01/03/2023
پانچ ہزار ڈالر کے دو پاکستانی بھائی
گوانتاناموبے رسٹورنٹ
احمدغلام ربانی ، عبدالرحیم غلام ربانی دو بھائی ہیں جن کو ستمبر 2002 میں پانچ ہزار ڈالر کے عوض پرویز مشرف نےامریکہ کے حوالے کیا تھاجو بغیر کسی عدالتی کاروائی، بغیر کسی مقدمے کے بے گناہ 21 سال تک گونتاناموبے میں رہے۔ یہ پوری ریاست،پاکستان کے نظام انصاف و عدالت کے لیے اور پاکستان کی حکومت اور پارلیمنٹ کے لئے باعث شرم ہے۔ حامد میر نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ کیا ریاستِ پاکستان،حکمرانوں اور عدلیہ میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ ان دو بھائیوں سے معذرت ہی کر لیں۔ کل کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں میٹنگ ہوئی جس میں سیف اللہ پراچہ جو کہ گونتاناموبے سے یہاں پہنچے تھےوہ بھی اور ان تمام لوگوں کی رہائی میں بنیادی کردار ادا کرنے والے امریکی وکیل Clive Smith اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی بھی شریک تھیں۔ ہم نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے مختلف آپشنز اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر ایک تازہ دم مہم اُٹھانے کا عزم کیا۔ربانی برادارن بہت خوش ہیں۔ انکے بیٹے 19سالہ جواد جنہوں نے پہلی مرتبہ والد اور چچا کو دیکھا،بھی اس وقت موجود تھے۔میں نے ان کو اپنی طرف سے اور جماعت اسلامی کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ چونکہ وہ ایک بہترین شیف/کک ہیں تو ان کا ارادہ ہے کہ وہ ایک رسٹورنٹ کراچی میں کھولیں جس کا نام "گوانتاناموبے ریسٹورنٹ" ہو۔ ان شاء اللہ۔ انہوں نے مجھے ابھی سے اس کے افتتاحی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان