05/08/2026
قومیں نعروں سے نہیں، کردار اور خدمت سے بنتی ہیں
سیاست میں اختلاف فطری ہے، مگر جب اختلاف نفرت، جھوٹ اور کردار کشی کی شکل اختیار کر لے تو سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے اخلاقی شعور کو پہنچتا ہے۔
نارووال کی سرزمین اس حقیقت کی گواہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں پروفیسر احسن اقبال کی قیادت میں تعلیم، انفراسٹرکچر، نوجوانوں کی ترقی، کھیلوں کے فروغ، مواصلاتی نظام اور عوامی سہولیات کے متعدد منصوبے اس خطے کی شناخت بنے۔ ان منصوبوں نے نہ صرف نارووال کی تقدیر بدلنے میں کردار ادا کیا بلکہ اسے قومی سطح پر ایک نمایاں مقام بھی دلایا۔
حالیہ کشمیر کے انتخابی ماحول میں بھی نفرت انگیز تقاریر، سخت سیاسی الزامات اور دھاندلی کے دعوے عوام کے سامنے آئے۔ ایسے حالات میں جمہوری معاشروں کی اصل طاقت یہی ہوتی ہے کہ فیصلے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں، نہ کہ جذباتی نعروں یا الزام تراشی کی بنیاد پر۔
نارووال کے غیور، باشعور اور باوقار عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ انتشار کے بجائے امن، تعلیم، ترقی اور خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے اس سوچ کی تائید کی جس کی بنیاد کارکردگی، استحکام اور مستقبل کی تعمیر پر ہے، اور پروفیسر احسن اقبال کو ایک مرتبہ پھر سرخرو کیا۔
یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ اس سوچ کی کامیابی ہے جو اختلافِ رائے کو جمہوری انداز میں قبول کرتی ہے، نفرت کے بجائے امید کو فروغ دیتی ہے، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو امن، اتحاد اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھے، اور ہمیں اختلاف کے باوجود باہمی احترام، برداشت اور خدمتِ خلق کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