JTV Pakistan

JTV Pakistan This is a Fan page of , Prime minister of Pakistan.

it updates the news and info and incourages positive proceedings which are added for the bitterment of

15/11/2023



14/05/2023
14/05/2023
14/05/2023

القادر ٹرسٹ کیس (کچھ حقائق )
کہا جاتا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے ایک " بزنس ٹائیکون" سے بطور رشوت زمین تحفہ میں لی ۔ رشوت اس بنیاد پر لی گئی کہ عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو جرمانہ ہونے والی رقم سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا (یعنی یہ رقم عمران خان کی جیب میں نہیں گئی )۔ اس سلسلے میں جو معلومات مل سکی ہیں وہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں ۔ ڈی ڈبلیو ویب سائیٹ کے مطابق القادر یونیورسٹی کی اصل زمین صرف 60 ایکڑ ہے ۔ اسی سلسلے میں چکوال کے رہائشی ملک کاشف اعوان نے کچھ تحقیق کی ہے جو کچھ یوں ہے ۔
فی زمانہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اگر ہم ایک جملے میں عمران خان کی گرفتاری کا خلاصہ بیان کریں تو وہ کچھ یوں بنتا ہے —— “عمران خان کو القادر یونیورسٹی کے لیے جگہ دینے پر گرفتار کیا گیا ہے۔”
کوئی فقط اس لیے مجرم ہے کہ اس کے نام پر یونیورسٹی کے لیے جگہ دینے کا جُرم ہے۔ کہیں وہ مجرم اس لیے ہے کہ اُس نے رحمت العالمین اکادمی کی بنیاد رکھی ہے تو کہیں وہ سزاوارِ جرم اس لیے بھی ہے کہ اُس نے تیسری دنیا کے غریبوں کے لیے جدّت کا شاہکار کینسر ہسپتال بنا دیا ہے۔
القادر یونیورسٹی اور اس سے منسوب نیب کے اس کیس کو سمجھنے کے لیے آپ کو کچھ دیر کے لیے میرے ساتھ چلنا ہو گا۔ القادر یونیورسٹی سوہاوہ کے پہاڑوں میں ہے اور میرے گھر سے 58 کلومیٹر دور ہے۔ اگر آپ میرے بائیک پر میرے ساتھ چلتے ہیں تو ہم با آسانی مناسب رفتار کے ساتھ ایک گھنٹہ بیس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔ تو آئیے القادر یونیورسٹی کی کھوج شروع کرتے ہیں۔
سوہاوہ موڑ سے شیر شاہ سُوری کی جرنیلی سڑک پر بائیں ہاتھ مُڑ کر بمشکل دس منٹ کی مسافت پر ایک پُر پیچ پہاڑی رستہ شروع ہوتا ہے۔ عُرفِ عام میں یہ سوہاوہ کی پہاڑیاں کہلاتی ہیں۔ ایسے ہی ایک اندھے پہاڑی موڑ کی بائیں جانب گہری کھائی میں جو جگہ ہے وہی جگہ القادر یونیورسٹی کا کیمپس ہے۔ یہ تمام پہاڑی علاقہ بَرکالا کہلاتا ہے۔ تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم کا ایک گُمنام سا گاؤں بَرکالا جہاں کی بارانی زمین کاشتکاری کے لیے کسی طور بھی موزوں نہیں ہے۔
سوہاوہ کی پہاڑیوں کی وہ ایک گہری کھائی کہ جہاں کی نشیبی زمین پر عمران خان نے القادر یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا، ہماری علاقائی زُبان میں کھُدَّر (ویران جنگل بیابان) کہلاتا ہے۔ کھُدّر ایک ایسی پتھریلی چٹانی زمین ہوتی ہے جہاں کاشت ممکن نہیں ہوتی۔ اونچی نیچی سخت پتھریلی چٹانوں والی یہ زمین عموماً ایک چراگاہ کے طور پر ہی استعمال ہوتی ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی زمین تھی جیسی اس سے قبل عمران خان نے نَمل یونیورسٹی کے لیے چُنی تھی اور پھر جنگل میں منگل کر دیا تھا۔

