31/08/2026
نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت مہم کے جلد آغاز کے حوالے سے اجلاس
مہم کا آغاز پشاور اور قبائلی ضلع خیبر سے کرنے کا فیصلہ
سڑکوں پر موجود نشے کے عادی افراد کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بحالی مراکز میں علاج کیا جائے گا
نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مشترکہ آپریشن اور مؤثر نگرانی کا فیصلہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت نشے کے عادی افراد کے علاج، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ فعال کردار کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر، ڈائریکٹر اینٹی نارکوٹکس، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، ضلعی انتظامیہ پشاور و قبائلی ضلع خیبر، ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر پشاور سمیت دیگر متعلقہ افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نشے کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے لیے تمام قانونی و انتظامی تقاضے، بشمول اشتہار کے اجراء، جلد مکمل کیے جائیں گے تاکہ مہم کا باقاعدہ جلد آغاز ممکن بنایا جا سکے۔ مہم کا ابتدائی مرحلہ صوبائی دارالحکومت پشاور اور قبائلی ضلع خیبر سے کیا جائے گا۔
مہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائی جائے گی، جبکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ ایکسائز، محکمہ اینٹی نارکوٹکس اور سول ڈیفنس مشترکہ کارروائی کے ذریعے سڑکوں پر موجود نشے کے عادی افراد کو تحویل میں لے کر بحالی مراکز منتقل کریں گے۔
بہتر اور دیرپا نتائج کے حصول کے لیے علاج کا دورانیہ چار ماہ سے بڑھا کر پانچ ماہ کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ اس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں تشکیل دی جانے والی ٹیمیں بحالی مراکز کے اچانک دورے کرکے مریضوں کے علاج، خوراک اور دیگر سہولیات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گی۔
مہم کے لیے فنڈز کی دستیابی اور اخراجات کے انتظام کی ذمہ داری محکمہ سوشل ویلفیئر کے سپرد ہوگی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی دلچسپی قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر من و عن عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے مہم کا جلد آغاز کیا جائے اور اس کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