Islamic Quotes

Islamic Quotes Islamic Quotes is created just for share Islamic Knowledge with you. Help us to grow our page.

16/07/2020
16/07/2020
24/06/2020

ایصالِ ثواب

سوال:ایصالِ ثواب کسے کہتے ہیں؟

جواب:اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا ’’ایصالِ ثواب‘‘ کہلاتاہے۔

سوال:کیا ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ؟

جواب:شریعتِ مطہرہ میں اپنے کسی بھی نیک عمل کا ثواب کسی فوت شُدہ یا زندہ مسلمان کو ایصال کرنا جائز و مستحسن ہے۔

سوال:کیا اس کے بارے میں احادیث بھی ہیں؟

جواب:جی ہاں! ایصالِ ثواب کے ثبوت میں احادیثِ مبارکہ موجود ہیں۔

حدیث۱:حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ کہتیں تو صدقے کا کہتیں پَس اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اُنہیں ثواب پہنچے گا فرمایا: ’’ہاں‘‘۔(1)

حدیث۲:حضرت سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ اُنہوں نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم! میری ماں کا انتقا ل ہو گیا ہے، اُ ن کے لیے کون سا صدقہ افضل ہے؟حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’پانی‘‘تو حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ کنواں سعد کی ماں کے لیے ہے(2) یعنی اس کا ثواب ان کی روح کو ملے۔

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ

[1]…صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب موت الفجاة البغتة،۱/۴۶۸،حدیث:۱۳۸۸

2…ابو داود،کتاب الزکاة، باب فی فضل سقی الماء،۲/۱۸۰،حدیث:۱۶۸۱

15/06/2020

*استبراء کیا ھے ؟*
نوجوان لازمی پڑھیں

*استبراء پیشاب کے مکمل خشک کرنے کو کہتے ھیں یہ واجب ھے*

*جس طرح نماز میں کوئی واجب چھوٹ جاۓ تو نماز سجدہ سہو کے بنا مکمل نہی ھوتی ایسے ھی اگر پیشاب کرنے کے بعد اسکو مکمل خشک نہ کیا جاۓ تو طہارت کامل نہی ھوتی*

*طہارت کامل نہی تو*

*وضو کامل نہی*

*وضو کامل نہی*

*تو نماز نہی ھوتی*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے اکثر لوگوں کی عبادتیں انکی طہارت کیوجہ سے منہ پر دے ماری جائیں گی اکثر عذاب قبر پیشاب کی بے احتیاطی کی وجہ سے ھوگا۔

پرانے وقتوں میں لوگ خشک مٹی استعمال کرتے تھے پیشاب کو خشک کرنے کے لۓ۔
آج کل % 95 فیصد مرد و خواتین بنا خشک کۓ ھی پیشاب، جلد بازی میں پانی بہا کر کپڑے پہن لیتے ھیں وھی ناپاک پانی پھر کپڑوں کو لگتا ھے۔

کیونکہ پانی کی ٹوٹی بند کر بھی دیں تو تھوڑے تھوڑے قطرے نکلتے رھتے ھیں کچھ وقت تک۔ یہی حال انسانی جسم کے Urinery Bladder کا ھے۔

پیشاب کی نالی جو کہ خواتین کی نسبت مردوں میں قدرے بڑی ھوتی ھے اسکے اندر کچھ قطرے رہ جاتے ھیں جیسے ھی مرد یا عورت کھڑے ھوتے ھیں تو Pelvic Muscles ریلیکس ھوتے ھیں اور پیشاب کے قطرے جو نالی میں تھے باھر کیطرف آتے ھیں، لہٰذا جلد بازی نہ کریں، فوراً کھڑے نا ھوں، اس بات کا یقین کر لیں کے آپکا مثانہ مکمل طور پر خالی ھو چکا ھے۔ نالی میں پھنسے قطرے نکالنے کے لۓ مصنوعی طور پر جان بوجھ کر کھانسی کریں اس سے مسلز ریلیکس ھوں گے اور بائیں پاوں پر زور دیں دو سے تین دفعہ، پھر ٹشو سے پیشاب خشک کر کے پانی استعمال کریں پھر دوبارہ ٹشو استعمال کر لیں تو بہتر، نہ کریں تو کوئی مضائقہ نہیں اب جو پانی کپڑے کو لگے گا وہ ناپاک نہیں ھو گا۔
ھم سب کم وقت اور جلد بازی اسی معاملے میں کرتے ھیں، جو بنیاد ھے روح کی پاکیزگی کی قلب کے سکون کی۔ پھر کہاں سے عبادتوں میں لذت اور سکون آے جب طہارت ھی مکمل نہ ھو تو۔
آج کے دور میں خشک مٹی کی جگہ سوفٹ ٹشو استعمال کیا جا سکتا ھے لیکن یاد رھے پانی کا استعمال لازمی ھے صرف ٹشو سے خشک کرنا ٹھیک نہیں ھے۔

