12/08/2026
پیپلز یوتھ آرگنائزیشن خیبر پختونخوا کا دوٹوک مذمتی بیان
شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل میں طلبہ پر مبینہ تشدد ناقابلِ قبول، ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے
پیپلز یوتھ آرگنائزیشن خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر اور دیگر عہدیداران نے شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل میں طلبہ کے خلاف مبینہ تشدد، انتقامی کارروائیوں اور پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنان کو ہراساں کرنے کے واقعات پر شدید تشویش، غم و غصے اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی میں طلبہ کے خلاف کارروائی کے دوران مبینہ طور پر تشدد کیا گیا، جس میں طلبہ کے بنیادی حقوق اور تعلیمی ادارے کے پُرامن ماحول کو شدید متاثر کیا گیا۔ اگر یہ کارروائی وائس چانسلر کے حکم یا ہدایات پر کی گئی ہے تو یہ معاملہ مزید سنگین ہے اور اس کی شفاف، غیر جانب دار اور فوری تحقیقات ہونی چاہئیں۔
پیپلز یوتھ آرگنائزیشن خیبر پختونخوا واضح کرتی ہے کہ یونیورسٹیاں طلبہ کو تعلیم، شعور اور جمہوری تربیت دینے کے مراکز ہیں، تشدد اور خوف پھیلانے کے نہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے، طلبہ کے جائز سیاسی و تنظیمی حقوق سلب کرنے یا پُرامن سرگرمیوں کے جواب میں طاقت کا استعمال کسی صورت جمہوری اور تعلیمی اقدار کے مطابق نہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل کے واقعے کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، طلبہ کے خلاف کی گئی مبینہ انتقامی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے، ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور اگر کسی افسر یا عہدیدار کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت ہو تو قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پیپلز یوتھ آرگنائزیشن یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ تمام طلبہ کے خلاف غیر منصفانہ کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں، گرفتار یا زیرِ کارروائی طلبہ کو قانون کے مطابق ریلیف فراہم کیا جائے اور یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے پُرامن، محفوظ اور جمہوری ماحول یقینی بنایا جائے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نوجوانوں اور طلبہ کو خاموش کرانے کی کوششیں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔ پیپلز یوتھ آرگنائزیشن خیبر پختونخوا طلبہ کے جمہوری، سیاسی، تعلیمی اور تنظیمی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
اختلافِ رائے جرم نہیں، جمہوریت کی روح ہے۔
طلبہ پر تشدد نہیں، مکالمہ اور انصاف چاہیے!
پیپلز یوتھ آرگنائزیشن خیبر پختونخوا
صوبائی قیادت