04/09/2025
جو بچے رزلٹ کے بعد سوچ رہے ہیں ہر شہر کے ہر نکڑ پر کھلے ہوئے کالج ( چاہے سرکاری ہے چاہے پرائیوٹ ) میں بی ایس کر لیں یا کسی یونیورسٹی سے ایم اے ایم ایس سی ایم فل کر لیں ( چاہے سرکاری یونیورسٹی ہے چاہے پرائیوٹ ) ان کو میرا مشورہ ہے وہ یہ کام نہ کریں۔ ہاں اگر آپ نے دو چار سال وقت گزارنا ہے تو ٹھیک ہے ( چاہے آپ لڑکا ہو یا لڑکی ). اب ان ڈگریوں کا کوئی فایدہ نہیں ۔ ملک میں ڈگریوں کی مکمل سیچوریشن ہو چکی ہے یعنی سیلاب ہر گھر میں گھس چکا ہے۔ اگر آپ کو میرٹ پر میڈیکل ، انجینئرنگ ، یا پاکستان کی ٹاپ کلاس پانچ چھ یونیورسٹی میں داخلہ مل جاتا ہے تو یہ پنگا ضرور لیں۔ وہاں کچھ نہ کچھ سکھاتے ہیں ۔ ان یونیورسٹیوں کی پاکستان میں کسی خد تک ڈیمانڈ موجود رہتی ہے۔ اگر آپ کی طبیعت ٹف کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو سی اے یا اے سی سی اے میں داخلہ لے لیں۔ اگر آپ نے پھدو پھلانگ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لے لیا تو یہ بات ذہن میں رکھیں آپ چار پانچ سال بعد کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ اس وقت آپ کوئی سکل بھی نہیں سیکھ سکیں گے ۔
لہذا اس وقت کو غنیمت جانیں اور کسی سکل کو سیکھیں۔ ایف اے یا ایف ایس سی پاس بچہ کافی شعور رکھتا ہے ۔ وہ چھوٹے بچے کی نسبت استاد سے جلدی کام سیکھ جاتا ہے اور ان بچوں کے ساتھ استاد بدفعلی بھی نہیں کر سکتا ۔ اپنی دلچسپی کے حساب سے کام کا انتخاب کریں۔ جو بچے مستقبل میں پلانگ کر رہے ہیں کہ وہ یورپ امریکہ جائیں گے ان کے لیے میرا مشورہ ہے وہ نائیوں کا کام سیکھ لیں۔ یقین جانیے نائیوں کے کام کی پاکستان کے علاؤہ پوری دنیا میں ڈیمانڈ موجود ہے۔ نائیوں کے کام میں صرف لفظ نائی ہی برا ہے باقی ششکے ہی ششکے ہیں۔
افضال بٹ