*اللہ تعالی فرماتا ھے*
*أن اللّه يحب المتطه‍رين*

بے شک اللہ طہارت کرنے والوں سے محبت کرتا ھے

*یہی وجہ ھے کا ھماری خواتین بچے مرد عورت سب پریشانیوں میں مبتلا ھیں، جنات شیاطین کے لۓ پیشاب کی بو اور آمیزش والے پانی کا ایک قطرہ بھی کافی ھوتا ھے جس پر وہ سارا دن جادو پڑھ پڑھ انسان کے کانوں میں پھونکتے ھیں اور اسکی روح اور دل کو بیقرار رکھتے ھیں، غصہ حسد بغض ان سب کی جڑ کامل طہارت کا نہ ھونا ھے.*

*یہ معلومات ذیادہ سے ذیادہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بھیجیں*

22/05/2020

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ(۸۷)یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸)اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) سوره شعراء
ترجمۂ کنز العرفان

اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے۔ جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔ مگر وہ جو اللہ کے حضور سلامت دل کے ساتھ حاضر ہوگا۔

تفسیر صراط الجنان

{ وَ لَا تُخْزِنِیْ : اور مجھے رسوا نہ کرنا۔} اس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک دعا یہ مانگی کہ اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ، مجھے قیامت کے اس دن رسوا نہ کرنا جس دن سب لوگوں کو اٹھایا جائے گا اوراس دن نہ مال کام آئے گا اورنہ بیٹے البتہ ا س دن جو اللہ تعالٰی کے حضور کفر، شرک اور نفاق سے سلامت دل کے ساتھ حاضر ہوگا تو اسے راہِ خدا میں خرچ کیا ہو امال بھی نفع دے گا اور اس کی نیک اولاد بھی اسے نفع دے گی۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ : ۸۷-۸۹ ، ص ۸۲۳ ، ملخصاً )

آخر ت میں مسلمانوں کو ان کے مال اور اولاد سے نفع حاصل ہو گا:

یاد رہے کہ کافر و مشرک جو مال نیک کاموں میں خرچ کرے گا آخرت میں وہ جہنم کے عذاب سے نجات دلانے اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ سے ثواب حاصل کرنے میں اس کے کوئی کام نہ آئے گا البتہ مسلمان جو مال اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرے گا اور جو نیک اولاد چھوڑ کر مرے گا وہ مال اور اولاد اس کے کام آئے گی اور اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے مسلمان کو اس کے صدقات و خیرات کا ثواب عطا فرمائے گا۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے تین اعمال کے علاوہ باقی عمل مُنقطع ہوجاتے ہیں ۔ (1)صدقہ ٔجاریہ۔(2) وہ علم جس سے لوگ نفع اٹھائیں ۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔( مسلم، کتاب الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ، ص ۸۸۶ ، الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱) )

نوٹ: یاد رہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی دعا میں قیامت کے دن کی رسوائی سے جو پناہ مانگی یہ دعا بھی لوگوں کی تعلیم کے لئے ہے تاکہ وہ اس کی فکر کریں اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں ا س کے لئے دعا بھی مانگیں ۔

19/05/2020

*عیدالفطر کی نماز کا طریقہ*

*پہلے نیت کریں*

☽ نیت کرتا ہوں میں دو رکعت نماز عیدالفطر کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف
واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے.

امام تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لینا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی.

⛤ پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے

اسكے بعد امام قرآت کرےگایعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکے پہلی رکعت مکمل ہوگی

🌹دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی امام قرآت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےگا اس کے بعدرکوع میں جانے سے پہلے زائد تینوں تكبيرے ہوں گی

⛤پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دینا ہے

یہاں تک زائد تكبيرے مکمل ہوگئ.
☽ اب اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھاے تکبیر کہہ کر رکوع میں جاینگے.
☽اور بس آگے کی نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھنا ہےپھر سلام پھیرنا ہوگی.

