18/10/2023
By ♥️
~Epi 1~
•••══༻۔۔۔۔¤___¤۔۔۔۔༺══•••
انتہائی تاریک، بھیانک اور موسلا دھار قہر ناک بارش والی سیاہ رات تھی، بادل اور بجلی اس وحشت سے گرج رہے تھے کہ دل کانپ سا جاتا۔
اپنے کیے سارے گناہوں کا بوجھ قدرت اسکے کندھے سے اتارنے کا تہیہ کیے بیٹھی تھی، عباد حشمت کیانی نامی گرامی سیاست دان، دشمن کے وار سے اپنے ہی آنگن کو اجڑنے سے نہ بچا سکا تھا۔
علاقے کے نیشنل ہوسپٹل خون میں لت پت نسوانی وجود کو بانہوں میں اٹھائے وہ حلق کے بل چینختا داخل ہوا تھا۔
اسکی سفید شرٹ خون سے تر تھی، چہرے پر کرب کی انتہا، تکلیف کی آخری حد لیے وہ جیتے جی شاید مر سا گیا تھا۔
حسین، دنیا کا فخر، اک وحشی بھی، شاید اک نادانستہ جرم کا مرتکب بھی تبھی تو قدرت نے اسکے اعمال اسکے سامنے لائے تھے
اسکی ایک جنبش پر کئی ملک کے بڑے بڑے لوگ کٹ پتلی کی طرح ناچتے تھے مگر آج ہوسپٹل میں وہ صرف ایک اجڑا ہوا پور پور بکھرا دیوانہ اپنے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسلتی حیات کے بچاو کے لیے کچھ بھی نہ کرسکنے پر اپنے ہاتھ مل رہا تھا۔
جسے اپنی نہیں گُل مینے اور اسکے وجود میں پلتی ننھی جان کی فکر خون کے آنسو رلا رہی تھی۔
گاڑی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، وہ آخری سانسیں لے رہی تھی مگر عباد حشمت کیانی نے اپنی آخری سانس کب کی حلق سے کھینچ لی تھی۔
گُل مینے کو فوری طور پر آئی سی یو روم شفٹ کیا گیا تھا، پورے ہوسپٹل میں ایمرجنسی نافذ تھی۔
خونی جن زاد بن کر بھی بے بسی پر ماتم کرتے عباد سے کچھ فاصلے پر کھڑی ایک مغربی مکمل سیاہ لباس والی عورت بھی کھڑی تھی جو کرب ناک دیکھائی دے رہی تھی۔
"ممکن ہے ہمیں یہ آپریٹ فوری کرنا پڑے، انتظار کیا تو آپکی بیوی کے ساتھ ساتھ آپکے بچے کی جان بھی چلی جائے گی۔ گل مینے کا بہت خون بہہ چکا ہے عباد صاحب، ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپکے بچے کو بچانے کی ایک کوشش کر لیں۔ دیر ہو گئی تو ہم مریضہ کے ساتھ ساتھ اس بچے کو بھی کھو دیں گے"
جب ڈاکٹرز اور نرسوں کی پوری ٹیم نے ماں کی ابتر حالت اور بچے کی زندگی کے خطرے کا بتایا تو اس لمحہ اپنی حاکمیت کے باوجود وہ شخص ہارے جواری کا روپ دھار گیا تھا، جسکے ہاتھوں اسکی ساری پونجی لٹ گئی تھی۔
ان پیپرز پر اس سنگین خطرے کے باوجود آپریٹ کی ہامی کے دستخط کرتے وقت وہ لاشعور میں اپنا جنازہ پڑھ رہا تھا، تکلیف نے تو اس سنگدل دل کے ہر کونے میں پنجے گاڑ لیے تھے، گل مینے نے گویا چلے جانا تھا، وہ یکدم اسکی پربہار زندگی کے ہر باب سے ویسے ہی اوجھل ہونے والی تھی جیسے شامل ہوئی تھی۔
بہت اجلت میں، شاید یونہی، بلاوجہ۔۔۔۔
اس سوہان روح انتظار کو کئی گھنٹے گزر گئے، یکدم پورے ہوسپٹل کی ساری روشنیاں گُل ہو گئیں۔
ہر طرف افراتفری مچ چکی تھی۔
دس منٹ ہی گزرے تھے کہ روشنیاں واپس بحال ہو گئیں مگر وہ ایک جملہ عباد پر اس پورے ہوسپٹل کی عمارت گرا گیا۔
"ہم نے آپ کے بیٹے کو بچا لیا تھا وہ بلکل ٹھیک اور صحت مند تھا مگر وہ ناجانے کیسے غائب ہو گیا۔۔۔۔"
اپنی سماعت میں پگھلا سیسہ اترتا محسوس کیے وہ بپھری موج سا آئی سی یو روم کی سمت دوڑا۔
وہاں اسکی بیوی گُل مینے کی لاش تھی، وہ اس بچے کو جنم دینے کے بعد بس چند لمحے جی سکی تھی، اسکے ساکت خاکی وجود پر سفید چادر ڈال دی گئی تھی۔
آنکھیں، روح، جسم اور جان سب ماتم منانے لگے۔
عباد نے اپنا کانپتا ہاتھ بڑھا کر ایک آخری بار گُل مینے کا چہرہ اذیت سے دیکھا۔
پورے ہوسپٹل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، جلد از جلد یہ خبر میڈیا میں پھیل گئی۔
"مشہور جنرلسٹ اور یوتھ کے پاور فل لیڈر عباد حشمت کیانی کا نومولود بیٹا ہوسپٹل سے پُراسرر طور سے غائب ہو گیا"
ہر چینل پر یہی خبر تھی، عباد کی اس تکلیف پر وہ سیاہ کپڑوں والی عورت استہزایہ ہنسی تھی، جیسے اس شخص کی اذیت نے اسے سکون بخشا۔
جو عباد حشمت کے جسم سے لہو کا ایک ایک قطرہ نچوڑ دینے کی خواہاں تھی، اسکے نفیس اور خوبصورت چہرے پر نجس مسکراہٹ اور غرور درج تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسے لگتا تھا یہ برستی بارش صرف امیر لوگوں کے لطف کا سبب بنتی ہے، اسے انجوائے کرنا تو امیروں کےچونچلے ہیں۔
غریب لوگ جو بمشکل اپنا تن ڈھانپتے ہوں، انکے لیے یہ بارش انکے کچے گھروں کی تباہی تھی۔
وہ دن اسے آج بھی یاد تھا جب وہ کچی بستی کی جھونپڑیوں میں اپنی ماں، بابا، دادی اور دادا کے ساتھ غربت کے باوجود آسودگی سے رہتی تھی، ایک رات چراغ کے جلے رہ جانے نے پوری جھونپڑی کو جلا کر خاکستر کر ڈالا۔
ماں ، بابا اور دادی جھلس کر مر گئے، دادا نے کسی طرح منہا سلطان کو بچا تو لیا مگر وہ خود دھوئیں کے باعث دمہ اور سانس کے مرض کا شکار ہو گئے۔
جس آگ نے منہا کا سارا خاندان نگل لیا وہی آگ اسکے اندر اس ننھی تئیس سالا عمر سے ہی اس سفاک زمانے کے لیے بھری تھی۔
سنسان سڑک پر وہ مکمل بھیگی، آج پھر خود کے ساتھ ہوتی ناانصافی پر یوں راستے میں ہی سارا بلک بلک کر رونا چاہتی تھی۔
جس ہوٹل میں وہ ہفتہ وار کچن کی صفائی کی نوکری پر لگی تھی ان لوگوں نے ہفتے بعد زرا چوری کے الزام پر اُسے بنا تنخواہ دیے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔
