27/05/2026
پریس ریلیز 27مئی 2026
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نوشہرہ کینٹ میں مبینہ ہراسانی کے معاملے کی ابتدائی تحقیقات مکمل
سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اینڈ ہیومن رائٹس اعجاز اختر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی، جس میں ایس پی انویسٹیگیشن شاہ اسد خان اور ممتاز عالم دین مفتی ڈاکٹر شوکت اللہ حقانی بھی شامل تھے۔
کمیٹی نے کالج کے متعدد دورے کیے اور طلبہ، طالبات، تدریسی عملے، کالج انتظامیہ اور انسدادِ ہراسانی کمیٹی سے تفصیلی تحقیقات کیں۔ اس دوران سی سی ٹی وی فوٹیجز، مبینہ واٹس ایپ چیٹس، سوشل میڈیا مواد اور دیگر دستیاب شواہد کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کے مطابق مبینہ شکایت کنندہ تک رسائی کیلئے مختلف ذرائع استعمال کیے گئے اور رابطہ نمبرز بھی آویزاں کیے گئے، تاہم کوئی متاثرہ فریق سامنے نہ آسکا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سوشل میڈیا مہم چلانے والے وحید حیات کو طلب کرکے شواہد مانگے، تاہم وہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہ کرسکے۔ کمیٹی کے مطابق فراہم کردہ واٹس ایپ چیٹس کا اصل سورس بھی پیش نہیں کیا جاسکا جبکہ مبینہ شکایت کنندہ سے منسوب موبائل نمبر دوسرے صوبے کے ایک مرد شہری کے زیرِ استعمال نکلا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بغیر تصدیق الزامات اور غیر مصدقہ مواد کے باعث تعلیمی ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی اور والدین و طلبہ میں بے چینی پیدا ہوئی۔ تحقیقات کے مطابق سوشل میڈیا پر کیے گئے بعض دعوے بھی غلط ثابت ہوئے جبکہ کالج انتظامیہ، پرنسپل اور تدریسی عملے کے خلاف لگائے گئے الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔
تاہم کمیٹی نے کالج انتظامیہ اور انسدادِ ہراسانی کمیٹی کے کردار کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے پرنسپل کو کمزور نگرانی اور انتظامی نااہلی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ رپورٹ میں دو لیکچررز عثمان غنی اور توصیف احمد کے خلاف مشکوک غیر اخلاقی سرگرمیوں پر محکمانہ کارروائی جبکہ کالج پرنسپل کے تبادلے کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی نے وحید حیات کے خلاف بغیر شواہد الزامات لگانے، ادارے کے خلاف منظم سوشل میڈیا مہم چلانے اور عوام میں اشتعال پھیلانے پر قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔ مزید برآں، مبینہ واٹس ایپ چیٹس، ڈیجیٹل شواہد اور سوشل میڈیا مہم سے جڑے کرداروں کی مزید تحقیقات کیلئے کیس NCCIA کو بھجوانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