16/05/2026
کل دو گریٹ پاورز کے دونوں صدور، اپنی دو طرفہ میٹنگ میں لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے۔
کیونکہ جب آپ بطور سربراہ حکومت، کسی خارجہ محاذ پر بات کر رہے ہوتے ہیں تو لکھی ہوئی تقریر ہی پڑھتے ہیں جو خارجہ امور کے ماہرین ہر قسم کے معاملات اور خارجہ تعلقات کی حساسیت کو مدنظر رکھ کر لکھتے ہیں۔ ایک ایک لفظ کو ناپ تول کر لکھا جاتا ہے کیونکہ کوئی ایک جملہ یا ایک لفظ تمام محنت پر پانی پھیر سکتا ہے، تعلقات بگاڑ سکتا ہے۔
جبکہ ہمارا ایک کھوتا، خارجہ محاذ پر بھی بغیر سوچے سمجھے ڈھینچوں ڈھینچوں لگا دیتا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ خارجہ تعلقات تباہ کر کے رکھ دیے۔ الٹا اس کی کلٹ لڈیاں ڈالتی تھی کہ ہمارا کھوتا تو لکھی ہوئی تقریر نہیں پڑھتا وہ تو کوئی بہت بڑی توپ چیز ہے۔