04/06/2026
پشاور کے رہائشیوں سے پندرہ لاکھ رشوت طلب کرنے اور حبس بے جا میں رکھ کرتشدد کا الزام، وزیر اعلی کے حکم پر ایکسائز تھانہ ایبٹ آباد کے ایڈیشنل ایس ایچ او سب انسپکٹر نسیم خان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا ۔محکمہ ایکسائز نے ملزم سب انسپکٹر نسیم خان کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔زرائع کے مطابق پشاور کے رہائشی عمران آفریدی ولد حاجی یوسف جان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق،پشاور باڑہ کے رہائشی عمران آفریدی نے تھانہ کینٹ ایبٹ آباد میں رپورٹ درج کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یکم جون 2026 کو وہ اپنے ساتھیوں نیک محمد ولد اصل جان ،انعام اللہ ولد خان میر ،ایازولد جاوید خان کامران ولد کاپی جان کے ہمراہ ناراں کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ہزارہ موٹروے کھوکھر میرا کے قریب سرکاری یونیفارم پہنے دس افراد کھڑے تھے جنہوں نے انہیں روک لیا۔ مدعی کے مطابق ملزمان نے خود کو ایکسائز اہلکار ظاہر کرتے ہوئے انہیں زبردستی اپنی گاڑی ہنڈا سوک 979 سے اتار کر اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ایک قریبی قیام و طعام ریسٹورنٹ پر پر منتقل کرکے گالم گلوچ اور بد تمیزی کرتے رہے اور پندرہ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کرتے رہے اور ہمارے موبائل بھی چھین لیے اور پاس موجود کچھ رقم بھی نکال لی۔رات بارہ بجے تک جب رشوت نہیں ملی تو ہمیں ایکسائز تھانہ میں منتقل کرکے وہاں ڈنڈوں سے تشدد کیا۔اس دوران ہمارا بھائی سید نبی کجو جو ناراں میں ہمارا انتظار کر رہا تھا نے وزیر اعلی آفس پشاور رابطہ کرکے تفصیلات بتائی تو سی ایم ہاوس کی مداخلت پر صبح آٹھ بجے ہمیں چھوڑا گیا ۔
کینٹ پولیس نے علت نمبر 669 کے تحت ایف آئی آر درج کرکے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 341، 342، 506، 160، 337-F(i)، 427 اور 34شامل کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری طرف محکمہ ایکسائز نے بھی سب انسپکٹر نسیم خان کو معطل کرکے محکمانہ انکوائری شروع کر دی ہے۔
**نوٹ:** مذکورہ الزامات مدعی کی ایف آئی آر میں درج شکایت پر مبنی ہیں، جن کی تصدیق یا تردید تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