یہ سارا قِصّہ بَرکالا کے اس کھُدَّر زمین کے کُل 458 ایکڑ رَقبے کا ہے۔ یہ 458 ایکڑ رَقبہ یا ہماری عام فہم زبان کے مطابق 916 بیگھہ زمین کاشتکاری کے لیے انتہائی غیر موزوں، بیکار اور غیر آباد تھی۔ اگر آپ اس موڑ پر جی ٹی روڈ پر کھڑے ہوں تو آپ نیچے جھانکنے سے بھی ڈر جائیں کہ کہیں اس بلندی سے نیچے نہ گر جائیں۔ روڈ پر کھڑے ہو کر آپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ کبھی یہاں نیچے گہری کھائی میں یونیورسٹی بھی بن سکتی ہے۔
القادر یونیورسٹی کی تعمیر سے قبل یہ جگہ تیتروں، سیہہ، گیدڑ اور خرگوشوں کے شکار کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی یا پھر اہلِ دیہہ یہاں بکریاں چراتے تھے اور اپنے گھر کے لیے ایندھن اکٹھا کرتے تھے۔ ایسا رَقبہ ہمارے علاقے میں عموماً پچاس ہزار روپے بیگھہ کے حساب سے مل جایا کرتا ہے۔ چکوال شہر میں تو کاشتکاری کے لیے موزوں زمین بھی دو لاکھ روپے بیگھہ کے حساب سے دستیاب ہے۔
حیرت انگیز طور پر گمراہ میڈیا، اسلام آباد و لاہور کے اے سی لگے بند کمروں میں بیٹھے انویسٹی گیٹو جرنلسٹوں کے آرٹیکلز اور حکومتی اہلکاروں کے جھوٹ پر مبنی تجزیوں نے اس جگہ کی قیمت کا تعین پچاس اَرب روپے کر دیا۔ ہمارے علاقے سے تعلق رکھنے والا بچّہ بچّہ جانتا ہے کہ پچّاس سے ستّر ہزار روپے بیگھہ کے حساب سے ایسی کھُدّر والی زمین با آسانی مل سکتی ہے۔ اس اعتبار سے القادر یونیورسٹی والی اس زمین کی کُل مالیت کسی طور بھی ساڑھے چھ کروڑ سے زائد نہیں ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس جگہ کی قیمت کے متعلق پچاس اَرب روپے کا شوشا چھوڑا کس نے ہے؟ نیب کے لگائے گئے تخمینے کے مطابق تو یہ جگہ سات لاکھ روپے فی مرلہ کے حساب سے پڑتی ہے۔
تخمینہ لگانے والوں سے ہاتھ باندھ کر گزارش ہے کہ جب یہ جگہ القادر یونیورسٹی کے لیے مختص کی گئی تھی تب تو یہ ایک اجاڑ بیابان جگہ تھی تو اس وقت کے حساب سے جگہ کا تخمینہ لگایا جائے نہ کہ اب القادر یونیورسٹی بننے کے بعد اس جگہ کی رہائشی قیمت کا موازنہ کیا جائے۔ 2019ء میں کون پاگل شخص یہاں سات لاکھ روپے مرلہ کے حساب سے جگہ خرید سکتا تھا۔ حقیقت میں اس جگہ کی کل مالیت کسی طور بھی ساڑھے چھ کروڑ سے زائد نہیں ہے اور اس اعتبار سے یہ کیس نَیب کے دائرہ کار سے ہی خارج ہو جاتا ہے جو عمومی طور پر کسی بھی کیس کا حُجم پچاس کروڑ سے زائد ہو جانے پر ہی تفتیش کا آغاز کرتا ہے۔
تھوڑا سا مزید اگر القادر یونیورسٹی کو کھنگال لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کی ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ عمران خان مصّر کی عالمی شہرت یافتہ اسلامی یونیورسٹی جامعہ الاَزہر کی طرز پر پاکستان میں بھی ایک ایسی ہی یونیورسٹی کی داغ بیل ڈالنا چاہتے تھے۔ ایسے میں جامعہ اَلقادر [القادر یونیورسٹی] کے منصوبے کا آغاز ہوا۔ یہ ایک عالمی روحانی اسلامی یونیورسٹی کا نقطۂ آغاز تھا جس کی پہلی اینٹ 2019 میں عمران خان نے رکھی۔ 2020ء میں اس یونیورسٹی کے پہلے بلاک نے کام شروع کر دیا۔ اب تک دو فیکلٹیز —— اسلامک سٹڈیز اور مینجمنٹ سائنسز —— نے اپنا بی ایس پروگرام شروع کر دیا ہے جس میں اب تک 120 طالبِ علم فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔ منطق، فلسفہ، تصوّف، سیرتُ النبی، عربی، فارسی اور ریاضی کے شعبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اُمیدِ واثق ہے کہ مستقبل قریب میں جامعہ اَلقادر دنیا کی عالمی درسگاہوں میں ایک منفرد مقام حاصل کر لے گی۔