*نماز عیدالفطر سے پہلے خوب شئیر کریں اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائے*

19/05/2020

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًاؕ-وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ
مُصَلًّىؕ-وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)
Sora baqra
ترجمۂ کنز العرفان

اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا اور (اے مسلمانو!)تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف رکھو۔

تفسیر صراط الجنان

{ وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ : اور جب ہم نے اس گھر کو بنایا۔} بیت سے کعبہ شریف مراد ہے اور اس میں تمام حرم شریف داخل ہے۔ ’’ مَثَابَةً ‘‘ سے مراد بار بار لوٹنے کی جگہ ہے۔ یہاں مسلمان بار بار لوٹ کر حج و عمرہ وزیارت کیلئے جاتے ہیں اور جو نہ جاسکے وہ اس کی تمنا ضرور کرتے ہیں اور امن بنانے سے یہ مراد ہے کہ حرم کعبہ میں قتل و غارت حرام ہے یا یہ کہ وہاں شکار تک کو امن ہے یہاں تک کہ حرم شریف میں شیر بھیڑیے بھی شکار کا پیچھا نہیں کرتے بلکہ چھوڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مومن اس میں داخل ہو کر عذاب سے مامون ہوجاتا ہے۔ حرم کو حرم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں قتل، ظلم اور شکار حرام و ممنوع ہے، اگر کوئی مجرم بھی داخل ہوجائے تو وہاں اسے کچھ نہ کہا جائے گا۔ ( خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵ ، ۱ / ۸۷ ، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵ ، ص ۷۷ ، ملتقطاً )

{ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى : اورتم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔} مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کعبہ معظمہ کی تعمیر فرمائی اور اس میں آپ کے قدم مبارک کا نشان تھا، اسے نماز کا مقام بنانا مستحب ہے ۔ایک قول یہ بھی ہے کہ اس نماز سے طواف کے بعد پڑھی جانے والی دو واجب رکعتیں مراد ہیں۔ ( بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵ ، ۱ / ۳۹۸-۳۹۹ )

انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نسبت کی برکت:

اس سے معلوم ہوا کہ جس پتھر کو نبی کی قدم بوسی حاصل ہو جائے وہ عظمت والا ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعظیم توحید کے منافی نہیں کیونکہ مقام ابراہیم کا احترام تو عین نماز میں ہوتا ہے، لہٰذا عین نماز میں حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم نماز کو ناقص نہ کرے گی بلکہ کامل بنائے گی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جب پتھر نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قدم لگنے سے عظمت والا ہو گیا تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مطہرات، اہلِ بیت اورصحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت کا کیا کہنا۔ اس سے تبرکات کی تعظیم کا بھی ثبوت ملتا ہے۔بزرگانِ دین کے آثار و تبرکات کی تعظیم اور ان کی زیارت کے سلسلے میں تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 21 ویں جلد میں موجود رسالہ ’’ بَدْرُ الْاَنْوَارْ فِیْ آدَابِ الآثَارْ (تبرکات کے بارے میں مفید رسالہ) ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

{ اَنْ طَهِّرَا : کہ پاک صاف رکھو۔} حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بیتُ اللہ شریف کو پاک و صاف رکھنے کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خانہ کعبہ اور مسجد ِحرام شریف کو حاجیوں ، عمرہ کرنے والوں ، طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور نمازیوں کیلئے پاک وصاف رکھا جائے، یہی حکم مسجدوں کو پاک و صاف رکھنے کا ہے، وہاں گندگی اور بدبودار چیز نہ لائی جائے، یہ سنت ِانبیاء ہے، یہ بھی معلوم ہواکہ اعتکاف عبادت ہے اور گزشتہ امتوں میں رائج تھا نیز پچھلی امتوں کی نمازوں میں رکوع سجود دونوں تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں کا متولی ہونا چاہیے اور متولی صالح انسان اور مسجد کی صحیح خدمت کرنے والاہو۔

13/05/2020

Sorah baqra
اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌؕ-فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ۪-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۱۹۴)

ترجمۂ کنز العرفان

ادب والے مہینے کے بدلے ادب والا مہینہ ہے اورتمام ادب والی چیزوں کا بدلہ ہے۔توجو تم پر زیادتی کرے اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہواور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔

تفسیر صراط الجنان

{ اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ : ادب والے مہینے کے بدلے ادب والا مہینہ ہے۔} مسلمانوں کو چونکہ حرمت والے مہینوں میں لڑنا نہایت بھاری لگ رہا تھا اس لئے ان کی مزید تسلی کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ حرمت والے مہینے میں جنگ کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ اجازت کفار کی طرف سے حرمت پامال کرنے کی وجہ سے دی گئی ہے۔ انہوں نے تمہیں عمرہ کرنے اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا لہٰذا اب اگر تم ان سے لڑتے ہو اور ان کا خون بہاتے ہو تویہ حرم اور ماہ حرام کی بے حرمتی نہیں ہوگی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کے ساتھ ہوگا اوریہ سب لڑائی اصل میں حرمتوں کا بدلہ ہوگا یعنی کافروں کا حرمت والے مہینے میں فتنہ و فساد کرنا حرمتوں کو پامال کرنا ہے اور تمہارا جواب دینا اصل میں حرمتوں کا بدلہ لینا ہے نہ کہ حرمتوں کو پامال کرنا۔ یوں سمجھ لیں کہ ڈاکو کی گولی کے جواب میں اگر پولیس گولی چلائے تو پولیس کو مجرم نہیں کہیں گے بلکہ ان کے فعل کو حفاظت و ذمہ داری کہا جائے گا۔ قاتل کے قتل کو زیادتی نہیں کہیں گے بلکہ اسے قصاص کہا جائے گا۔

{ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ : تو جو تم پر زیادتی کرے۔} کافر مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھاتے رہے، شروع اسلام میں دن رات، صبح و شام ہر وقت مسلمانوں کو ستانے میں لگے رہے، کسی کو شہید کیا، کسی کو تپتی ریت پر گھسیٹا، کسی کوانگاروں پر لٹایا، کسی کو کوڑے مارے، کسی کا راہ چلتے مذاق اڑایا، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ہجرت پر مجبور کردیا، ان کے کاروبار ختم کردئیے، انہیں ان کے رشتے داروں سے جدا کردیا۔ ان تمام واقعات کی تلخیاں مسلمانوں کے دلوں میں موجود تھیں ، اب جبکہ مسلمانوں کو بدلہ لینے کا موقع مل رہا تھا تو اس بات کا امکان تھا کہ مسلمان بھی بدلہ لینے میں اپنے جذبہ انتقام کو بھر پور طریقے سے پورا کرتے اور بدلہ لینے میں حد سے بڑھ جاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے ہی مسلمانوں کو سمجھادیا کہ تم پر جنہوں نے زیادتیاں کی ہیں تمہیں ان سے بدلہ لینے کا اختیار تو دیا جارہا ہے لیکن تم اتنا ہی بدلہ لے سکتے ہو جتنی انہوں نے تم پر زیادتی کی ، اس سے زائد کی تمہیں ہرگز اجازت نہیں۔ لہٰذا بدلہ لینے میں بھی تقویٰ اور خوفِ خدا کو پیشِ نظر رکھو اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور مَعِیَّت اسی کو نصیب ہوگی جو ہر حال میں تقویٰ اختیار کرے گا۔

بدلہ لینے سے متعلق دین اسلام کی حسین تعلیم:

کیا حسین تعلیم ہے اور کیا پاکیزہ تربیت ہے جس وقت جذبات مچل رہے ہوں ، جذبہ انتقام جوش مار رہا ہو، دشمن قبضے میں آنے ہی والا ہو، غلبہ حاصل ہوا ہی چاہتا ہو اس وقت بھی تقویٰ کا، عدل و انصاف کا درس دیا جارہا ہے، زیادتی کرنے سے منع کیا جارہا ہے۔ کیا روئے زمین پر کوئی دوسرا ایسا دین، قانون ہے جو اپنے ماننے والوں کو اس طرح کے اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ کردار کا درس دیتا ہو؟ ہرگز نہیں۔ یقینا یہ صرف اسلام ہی ہے۔

05/05/2020

۔ ┈••❃* ( سُوۡرَۃٌ النِّسَآءَ : ۵۶ تا ۵۷ ) *❃••┈
۔ ؛•‍━━•••◆◉ ﷽ ◉◆•••‍━━•؛

📖 ارشاد باری تعالیٰ ﷻ :
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۵۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ۫ وَّ نُدۡخِلُہُمۡ ظِلًّا ظَلِیۡلًا ﴿۵۷﴾

📚 ترجمہ :
بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے ، ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے ، جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی ، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں ۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے ، صاحب حکمت بھی ﴿۵۶﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہاں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی ، اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں داخل کریں گے ﴿۵۷﴾

