ANP Parachinar

ANP Parachinar Parachinar, Pakhtunkhwa

ابتدا میں پاکستان تحریک انصاف  نے اعلان کیا تھا کہ اگر "ٹرمپ صاحب" اقتدار میں آئے تو یہی شخص ان کے لئے نجات دہندہ ثابت ہ...
10/03/2026

ابتدا میں پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا تھا کہ اگر "ٹرمپ صاحب" اقتدار میں آئے تو یہی شخص ان کے لئے نجات دہندہ ثابت ہوگا۔ مگر جب اس شخص نے ان سے منہ موڑا تو اب وہی کردار ان کے نزدیک ناکامی کی علامت بن گیا ہے، جبکہ اب مسلم لیگ ن کے حلقوں میں اسے مسیحا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا شہباز شریف اور مسلم لیگ کے نزدیک وہ اب بھی نوبل انعام کے لیے نامزدگی کا مستحق ہے یا نہیں؟ ویسے بھی اسے "فیلڈ مارشل" کا خطاب بہت پسند ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محبت یکطرفہ ہے یا باہمی؟
جو منظرنامہ سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک جنونی ذہن پوری دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ کیا اس دنیا میں اب عقل و شعور باقی رہ گیا ہے؟ کیا عالمی اقدار، اصول، اور قوانین اب بھی کوئی حیثیت رکھتے ہیں؟ وہ عالمی ادارے کہاں ہیں جو امن اور انصاف کے ضامن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟
کوئی بھی مذہب جنگ اور خونریزی کی تعلیم نہیں دیتا۔ اس لیے دنیا کو جنگ اور تشدد کے خلاف متحد ہونا ہوگا دوسرے لفظوں میں اسرائیل اور امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف بھی آواز اٹھانی ہوگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ غنڈہ گردی کرنے والے اکثر بزدل ہوتے ہیں، اور ان کے مقابلے میں کھڑا ہونا ہی انسانیت کا تقاضا ہے۔
اللہ کرے یہ دنیا امن کا گہوارہ بنے۔ آمین۔

|

01/03/2026

#عوامی نیشنل پارٹی پاڑاچنار اپر کرم

ایران کی اعلیٰ قیادت کی ایک اہم شخصیت ایات اللہ خامنہ ائ کے انتقال پر ایرانی عوام اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔

اسی کے ساتھ ہم اسکول میں شہید ہونے والی معصوم طالبات اور دیگر بے گناہ شہریوں کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرتی بچیاں کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہیں، ان کا نشانہ بننا انسانیت اور امن کے خلاف سنگین جرم ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی ہر قسم کی جارحیت، تشدد اور معصوم جانوں کے ضیاع کی سخت مذمت کرتی ہے اور ہرقسم کی استعماری قوتوں کے خلاف کھڑے تھے اور رہے گی، اور اس مشکل وقت میں ایرانی قوم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم اور تمام شہداء کو اپنی رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔
خدا ہم سب کا خامی و ناصر ہوں
#عوامی نیشنل پارٹی پاڑاچنار اپرکرم

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اسرائیلی و امریکی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہاد...
01/03/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اسرائیلی و امریکی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اسلامی ممالک کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ یہ سانحہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ جب ایک ایک کرکے مسلم خطے آگ کی لپیٹ میں آتے رہے تو کوئی مشترکہ حکمتِ عملی اور اجتماعی مؤقف سامنے نہ آ سکا۔
باچا خان مرکز پشاور سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، پاک افغان سرحدی تناؤ اور ایران پر حملے اس بات کی علامت ہیں کہ خطہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال کسی بڑے عالمی تصادم میں بدل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک طرف غزہ کے مسئلے پر “بورڈ آف پیس” کی بات کرتا ہے اور دوسری جانب غزہ پر قابض اسرائیل کے ساتھ مل کر خودمختار ریاستوں پر حملوں کی قیادت کرتا ہے، جو کہ منافقت اور کھلا تضاد ہے۔ افسوس کہ پاکستان بھی پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر ایسے فورمز کا حصہ ہے۔
مرکزی صدر اے این پی نے کہا کہ ایران کے معاملے میں پاکستان سمیت اسلامی ممالک کا کردار انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کو اب تک ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کرنے کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی سیاسی فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ 86 برس کی عمر میں بھی اپنے نظریے اور امریکی استعمار کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ استقامت اور ثابت قدمی ان کی سیاسی زندگی کا نمایاں پہلو رہے گی۔عوامی نیشنل پارٹی ایران حکومت اور عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے، اس مشکل میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالٰی آیت اللہ علی خامنہ ای اور انکے ساتھ شہید ہونے والوں کے درجات بلند فرمائے اور خطے کو مزید خونریزی سے بچائے۔

