PTM Press & Information

PTM Press & Information PTM
Central Press & Information Official Page
(2)

سوات میں امن پاسون کو ناکام بنانے کے لیے معصوم لوگوں پر دھماکہ اج سوات کے کبل چوک میں امن پاسون کے دوران دھماکہ۔ جس میں ...
02/08/2026

سوات میں امن پاسون کو ناکام بنانے کے لیے معصوم لوگوں پر دھماکہ

اج سوات کے کبل چوک میں امن پاسون کے دوران دھماکہ۔ جس میں ۱۴ پشتون شہید اور درجنوں زخمی ہیں، ریاست نے پہلے پی ٹی ایم کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے اور پھر انکے گھروں پر چھاپے مار کر امن پاسون کو روکنے کی کوشش کی۔ لیکن جب وہ ناکام ہوئے تو آج پولیس والوں اور عام پشتون کو قربانی کا بکرا بنا کر لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ یہاں پر صرف جنگی پالیسیاں چل سکتی ہیں امن کے لیے اور اکھٹا نہیں ہوسکتے۔ پشتون تحفظ موومنٹ اس اندوہناک دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتی ہے۔

یہ اس پورے جنگی ماڈل کی ناکامی کا اظہار ہے جس نے دہائیوں سے ہمارے وطن کو جنگ اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا۔ امن کے لیے نکلنے والے عوام کو پہلے گرفتار کیا جاتا ہے، ان کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، ان کی سیاسی سرگرمیوں کو سبوتاژ کیا جاتا ہے، اور پھر امن کے مطالبے کو خوف کی فضا میں دفنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ پشتون وطن کو مستقل جنگی خطہ بنانے والی پالیسیاں نہ صرف ناکام ہو چکی ہیں بلکہ انہی پالیسیوں نے عدمِ تحفظ، اور عسکریت کو جنم دیا ہے۔ جبر اور طاقت کے ذریعے کسی قوم کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ امن عوام کا بنیادی حق ہے، کسی ادارے یا طاقت کی عنایت نہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ پشتون عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ خوف کے ماحول کو مسترد کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ منظم ہوں۔ ہماری طاقت ہمارا اتحاد اور سیاسی جدوجہد ہے۔ اگر آج ہم منتشر رہے تو جنگ کی یہ سیاست مزید گہری ہوگی، لیکن اگر ہم متحد رہے تو کوئی طاقت ہمارے قومی حقوق کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتی۔

ہم تمام پشتون سیاسی جماعتوں، قومی تحریکوں، طلبہ، وکلا، مزدور تنظیموں، خواتین اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ وقتی سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پشتون وطن کو جنگ اور خوف کی سیاست سے نجات دلانے کے لیے مشترکہ قومی محاذ تشکیل دیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی ریاست کی جانب سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام آج پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بڑی تعد...
27/07/2026

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی ریاست کی جانب سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام

آج پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بڑی تعداد نے نام نہاد انتخابات کا بائیکاٹ کرکے واضح کر دیا کہ طاقت کے بل عوامی مطالبات کو دبایا نہیں جاسکتا۔ ریاست نے اس عوامی فیصلے کا جواب گولیوں، خونریزی اور مواصلاتی بلیک آؤٹ سے دیا۔ نہتے شہریوں پر فائرنگ ریاست کی شکست اور عوام کی فتح کا اعلان ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ریاستی قتلِ عام، رینجرز کی فائرنگ اور نہتے عوام پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ تشدد کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ایسے مظالم کسی بھی تحریک کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ اقوام کے آزادی کی خواہش کو دبا سکتے ہیں۔ مظفرآباد کی طرف بڑھتے ہوئے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ جبر کے مقابلے میں عوامی طاقت زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاست نے محکوم اقوام کی پرامن سیاسی جدوجہد کا جواب گولیوں سے دیا ہو۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے متعدد پرامن اجتماعات اور احتجاج ریاستی تشدد کا نشانہ بنے، بلوچستان کے راجی مچی میں بھی نہتے عوام پر خونریز حملہ کیا گیا، سندھ میں کنال کے ایشو پر اور دیگر سیاسی تحریکوں کے خلاف بھی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، مگر آج تک کسی ایک ذمہ دار کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ یہ مسلسل تجربہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ پشتون، بلوچ، کشمیری اور دیگر محکوم اقوام کو اپنے دکھوں اور جدوجہد کو مشترکہ سمجھتے ہوئے متحد عوامی مزاحمت کو فروغ دینا ہوگا۔ ریاستی جبر کا مقابلہ منتشر ہوکر نہیں بلکہ محکوم اقوام کی مشترکہ اور منظم جدوجہد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

