہے کہ گھر کے استعمال کا فیملی راشن بھی نہیں لیکر جانے دیتے۔ تمام پولیس چوکیوں پر پاکستانی سیکورٹی فورسیز کا قبضہ ہے۔ لوگوں سے ہر طرح کی خوراک چھین لی جاتی ہے۔ خوراک کی ترسیل مکمل بند کر کے اجتماعی سزاؤں کا غیر انسانی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لوگوں کو جبراً اٹھا کر تشدد کر کے رشتہ داروں کو یرغمال بنا کر تحریک اور عوامی ایکشن کمیٹیوں سے لا تعلقی کے ویڈیوز پیغامات گن پوائنٹ پر جاری کروائے جا رہے ہیں۔ کوئی ایسا غیر انسانی غیر قانونی حربہ باقی نہیں بچتا جو ان 25 دنوں میں ریاست جموں کشمیر کے عوام پر نہ آزمایا گیا ہو۔ ریاست کے سارئے شہریوں کو دہشتگرد قرار دیکر کچلنے کی منصوبہ بندی پر تیزی سے وحشیانہ طرزِ عمل جاری ہے۔ 170 سرکاری حاضر و ریٹائرڈ ملازمین کی ملازمتیں ختم کر دی گئی تنخواہیں اور پنشن بند کر دی گئی ہیں اس بنیاد پر کے یہ لوگ عوامی تحریک کیساتھ ہیں ۔کٹھ پتلی گماشتہ حکمران اسلام آباد میں بیٹھے ریاستی عوام کے کچلے جانے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ سارا نظام برگیڈیر فائق اور ائی جی لیاقت چلا رہے ہیں۔ امن، افہام و تفہیم اور مزاکرات کی کاوشیں کرنے والے پاکستانی سیاست دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں پر ریاست جموں کشمیر میں داخل ہونے پر پابندی عائد ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کو دھرنوں اور دیگر شہرؤں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ پاکستانی ریاست اس فاشزم کی بد ترین شکلوں پر پردہ ڈالے لوگوں کو کچل دینا چاہتی ہے۔
تحریک کی ہر سطح کی قیادت پر وحشیانہ کریک ڈاؤن جاری جس میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کے ممبران سمیت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چار ممبران کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ شوکت نواز میر کو دھیر کوٹ سے جبری لاپتہ کیا گیا ہے۔ ایک پُرامن نہتے خالی ہاتھ فرد کو لاپتہ کرنے کے اس عمل کے دوران دو گھنٹے تک ہیوی اسلحہ کیساتھ فائرنگ کی گئی۔ مقامی پولیس ڈی ایس پی مظفرآباد سمیت شوکت نواز میر کی گرفتاری کی تصدیق کرنے کے بعد انکار ہو گئے ہیں جس سے شدید ۔تشویش اور خدشات نے جنم لیا ہے کہ شوکت نواز میر زندہ ہیں یا ان کو شہید کر دیا گیا ہے اس بارئے میں آج تک کوئی اطلاع نہیں ہے ۔
پاکستانی فورسیز اور ریاست کے اس دہشتگر دانہ درندہ صفت خونی کردار کے باوجود عوامی تحریک نے امن کو راستہ دیا ہے۔ پُرامن راہ کر لاکھوں لوگ بیرونی بندوق برداروں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ راولاکوٹ کے چاروں اطراف پُرامن عوامی دھرنے جاری ہیں۔ ان عوامی دھرنوں میں گزشتہ 20 دن سے ہزاروں خواتین بچوں سمیت شرکت کر رہی ہیں۔دھرنے میں موجود ہزاروں لوگوں کا ناشتہ تیار کرنے کے بعد جلوسوں کی شکل میں یہ خواتین دھرنوں کا رخ کرتی ہیں۔ اسٹیج سے اپنی سر زمین کی حفاظت اور معاشی حقوق کے لیے صف اؤل میں راہ کر لڑنے اور قربانی دینے کے جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ خواتین اتنے منظم انداز میں عظیم جدوجہد کا عملی حصہ ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ہماری خواتین نے بلوچ خواتین سے تاریخ اور جدوجہد کا سبق حاصل کیا ہے۔ خواتین کے اس بے مثال مزاحمتی کردار نے ایسی تاریخ رقم کی ہے جو تاریخ کے نصابوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اور خواتین کا یہ مزاحمتی کردار صرف راولاکوٹ کے دھرنوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پونچھ ڈویژن، مظفرآباد ڈویژن اور میرپور ڈویژن کے تمام چھوٹے بڑئے شہروں کے علاوہ گاؤں محلے کی سطح پر خواتین عوامی حقوق تحریک کے حق میں سراپا احتجاج ہیں۔ کہیں ہزاروں کی تعداد میں نکلتی ہیں تو کہیں سینکڑوں کی تعداد میں نکلتی ہیں۔ جابر و قابض بندوق برداروں کے جبر و تشدد،قبضہ گیریت، فسطائیت اور سفاکیت کو جموں کشمیر کے پہاڑوں کی بیٹیوں نے چیلنج کیا ہے۔ باہر نکل کر دنیا کے سامنے اپنی سرزمین پر بیرونی قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس انکار نے قبضہ گیر کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ خواتین نے سڑک پر نکل کر قابض فورسیز کو للکارا ہے کہ تم ہمارئے گھروں میں بندوق لیکر بزدلوں کی طرح کیوں راتوں کو حملہ آور ہوتے ہو ہم نہتے ہیں لیکن شعور کے ہتھیار سے مسلح ہیں اور تمھاری بندوقوں کا مقابلہ شعور کیساتھ کرنے کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں۔ یہاں سڑکوں پر چوکوں میں چلاؤ گولیاں ہمارئے سینے حاضر ہیں۔ ہم اپنی جانیں اپنے بچے قربان کرنے کا اعلان کرتے ہیں لیکن جبر کی بنیاد پر اپنی سر زمین پر تمھارا قبضہ کبھی قبول نہیں کریں گے۔ تم گولہ بارود کی طاقت آزماؤ ہم شعوری بنیادوں پر اجتماعی انکار کی طاقت کو آزمائیں گے۔ تم جن جرائم کے مرتکب ہو رہے ہو اصولی طور پر تم ہار چکے ہو۔ شکست خوردگی میں تم اس سرزمین کے فرزندوں کا اجتماعی قتل کر کہ ان کو جبری لا پتہ کر کہ فتح مند ہونا چاہتے ہو یہ تمھاری بھول ہے۔ ہماری جدوجہد صبر آزما اور لمبی ہے ہم تمہارے اِنسانیت دشمن کردار اور تمھاری سفاکانہ تاریخ سے واقف ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں ہمیں اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشیں بھی اٹھانا پڑیں گی۔ سن لو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ یہ سب سہہ لیں گے لیکن اپنی سرزمین پر بیرونی قبضہ اور اپنے لوگوں کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے۔ ہم اپنی سرزمین کے دفاع اور اپنے لوگوں کی عزت اور وقار کے لیے لڑیں گے۔ اس شعوری پختگی کیساتھ ہر فرد بوڑھا،بچہ،نوجوان، مرد،عورت سب تاریخی جدوجہد کے اندر ہیں۔
گزشتہ 21 دن سے تینوں ڈویژن کے دس اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ ریاست نے لاک ڈاؤن ختم کروانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ہے۔ پرینٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ، سہولت کاروں سے پریس کانفرنسیں اور ویڈیوز پیغامات جاری کروانے سمیت طاقت کے زور پر دکانیں کھلوانے جیسے سارئے حربے ناکام ہوئے۔ تین ہفتے سے مکمل شٹر ڈاؤن تاجروں اور ٹرانسپوٹروں کے عوامی تحریک کو لیکر بے باک تاریخی کردار کی غمازی کرتا ہے۔ انکار کی اپنی ایک تاریخ ہے جس میں پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام نے درخشاں باب کا اضافہ کیا ہے۔بیرون دنیا میں موجود ریاست کے شہری مسلسل احتجاجی مہم میں ہیں۔ ایسے حالات میں جب ریاست نے انٹرنیٹ سروس بند کر کے مکمل بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے ۔ اوورسیز نے پوری دنیا کو حقائق سے روشناس کروایا اور عوامی تحریک کو حقیقی معنوں میں قومی رنگ دیا۔ یہ ثابت کیا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام حق ملکیت اور حق حکمرانی کے حصول کی جدوجہد میں منظم ہیں۔ جس کے لیے نہ صرف داخلی سطح پر عوام سیاسی محاذ پر لڑائی لڑ رہے ہیں بلکہ خارجی سطح پر اوورسیز سفارتی محاذ پر منظم جدوجہد کر رہے ہیں۔ سفارتی محاذ پر منظم جدوجہد سے ہی یہ ممکن ہو سکا ہے کہ دنیا بھر کی جمہوریت اور امن پسند قوتوں نے ریاست جموں کشمیر کے عوام کی تحریک کیساتھ یکجہتی کرتے ہوئے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے فاشزم کی مزمت کی ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے تقسیم ہونے کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر سے اٹھنے والی کسی آواز یا تحریک کیساتھ وادی، جموں اور گلگت کے عوام نے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ طاقتور اور منظم آواز یا تحریک اس علاقے میں بنی ہی پہلی بار ہے۔ عوامی تحریک نے ان 25 دنوں میں بیرونی سامراجی ہتھکنڈوں اور جبر کے خلاف جہاں قومی کریکٹر کو اجاگر کیا ہے۔ وہیں پر پنڈی کہوٹہ اور کوٹلی ستیاں کے عوام خوراک لیکر دھرنے میں پہنچے باوجود اس کے کہ پاکستانی ریاستی میڈیا پاکستانی اور ریاست جموں کشمیر کے عوام کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کے لیے منظم طریقے سے مسلسل منفی پروپگینڈا کر رہا ہے۔ یہ عوامی تحریک کا طبقاتی جوھر ہے۔ یہ ثابت ہوا کہ محکوم اقوام کی قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد نہ صرف جائز ہے بلکہ بیرونی جبر اور قبضہ کے خلاف داخلی طور پر قومی جوھر میں یہ جدوجہد منظم ہوتی ہے تو اس جائز جدوجہد کیساتھ خارجی سطح پر طبقاتی جڑت بنتی ہے جس میں حاکم قوم کا محنت کش طبقہ بھی اس جدوجہد کی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے۔ گو کہ پاکستان کے عوام ہماری جدوجہد کے حق میں باہر نہیں نکلے اپنے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو ریاست جموں کشمیر کے پرامن عوام پر جبر سے نہیں روک سکے۔ لیکن بلوچ، پختون ،سندھی عوام کے ترقی پسند کرداروں نے تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے ۔ ان سارئے حالات و واقعات اور کرداروں کو ملا کر تجزیہ کیا جائے تو ہمارئے لوگ بہت خوفناک لڑائی لڑئے ہیں۔
عوامی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے آج یکم جون ہے اور پانچ جولائی کو ریاست سمیت پوری دنیا میں ریاست جموں کشمیر کے شہری امن مارچ کریں گے اور اسی دن اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیے جانے کی تواقعات ہیں ۔عوام بلند حوصلوں، مستقل مزاجی، صبر سے پرامن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مستقبل کے امکانات پر بھی بات ہو گی لیکن ان 25 دنوں میں تحریک کی حاصلات عوام کے حق میں تاریخی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں مظفرآباد میں بیھٹے حکمران طبقے اور عوام میں تضاد گہرا ہوا۔ جب یہ حکمران بے بس اور شکست خوردہ ہوئے تو ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستانی حکمران سامنے آئے جب وہ شکست خوردہ ہوئے تو ان کے تحفظ کے لیے سیکورٹی فورسیز یعنی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ آن پہنچی۔ قابض کیساتھ عوام کا تضاد گہرا ہونا لازم ضرور تھا لیکن اس میں ابھی شاید سالوں کا وقت لگتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غلامی کے ادؤار میں نوآبادیاتی اور محکوم سماجوں کے عوام کو منصوبہ بندی کیساتھ فکری ابہام کا شکار کیا جاتا ہے۔ ہمارئے ساتھ بھی گزشتہ 78 سالوں میں ایسا ہی کیا گیا۔ جون 2026ء کے ان تاریخی دنوں میں ریاست جموں کشمیر کے عوام نے سالوں کا سفر دنوں میں طے کیا مارکسزم اسے ہی سماجی چھلانگ کہتا ہے۔ قابض جب معاشی جبر کو بندوق سے تحفظ دینا شروع کرتا ہے تو پھر قابض اور محکوم عوام کے درمیان تضاد زیادہ تیزی اور شدت کیساتھ گہرا ہوتا ہے۔ ایسے ہی ہوا جس تضاد کو گہرا کرنے کے لیے ترقی پسند اور وطن دوست قوتوں نے کئی سالوں تک جدوجہد کی اپنا کردار ادا کیا لیکن تضاد گہرا نہیں ہو سکا اور ابھی شاید کئی سال اور لگتے وہ تضاد دنوں میں گہرا ہو گیا۔ محکوم سماج میں کسی بھی تحریک کی حاصلات میں یہ سب سے بنیادی اور اہم حاصل ہے۔
شوکت نواز میر کی گرفتاری کے بعد پورئے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں عوامی احتجاجوں میں شدت آئی ہے شوکت نواز میر کو فی الحال 30 نومبر 2026 کی رات تک لاپتہ رکھ گیا ہے ذرائع کے مطابق انھیں پاکستان میں کسی خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ یہ خفیہ مقامات پاکستانی سیکورٹی فورسز کے چارٹر سیل ہیں۔ ماہ جولائی میں عوامی تحریک پرامن فتح کی طرف پیش رفت کو مزید تیز کرئے گی لوگوں کے حوصلے جزبات استحکامت سے فتح کی نوید جھلک رہی ہے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

