20/10/2025
🌾 گندم پالیسی 2025–26: حکومت اور کاشتکاروں کے بیانیے کی ایک جھلک
پاکستان میں گندم صرف ایک فصل نہیں، قومی تحفظِ خوراک کی بنیاد ہے۔ ہر سال جب حکومت گندم کی امدادی قیمت (Support Price) کا اعلان کرتی ہے تو یہ صرف ایک عدد نہیں ہوتا — یہ کسانوں کی امیدوں، معیشت کے توازن، اور عوام کی روٹی کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے۔
حکومتِ پاکستان کا مؤقف:
حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی ہے۔
وفاقی وزراء کے مطابق یہ فیصلہ کئی عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا گیا:
1. عوامی مفاد کا توازن: حکومت کہتی ہے کہ اگر قیمت بہت زیادہ رکھی جائے تو آٹا مہنگا ہو جائے گا اور عام آدمی متاثر ہوگا۔
2. مہنگائی پر قابو: گندم ایک بنیادی غذائی جنس ہے، اس لیے اس کی قیمت براہِ راست افراطِ زر سے جڑی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ قیمت مناسب رہے تاکہ مارکیٹ مستحکم رہے۔
3. خود کفالت کی پالیسی: وزارتِ خوراک کے مطابق اس پالیسی کا مقصد درآمدی انحصار کم کرنا اور مقامی پیداوار بڑھانا ہے۔
4. نظامِ خریداری میں بہتری: حکومت وعدہ کر رہی ہے کہ امسال خریداری مراکز پر شفافیت اور ڈیجیٹل نظام لایا جائے گا تاکہ کسان کو فوری ادائیگی ہو۔
🌾 کاشتکاروں کا مؤقف:
دوسری طرف، گندم کاشت کرنے والے لاکھوں کسانوں کو کئی تحفظات ہیں۔
ان کے مطابق یہ قیمت زمینی حقائق اور بڑھتی ہوئی لاگت کے مطابق نہیں۔
1. پیداواری لاگت میں اضافہ: ڈیزل، کھاد، بیج اور مزدوری کے ریٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد 3,500 روپے فی 40 کلو کسان کے لیے نقصان دہ ہیں۔
2. درآمدی گندم کا مسئلہ: کسانوں کو خدشہ ہے کہ حکومت بعد میں سستی گندم درآمد کرے گی جس سے مقامی گندم کی قیمتیں گر جائیں گی۔
3. خریداری مراکز پر بدانتظامی: پچھلے سال پاسکو اور محکمہ خوراک کے مراکز پر بدعنوانی، تاخیر اور وزن کی کٹوتی جیسے مسائل سامنے آئے، جن سے کسان کا اعتماد متزلزل ہوا۔
4. پالیسی میں تسلسل کی کمی: کسانوں کا کہنا ہے کہ ہر سال نئی پالیسی، نئے ریٹ اور نئے وعدے آ جاتے ہیں، مگر زرعی منصوبہ بندی میں استحکام نہیں آتا۔
حقیقت کا درمیانی راستہ:
دونوں فریق اپنی جگہ درست ہیں۔
حکومت کو عوامی مفاد اور مالی توازن دیکھنا پڑتا ہے، جبکہ کسان اپنے خون پسینے کی کمائی کے حساب سے منصفانہ قیمت چاہتا ہے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ:
کسان کی لاگتِ پیداوار کا سائنسی تخمینہ لگایا جائے۔
پالیسی میں تسلسل اور شفافیت لائی جائے۔
درآمدی گندم صرف ہنگامی حالات میں منگوائی جائے۔
بیج، کھاد اور پانی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
---
گندم پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو ملک مستحکم ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور کسان آمنے سامنے نہیں، بلکہ شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
ایسی پالیسی درکار ہے جو کسان کو انصاف، اور عوام کو سستی روٹی دونوں فراہم کرے