27/02/2026

آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، اس کا پس منظر پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کو پڑھنا ضروری ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ چار نسلوں سے ہم چیخ چیخ کر اپنی ریاست کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، مگر ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
باچا خان نے برملا کہا تھا کہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ مگر نہ قوم نے اس بات پر توجہ دی اور نہ ہی مقتدر حلقوں نے۔ پھر ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کے گھر بارود بھیجیں گے تو بدلے میں آپ کو پھول نہیں ملیں گے، مگر انہیں "روسی ایجنٹ" قرار دے دیا گیا۔ اسفندیار ولی خان نے اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرے بچے کو کارتوس اور کلاشنکوف نہیں، قلم دیا جائے؛ اسے خودکش جیکٹ نہیں، اسکول بیگ دیا جائے۔ مگر انہیں "امریکی ایجنٹ" کہہ کر رد کر دیا گیا۔
لاکھوں خدائی خدمتگاروں، پختون قوم پرستوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تشدد کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آج جو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، یہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کے بیج بوئے گئے، نفرت کو ہوا دی گئی، اور پوری ایک نسل کو ذہنی طور پر جنگ اور تشدد کے بیانیے کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ آج دوبارہ بھڑک اٹھی تو پھر یہ کسی سرحد، کسی قومیت اور کسی ریاست کی تمیز نہیں کرے گی۔
ہم آج بھی یہ مؤقف دہراتے ہیں کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ جو جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ عالمی قوتوں کی جنگ ہے، اور اس کے لیے اس خطے کو برسوں سے میدان بنایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں قائم حکومت واقعی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہے؟ کیا پاکستان اور خصوصاً پختونخوا میں بیٹھی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے وجود میں آئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان حکومتوں کے قیام میں عوامی منشا سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
میں آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے یہی گزارش کروں گا کہ جو بھی پالیسیاں بنائی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔
اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دیں۔ اگر آپ پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھیں، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔ اگر آپ افغان ہیں تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں بنی۔
میں اپنی قوم سے بھی یہی کہوں گا کہ اس وقت میرے بس میں جو ہے، میں وہ کر رہا ہوں۔ اگر اس سے بڑھ کر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش، صبر اور شعور کا دامن نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

10/02/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ اجلاس میں اسلام آباد امام بارگاہ سمیت ملک میں دہشتگردی اور شدت پسندی کی موجودہ صورتحال بارے تفصیلی خطاب:

🟥 رنج کے ساتھ تمام دوست اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام آباد کے ایک امام بارگاہ میں جو واقعہ پیش آیا، اس پر بات ہونی چاہیے
🟥 ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان مسائل کا حل کیسے تلاش کیا جائے، نہ کہ صرف تقریریں کی جائیں جیسا کہ تیراہ کے معاملے پر ہوا
🟥 ایسے سنجیدہ معاملات میں بدقسمتی سے پوائنٹ اسکورنگ کی جاتی ہے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان شہداء کے گھر والے آج ہمیں سن رہے ہیں، جن کے دل ٹوٹ چکے ہیں
🟥 ان کے لیے دلاسہ اور تسلی کا واحد فورم یہی ایوان ہیں، کیونکہ شہداء کے لواحقین اس قیامت سے صرف وہی لوگ واقف ہوتے ہیں جو خود ایسے حالات سے گزرے ہوں
🟥 ان کی نظریں اس پارلیمان پر ہوں گی، اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن پر ہوں گی
🟥 اگر ہم نے اس موقع کو صرف تنقید کے لیے استعمال کیا تو یہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا
🟥 صرف کل میری پارٹی کے لوگ شہداء کے لواحقین کے پاس گئے۔ ان میں کچھ افراد پاڑا چنار سے آئے تھے
🟥 انہوں نے بتایا کہ ہم پاراچنار چھوڑ کر اس لیے نکلے کہ وہاں ہمیں جینے نہیں دیا جا رہا تھا، ہمیں کہا گیا کہ اپنے علاقے چھوڑ دو
🟥 ہم وہاں سے اسلام آباد آ گئے۔ ہمارا نصیب تھا کہ ہم یہاں تک پہنچ گئے
🟥 اگر ہم نے ہر واقعے پر یہی کرنا ہے کہ چند تقاریر کریں، پھر “اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن” کہہ کر اگلے سانحے کا انتظار کریں، تو یہ کوئی حل نہیں
🟥 ہمارا طریقۂ کار یہی رہا ہے کہ ہم اگلے واقعے کا انتظار کرتے ہیں، پھر اچھی اچھی تقریریں ہوتی ہیں، پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے اور پھر اگلے سانحے کا انتظار۔
🟥 پرسوں کا سانحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ اب اسلام آباد تک پہنچ چکا ہے
🟥 یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ دہائیوں پرانا مسئلہ ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ کسی فرد کا نام نہ لوں، کسی کی ذات پر تنقید نہ کروں،
🟥 لیکن پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے جتنے بھی دشمن ہیں، ان سب کے لیے وضاحت ضروری ہے
🟥 ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ یہ فتنۂ خوارج ہے، یہ ماننے کو بھی تیار ہیں کہ حملے بھارت یا افغانستان سے ہو رہے ہیں، لیکن آپ ہم سے یہ مطالبہ نہ کریں کہ ہم پچاس سالہ تاریخ کو مٹا دیں، جیسے کسی کمپیوٹر کا سسٹم فارمیٹ کر دیا جائے
🟥 یہ نہیں ہو سکتا کہ ملک کے ہر کونے میں جو بھی واقعہ ہو، فوراً کہا جائے کہ یہ خوارج نے کیا، بھارت نے کیا یا افغانستان نے کیا
🟥 اگر بھارت کے حملے کو فالس فلیگ آپریشن کہا جاتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
🟥 ریاست کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد پانچ منٹ کے اندر ایک تیار شدہ بیان آ جاتا ہے
🟥 تکلیف یہ ہے کہ ایک طرف انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں، لیکن اصل مجرموں اور سہولت کاروں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا
🟥 میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ جو بھی دہشت گردی کا دفاع کرتا ہے، وہ میرے قوم کا دشمن ہے
🟥 ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں یا دوست
🟥 تین سال پہلے جنہیں وارئیرز اور اسٹریٹیجک اثاثے کہا جا رہا تھا، آج وہ فتنہ کہلا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ پچاس ساٹھ سال سے چل رہا ہے
🟥 آج ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ جو کل مجاہد تھا، وہ آج دہشت گرد ہے یا نہیں؟
🟥 جن لوگوں نے غیر دینی عمل کو دین کے نام پر جائز قرار دیا، کیا وہ عوام کے دشمن ہیں یا نہیں؟
🟥 ریاست نے اپنے آئین، اپنے مذہب اور اپنی قوم کے ساتھ مذاق کیا
🟥 چالیس ہزار دہشت گردوں کو لا کر پاکستان میں بسایا گیا، سینکڑوں کو جیلوں سے رہا کیا گیا
🟥 آج انہی کی موجودگی کی وجہ سے علاقے خالی کروائے جا رہے ہیں، قوم کو نقصان پہنچ رہا ہے
🟥 سادہ سوال یہ ہے کہ اگر ان دہشت گردوں کی موجودگی جرم ہے تو انہیں لانے والے کہاں ہیں؟ وہ آزاد کیوں گھوم رہے ہیں؟
🟥 ہمیں تاریخی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی
🟥 ہماری پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں، ہماری کوئی ذاتی یا مذہبی دشمنی نہیں تھی
🟥 آج اگر ریاست کے ساتھ لوگ کھڑے ہونے سے ہچکچا رہے ہیں تو اس کی وجہ بھی ریاست کا اپنا طرزِ عمل ہے
🟥 مسائل کا حل صرف بیانات میں نہیں، بلکہ تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی طبقات کو ساتھ بٹھا کر نکالنا ہوگا
🟥 دہشت گردی کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ کسی مذہب سے، نہ کسی نظریے سے۔ دہشت گردی ہر رنگ، ہر قوم اور ہر مذہب سے بالاتر ایک لعنت ہے
🟥 ہمارے پاس آئین موجود ہے، جو سیکیورٹی اداروں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر لمحہ آئین پر عمل کیا جائے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ آئین ہمیں جینے کا حق دیتا ہے، جو آج ہماری قوم کو میسر نہیں۔
🟥 ہمیں “ونس اینڈ فار آل” یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے لیے پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں
🟥 ہمیں ایک واضح پالیسی اور اس پر عمل درآمد چاہیے، تاکہ قوم کو اعتماد ہو کہ اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

(تکنیکی وجوہات کی بنا پر سینیٹ کا آج کا اجلاس ٹی وی اور یوٹیوب پر نشر نہیں ہوا تھا)

| |

06/02/2026
06/02/2026

راولپنڈی؛ امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ، سیکرٹری جنرل اے این پی ڈاکٹر محمد سلیم خان کا اظہار افسوس

بزدلانہ حملے میں بے گناہ نمازیوں کی شہادت نے پورے ملک کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اس سفاک دہشت گردی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انسانیت، مذہب اور معاشرتی اقدار پر حملہ ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اس سانحے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لائے۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی، ہم نفرت، انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اے این پی شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہے، اللہ تعالی شہداء کو بلند درجات اور زخمیوں کو کامل صحت عطاء فرمائے۔

|

06/02/2026

عوامی نیشنل پارٹی پاراچنار اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد دھماکے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں شہری زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ملک میں عام شہری آج بھی غیر محفوظ ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے صرف بیانات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

آرمی پبلک اسکول پشاور جیسے دل دہلا دینے والے سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پر مؤثر اور دیانت دارانہ عملدرآمد نہ ہو سکا۔ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے بجائے بعض عناصر کو دوبارہ منظم اور سیٹل کیا گیا، جس کا خمیازہ آج بھی معصوم عوام بھگت رہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی اس امر پر شدید غصے اور تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ ریاستی ترجیحات آج بھی واضح نہیں۔ اگر نیشنل ایکشن پلان پر روحِ قانون کے مطابق عمل کیا جاتا تو آج اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں میں لاشیں نہ گرتیں۔
#عوامی نیشنل پارٹی پاڑاچنار اپر کرم

21/01/2026
19/01/2026

صدر محترم ایمل ولی خان 🚩❣️

Address

Parachinar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ANP Parachinar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share