30/10/2024
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ اگر کوئی کارکن سنجانی کیس میں گرفتار ہے اور اس ورکر کو مزید جعلی مقدمے میں بھی شناخت ظاہر کرنے کے لیے پولیس نے درخواست دائر کر دیں۔ کہ اس مقدمے میں بھی شناخت پریڈ کروانی ہے اور جج 15 سے 20 دن میں سماعت کرتا ہے اور پھر پولیس دوبارہ درخواست دائر کرتی ہے کہ اب تھانہ کوہسار میں شناختی پریڈ کرانی ہے۔ یہی رویہ انہوں نے 1122 کے اہلکاروں کے ساتھ بھی کیا 1122 کے اہلکاروں نے فرسٹ ایڈ دینے کے لیے آئے تھے اسلام آباد پولیس کے جو ہتھکنڈے ہے یہ انسانیت کے خلاف ہے اس کے علاوہ ہمارے ایم پی ایز کی ضمانتوں کے باوجود دوسرے مقدمے میں نامزد فائز عیسی جج بننے کے بعد نواز شریف پاکستان پہنچیں اور جیسے ہی فائز عیسی ریٹائرڈ ہوئے نواز شریف بھی اپنا بستر باندھ کر واپس لندن چلے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ نواز شریف کو عدالتی نظام پر اعتماد نہیں۔ ہم موجودہ ججوں میں سے کسی کے خلاف نہیں ہیں ماضی میں تحریک انصاف یا عمران خان کے جو کیسس پر فیصلے ہوئے اس پر ہمارے ساتھ زیادتیاں کی گئی فائز عیسی نے پروسیکیوٹر کا کردار ادا کیا ہم سے نشان چیننا ہوں یا بنیادی انسانیت کی خلاف ورزی کا کیس یا اغواء برائے بیان۔ فائز عیسی اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیرون ملک چلے گئے ہیں، میں ان کے ساتھ ہونے والی ٹرولنگ پر دلی سکون ہیں۔