اگر ہم اس کیس کی مزید جرّح کریں تو ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ عمران خان براہِ راست تو بدعنوانی کے کسی بھی کیس میں شامل ہی نہیں ہیں۔ پاکستان بھر میں عموماً فلاحی کاموں کے لیے زمین ہِبہ ہی کی جاتی رہی ہے۔ کسی مسجد کی تعمیر سے لیکر کسی کالج یا گراؤنڈ تک کے لیے جگہ دنیا بھر میں ایسے ہی حاصل کی جاتی ہے اور جگہ عطا کرنے والا محسن قرار پاتا ہے۔
عمران خان کو اس سے قبل نَمل یونیورسٹی اور شوکت خانم کے لیے بھی جگہ ایسے ہی ہِبہ کے طور پر ملی ہے اور یہ پاکستان میں مروجہ قوانین کے عین مطابق ہے۔ اب اگر اَلقادر ٹرسٹ کی بات کی جائے تو کوئی بھی رفاہِ عامہ کا کام کسی ویلفئیر کمیٹی یا انتظامیہ کے بغیر مکمل نہیں ہو پاتا۔ ایک میلے کے انعقاد سے لیکر مسجد کی انتظامی کمیٹی تک، ہر امر کسی نہ کسی شکل کے ٹرسٹ کے تحت ہی اپنے جملہ اُمور سر انجام دیتا ہے۔ یہ تو خیر بات ہی نان پرافٹ آرگنائزیشن کی ہو رہی ورنہ آپ کے ملک کا سب سے بڑا قانون —— کمپنیز ایکٹ 2017 —— کسی پرافٹ کارپوریشن کی بنیاد رکھنے کے لیے بھی پہلے پروموٹرز کا تعین کرنا ضروری قرار دیتا ہے جو کمپنی کی بنیاد رکھنے پر مامور ہوتے ہیں۔ چیرٹ ایبل ٹرسٹ کا نظریہ خود ملک کے ٹیکس قوانین مجریہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں پُوری شدّو مَدّ سے موجود ہے اور اس ٹرسٹ کے ہر ٹرسٹی کی ذمہ داری ہے کہ ٹرسٹ کے تحت چلنے والے ادارے کی ترویج و ترقّی کے لیے دل و جان سے کام کرے۔ اب اگر عمران خان نے بطور ٹرسٹی یونیورسٹی کے لیے جگہ کا بندوبست مُفت میں کر لیا ہے تو اس نے کون سا غیر قانونی کام کیا ہے؟ اگر جگہ مُفت میں لینا غیر قانونی ہے تو معاف کیجیے گا پھر آپ کو ملک بھر کی ہر مسجد، ہر مدرسے اور ہر دربار کی ملکیّت کو بھی چیک کرنا پڑے گا۔
سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ایک ٹرسٹی یعنی عمران خان جس نے اپنی تفویض شُدہ ذمہ داریوں کے عین مطابق قانونی فعل سر انجام دیا، وہ تو آج قانون کی آہنی سلاخوں کے پیچھے ہے مگر جس شخص نے اپنی ذاتی ملکیّت میں سے 916 بیگھہ زمین یونیورسٹی کو ہِبّہ کی ہے اُس سے ابھی تک کوئی سوال نہیں پوچھا گیا کہ میاں تُم نے کس حساب اور کس قاعدے قانون کے تحت یہ جگہ ہِبّہ کی ہے؟ کیا اس طاقتوَر شخص ملک ریاض کا نام لینے سے صاحبِ اَمر و اقتدار کا وضو ٹوٹ جانے کا خدشہ ہے؟؟
سوال یہ بھی ہے کہ جس زمین کی کُل قیمت کسی طور بھی ساڑھے چھ کروڑ سے زائد نہیں ہے اُسے نیب کی عملدَاری میں کس نے دیا؟ کسی نے القادر یونیورسٹی کی زمین کی اصل قیمت کا تخمینہ تو لگایا ہی نہیں اور بنی گالہ کی طرح اس کی موجود کمرشل ویلیو کو بنیاد بنا کر الزامات کا طوفان کیوں کھڑا کر دیا گیا ہے؟
اعجاَز اعوان

