02/10/2026
جاوید خان اچکزئی: سیاسی کارکن سے این ڈی ایم جنوبی پشتونخوا کے صوبائی ترجمان تک کا سفر
کچھ لوگ سیاست کتابوں سے سیکھتے ہیں۔ کچھ کو سیاست ان کے اپنے گھر کے آنگن میں آ کر سکھاتی ہے۔ جاوید خان اچکزئی دوسری قسم کے لوگوں میں سے ہیں۔
وہ 1995 میں ممتاز تاجر عبد الصمد خان اچکزئی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ یہ گھرانہ چمن کا ایک معزز، وطن دوست اور استعمار مخالف گھرانہ ہے۔ یہ گھرانہ پشتون قومی تحریک سے جڑا ہے۔ ان کے دادا حاجی اللہ یار خان اچکزئی؛ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پشتون قومی تحریک کی پہلی صفوں میں کھڑے رہے۔ اس گھر میں وطن سے محبت ورثے کی طرح منتقل ہوتی ہے۔
جب 2001 آیا تو جاوید خان سکول کی پہلی کلاس میں تھے۔ اس دوران نائن الیون کا واقعہ ہوا۔ بڑی طاقتوں نے حساب اپنے مفاد کے مطابق لگایا اور قیمت پشتونخوا کی زمین سے وصول کی۔ بولان سے چترال تک آگ اور خون کا کھیل شروع ہوا۔ استعمار کا اصول ہی یہی ہے کہ وہ اپنے شکار کو "شے" بنا دیتا ہے۔ ہماری زمین بھی ایک میدانِ جنگ بن گئی اور ہمارے لوگ اعداد و شمار۔
2007 میں چمن کا امن چھین لیا گیا۔ قبائلی مشران، سیاسی کارکن اور قوم پرست رہنما ایک ایک کر کے نشانہ بنتے گئے۔ جاوید کے چچا عبدالخالق خان اچکزئی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سرگرم رکن تھے۔ وہ انتہا پسندی کے خلاف اپنی جماعت کا مؤقف آگے بڑھاتے رہے۔ دہائیوں سے جاری بدنما، کراہت آمیز استعماری کھیل کے عین مطابق انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور بیس دن غائب رکھا۔ پھر ایک ویرانے سے ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔
اس وقت جاوید سرکاری اسکول کے طالب علم تھے۔ گیارہ، بارہ برس کا بچہ ایسے سانحے کو صرف غم کے طور پر نہیں سمجھتا۔ وہ اسے ایک سوال کے طور پر اٹھا لیتا ہے۔ نوآبادیاتی تشدد کا پہلا اثر انسان کی روح پر پڑتا ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اسی روح کے اندر انکار کا پہلا شعلہ جنم لیتا ہے۔ غم آنسو بن کر بہہ بھی سکتا ہے اور شعور بن کر ٹھہر بھی سکتا ہے۔ جاوید کے ہاں وہ شعور بنا۔
اس دن سے ہی جاوید نے اسکول میں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا اسٹڈی سرکل جوائن کیا۔ بعد میں وہ باقاعدہ اس تنظیم کا حصہ بنے۔
گرامشی کہتا تھا کہ ہر انسان مفکر ہے، مگر ہر انسان کو مفکر کا سماجی کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اسٹڈی سرکل یہی موقع دیتا ہے۔ وہاں غصہ نظم میں ڈھلتا ہے اور جذبہ دلیل سے ہاتھ ملاتا ہے۔ وہاں ایک نوجوان سیکھتا ہے کہ ظلم ایک شخص کا جرم نہیں ہوتا، ایک نظام کی ساخت ہوتا ہے۔ اور نظام کو بدلنے کے لیے صرف نعرہ نہیں، تربیت، شعور اور تنظیم و ڈسپلن چاہیے۔
جاوید نے تعلیم کو اسی سیاسی تربیت کا ذریعہ بنایا۔ بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے کی دو ڈگریاں حاصل کیں۔ لیکن اس دوران اور اس کے بعد بھی وہ چمن میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ان کے لیے علم کوئی نمائشی زیور نہیں تھا، ایک ہتھیار تھا۔
نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ اٹھی۔ یہ تحریک ایک سوال کی شکل میں نمودار ہوئی: ہمارے نوجوان کیوں مارے جاتے ہیں، اور ہمارے لاپتہ لوگ کہاں ہیں؟
جاوید خان اس تحریک میں پہلے دن سے شامل ہوئے اور پورے بلوچستان میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ریاستی اداروں اور حکومت کے دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔
ان کی جدوجہد کے محور تین تھے: دہشت گردی کا خاتمہ، جمہوریت کی بحالی، اور آئین و قانون کی بالادستی۔
ان میں سے کوئی مطالبہ بھی آئین سے باہر نہیں تھا۔ یہی بات ہمیں سب سے زیادہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب آئین کی بات کرنا جرم بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ کسی فرد کا نہیں، پورے استعماری سیاسی ڈھانچے کا ہے۔
2021 میں محسن داوڑ کی سربراہی میں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ قائم ہوئی۔ جاوید اسی وقت اس قافلے میں شامل ہوئے اور آج تک ثابت قدم ہیں۔ اس وقت وہ پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہیں۔
یہ وابستگی اتفاقی نہیں۔ این ڈی ایم کا منشور ایک سیکولر، وفاقی، جمہوری اور پارلیمانی نظام کا تصور پیش کرتا ہے۔ وہ اس ملک کو کثیر القومی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی ملک مانتا ہے۔ مرکز کو صرف چار شعبے، یعنی خارجہ، دفاع، کرنسی اور مواصلات سونپنے کی بات کرتا ہے۔ قدرتی اور مالیاتی وسائل پر عوام کی ملکیت تسلیم کرتا ہے۔
یہ انہی سوالوں کے جوابات ہیں جن کے ساتھ جاوید نے بچپن میں آنکھ کھولی تھی: یہ زمین کس کی ہے؟ اس کے وسائل پر کس کا حق ہے؟ اور فیصلے کون کرے گا؟
14 اگست 2024 کو چمن میں ڈیورنڈ لائن پر پاسپورٹ اور ویزا پالیسی کے خلاف تاریخی دھرنا شروع ہوا۔ جاوید اس کی کمیٹی کے رکن بنے اور بعد میں اپنی مستقل مزاجی، کمٹمنٹ اور خلوص و صلاحیت کی بنیاد پر اس تاریخی تحریک کے بھی ترجمان منتخب ہوئے۔ وہ دو سال تک، بلا ناغہ، روزانہ اس دھرنے کا حصہ رہے۔
جاوید خان اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ چمن کے لوگوں کے لیے یہ نام نہاد سرحد کوئی تجریدی خط نہیں۔ یہ روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ اس پار رشتے دار ہیں، اُس پار دکانیں ہیں اور دونوں طرف روزگار ہے۔ یہ لکیر انگریز کے زمانے میں کھینچی گئی تھی اور آج بھی لوگوں کے چولہوں پر اثر ڈالتی ہے۔ یہی حقیقت ہمیں سمجھاتی ہے کہ استعمار کی کوئی بھی میراث اتنی پائیدار نہیں جتنی اس کی کھینچی ہوئی لکیریں۔
جو شخص دو سال تک روز دھرنے میں بیٹھا رہے، وہ کسی عہدے کے لیے نہیں بیٹھتا۔ وہ اس لیے بیٹھتا ہے کہ اس کے لوگوں کے گھروں میں چولہا جلتا رہے۔
جاوید کی قیادت اس خاندان کے شاندار ماضی کا تسلسل اور وطن کے لیے ایک اور ذمہ داری نبھانے کے عزم کا مظہر ہے، اور نوجوانوں کے لیے ایک مثال۔ مگر ہر سیاسی کارکن کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قومی شعور اگر سماجی شعور میں نہ ڈھلے تو وہ خالی پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے اصل امتحان یہ ہے کہ یہ سفر شخصیت پرستی میں نہ بدلے۔ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ تحریک افراد سے نہیں، شعور یافتہ اجتماع سے زندہ رہتی ہے۔
جاوید کی کہانی اسی لیے اہم ہے کہ اس میں ایک بچے کا صدمہ ایک نظریے کی شکل اختیار کرتا ہے، نظریہ تنظیم کی شکل اختیار کرتا ہے، اور تنظیم عوام کی روزمرہ جدوجہد بن جاتی ہے۔ اور یہ روزمرہ کی جدوجہد عوام کو اپنے اعلیٰ تر مقصد کے حصول کی جانب بڑھاتی ہے، ان کی تربیت کرتی ہے اور انہیں بلند تر شعور سے سرفراز کرتی ہے۔
یہی کسی سیاسی کارکن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
یہ سلسلہ اس دن تک چلنا چاہیے جب قومی سیاست ہمارے نوجوانوں کا مزاج بن جائے اور اپنی دھرتی پر فیصلہ اسی کا ہو جو اس پر بستا ہے اور اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیت سے اس وطن کو امن، ترقی اور خودمختاری کے منزل کی جانب ایک قدم آگے لے کر بڑھتا ہو۔