آج دادا جان کی دوا بھی لینی تھی، ایک دل تو چاہا کاش اتنے پیسے مل جائیں کے وہ دادا کو زہر دے کر خود بھی کھا لے اور اس درد دیتی حیات سے چھٹکارہ ملے۔
دادا نے اسے حکیم کے پیشے کے سنگ محنت مزدوری کیے سرکاری سکول میں پوری بارہ جماعتیں پڑھوائی تھیں مگر پچھلے تین سال سے وہ تقریبا اپنے کام کے مندے ہونے اور اپنی غربت کا سوچ سوچ بستر سے آ لگے تھے، منہا دن میں کئی چھوٹی موٹی نوکری، کام اور دھندا ڈھونڈ ڈھونڈ کر کرتی۔
ہر چھوٹا بڑا کام اسکی ننھی جان سہہ لیتی ، اسے اپنا اور دادا کا خود ہی پیٹ پالنا تھا۔
یہاں تک کہ آج صبح ایک کنسٹرکشن بلڈنگ میں اینٹیں تک اٹھا کر چار سو روپے کما کر آئی تھی مگر یہ چار سو روپے اسے صرف دردناکی سے چِرا رہے تھے، اس کی بے بسی پر ہنس رہے تھے۔
چھوٹا سا دو کمروں والا بوسیدہ، پرانا ہر سہولت کے فقدان والا ڈربہ نما مکان جس کا ہر مہینے تین ہزار کرایہ دینا پڑتا، اسکا اور اسکے دادا کے سر کو ڈھانپنے کا چھوٹا سا وسیلہ تھا۔
مالک مکان کو تو ہر پہلی کو نقط کرایہ درکار ہوتا، اُس ظالم بے حس کو اس سے کیا فرق پڑتا کہ وہ دادا پوتی کرایے کی ادائیگی کے لیے اپنے جسم کا کونسا حصہ پیجیں۔
بارش لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھی، اور اسی شدت سے منہا کی درد اور تکان میں لپٹی ہچکیاں اس سنسان رات میں گونج رہی تھیں۔
وہ دادا کے سامنے کیسے روتی، جو خود اپنی موت کی دعا مانگتے تھے، حکیم کا پیشہ ٹھپ تھا، آجکل لوگ کہاں حکیموں کے پاس آتے تھے۔
ابھی کچھ لمحے ہی گزرے کہ منہا کو لگا اس نے کوئی بہت دردناک آہٹ سنی ہو، دل دہلاتی کلکاری۔
اپنی ہتھیلی سے آنکھیں رگڑتی وہ سڑک سے ملحقہ کچے راستے کی سمت بڑھی جہاں لکڑیاں اور کچھ ساتھ کچرے کے شاپر دھرے تھے۔
وہاں منصوعی چھت کے باعث بارش پہنچنے سے قاصر تھی۔
وہاں کا دل چیڑتا منظر دیکھ کر اس کا سارا درد اور آہیں گلے میں گھٹ سی گئیں۔
وہ تڑپ کر زمین پر بیٹھی اور وہ چھوٹا سا نومولود کمبل میں لپٹا تڑپتا بچہ فوری اپنی گود میں بھر کر اسکی اکھڑتی سانس پر فوری اپنے کندھے پر لٹکائے بیگ سے چھتری نکالے کھول کر خود پر پھیلا لی، بچے کی ابتر حالت محسوس کیے وہ سر پٹ تیزی سے اپنے گھر کی سمت دوڑی۔
وہ کچھ وقت پہلے پیدا ہوا بچہ گھر پہنچنے تک شاید سانس لینا چھوڑ چکا تھا، دادا جان ، دروازہ کھولنے پر منہا کو ہاتھ میں اس گیلے کمبل میں لپیٹے بچے کو دیکھ کر وہ خود تڑپ کر دروازہ بند کیے پیچھے لپکے۔
"پُتری۔۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔پُتری یہ کس کا بچہ ہے"