✍ تفسیر :
عذاب کی تفصیل اور نیک لوگوں کا انجام بالخیر :
اللہ کی آیتوں کے نہ ماننے اور رسولوں سے لوگوں کو برگشتہ کرنے والوں کی سزا اور ان کے بد انجام کا ذکر ہوا انہیں اس آگ میں دھکیلا جائے گا جو انہیں چاروں طرف سے گھیرلے گی اور ان کے روم روم کو سلگا دے اور یہی نہیں بلکہ یہ عذاب دائمی ایسا ہو گا ایک چمڑا جل گیا تو دوسرا بدل دیا جائے گا جو سفید کاغذ کی مثال ہو گا ایک ایک کافر کی سو سو کھالیں ہوں گی ہر ہر کھال پر قسم قسم کے علیحدہ علیحدہ عذاب ہوں گے ایک ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ کھال الٹ پلٹ ہو گی ۔ یعنی کہدیا جائے گا کہ جلد لوٹ آئے وہ پھر لوٹ آئے گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ پڑھنے والے سے دوبارہ سنانے کی فرمائش کرتے وہ دوبارہ پڑھتا تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں آپ کو اس کی تفسیر سناؤں ایک ایک ساعت میں سو سو بار بدلی جائے گی اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سنا ہے ( ابن مردویہ وغیرہ ) دوسری روایت میں ہے کہ اس وقت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا کہ مجھے اس آیت کی تفسیر یاد ہے میں نے اسے اسلام لانے سے پہلے پڑھا تھا آپ نے فرمایا اچھا بیان کرو اگر وہ وہی ہوئی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو ہم اسے قبول کریں گے ورنہ ہم اسے قابل التفات نہ سمجھیں گے تو آپ نے فرمایا ایک ساعت میں ایک سو بیس مرتبہ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے حضرت ربیع بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں پہلی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ان کی کھالیں چالیس ہاتھ یا چھہتر ہاتھ ہوں گی اور ان کے پیٹ اتنے بڑے ہوں گے کہ اگر ان میں پہاڑ رکھا جائے تو سما جائے ۔ جب ان کھالوں کو آگ کھا لے گی تو اور کھالیں آ جائیں گی ایک حدیث میں اس سے بھی زیادہ مسند احمد میں ہے جہنمی جہنم میں اس قدر بڑے بڑے بنا دیئے جائیں گے کہ ان کے کان کی نوک سے کندھا سات سو سال کی راہ پر ہوگا اور ان کی کھال کی موٹائی ستر ذراع ہوگی اور کچلی مثل احد پہاڑ کے ہوں گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد کھال سے لباس ہے لیکن یہ ضعیف ہے اور ظاہر لفظ کے خلاف ہے اس کے مقابلوں میں نیک لوگوں کے انجام کو بیان کیا جاتا ہے کہ وہ جنت عدن میں ہوں گے جس کے چپے چپے پر نہریں جاری ہوں گی جہاں چاہیں انہیں لے جائیں اپنے محلات میں باغات میں راستوں میں غرض جہاں ان کے جی چاہیں وہیں وہ پاک نہریں بہنے لگیں گی ، پھر سب سے اعلیٰ لطف یہ ہے کہ یہ تمام نعمتیں ابدی اور ہمیشہ رہنے والی ہوں گی نہ ختم ہوں گی پھر ان کے لئے وہاں حیض و نفاس سے گندگی اور پلیدی سے ، میل کچیل اور بو باس سے ، رذیل صفتوں اور بےہودہ اخلاق سے پاک بیویاں ہوں گی اور گھنے لمبے چوڑے سائے ہوں گے جو بہت فرحت بخش بہت ہی سرور انگیز راحت افزا دل خوش کن ہوں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے ایک سو سال تک بھی ایک سوار چلا جائے تو اس کا سایہ ختم نہ ہو یہ شجرۃ الخلد ہے ( ابن جزیر )
۔ *وَمَا عَلَيْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ•*
۔ ؛•‍━━•••◆◉ 💠 ◉◆•••‍━━•؛
🌹اَلسَّــلاَمُ عَلَيكُــم وَرَحمَــةُ اللهِ وَبَـرَكـَاتــهُ🌹
🌹صَبَّاحُ الْخَیْرِ🌹
الّلہ تعالی ہمیں قرآن پاک کو پڑھنے، سمجھنے، غور کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین، خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں ۔
*🌷اپنــی دُعــاؤں میــں یــاد رکـھئـــے گا🌷*
۔ ؛•‍━━•••◆◉ 💠 ◉◆•••‍━━•؛

05/05/2020

اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
” ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ”
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
” ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ”
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
” ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ”
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
” ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ”
ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
” ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ”
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
” ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ”
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
” ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ”
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
” ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ”
ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
” ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ”
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر
(جامع المعجزات (مترجم) ، ص۲۵۷)