ہم ریاست کو خبردار کرتے ہیں کہ فوری طور پر خونریزی بند کرے، عوام پر گولیاں برسانا بند کرے، تمام راستے کھولے، مواصلاتی پابندیاں ختم کرے اور عوام کو مظفرآباد جانے سے نہ روکے۔ کتنے لوگوں کو مارو گے؟ ہر شہید کے بعد یہ قافلہ مزید طاقت کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ کشمیر کے عوام تنہا نہیں ہیں پشتون ان کی جدوجہد اور ریاستی جبر کے خلاف ان کے ساتھ کھڑیے ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا مرکزی بیانیہضلع بنوں کو اجتماعی سزا دینا بند کیا جائےضلع بنوں گزشتہ ایک ہفتے سے ایک ایس...
24/07/2026

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا مرکزی بیانیہ

ضلع بنوں کو اجتماعی سزا دینا بند کیا جائے

ضلع بنوں گزشتہ ایک ہفتے سے ایک ایسے غیر اعلانیہ محاصرے کی زد میں ہے جہاں ریاست نے نام نہاد آپریشن کے نام پر پورے ضلع کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ سات دن سے موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر بند ہے، لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے، کاروبار، تعلیم، علاج اور ہنگامی خدمات تک رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ آج صرف شہر کے چند حصوں میں فائبر انٹرنیٹ بحال کیا گیا، جبکہ ضلع کے بیشتر علاقے بدستور مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ کا شکار ہیں۔

تحصیل میریان کے بارکزئی، نورڑ، خنی کلہ اور گریڑے سمیت متعدد علاقوں میں مسلسل کرفیو نافذ ہے، جانی خیل۔میریان مرکزی سڑک بند ہے، نورڑ بازار سات دنوں سے بند پڑا ہے، تعلیمی ادارے بند ہیں، پٹرول پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل ناپید ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔ صرف ایک ہفتے میں عوام کو کروڑوں روپے کا معاشی نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پچاس سے زائد عام شہریوں کو اٹھایا جا چکا ہے، جبکہ مواصلاتی بندش کے باعث مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ رہیں۔ جب پورے علاقے کا رابطہ دنیا سے کاٹ دیا جائے تو شفافیت ختم ہو جاتی ہے اور شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق مزید خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ واضح کرتی ہے کہ امن کے نام پر پوری آبادی کو اجتماعی سزا دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کے بھی منافی ہے۔ پورے ضلع کو محاصرے، کرفیو، معاشی تباہی اور مواصلاتی بلیک آؤٹ کا شکار بنانا کسی بھی قانونی دائرہ اختیار میں نہیں اتھا ۔

پی ٹی ایم مطالبہ کرتی ہے کہ:

* ضلع بنوں میں فوری طور پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس مکمل بحال کی جائے۔
* غیر ضروری کرفیو اور سڑکوں کی بندش ختم کی جائے۔
* تمام شہریوں کو قانون کے مطابق ان کے حقوق فراہم کیے جائیں اور جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
* عوام کو ایندھن، تعلیم، صحت اور کاروبار جیسی بنیادی سہولیات تک فوری رسائی دی جائے۔

بنوں کے عوام دشمن نہیں، اس دھرتی کے شہری ہیں۔ ان کے آئینی حقوق سلب کر کے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت، محاصرے اور اجتماعی سزا کی پالیسیوں کے بجائے قانون، انصاف اور عوامی اعتماد ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ (PTM)
مرکزی شعبه اطلاعات و نشریات

*دادو جیل میں  قید حاجی عبدالصمد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے: پشتون تحفظ موومنٹ*(پشاور، 21 جولائی 2026) دادو، س...
21/07/2026

*دادو جیل میں قید حاجی عبدالصمد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے: پشتون تحفظ موومنٹ*

(پشاور، 21 جولائی 2026) دادو، سندھ کی جیل میں برسوں سے قید سیاسی اسیر، پی ٹی ایم کے بزرگ رہنما حاجی عبدالصمد (صمد لالا) کی بگڑتی ہوئی صحت کو مسلسل نظر انداز کرنا محض طبی غفلت نہیں بلکہ ایک بزرگ سیاسی رہنما کی جان، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

