25/03/2025
الحمدللہ ، الحمدللہ ثم الحمدللہ " تذکرۃ الابرار" چھپ گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔
برادرم محترم علامہ پیر طاہر حسین القادری زید مجدہ کے الفاظ میں ۔ ۔ ۔ شکریہ کے ساتھ
۔ ۔ ۔ ۔
صدیوں کا قرض
’’تذکرۃ الابرار‘‘خانوادئہ گیلانیہ،قادریہ شیخو شریف کے نامور سادات و شیوخ کے حالات پر مشتمل ایک منفرد تذکرہ ہے۔اس کی اہمیت اس لحاظ سے بھی دو چند ہےکہ یہ بزرگانِ شیخو شریف کے اڑھائی سو سالہ علمی و روحانی خدمات کا ایک مختصر جائزہ ہے۔یہ تزکرہ جہاں اہم سوانحی خدو خال پیش کرتا ہےوہیں شجرات ،صوفیانہ افکار اور نادر معلومات کے اعتبار سے بھی کسی دستاویزسے کم نہیں۔
مخدومی سید افضال حسین گیلانی نوراللہ مرقدہ،(1942ء,2020ء)سے میری پہلی ملاقات 2007ء میں ہوئی،آپ اس پُر فتن دور میں اپنے اسلاف کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔آپ نہ صرف ایک شاعر تھےبلکہ بہترین نقاد اور تذکرہ نویس بھی تھے۔آپ نے1975ءسے لے کر2006ء تک زیرعنوان ’’بسلسلہ تذکرہ الابرار‘‘اپنے بزرگان کے احوال و مناقب پر معتدد چھوٹے بڑے رسائل لکھ کر شائع کیے۔آپ کی درینہ خواہش تھی کے اپنے شیوخ کاتذکرہ جامع صورت میں مرتب کر سکیں اور اس کا اظہار آپ نے راقم الحروف کی کتاب ’’تاریخ ابن کرم‘‘کی اشاعت کےموقع پر اپنی تقریظ میں اس طرح فرمایا ’’آپ نے میری درینہ خواہش کی تکمیل کی ہے اور خوابوں کی تعبیر فرمائی ہے۔‘‘
آپ کے خلف الصّدق برادرم سید سَید علی ثانی جیلانی سلمہ ربہ، نے آپ کے انہی رسائل کو نہ صرف از سر نو مرتب فرمایا ہے بلکہ اس میں بہت سے مفید اضافہ جات بھی کیے ہیں۔’’تذکرۃ الابرار‘‘ کی موجودہ صورت ، تصنیف و تالیف سے لیکر ترتیب و تدوین کے مراحل تک نہایت محنت و جانفشانی سے مکمل کی گئی ہے۔
ایک بہترین اور جامع تذکرہ میں جو خوبیاں ہونی چاہیں وہ تمام اس تذکرہ میں موجود ہیں ایسے نافع کام نہ روز ، روز ہوتےہیں اور نہ ہر کوئی کر سکتا ہے ، یہ صدیوں کا قرض ہوتا ہے جو منتخب افراد سے ہی لیا جاتا ہے۔خیرالناس من ینفع الناس(لوگوں میں بہترین وہ ہےجس کا وجود دوسرں کے لیے فائدہ مند ہو)
یا خدا ، قادری میخانہ سلامت رکھنا
مے بغداد جھلکتی رہے پیمانوں سے
------
------
محمد طاہر حسین قادری غفرلہ،
خانقاہ منگانی شریف،ضلع جھنگ
۲۱،رمضان المبارک 1446ھ