05/05/2020

┄┅════❁﷽❁════┅┄

*✨رمضــــان المبــارك✨*

*♥️ماہِ مقدس اور نبی مکرمﷺ کا طرزعمل*

🌼 "سیدنا عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنھما فرماتے ہیں: رسول اللّٰه ﷺ سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرئیل علیه السلام آپ سے رمضان المبارک میں ملتے، اور جبرئیل آپ ﷺ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا، نبی ﷺ جبرئیل علیه السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے، جب جبرئیل عليه السلام نبی ﷺ سے ملنے لگتے تو آپ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہوجایا کرتے تھے."

📒 - *|[ صحيح البخاري : ١٩٠٢ ]|*

🌼 "جب رمضان آجاتا تو آپ صلى الله عليه وسلم ہر قیدی کو چھوڑ دیتے اور ہر مانگنے والے کو عطا فرماتے."

📒 - *|[ الطبقات الکبریٰ : ٩٩/١ ]|*

••┈┈•◈◉❒ 🌙❒◉◈•┈┈••

05/05/2020

💫 *روزہ دار کے لیے جائز اُمور* 💫

حالتِ روزہ میں بغیر مبالغہ کے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا جائز ہے

*📕ابوداؤد:۲۳۸۵، ابن ماجہ: ۴۰۷*

🥣 بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیـــــں ٹوٹتا،

*📌 رسول اللّٰــــــــــــــــہ ﷺ نے فرمایا:*

جب کوئی بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللّٰــــــــــــــــہ تعالٰی نے کھلایا پلایا ہے۔

*📘 بخاری: ۱۹۳۳*

✅روزہ دار کے لیے دن کے کسی بھی حصے میں مسواک کرنا جائز ہے،

⛔ *اور ٹوتھ پیسٹ کے استعمال سے بچنے میں ہی احتیاط ہے*

📙ارواء الغلیل: ۱/ ۶ا۔ بخاری، تعلیقا، قبل الحدیث: ۱۹۳۴

🚿 *روزہ دار کے لیے گرمی، پیاس یا کسی اور وجہ سے غسل کرنا جائز ہے*

_📘ابوداؤد: ۲۳۶۵_

🚫روزہ کی حالت میں مذی خارج ہو، یا اح**ام ہو جائے تو روزہ نہیـــــں ٹوٹتا

*🔊 سیدنا ابن عباس رضی اللّٰــــــہ عنہ اور عکرمہ رضی اللّٰــــــہ عنہ فرماتے ہیں:*

روزہ کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے،جسم سے خارج ہونے سے نہیـــــں ٹوٹتا

*📕بخاری، تعلیقا، قبل الحدیث: ۱۹۳۸*

حالت روزہ میں سر پر تیل لگانا اور کنگھی کرنا جائز ہے

*📘بخاری، تعلیقا، قبل الحدیث: ۱۹۳۰*

روزہ دار کے لیے سرمہ استعمال کرنا جائز ہے

*📙ابوداؤد: ۲۳۷۹*

🧉 اگر ہنڈیا یا کسی اور چیز کاذائقہ چکھ لیا جائے، بشرطیکہ وہ چیز حلق سے نیچے نہ جائے تو سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ :

اس میں کوئی حرج نہیـــــں

*📒 بخاری، تعلیقا، قبل الحدیث: ۱۹۳۰*

🔹 منہ میں موجود اپنا تھوک نگل لینے سے، یا مکھی کے حلق میں داخل ہو جانے سے روزہ نہیـــــں ٹوٹتا-

🚫 کیونکہ ان چیزوں سے روزہ ٹوٹنے کی کوئی دلیل موجود نہیـــــں

🚫 خود بخود قے آنے سے روزہ نہیـــــں ٹوٹتا

*📙 البیھقی: ۴/ ۲۱۹۔ ابن ابی شیبہ: ۳/ ۳۸*

📌 امام حسن بصری رحمہ اللّٰــــــہ کہتے ہیں کہ:

*"ناک میں دوا (وغیرہ) ڈالنے میں، اگر وہ حلق تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیـــــں ہے۔"*

📘بخاری، بعد الحدیث: ۱۹۳۴

💐 اللہ سبحانہ وتعالٰی ہم کو رمضان المبارک کی مبارک و سعادت مند گھڑیاں نصیب فرمائے. آمین.

💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹💞

Address

Orangi Town
KARACHI

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Quotes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category