شدید گرمی، طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور علاج کی بار بار درخواستوں کے باوجود انہیں مناسب طبی امداد فراہم نہ کرنا ریاستی بے حسی اور سیاسی انتقام کی سنگین شکل ہے۔ اپنی پوری زندگی عوام کے حقوق کی جدوجہد میں گزارنے والے ایک بزرگ سیاسی رہنما کو ایسے غیر انسانی حالات میں قید رکھنا ناقابل قبول ہے۔

سیاسی اختلاف کسی شخص کو علاج، عزت اور زندگی کے حق سے محروم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ قید میں رکھے گئے ہر فرد کی صحت اور جان کا تحفظ ریاست اور متعلقہ حکام کی براہ راست ذمہ داری ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حاجی عبدالصمد کو بلا تاخیر کسی مناسب ہسپتال منتقل کیا جائے، ماہر ڈاکٹروں سے ان کا مکمل طبی معائنہ کرایا جائے اور ان کی عمر اور صحت کے مطابق تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کے مقدمات کی شفاف، منصفانہ اور بلا تاخیر سماعت بھی یقینی بنائی جائے۔

ان کی صحت یا جان کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی مکمل ذمہ داری ریاست اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

سیاسی اسیروں کی جان اور صحت کو دباؤ اور انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ریاستی نوآبادیاتی جبر کی وہی پرانی منطق ہے جسے ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

ہم سیاسی کارکنوں، وکلاء، صحافیوں، انسانی حقوق کے اداروں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ حاجی عبدالصمد کی فوری ہسپتال منتقلی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

حاجی عبدالصمد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ان کی زندگی اور انسانی وقار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات ونشریات

کرم میں ایک بار پھر ریاست اور ریاستی سرپرستی میں پلنے والے گروہ مذہبی بنیادوں پر کرم میں خون اور آگ کا کھیل کھیل رہے ہیں...
19/07/2026

کرم میں ایک بار پھر ریاست اور ریاستی سرپرستی میں پلنے والے گروہ مذہبی بنیادوں پر کرم میں خون اور آگ کا کھیل کھیل رہے ہیں۔

کرم میں مقامی قبائل، مشران اور عوام کی مسلسل کوششوں سے گزشتہ ایک سال کے دوران جو نسبتاً پُرامن فضا قائم ہوئی تھی، آج ایک مرتبہ پھر اسے منظم انداز میں سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رات کی تاریکی میں مختلف جگہوں پر حملے، نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل، اور اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں کی جانب سے الزام تراشی کا سلسلہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالات کو دوبارہ قبائلی اور فرقہ وارانہ تصادم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ واضح کرتی ہے کہ ضلع کرم کے عوام، خواہ وہ کسی بھی قبیلے یا مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، صدیوں سے باہمی رشتوں، مشترکہ سماجی زندگی اور امن کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے ہر واقعے کو شیعہ سنی یا قبائلی دشمنی کا رنگ دینا نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ اس سے نفرت اور تقسیم کو مزید ہوا ملتی ہے۔

اس وقت ضلع کرم بدستور محاصرے جیسے حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ آمدورفت کی بندش کے باعث خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ضلع کرم ملک کے اُن علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات اور عسکری موجودگی برقرار ہے۔ ایسے حالات میں اگر مسلسل حملے، قتل اور بدامنی رونما ہو رہی ہے تو اس کی غیرجانبدار، شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ہر واقعے کو عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کے بجائے اصل حقائق کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاہدوں کے خاتمے کے بعد مختلف علاقوں پر حملوں اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ ایسے عناصر، جو عوام کے درمیان مستقل دشمنی پیدا کرنا چاہتے ہیں، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے اشتعال انگیز بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے صرف وہ قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں جو پشتون علاقوں میں امن کے بجائے مسلسل جنگ اور عدم استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ ضلع کرم کے تمام قبائل، مشران، علماء، نوجوانوں اور باشعور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ یه جنگ ریاستی اداروں کی سرپرستی اور مفاد میں جاری ہے، لہزہ عوام ہر قسم کی اشتعال انگیزی، افواہوں اور فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کو مسترد کریں۔ کسی بھی واقعے کو قبائلی یا مسلکی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا اس وقت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