28/01/2023

عمران خان کے اپنے تین سالہ عہد میں پچاس اہم کارنامے ان حقائق کو کسی کا باپ نھی جھٹلا سکتا جو عملی طور پر ہوا ہے
1-انڈیا کو کہا منہ توڑ جواب دونگا اگلے دن انڈیا کے دو جہاز گرا دیئے اور پائلٹ کو گرفتار کر کے دنیا کے سامنے جرات کا مظاہرہ کیا.
2-اس نے کہا تھا کہ میں ڈرون اٹیک نہیں ہونے دونگا اس کے دور میں کوئی ڈرون اٹیک نہیں ہوا.
3-پاکستان مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے مہنگے رینٹل منصوبوں کے بجائے ڈیم کی تعمیر
4-ایکسپورٹ کو فقط تین سالوں میں 21 بلین ڈالر سے بڑا کر 38 بلین ڈالر کر دیا.
5-اسلام فوبیا اور نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکوں پر یورپ اور مغرب میں ایک مضبوط موقف اپنایا ۔ حجاب پر پابندی پر بات کی نبی پاک ﷺ سے بے لوث محبت ہر مقام پر ظاہر کی ۔
6-مودی کو دنیا کے سامنے ہٹلر کے جانشین کے طور پر پیش ۔کلبھوشن کو دنیا میں دہشت گردی کی علامت کے طور پر
پیش کیا ۔
7- ریکوڈیک میں ضائع کئے گئے گیارہ بلین ڈالر جرمانے کو نو ارب ڈالر انویسٹمنٹ میں تبدیل کروا کے ملک قوم کی خدمت کی
8- پی آئی اے کو خسار ے سے نکال کر منافع کی طرف گامزن کیا
9-کنسڑیکشن انڈسڑی کے لئے شاندار پیکجز کا اعلان کیا جس سے 8 لاکھ نئی نوکریا ں پیدا ہوئیں حتی کہ
کورونا عروج پر تھا.
10- ٹیکسٹائل کی تباہ حال انڈسڑی کو دوام بخشا ۔ ایکسپورٹ کو 20 ارب ڈالر تک لیکر گیا جو کہ گزشتہ حکومتوں میں فقط 9-10 ارب ڈالر تک محدود ہو کر رہ گئی تھی
11-بلین ٹریز سونامی پروجیکٹ لانچ کیا جسے عالمی سطح پر بے پنا ہ پذیرائی ملی جس کے تحت 2 بلین درخت لگائے
جا چکے ہیں جس نے عالمی سطح کلائمیٹ تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا.
12- کئی سالوں بعد کسان دوست پالیسی کی وجہ سے گندم ،چاول ،کپاس،اور گنے کی شاندار فصلیں ملیں جو کہ گزشتہ ادوار میں بہت کم ہو چکیں تھیں ۔
13- پچاس سال بعد دو نئی نہروں کا منصوبہ لانچ کیا گیا.
14-پاکستان ائیر فورس نے 1983 کے بعد پہلی بار نئے جدید جنگی جہاز خریدے جو کہ جے ایف دس کی صورت میں اس 23 مارچ کو ہمارے جنگی بیڑے میں شامل ہو چکے ہیں
15- بینکو ں کو انتہائی کم ریٹ پر مڈل کلاس لوگوں کو گھروں کے لئے قرضے دینےپر راضی کیا جس کے تحت بے شمار لوگوں کو قرضے جاری کیے
جا چکے ہیں.
16-ان تین سالوں میں ملک میں کاروں ، موٹرسائیکل ، اور ٹریکٹر کی ریکارڈ پروڈکشن ہو ئی جو کہ بہتر معشیت کے اشارے ہیں
17-پورے ملک کے ہیلتھ انشورنس کا پروگرام لایا گیا ۔
