31/08/2025
باجوڑ کی عوام کے ساتھ تاریخ کا بدترین مذاق جاری ہے!
آج سول کالونی خار میں باجوڑ کے سیاسی اور قامی مشران کا آمن و امان کے حوالے سے ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہو رہا تھا، جرگے کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سرگرم کارکن اور نوجوان لیڈر نے آٹھ کر جذباتی انداز میں سابق صوبائی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی انور زیب خان کو مخاطب کیا کہ اگر آپ لوگوں کی بات نہیں مانی جا رہی ہے اور آپ لوگوں کے پاس اختیار نہیں ہے تو آپ لوگ مستعفی ہو جائے۔
جس کے بعد آمن و آمان کے بجائے باجوڑ میں اس سوال کو ایشو بنایا گیا، کچھ لوگ صدیق اکبر پر تنقید کر رہے ہیں اور کچھ اس سوال کو حق بجانب سمجھتے ہیں!
جب آپریشن شروع ہو رہا تھا تو اس وقت کہا گیا کہ صرف تین دن کے لیے علاقے خالی کریں، پہلے صوبائی حکومت نے اس اپریشن کی مخالفت کی، پھر صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، باجوڑ کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا، وزیراعلی صاحب نے اپریشن کی منظوری دی۔ محترم انورزیب خان صاحب نے میڈیا پر آکر بیان دیا کہ ہم وزیراعلی صاحب کے ساتھ کھڑے ہے۔
چند دن پہلے اس صاحب نے ایک جرگہ منعقد کروایا اس جرگے میں جو کچھ ہوا وہ سب آن دہ ریکارڈ ہے، اگلے روز اس صاحب نے قومی مشران کو ساتھ لیکر پاک فوج کے حق میں نعرے لگوائے!
اب یہ لوگ جمع ہو کر جرگہ کرتے ہیں اور جرگہ میں کہتے ہیں ہیں ہمارے پاس اختیار نہیں تو کیا صدیق آکبر کی جگہ اگر اپ ہوتے تو یہ سوال آپ نہ کرتے؟؟؟؟؟
ہم مانتے ہیں آپ کے پاس اختیار نہیں ہے لیکن آپ کے پاس یہ اختیار تو ہے کہ آپ وزیراعلئ کے فیصلے کی مخالفت کریں، آپ کے پاس یہ اختیار تو ہے کہ پاک فوج زندہ باد کے نعرے کے ساتھ ساتھ یہ نعرہ بھی لگائے کہ "یہ عوام ہماری عوام ہے" ۔
باجوڑ کی عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے،، جو اپریشن تین دن میں ختم ہونا تھا اس کا تقریبان مہینہ مکمل ہونے والا ہے، ایک ہفتے کے اندر اندر جن لوگوں کی باعزت واپسی کا کہا گیا تھا وہ تو چھوڑیں آج تک ماموند سے بہن بھائی نقل مکانی کر رہے ہیں۔
اس کا حساب ہوگا اور اس حساب سے بچنے کے لیے یہ لوگ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، صدیق اکبر کی جگہ کوئی بھی غیرت مند انسان ہوتا تو وہ یہی سوال پوچھتا،
انورزیب خان قابل احترام ہے، قابل عزت ہے لیکن ان حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، یہ عہدے یہ پارٹیاں یہ ذاتی مفادات یہ سب عارضی ہے، عزت اور مقام وہ پائے گا جو اس قوم کے لیے صدق دل سے کچھ کرے گا۔
سید صدیق اکبر کا نام شیڈول فورتھ میں ڈالا گیا، آپ لوگوں کو نہیں پتہ کہ شیڈول فورتھ کیا ہے؟ ان لوگوں کی قدر کریں ورنہ یہ مائیں اور بہنیں اس طرح ذلیل ہوتی رہی گی، آج اگر صدیق اکبر نے سخت سوال پوچھا ہے تو اس کا پس منظر بھی دیکھے، موجودہ حالات بھی دیکھے اور اپنے مشران کا کردار بھئ دیکھے۔