زیارت کے عوام کے احتجاج، شہداء کے لواحقین اور آل پارٹیز دھرنا کمیٹی کے ساتھ مکمل یکجہتیپشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) زیا...
15/07/2026

زیارت کے عوام کے احتجاج، شہداء کے لواحقین اور آل پارٹیز دھرنا کمیٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) زیارت اور کویٹہ میں شہداء کے لواحقین، عوام اور آل پارٹیز کی جانب سے جاری احتجاج اور دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ ہم دھرنا کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ آئندہ لائحۂ عمل، احتجاجی شیڈول اور تمام فیصلوں کی بھرپور تائید کرتے ہیں اور پشتون عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں بھرپور شرکت کریں۔

چھ روز سے زائد عرصے سے جنوبی پشتونخواہ کے عوام اپنے شہداء کی لاشوں سمیت سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ ان کے مطالبات نہ اقتدار سے متعلق ہیں، نہ وزارتوں سے، نہ فنڈز سے، نہ کسی خصوصی رعایت سے۔ ان کا واحد مطالبہ اپنے علاقوں میں امن، جان و مال کے تحفظ اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کی ضمانت ہے۔ افسوس کہ ریاست آج تک ان بنیادی مطالبات پر بھی واضح یقین دہانی دینے میں ناکام رہی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جنوبی پشتونخواہ میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال کوئی الگ یا اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ یہ اسی جنگی ماحول کا تسلسل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع پر مسلط رہا۔ وہاں بھی انسداد دھشتگردی کے نام پر پوری نسلوں کو جنگ کی آگ میں جھونکا گیا۔ آج زیارت اور بلوچستان میں وہی خطرناک منظرنامہ دوبارہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔

پی ٹی ایم واضح کرتی ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام ہے۔ اس ذمہ داری کو عوام کے کندھوں پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ہم ایک بار پھر دوٹوک اعلان کرتے ہیں کہ پشتون کسی بھی صورت ریاست کی جنگ کا ایندھن نہیں بنیں گے، نہ کسی مسلح تصادم میں فریق بنیں گے اور نہ اپنے ہی علاقوں کو مزید جنگ کا میدان بنانے کی اجازت دیں گے۔

ہم اپنی قوم کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں کی تلخ تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا۔ گزشتہ دہائیوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ جنگ، عسکریت اور غیر شفاف ریاستی پالیسیاں صرف مزید تباہی، مزید خونریزی اور مزید بے گھر ہونے کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیے آج ضروری ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر ان مطالبات پر ثابت قدم رہے۔

پی ٹی ایم پہلے دن سے زیارت کے عوام کے ساتھ میدان میں موجود ہے، آج بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور آئندہ بھی پشتون وطن کے ہر گھر، ہر شہر اور ہر مظلوم خاندان کے ساتھ اپنی قومی ذمہ داری نبھاتی رہے گی۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

یورپی پارلیمنٹ میں تاریخی پیش رفت پشتون تحفظ موومنٹ کی سفارتی کاوشوں کو بڑی کامیابیپشتون تحفظ موومنٹ یورپی پارلیمنٹ کی ج...
12/07/2026

یورپی پارلیمنٹ میں تاریخی پیش رفت پشتون تحفظ موومنٹ کی سفارتی کاوشوں کو بڑی کامیابی

پشتون تحفظ موومنٹ یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر منظور کی گئی قرارداد کو ایک اہم پیش رفت سمجھتی ہے۔ یہ پیش رفت برسوں پر محیط منظم سفارتی جدوجہد، مسلسل رابطوں، مستند شواہد کی فراہمی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ مستقل روابط کا نتیجہ ہے۔

پی ٹی ایم ایڈوکیسی کمیٹی (جرمنی )نے گزشتہ عرصے میں یورپی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین، انسانی حقوق کے اداروں اور متعلقہ پالیسی ساز حلقوں کو پاکستان میں پشتونوں کے خلاف جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، سیاسی انتقام اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں پر مبنی دستاویزی شواہد فراہم کیے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں یورپی پارلیمنٹ کے رکن رافائل گلوکسمین کے دفتر نے ہمارے تفصیلی ڈوزیئر کی وصولی کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ جیسے تحریکوں کے خلاف ریاستی مظالم پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ہم اس امر کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ یورپی پارلیمنٹ کی منظور شدہ قرارداد (B10-0346/2026) کی شق 6 میں پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی، توہینِ مذہب اور سائبر کرائم قوانین کے سیاسی استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے، من مانی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور ہمارے ساتھیوں علی وزیر، حنیف پشتین اور نور اللہ ترین سمیت دیگر سیاسی کارکنوں کی رہائی کا واضح مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہے کہ یہ نہ صرف پشتونوں کی آواز کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف ہے بلکہ ان مظالم کی بھی توثیق ہے جن کی نشاندہی پی ٹی ایم برسوں سے کرتی آرہی ہے۔

