Nabeel abbas attari

Nabeel abbas attari Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Nabeel abbas attari, National park, Pindi Bhattian.

14/01/2026

🥰الحمدللہ رب العالمین🥰
🌹درسِ نظامی مکمل ہونے پر فیضانِ مدینہ کراچی میں دستار بندی🌹
11 جنوری 2026 بمطابق 21 رجب المرجب 1447ھ بروز اتوار

06/12/2023

خوشی🌟
🎄کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی کوئی خاص تعریف
نہیں ہو پاتی یا تو اس لیے کہ وہ اتنی واضح ہوتی کہ ان کی تعریف کی حاجت نہیں ہوتی یا پھر وہ اتنی مشکل ہوتی ہیں یاان میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ ان کی کوئی خاص تعریف متعین کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے جبکہ خوشی کا تعلق اس پہلی قسم سے ہے لیکن پھر بھی اگر خوشی کے مفہوم کو چند جملوں میں سمیٹا جائے تو خوشی نام ہے ذہنی سکون دلی اطمینان اور چیزوں کے انسان کے مزاج کے موافق ہونا

🪶کیا خوشی کا تعلق حالات کے ساتھ ہے ؟؟🤔

🥹خوشی کا تعلق حالات سے نہیں بلکہ خیالات سے ہے حالات چاہے جیسے بھی ہوں اگر خیالات اچھے ہیں تو سمجھیں انسان خوش ہے ۔🥰

🪶منقول ہے کہ ایک بزرگ اللہ پاک کے نیک بندے کسے کسی پہاڑی علاقے سے گزر رہے تھے کہ اچانک تیز آندھی اور بارش شروع ہوگئی تو اس نیک بندے نے ایک غار میں پناہ لی رات ہو رہی تھی اور سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا تھا اس نیک بندے نے اللہ پاک سے دعا کی کہ یا اللہ سردی سے بچاؤ کا کوئ انتظام فرما تو اچانک ایک بہت بڑا 🐍 سانپ اس کے پیچھے آکر بیٹھ گیا اب جب اس نے پیچھے سانپ کے ساتھ ٹیک لگائی تو اس کو کچھ سکون محسوس ہوا تو اس بندے نے یہ سمجھا کے اللہ پاک نے سردی سے بچنے کا انتظام فرما دیا ہے اب حالات دیکھیں تو خوشی والے نہیں ہیں کیونکہ بظاہر یہ اپنی موت کے ساتھ ٹیک لگا کر رات گزار رہا ہے اور اگر خیال دیکھیں تو یہ ہے کہ اللہ پاک نے انتظام فرمایا ہے تو ان کی خوشی کی وجہ حالات نہیں ان کے اچھا خیال تھا لہذا حالات چاہے جیسے بھی ہوں اگر آپ ❤️ دلی طور پر مطمئن ہیں تو آپ خوش ہیں
ہمارے لوگوں کے خوش نا رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تربیت بس حالات کو ٹھیک کرنے کی دی جاتی ہے ناکہ خیالات کو ٹھیک کرنے کی اس لیے اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنے خیالات کو پاکیزہ کریں ان شاءاللہ دل کو اطمینان حاصل ہوگا اور حقیقی خوشی بھی حاصل ہوگی

نبیل عطاری ✍️✍️

15/11/2023

اگر آپ محبت، ضد اور خواہش کے فرق کو نہیں سمجھتے تو یہ جملے بطور تحفہ رکھ لیں۔
خواہش ۔۔۔۔۔۔ مجھے وہ چاہیے!
ضد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے صرف وہ ہی چاہیے !
محبت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بس اس کی خوشی چاہیے.......!
❣️❣️

15/11/2023

اپنے بچوں میں ہمیشہ تین ثقافتیں پیدا کریں:😊

معافی، محبت اور شکرگزاری♥

کیونکہ ہمارا معاشرہ ان کے ساتھ بہت غیر منصفانہ ہے🖤✍️✍️

05/11/2023

*ترکی صرف ڈراموں میں, ایران صرف دھمکیوں میں, پاکستان صرف ترانوں میں ہی لڑتے رہیں گے*
😭🇯🇴🙏

