30/08/2026
جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن پر پشتون تحفظ موومنٹ کا مرکزی اعلامیہ
خطے میں پشتون، بلوچ، کشمیری اور سندھی نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ، اور سابقہ جبری گمشدگیوں کے مقدمات کو مسنگ پرسنز کمیشن کی جانب سے بلا جواز اور بلا تحقیقات بند کرنے پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی قابلِ افسوس ہے۔
بین الاقوامی یومِ جبری گمشدگان کے موقع پر پشتون تحفظ موومنٹ جبری گمشدگیوں کے شکار پشتون، بلوچ، سندھی اور کشمیری افراد اور ان کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ جبری گمشدگی ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ ہم اپنے ان تمام ساتھیوں کو بھی یاد کرتے ہیں جو آج بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ اس نوآبادیاتی ظلم و جبر کے خلاف پی ٹی ایم جدوجہد جاری رکھے گی۔
جبری گمشدگیاں کوئی اتفاقیہ واقعات نہیں بلکہ نوآبادیاتی نظام کے احکام، خوف و دہشت، آبادیوں کی بے دخلی اور خاموشی مسلط کرنے کی ایک منظم منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ پشتون علاقوں میں ایک طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی کی بنیاد پر ہزاروں پشتون نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ آج ہزاروں کی تعداد میں پشتون اور دیگر اقوام کے نوجوان ریاستی ٹارچر سیلوں اور عقوبت خانوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں، جبکہ ان کے خاندان متعلقہ معلومات اور انصاف کے لیے جگہ جگہ گئے ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے امن جرگے سے سرعام اغوا کیا گیا، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر بنی جی آئی ٹی میں خفیہ اداروں کے افسران پیش ہی نہیں ہوتے۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مہمان ہونے کے باوجود اب تک نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کو بازیاب نہیں کرایا گیا۔ پشاور ہی سے سرعام پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما فرید آفریدی کو پشاور شہر میں سینکڑوں گواہان کی موجودگی میں اغوا کیا گیا، مگر اب تک بازیاب نہیں کرایا گیا۔
پشتون تحفظ موومنٹ واضح کرتی ہے کہ جبری گمشدگی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ کسی شہری کو اس کے بنیادی قانونی اور انسانی حقوق سے محروم کر کے خفیہ حراست میں رکھنا نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ اس موقع پر صرف پشتون لاپتہ افراد ہی نہیں بلکہ بلوچ، سندھی، مہاجر اور کشمیری عوام کے ان تمام افراد کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے جو جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی فوری بازیابی، ان کے خاندانوں کو معلومات کی فراہمی اور ان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق کی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جبری گمشدگی ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو اذیت اور غیر یقینی کی زندگی میں دھکیل دیتی ہے۔ برسوں سے مائیں اپنے بیٹوں، بچے اپنے والدین اور بہن بھائی اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ریاست اور متعلقہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ ہر لاپتہ فرد کے بارے میں واضح معلومات فراہم کریں اور ان خاندانوں کو انصاف دیں جنہوں نے برسوں سے اس کرب کو برداشت کیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خطے میں جاری جبری گمشدگیوں کے سنگین مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ان تمام جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کی بازیابی کے لیے فوری طور پر مہم ترتیب دی جائے۔