اسی طرح ہم قرارداد کی اس شق کو بھی انتہائی اہم سمجھتے ہیں جس میں یورپی یونین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ GSP+ سمیت پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو انسانی حقوق کی حقیقی عملداری سے مشروط کرے، اور اگر پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے تجارتی مراعات پر نظرثانی کی جائے۔

پشتون تحفظ موومنٹ آئندہ بھی حقائق کے بنیاد پر دنیا کے ہر متعلقہ فورم پر پشتون سوال کو منظم اور غیر متزلزل طریقے سے اجاگر کرے گا۔ تاکہ ریاستی تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو، تمام سیاسی قیدی رہا ہوں، اور پشتون بشمول دیگر محکوم اقوام کو جینے کا بنیادی حق حاصل ہو۔

پشتون تحفظ موومنٹ
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات

Remembering Gilaman Wazir on His 2nd Martyrdom AnniversaryToday, we gather in this X Space to honor the life, poetry and...
12/07/2026

Remembering Gilaman Wazir on His 2nd Martyrdom Anniversary
Today, we gather in this X Space to honor the life, poetry and unwavering courage of Gilaman Wazir, the revolutionary Pashtun poet, activist and senior voice of the Pashtun Tahafuz Movement (PTM). Two years ago, on July 11, 2024, his words were silenced by bullets in Islamabad, but his message, his resistance, and his love for the Pashtun people continue to echo louder than ever.
Time : 10:00
Date : 12/07/2026

د ملي شهید ګیله من وزیر د دویم تلین یاد
نن موږ په دې X سپېس کې د ګیله نن وزیر د ژوند، شاعرۍ او نه ماتېدونکې مېړانې درناوی کوو. ګیله من وزیر یو انقلابي پښتون شاعر، فعال او د پښتون ژغورنې غورځنګ (PTM) مخکښ غږ و. دوه کاله وړاندې، د ۲۰۲۴ کال د جولای په ۱۱مه، په اسلام‌اباد کې د هغه غږ د مرمیو په وسیله غلی کړای شو، خو د هغه پیغام، مقاومت او له پښتنو سره مینه لا هم تر پخوا لا په پیاوړي ډول انګازې کوي

وخت : لس بجې

د پي ټي ایم برتانیه ملګري لګیا دي د څوارلسمې نېټې د اکسفورډ نړیوال پوهنتون کې د پي ټي ایم کانفرانس لپاره کمپاین کوي، په ...
10/07/2026

د پي ټي ایم برتانیه ملګري لګیا دي د څوارلسمې نېټې د اکسفورډ نړیوال پوهنتون کې د پي ټي ایم کانفرانس لپاره کمپاین کوي، په څوارلسم د جولائي به د اکسفورډ پوهنتون په انګړ کې د پي ټي ایم نړیوال کانفرانس وي چې د بشري حقونو د ادارو غړي لکه امنیسټي انټرنېشنل، هیومن رایټس واج، فرسټ ډیفینډر او یو شمېر نور ملي او بین المللي سیاستمداران به پکې ګډون وکړي.
یاد سیمنار ته به د پښتون ژغورنې غورځنګ ملي مشر منظور احمد پښتون هم ځانګړې وینا وکړي

PTM social media team is running a hashtag to condemn the nonstop killing of Pashtuns by state agents and proxies. News ...
09/07/2026

PTM social media team is running a hashtag to condemn the nonstop killing of Pashtuns by state agents and proxies. News of innocent Pashtuns recklessly being killed by so-called security forces in various forms all over Pakhtunkhwa has become a daily routine. Curfews, forceful displacements, diseases, economic oppression and several other forms of deprivation are other, less visible, tools of Pashtun genocide. The current violence in Balochistan, incited by state agencies is also intended to spread death and destruction among Pashtuns.
Join us in calling an end to the endless killing of Pashtun!

Time: 20:00(8:00)

Address

Peshawar

Telephone

+923249069687

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Press & Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PTM Press & Information:

Shortcuts

Share