29/05/2026
پاکستان کے قیام سے لے کر 2018 تک سابقہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں مؤثر طور پر شامل نہ کیا جانا ان علاقوں کی پسماندگی، محرومی اور بدامنی کی ایک بنیادی وجہ رہا ہے۔ دہائیوں تک وہاں کے عوام نے بے شمار قربانیاں دیں، مگر انہیں وہ آئینی اور شہری حقوق میسر نہ آسکے جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل تھے۔
فاٹا کا انضمام ایک تاریخی اور نہایت اہم فیصلہ تھا، جو طویل جدوجہد، قربانیوں اور عوامی مطالبات کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انضمام کے بعد اس پر اس سنجیدگی، عزم اور مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کا تقاضا تھا۔ نہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عمل کیا گیا، نہ این ایف سی ایوارڈ میں سابقہ فاٹا کیلئے مختص خصوصی فنڈز کا بروقت اجراء کیا گیا، اور نہ ہی ترقیاتی وعدوں کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
اب ایک بار پھر یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ سابقہ فاٹا کو دوبارہ مرکز کے زیر انتظام لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اقدام سابقہ قبائلی اضلاع کو مزید غیر یقینی صورتحال، پسماندگی اور محرومی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔
سابقہ فاٹا مزید غیر ضروری تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اگر ریاست اور حکمران واقعی سابقہ فاٹا کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو ضروری ہے کہ:• سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے• این ایف سی ایوارڈ میں سابقہ فاٹا کیلئے مختص فنڈز بروقت جاری کیے جائیں• ان فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے• امن ،تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے شعبوں پر فوری اور خصوصی توجہ دی جائے
سابقہ فاٹا کے انضمام کیلئے بھرپور جدوجہد کی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ہزاروں قربانیوں اور طویل سیاسی و عوامی جدوجہد کے بعد حاصل ہوا، اور اسے اتنی آسانی سے واپس نہیں ہونے دیا جائے گا۔
عوام یہ سمجھتے ہیں کہ بعض حلقوں کی دلچسپی آج سابقہ فاٹا کی قیمتی معدنیات اور قدرتی وسائل میں ہے، تاہم یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ وہاں کے عوام اپنے حقوق، شناخت اور مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔
سابقہ فاٹا کو مزید تجربات نہیں بلکہ امن، ترقی اور مکمل آئینی حقوق درکار ہیں۔
صدر عوامی نیشنل پارٹی ضلع خیبر سفیرِامن عبدالرزاق آفریدی