فاشزم میں بھی عوامی تحریک نے امن کو راستہ دیا ہے۔(ایڈمن رپورٹ)گزشتہ 19 دن سے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤ...
24/06/2026

فاشزم میں بھی عوامی تحریک نے امن کو راستہ دیا ہے۔
(ایڈمن رپورٹ)
گزشتہ 19 دن سے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے، تاجر اور ٹرانسپوٹر رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں اور گاڑیاں بند کیے ہوئے ہیں۔

راولاکوٹ کے گردونواح میں چار دھرنے مسلسل جاری ہیں جبکہ نیلم کے مقام پر بھی عوامی دھرنہ جاری ہے۔ ہر گزرتے دن ان دھرنوں میں لوگوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ بچے اور خواتین ہزاروں کی تعداد میں ان دھرنوں کا روزانہ حصہ بن رہے ہیں۔

راولاکوٹ کے علاؤہ بھی تینوں ڈوثزن میں خواتین اور بچے روزانہ مسلسل احتجاج سے راولاکوٹ کے پرامن احتجاجی دھرنوں اور عوامی تحریک کیساتھ مکمل اظہار یک جہتی کر رہے ہیں۔ پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ خواتین قومی عزت و وقار کی لڑائی میں پیش پیش ہیں۔

اوورسیز ریاست جموں کشمیر کے شہری عوامی تحریک میں متحد و منظم ہیں ۔ عوامی تحریک کے حق میں پوری دنیا میں احتجاج جاری ہیں ۔ اور انسانی حقوق کے
بین الاقوامی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کرنے میں اوورسیز جموں کشمیر کے شہریوں نے جاندار کردار ادا کیا ہے۔

دوسری طرف سیکورٹی فورسیز نے راولاکوٹ شہر میں مکمل کرفیو نافذ کر رکھا ہے راولاکوٹ کے علاؤہ تینوں ڈوثزن میں سیکورٹی فورسز نے سفاکیت اور بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ نہتے لوگوں کو جبری گمشدہ کیا جا رہا ہے، شہداء کی لاشوں اور زخمیوں کو سیکورٹی فورسز نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے ۔ عوامی ایکشن کمیٹیز کے ممبران کو جبری لاپتہ کر کہ تشدد کے ذریعے بندوق کی نوک پر ان سے تحریک سے علیحدگی کے بیانات لیے جا رہے ہیں۔ بازاروں میں بالخصوص راولاکوٹ بازار میں سیکورٹی فورسز نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

انٹری پوائنٹس پر پاکستانی سیکورٹی فورسیز خوراک کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کیے ہوئے ہیں۔ ذاتی اور گھریلوی استعمال کے لیے بھی اشیاء خوردونوش لے جانے پر پابندی ہے اور لوٹ لیا جاتا ہے۔ ظلم جبر سفاکیت اور فسطائیت کی ساری حدوں کو سیکورٹی فورسز نے پار کیا ہے ۔

اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے، سینکڑوں زخمیوں اور جبری گمشدگیوں کے زخم اپنے اندر سموئے ہوئے عوامی تحریک مکمل طور پر پرامن اور منظم ہے۔ بندوق برداروں کی طرف سے قتل عام ، لوٹ کھسوٹ، کالعدم قرار دینے، شیڈیول فورتھ میں ڈالنے جیسے اقدامات کے باوجود تحریک کو پُرامن رکھنے کے عمل نے ریاست کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے امن، افہام و تفہیم کا پیغام لیکر راولاکوٹ دھرنے میں جانے والے جمہوریت اور امن پسند نمائندوں اور لوگوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جاوید راٹھور اور سینیٹر مشتاق خان نے خاصی دشواریوں کو ابھور کرتے ہوئے دھرنے کا دورہ کیا اور پاکستانی میڈیا ، حکمرانوں اور سیکورٹی فورسیز کے جھوٹے پروپگینڈے کو بے نقاب کیا۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی سیکورٹی فورسز کے عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم ، جبر، بربریت، لوٹ کھسوٹ،جبری گمشدگیوں جیسے غیر انسانی اقدامات اور بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بھرپور مزمت کرتی ہے۔
پارٹی جموں کشمیر کے عوام کے حوصلوں ، جزبوں، جڑت اور استقامت، کیساتھ بندوق بردار قبضہ گیروں کے خلاف منظم لڑائی لڑنے پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔
بالخصوص قبضہ گیریت کے عزائم کو دوائم بخشنے والے مسلح منصوبوں کے خلاف منظم ہونے والی خواتین نے جو تاریخ رقم کی ہے رہتی دنیا تک مزاحمت اور سامراج مخالف جدوجہد میں نہ صرف یاد رکھی جائے گی بلکہ مشعل راہ رہے گی۔ پہاڑوں کی ان ماؤں بیٹیوں کو اپنی سر زمین کے دفاع میں سڑکوں پر نکلنے اور لڑنے کے عزم کے عملی اظہار پر پارٹی خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اوورسیز ریاستی شہریوں نے اپنے ژندہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ پارٹی یہ یقین رکھتی ہے کہ عزم حوصلے اور قومی و طبقاتی جڑت کیساتھ عوامی تحریک فتح سے ہمکنار ہو گی۔ بیرونی بندوق برداروں کے خلاف نوجوان شہداء نے عوامی تحریک کو اپنے خون سے سینچا ہے اور امن کو راستہ دیا ہے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

پریس ریلیز) نیشنل سیکرٹریٹ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی عوامی تحریک میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی ضلعی صدر سلمہ حم...
15/06/2026

پریس ریلیز) نیشنل سیکرٹریٹ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

عوامی تحریک میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی ضلعی صدر سلمہ حمید، مہر چغتائی سمیت درجنوں نوجوانوں اور کم عمر بچوں پر ایف آئی آرز قائم کرنے کی جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی بھرپور مزمت کرتی ہے۔

ریاست بھر میں جعلی ایف آئی آرز قائم کرنا، شیڈیول فورتھ کا پرامن لوگوں پر نفاذ ، سینکڑوں عوامی تحریک کے کارکنوں کو گرفتار کرنا اور پھر جبری گمشدگیوں کا غیر انسانی سلسلہ بندوق برداروں کے خوف کی غمازی کرتا ہے۔

اس وقت پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں طبعی مراکز پر فائرنگ اور پر امن عوامی دھرنے پر بار بار خونی آپریشن جاری ہے بلکہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ اور لوٹ کھسوٹ میں ہر گزرتے لمہے تیزی آ رہی ہے، جموں کشمیر کے شہریوں کی منظم طریقے سے نسل کشی کی جا رہی ہے جو انتہائی تکلیف داہ اور قابل نفرت ہے۔

جموں کشمیر کے عوام کو خوراک کی ترسیل روک دی گئی ہے جابر ریاست خوراک کی ترسیل بند کر کہ اجتماعی سزا دینے کے جرم کی مرتکب ہو رہی ہے، نسل کشی اور اجتماعی سزاؤں کا یہ غیر انسانی عمل قابل نفرت ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بالخصوص محنت کشوں کے حقوق و نجات کی جدوجہد کرنے والی تنظیموں سے پارٹی یہ اپیل کرتی ہے کہ ان واقعات اور حالات کا نوٹس لیتے ہوئے اس ریاستی جارحیت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ریاست جموں کشمیر کے عوامی کی مدد کریں۔ بالخصوص پاکستان کے عوام باہر نکل کر پاکستانی حکمرانوں کو سیکورٹی فورسز کو واپس بھلانے پر مجبور کریں۔

شعبہ نشرواشاعت جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

15/06/2026

سرساوہ، سہنسہ، پنجیڑہ مزاحمتی خواتین اور بچے ریاستی سفاکیت کے خلاف سفید پرچم لیکر سڑکوں پر نکل ائے، آخری فتح عوام کی ہو گی۔
شعبہ نشرواشاعت جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی

15/06/2026

منڈھول ھجیرہ
خواتین اور بچے ظلم جبر اور بربریت سے انکار کے فلک شگاف نعرئے بلند کرتے ہوئے امن کا پرچم تھامے سڑکوں پر نکل آئے ۔

Address

Muzaffarabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jammu Kashmir Peoples National Party posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share