23/06/2023
بنگلہ دیشی عدالت کا تیز ترین انصاف
بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ سےکچھ دور واقع مدرسے میں اک 19سالہ طالبہ نصرت جہاں کو زندہ جلادیا جاتا ہے
اس نےمدرسے کے مہتمم مولانا سراج الدولہ کے خلاف جنسی ہراس کی شکایت درج کرائی.
اس رپورٹ پر مولانا گرفتار ہوجاتے,مولانا جیل سے شاگردوں کو ہدایت دیتا, نصرت/اہلخانہ پہ دباؤ ڈالا جائے وہ رپورٹ واپس لے,اگر انکار ہو تو پھر بچی کو راستے سے ہٹادیا جائے۔
مولانا کے ہونہار شاگردوں نے حکم کی دل و جان سے اطاعت کی۔
اپریل 2019 شاگرد نصرت کو مدرسے کی چھت پر لیجا کر رپورٹ واپس لینے کا کہتے ہیں،نصرت رپورٹ واپس لینے سے انکار کر دیتی ہے۔
شاگرد مٹی مٹی کا تیل اسکے جسم پہ چھڑک کر دھمکاتے ہیں اگر بات نہ مانی تو آگ لگا دیں گے،موت کو سامنے دیکھ کر بھی نصرت نے رپورٹ واپس لینے سے انکار کر دیا۔
نصرت کی دلیری نے پالتو شاگردوں کو آگ بگولا کردیا
مٹی کے تیل میں لتھڑی نصرت جہاں پر ماچس جلا کر پھینک کر اسے زندہ جلادیا گیا۔
نصرت جو عالمہ بننے آئی تھی زندہ جلا دی گئی۔
80% جلی ہوئی نصرت 10 اپریل 2019 کو زندگی کی بازی ہار گئی،لیکن وہ قاتلوں کے نام پولیس کو بتا گئی،اس بہیمانہ قتلِ نے پورے بنگلہ دیش کو سوگوار کردیا۔
عوامی غم وغصہ کے آگے حکومت بےبس ہوگئی،وزیراعظم حسینہ واجد نصرت کے گھر گئیں،یقین دلایا کہ کوئی بھی بچ نہ پائے گا۔
29 مئی2019 کو پولیس نے سراج سمیت 16 افراد پر فرد جرم عائد کی،سزائے موت ک استدعا کی گئی،92 میں سے 87 افراد نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔
بنگلہ دیش کی تاریخ کا تیز ترین مقدمہ چلتا ہے
اکتوبر 2019 میں عدالت مولانا سمیت 16 افراد کو سزائے موت سناتی ہے۔