18-سردیوں میں ایک خاندان کو سڑک پر سوتے دیکھا تو ملک بھر میں 150 پناہ گاہیں اور شلڑ ہومز بنا دیئے
جہاں کھانے تک مفت مہیا کیا جانے لگا.
19- ستر سالوں میں پہلی بار ایک نصاب تعلیم کو رائج کر کے غریب اور امیر کی تقسیم کر دی
20- سٹیزن پورٹل سے عام شہری کو وزیراعظم تک براہ راست رسائی دی ۔ جس سے اب تک 45 لاکھ لوگوں کے مسائل بروقت حل ہوئے
21-ٹرمپ کو ٹویٹر پر انتہائی سخت جوابات
دیئے اور اس کے بعد اسی ٹرمپ کے سٹیٹ مہمان کے طور پر امریکہ کادورہ کیا.
22-تاریخ میں پہلی بار امریکہ کے شہر میں بڑا جلسہ کیا جس میں لاکھوں پاکستانیوں نے شرکت کی
23-امریکہ افغانستان کی جنگ کا بہترین خاتمہ کیا
24-تاریخ میں پہلی بار اورسیز پاکستانیوں کو براہ راست پاکستانی بینکوں
تک رسائی دیکر 3 بلین ڈالر کی انویسٹمنٹ روشن ڈیجٹیل اکاوئنٹ کے ذرائع پاکستان لایا.
25.غیر ملکی زرمبادلہ کو 19 بلین ڈالر سے بڑھا کر 31 بلین ڈالر تک لےگیا
26-ملکی خود مختاری کا سودا ہر گز نا کیا اور عالمی طاقتوں کو absolutely Not کہا جہاں ہمارے سابق حکمران فقط ایک فون کال پر لیٹ
جایا کرتے تھے.
27-کورونا لاک ڈاؤن کو عالمی دباو کے باوجود بہترین انداز میں ہینڈل کیا کہ UN/WHOنے دنیا سے کہا کہ پاکستان سے سیکھو۔
28- روس کا تاریخی دورہ کیا اور حالت جنگ میں روسی صدرکے ساتھ تین گھنٹے کی طویل ملاقات کی
29-بچوں کی ذہنی نشو و نما کو بہتر کرنے میں کردار ادا کیا.
30- پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے مختلف کام کئے ۔ ڈسکور پاکستان چینل بنایا سکردو انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام ان میں سے چند ایک ہیں.
31- خطے میں اس وقت پاکستان میں سب سے کم بے روزگاری ہے.
32- پی ٹی وی کو HD میں تبدیل کیا
33-صحافیوں اور چینلز کی خرید وفروخت میں ملوث نا ہوا.
34- آئی ٹی سیکٹر نے سو فیصد ترقی کی جس کی ایکسپورٹ کا حجم 2 بلین ڈالر تک پہنچایا ۔ پانچ لاکھ نئےروزگار کے مواقع مہیا کئے.
36-ساڑھے تین سال میں ڈیڑھ لاکھ نئی کمپنیاں رجسڑڈ ہوئیں جو کہ گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں
37-القادر یونیورسٹی اور رحمت العالمین اتھارٹی
کا قیام.
38-ساڑھے تین سال میں عورتوں کے اوپر ہونے والے پر تشدد واقعات کو منطقی انجام تک پہنچایا ۔ نور مقدم کیس ۔ سیالکوٹ موٹروئے کیس ۔ اور E-11ویڈیو کیس ۔ تمام ملزمان کو سزا ئے موت ہوئی.
39-ایرن ،چین،روس،سعودی عرب کے ساتھ برابری کی سطح پر مثالی تعلقات قائم کئے.