02/11/2023

لت یا طلب کو کیسے ختم کیا جائے ؟

بہت سے نوجوان عموماً اپنے دوستوں کے دباؤ میں آکر فن اور مزہ کے لیے کسی بھی نشہ کو شروع کرتے ہیں اور پھر نا چاہتے ہوئے بھی وہ نشہ انکی عادت بن جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک نوجوان نے کہا کہ ایک دوست کے کہنے پر نسوار شروع کی تھی۔ اب وہ اس نشے سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن ان سے نہیں چھوٹ رہی۔ وہ دوست محترم خود تو اس لت سے آزاد ہوچکے لیکن یہ نوجوان آج بھی پھنسے ہوئے ہیں اس کے شکنجے میں۔ نشہ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کچھ ہی عرصے میں آپ کا ذہن نشے کو برداشت کرنا (tolerance) سیکھ لیتا ہے، اب آپ کو نشہ میں مزہ نہیں آرہا ہوتا لیکن آپ سے لت چھوٹ بھی نہیں رہی ہوتی۔ (بالکل یہی معاملہ فحش فلموں، خود لذتی وغیرہ اور باقی نشوں کے ساتھ بھی ہے)۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ لت سے جان جلدی چھڑا لیتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو بہت دقت ہوتی ہے؟؟؟

پہلے میں آپ کو ذہن کی فطرت کے متعلق بتاؤں گی اور پھر اس قسم کی لت سے آزاد ہونے کی تکنیک۔ ۔۔۔آپ کے ذہن کی فطرت ہے کہ وہ نئی چیزوں کو آزمانا پسند کرتا ہے، اسے مزہ آتا ہے تسخیر کرنے میں اور خاص کر جہاں پلیژر (لطف) ہو، انعام ہو، ڈوپامین (خوشی کا ہارمون) ہو یہ وہاں پایا جاتا ہے، اس رویہ نے ارتقائی (evolutionary) اعتبار سے بہت فائدہ دیا ہے، لیکن فطرت میں کوئی بھی چیز اکیلے نہیں آتی بلکہ اپنے ساتھ ایک مرکب لے کر آتی ہے جس میں مثبت کے ساتھ منفی بھی ہوتا ہے۔ اگر چہ ذہن کی فطرت نے ہمیں فائدہ دیا لیکن اگر آپ نے اسکو"عقل" (frontal lobe) سے کنٹرول نہیں کیا تو پھر آپ کسی ایسی چیز کو بھی تسخیر کرنے نکل سکتے ہیں جسے تسخیر کرنے کے بعد نارمل حالت میں واپس آنا آپ کی سکت سے باہر ہو، جیسا کہ کوکین، ہیروئن یا کوئی بھی ایسا نشہ جس سے ایسا خطرناک پلیژر ملے کہ اسکا درد پھر آپ سہنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں اور اس لت میں مبتلا ہوجائیں….. کیونکہ پلیژر اور درد دونوں الگ الگ نہیں بلکہ ایک پیکج میں آتے ہیں۔ آپ ایک کو محسوس کرو گے تو دوسرا بھی اپنا جلوہ دکھائے گا۔

ہر انسان کا ذہن مختلف ہوتا ہے ۔ایسا نیوروسائنسدان لیزا فیلڈمن کہتی ہیں۔ کم، درمیانہ اور تیز….. کسی کا ذہن بہت حساس ہوتا ہے، کسی کا کم تو کسی کا بہت مضبوط۔ میں خود بہت حساس ہوں اور یہی وجہ ہے کہ خود کو جانتے ہوئے اور اپنی اوقات میں رہتے ہوئے میں زیادہ پلیژر والی چیزوں سے اجتناب برتتی ہوں۔ ایسے ہی اپنے ذہن کی سکت دیکھیں کہ کتنا مضبوط ہے اور کتنا کنٹرول میں ہے۔ اگر آپ حساس ہیں تو پھر سوچ سمجھ کر نئی چیزیں آزمائیں اور اپنا ماحول اپنے مطابق تشکیل دیں۔ کیونکہ عادت بنانے میں چند دن لیکن اسے ختم کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔اپنی انفرادیت کو معلوم کریں اور پھر اسے قبول کریں۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ ہر قسم کا نشہ کرکے ترک کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور کچھ لوگ زیادہ جدوجہد کرتے ہیں نشہ چھوڑنے میں۔ البتہ اس میں ٹروما کا بھی کردار ہوسکتا ہے۔

