23/04/2026
*ڈپٹی کمشنر سدھنوتی سردار عمر فاروق (بطور چیئرمین سسٹینیبل مینجمنٹ آف نیچرل ریسورسز اِن ماؤنٹین ایریاز) کی زیر صدارت اھم اجلاس کا انعقاد*
ڈویژنل فاریسٹ آفیسر سدھنوتی احسان الحق کی قیادت میں محکمہ جنگلات سدھنوتی نے اس اجلاس کو آرگناز کیا تھا۔
اجلاس میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے نمائندگان سمیت مختلف محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔ یہ روز بھر کا جاری رہنے والا سیشن تھا جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور پہاڑی علاقوں میں قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال پر تفصیلی بحث اور تجاویز دی گئیں ۔
اجلاس کے دوران کلائمیٹ چینج کے بڑھتے ہوئے اثرات، پہاڑی علاقوں میں جنگلات کی اہمیت، درختوں کو ہونے والے نقصانات، بارشوں کے بدلتے پیٹرن اور سیلابی صورتحال جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور جنگلات کے تحفظ کے بغیر ماحولیاتی توازن برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ ماہرین نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں درختوں کی کمی نہ صرف بارشوں کے نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس موقع پر مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں جن میں شجرکاری مہم کو فروغ دینا، مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنانا اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانا شامل ہے۔
ڈپٹی کمشنر سدھنوتی سردار عمر فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ قدرتی وسائل کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے تمام محکموں کو مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور بہتر ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
پروگرام کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پہاڑی علاقوں میں قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