دیوار کا سہارہ لیے لڑکھڑاتے ہوئے دادا جان نے دہل کر منہا سے پوچھا جو فی الحال کسی بھی چیز کا جواب دیے بنا اس برہنہ بچے کو باریک گھر کے اکلوتے خشک کمبل میں لپیٹتی بستر پر لٹائے خود تشویش سے دادا جان کی سمت مڑی۔
"دادو یہ مجھے پار والے راستے پر لکڑیوں کے کچرے سے ملا ، یہ تڑپ رہا تھا۔۔۔۔ک۔۔کوئی کیسے کر سکتا ہے اس ننھی جان پر یہ ظلم۔۔۔۔ آپ حکیم ہیں ناں۔۔۔اسے دیکھیں ناں دادو یہ تو لگتا ہے مر جائے گا۔۔۔۔ اسے دیکھیں ٹھنڈ بھی لگ سکتی۔۔۔دادو اسکا دھیان رکھیں میں دودھ کا انتظام کر کے آتی۔۔۔۔"
اپنے کمائے آج کے وہ چار سو کے میلے نوٹ مٹھی میں زور سے دباتی وہ دادا جان کو بھاری اور آنسووں سے بھیگی آواز کے سنگ کہتی خود اُسی بھیگے خلیے میں اچھے سے گرد چادر لپیٹے باہر نکل گئی۔
معظم سلطان اس نومولود بچے کو دیکھ کر اپنی آنکھیں نم ہونے سے نا بچا سکے، فوری طور پر اپنا دوائیوں والا بیگ دیوار پر لگی کیل سے اتار کر وہ اس بچے کہ پاس بیٹھے جو بظاہر سانس نہ لے رہا تھا۔
"او سوہنے مالکا زندگی دے اس بچے کو"
اپنے چمڑے کے بوسیدہ بیگ سے وہ کوٹی خاص جڑی بوٹی کا مرکب زدہ مرتبان کھولے اس میں پسا ہوا کوئی دوائی کا مائع حالت ذخیرہ انگلی پر لگائے اس بچے کی روئی سے بھی نازک گردن اور سینے پر لگانے لگے، ہلکا سا اسکے ناک کے قریب لگایا۔
انھیں اندازہ تھا یہ بچہ چند گھنٹوں پہلے پیدا ہوا ہے، اسکی ناف پر لگا خشک خون اور وہ چٹکی سی بھی لال ہو چکی تھی۔
جھک کر اس بچے کے چھوٹے سے سینے سے کان لگایا تو بہت ہلکی دھڑکن محسوس ہوئی۔
بھلے وہ بچہ عام بچوں کی نسبت زیادہ صحت مند اور انتہائی خوبصورت تھا مگر جو سفاکی اس کے ساتھ ہوئی تھی اسکا بچ جانا اللہ کی کوئی کرامت ہی ہو سکتی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
"اب تک تو وہ کسی کُتے بِلے کی خوراک بھی بن گیا ہوگا، ہمارا انتقام تقریبا پورا ہو گیا۔۔۔۔ گُل مینے تو قبر میں جا کر اپنے انجام کو پہنچی ہی ساتھ ساتھ میں نے عباد حشمت کیانی کو تاعمر کی اذیت میں جھونک دیا۔۔۔۔۔ "
ہوسپٹل کے اندھیارے کونے میں پشت کر کے چھپا نسوانی وجود جو مکمل ڈھکا تھا، کسی سے فون پر ہمکلام تھا۔
کوریڈو میں اس بپھرے ریچھ کی ہیجانی ڈھاریں یہاں تک سنائی دے رہی تھیں۔
مقابل وہ ایک نقاب پوش آدمی اسی بارش سے بھیگے چھوٹے سے ڈربے نما گھر کے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔
"ہاں سہی کہا، وہ مر گیا ہے۔۔۔۔۔ اب تم جا کر عباد کا غم غلط کرو۔۔۔ میں تم سے چالیسویں کے بعد ملوں گا"