40-ناصرف وزیراعظم ہاوس میں رہا نہیں بلکے کسی دوسرے گھر کو وزیراعظم ہاوس کا درجہ بھی نہیں دلوایا تاکہ عوامی پیسہ ضائع نا ہو جبکہ گزشتہ ادوار میں نا صرف وزیراعظم ہاوس میں رہتے تھے.
بلکے آبائی گھروں کو وزیراعظم ہاوس کا درجہ دلوا کر عوامی دولت کو بے جا خرچ کرتے تھے.
41-کسی ملکی کا پر تحاش دورہ نہیں کیا ۔ پہلی کوشش کی کہ پی آئی اے کے جہاز پر سفر کرے نہیں تو ائیر فورس کے چھوٹے طیارے کو ترجیج دی جبکہ گزشتہ ادوار میں بوئنگ جہاز میں سفر کیا جاتا تھا اور ساتھ سینکڑوں خاندانی افراد کے ہمراہ بے شمار من پسند اینکر حضرات کو بھی نوازا جاتا تھا.
42-گلگت اور کشمیر کے الیکشن جیت کر ثابت کیا کہ تحریک انصاف پورے ملک کی پارٹی ہے پنجاب یا اندرون سندھ کی جماعت نہیں
43-فاٹا کو کے پی کا حصہ بنایا تاکہ کوئی غیر ملکی طاقت جنگی قبائلی علاقہ کہہ کر ان پرحملہ نا کر سکے
44-ڈمی کے بجائے ایک صحتمند شخص کو صدر پاکستان بنا کر اس عہدے کی اہمیت کو اجاگر کیا.
45-پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار قومی سیکورٹی پالیسی بنائی
46- کوئی کرپشن کا کیس ساڑھے تین سالہ اقتدار میں اس شخص پر نا بن سکا
47-ٹیکس کا حجم 6000 ارب تک پہنچایا
48-غربت کے خاتمہ کے لئے احساس راشن پروگرام چلایا جو کہ اس وقت دنیا میں چوتھا
بہترین پروگرام مانا جاتا ہے.
49-کامیاب نوجوان سیکم کے تحت 50-30 لاکھ روپے کے قرضے براہ راست نوجوانوں کو دیئے ۔ بجائے فراڈ لیپ ٹیپ یا جھوٹی شہرت والے پروگرامز کے ۔
50-پہلی بار پاکستان میں 70 فیصد اپنی ضرورت کے موبائل فون بنائے گئے ۔الیکٹرک موٹرسائیکل اور
کا وقار بحال کیا.
کمپیوٹر بنانے کے کارخانے پاکستان میں لگائے گئے ۔بارڈر پر باڑ لگا کر سمگلنگ روکی گئی جس کی وجہ سے ملکی انڈسڑی کو عروج حاصل ہوا ۔ ملکی حقیقی معاشی ترقی کی طرف گامزن ہوا.
۔ جو چوروں اور غداروں کو پسند نا تھا ۔ اس لئے سب چور مل گئے ایک شخص کو گرانے کے لئے اور قاضی بھی رات بارہ بجے اپنا کوٹھا کھول کر بیٹھ گیا
• • •

Missing some Tw

17/01/2023

KP Cabinet approved upgradation of SSTs (Male & Female) from BS16 to BS17 from July 1st, 2023. 21,800 teachers are likely to get benefit from this upgradation.

26/12/2022

زنانِ یارِمن ترکی و من ترکی نہ میدانم!

Address

Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JTV Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to JTV Pakistan:

Share