اس پُراسرار آدمی نے کہہ کر کال کاٹی اور سامنے اس گھر پر نظر گاڑے کچھ دیر اس جگہ وہ اچھی طرح ذہن نشین کرتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
پورے ہوسپٹل کے سٹاف کی روحیں تک تھر تھر کانپ رہی تھیں، پورے ہوسپٹل کو پولیس اور میڈیا نے گھیر رکھا تھا۔
"میں تم سب کو ایک ایک کر کے زندہ زمین میں گاڑ دوں گا، آخر کہاں گیا میرا بچہ۔۔۔۔۔ مجھے ڈھونڈ کر دو، ورنہ تم سب کی جان عباد حشمت کیانی خود لے گا۔۔۔۔"
کوئی نہیں تھا آج اسکا درماں، اندر پڑی گُل مینے کی لاش پر ماتم کرتا یا اپنے بچے کے کھو جانے پر خود کو بھی زندہ کسی قبر میں گاڑ دیتا جسے ابھی تک باپ کی نظر نے دیکھا تک نہ تھا۔
پولیس کے لوگ ہر ایک فرد سے پوچھ گچھ کر رہے تھے ہسپتال سیل کر دیا گیا تھا۔
بڑے بڑے منسٹروں کے تعزیت اور دل جوئی کے فون عباد کے پرسنل تقریبا ہم عمر گارڈ سراج علی کو سینکڑوں تعداد میں آچکے تھے۔
"ہے۔۔۔۔عباد۔۔۔سنبھالو خود کو ہنی، ہم ڈھونڈ لیں گے بے بی کو"
لگ بھگ پچیس سالا خوبصورت سی دوشیزہ ، جس نے آگے بڑھ کر اس سرخ لہو رنگ میں نہائے زخمی شیر کو بانہوں میں سموئے سنبھالنا چاہا مگر وہ اسے بُری طرح دھکا دیتا لہو چھلکاتے چہرے کے سنگ غرایا۔
گر سراج علی بروقت فاریہ کو نہ سہارہ دیتا تو وہ عباد کے دھکا دینے پر ابھی تک زمین بوس ہو جاتی، رہانت اور تضخیک کا احساس بمشکل جبر کرتی وہ سراج کو نفرت سے پرے دھکیلتی پھر سے زخمی شیر کی سمت بڑھی جس نے قنوطیت کے سنگ اس بری طرح مکا ہوا میں لہرا کر دیوار سے مارا کہ خون کی لکیر اسکے ہاتھ کو سرخ انگارہ کر گئی۔
"عباد۔۔۔۔عباد میں جانتی ہوں تم تکلیف میں ہو لیکن حوصلہ رکھو۔۔۔ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ، مما بھی ہیں۔۔۔۔ اس مشکل گھڑی میں خود کو تنہا مت سمجھو"
اس بھاری وجود والے کی پشت کو گھمانے کی ناکام کوشش کرتی وہ پھر سے اس وحشت ناک شخص کا چہرہ تھامنے کو قریب آئی اور اس بار عباد نے نفرت چھلکاتی لہو رنگ آنکھیں گاڑے ایک لمحے میں فاریہ کا گلا دبوچا۔
"اگر اپنی زندگی چاہیے تو فی الحال دفع ہو جاو یہاں سے فاریہ۔۔۔۔۔۔اور اپنی اس ماں کو بھی لے کر گم کرو شکل۔۔۔۔۔ تم جیسے مطلب پرستوں کی ہمدردیاں لے گا کیا اب عباد حشمت کیانی۔۔۔۔۔ مرا نہیں ہوں۔۔۔۔ "
بُری طرح حقارت سے اس لڑکی کو راہ سے ہٹاتا وہ پولیس کے لوگوں کی سمت لپکا مگر تمام ذلت کے باوجود فاریہ نے مڑ کر کچھ فاصلے پر سیاہ لباس میں لپٹی اس عورت کو دیکھ کر شیطانی مسکراہٹ دی۔
"مرنے تو تمہیں دیں گے بھی نہیں سوئیٹ کزن، کیا سمجھا تھا تم نے کہ تم فاریہ کیانی کے مقابلے میں اس کوٹھے کی طوائف گُل مینے کو لاو گے اور میں برداشت کرلوں گی، ہاہا گئی تمہاری گُل مینے جہنم میں اور ساتھ تمہارا وہ بے گناہ بچہ۔۔۔۔چچ چچ۔۔۔ عباد حشمت کیانی تم اب فاریہ کے پاس ہی لوٹو گے،اپنی بیوی اور بچے کا غم مٹانے۔۔۔۔۔ مجھے انتظار رہے گا ہنی"
سفاکیت سے بھری ہوئی وہ لڑکی اتنا بڑا ظلم ڈھا کر یہ بھول گئی تھی کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔
اور سب سے بڑھ کر مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے۔
دوسری سمت وہی نقاب پوش جو واپس سڑک کی سمت جا رہا تھا ایک تیز ترین ٹرک سے ٹکرانے کے باعث کئی فٹ دور جا گرا۔
بارش تھم چکی تھی مگر اس آدمی کے سر سے نکلتا خون سڑک پر جمع شدہ کھڑے ہوئے پانی کو لال انگارہ کر گیا۔
ٹرک ڈرائیور باہر نکل کر اس زخمی تک پہنچے جسکی سانس چل رہی تھی اور اسے لے کر ہسپتال روانہ ہو گئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
"دیکھو غریب لڑکی یہ کوئی بھک منگوں کا لنگر خانہ نہیں کہ تم کب سے بحث کر رہی ہو، کہہ دیا کہ ایک روپیہ بھی معاف نہیں ہوگا اس لیے نکلو شاباش پتلی گلی سے"
چار سو میں چھوٹا سا فیڈر تو آگیا تھا مگر دودھ کے ڈبے کے لیے دو سو کم پڑ رہے تھے، منہا نے آج تک کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلایا تھا مگر اس ننھی جان کے لیے اس وقت دودھ کا ڈبہ اشد اہم تھا۔
"دیکھو بھائی میں وعدہ کرتی کل تم کو پیسے دے جاوں گی، مجھے دے دو پلیز گھر میں بچہ بھوکا ہے۔۔۔۔ اللہ نے اگر اتنا دیا ہے تو کسی مجبور کی مجبوری سمجھنے کی بھی کوشش کرو"
تاسف کے سنگ وہ ہنوز کاونٹرر پر کھڑی بے بسی سے بولی مگر مقابل تو فرعونیت کا راج تھا، پیسے کی ناجانے کونسی اکڑ۔
"جا معاف کر فقیرنی، ایک پھوٹی کوڑی نہیں معاف کروں گا۔۔۔سب جانتا ہوں تم جیسوں کی مکاری۔۔۔۔ دوبارہ تم نے شکل ہی نہیں دیکھانی۔۔۔۔اب نکل یہاں سے ورنہ سیکورٹی بلوا لوں گا"
وہ ہٹ دھرم سا سفاک دکاندار زہریلے لفظوں سے منہا کا کلیجہ چیڑ گیا، مگر وہ اپنے آنسو روکنے پر مہارت رکھتی تھی۔
"اللہ کرے تیرا یہ سٹور آگ سے جل کر خاک ہو جائے، تجھے کھانے کو روٹی نہ ملے پھر تو بلک بلک کر روئے۔۔۔ بدعا دیتی ہے تجھے منہا سلطان۔۔۔۔۔ اور خبردار جو مجھے فقیرنی کہا، تیرے جیسے امیر سے تو لاکھ درجے اچھے ہم غریب ہیں۔ لعنت ہو تجھ پر"
ایک لمحے میں وہ خشک دودھ کا پیکٹ اٹھا کر اس دکاندار کے کاونٹر پر پٹخے تین سو کا وہ چھوٹا سا فیڈر بھی زمین پر پٹخ کر چار سو واپس مٹھی میں دبوچے باہر بھاگ گئی۔
بارش تھم گئی پر اسکی آنکھیں صورت برسات برسیں۔
"یا اللہ ہم جیسے مر بھی سہولت سے نہیں سکتے، مجھے ا۔۔اپنی پرواہ نہیں وہ ننھا وجود مر جائے گا۔۔۔۔ کیوں دیتا ہے تو ان درندوں کو اولاد جو اسکے لائق نہیں ہوتے۔۔۔۔ مجھے راستہ بتائیں ناں ان چار سو روپوں میں اس بچے کی بھوک کیسے مٹے گی"
اپنی سوجھی حلقوں کی زد میں ڈوبی آنکھیں رگڑتی وہ اپنی چپل گھسیٹے سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔
اچانک کسی آہٹ پر مڑی۔
سامنے ہی اسکے ساتھ ہوٹل میں کام کرنے والی حور نامی لڑکی بھاگتی ہوئی آتی دیکھائی دی۔
منہا نے اپنا چہرہ رگڑے دھندلائی آنکھوں سے اسکو دیکھا جو اسکے قریب آن رکی اور ہزار کے تین نوٹ اسکی سمت بڑھائے۔
"منہا۔۔۔ تم پر ہوٹل والے نے جس چوری کا الزام لگایا تھا وہ غلط فہمی تھی۔ اسکو اسکے پیسے مل گئے تھے، وہ شرمندہ تھا تبھی اس نے یہ تمہاری ہفتے کی تنخواہ بھیجوائی ہے۔۔۔۔ میں ابھی ہی نکلی تھی تم پر نظر پڑ گئی۔۔۔یہ لو اور کل آجانا واپس۔۔۔۔۔اب میں جاتی"
اپنے ہاتھ میں آتے وہ تین نوٹ دیکھ کر منہا کی آنکھیں پھر سے بھیگ گئیں، بھرائی آنکھیں اٹھا کر نظر آسمان پر ڈالی جیسے اس پالن ہار کی شکر گزار تھی۔
فورا سے پہلے دوسرے سٹور کی سمت دوڑی، فیڈر، خشک دودھ کا ڈبہ، زیرو سائز ڈائپر اور دادا کی دوا میڈیکل سٹور سے لیے وہ خوشی خوشی گھر لوٹی۔
تب تک دادا جان چھوٹے سے لوہے کے برتن میں لکڑیاں جلا کر کمرے میں موجود ٹھنڈ کا خاتمہ کرنے میں کامیاب تھے۔
وہ بچہ ابھی بھی سخت تکلیف میں تھا، مگر منہا کے ہاتھوں میں اتنے سارے لوازمات دیکھ کر وہ بھی اس اجاڑ گھر میں اس ننھے بچے کی آمد کی برکت دیکھ کر مسکرائے۔
وہ مکمل بھیگی تھی اب تو کانپ رہی تھی، اسکی کم سن خوبصورتی اسکے حالات نے دبا دی تھی۔
اک نظر بیقراری سے اس بچے کی سمت دیکھتی وہ بھیگا سا مسکائی، دادا جان نے بڑھ کر شفقت سے منہا کا سر چوما۔
"م۔۔یں پالوں گی اسے دادوو، احد سلطان نام رکھتے ہیں اسکا۔۔۔۔ یہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں"
اس روئی کے گولے جیسے نازک بچے کا نرم ملائم سا ہاتھ پکڑ کر سہلاتی وہ مڑ کر تڑپ کر دادا جان سے پوچھتے بولی جو آگے سے تسلی آمیز مسکائے۔
"اگر بخار نہ ہوا تو بہتر ہو جائے گا ان شاء اللہ، لیکن تم جاو یہ گیلے کپڑے بدل لو ورنہ بیمار ہو جاو گی۔۔ میں یہیں ہوں احد سلطان کے پاس"
اپنی جان سے پیاری منہا کی فکر بھانپتے وہ اسے ملائم سی تاکید کرتے بولے جو ایک آخری پیار اور دکھ سے بھری نظر احد پر ڈالتی افسردہ سی دوسرے کمرے کی جانب چلی گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
Jitna acha response utni speed say epi aye gi.♥️