ایسی عادتوں کو ختم کرنے میں "ارج سرفنگ" (urge surfing) آپ کی مدد کرسکتی ہے۔ کیسے ؟؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔۔۔

جب بھی آپ کو کوئی شدید طلب محسوس ہو تو آپ نے اس طلب پر سمندر کی لہروں کی طرح سرفنگ کرنی ہے۔ آپ نے کھیلنا ہے اپنی طلب کے ساتھ۔ آپ کو ذہن کی فطرت کا تو علم ہے کہ اسے نئی نئی چیزیں پسند ہیں تو اس بار آپ نے اس کی اسی فطرت کا اس کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ آپ کا ذہن زیادہ دیر کسی بھی چیز کے بارے میں نہیں سوچ سکتا، یہ بور ہوجاتا ہے اور بوریت اس سے برداشت نہیں ہوتی۔ جب بھی یہ طلب اجاگر کرے آپ نے اس طلب کو محسوس کرنا ہے ، اسے برداشت کرنا ہے اور اس کے آگے ہار نہیں ماننی۔ آپ کا ذہن تھوڑی دیر میں بور ہوکر طلب کو بھول جائے گا۔

ذہن زیادہ دیر پریشان نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بور ہوجاتا ہے بالکل کسی سات چھ سالہ بچے کی مانند جب وہ روتا ہے کہ ابا مجھے فلاں کھلونا چاہیے لیکن ابا نہیں لاکر دیتے، بچہ روتا ہے، چلاتا ہے، تنگ کرتا ہے، جذباتی طور پر بلیک میل کرتا ہے، لیکن جب کوئی اس کے رونے پر توجہ نہیں دیتا تو تھک کر چپ ہوجاتا ہے۔ بس ایسا ہی آپ کا ذہن بھی ہے ایک چھ سال کے بچے کی طرح۔ آپ نے اس کی بات نہیں ماننی۔ یہ آپ کو ایسے ایسے مکالمے اور دلائل لا کر دےگا، اس طرح سے آپ کو محسوس کروائے گا کہ جیسے اگر یہ نشہ نہیں کیا تو آپ مر جائیں گے، آپ سے کوئی کام نہیں ہوپائے گا…… لیکن آپ نہیں مریں گے۔ ذہن ایسا کرتا ہے یہ اسکی فطرت ہے۔

یہ ایک بار سے نہیں ہوتا، آپ کا ذہن دوبارہ نشہ کی جانب جاتا ہے، آپ کو طلب محسوس ہوتی ہے، بلکل ویسے جیسے کچھ دیر بعد ابا کو دیکھ کر بچہ دوبارہ رونا شروع کردیتا ہے کہ کھلونا چاہیے۔ لیکن آپ نے دوبارہ سرفنگ کرنی ہے، خیالات کو آنے دینا ہے لیکن ان خیالات/طلب پر عمل ہرگز نہیں کرنا۔

یہ کام مشکل ہے۔ اپنے ذہن کے ساتھ طلب کی لہروں پر سرفنگ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن اگر نشے سے نجات چاہیے تو کرنا پڑے گا۔ پریکٹس ہے، وقت لگے گا اور یوں آپ کی طلب آپ کے کنٹرول میں آنا شروع ہوجائے گی۔

یاد رکھیے کہ ذہن کسی ایک طلب یا بات پر زیادہ دیر ٹکا نہیں رہ سکتا۔ اس لیے اسکی اس فطرت کا فائدہ اٹھائیں اور اسے بور ہونے دیں۔ اسکی تربیت کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنے ذہن کو اور اپنی سکت کو سمجھیں۔ اگر آپ کا دوست کوئی کام بہت آسانی سے کررہا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ بھی کرلیں۔ آپ اس سے مختلف ہیں۔ اس تکنیک کا استعمال آپ کسی بھی عادت کو چھوڑنے میں کرسکتے ہیں۔

(اس ٹاپک پر آپ میرے یوٹیوب چینل پر وڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں)

تحریر: ندا اسحاق

31/10/2023

حیران کن حقائق
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاری ہیں جس میں 12 فیصد مرد، 55 فیصد خواتین، 27 فیصد بچے اور بقایا 6 فیصد سفید پوش مجبور افراد شامل ہیں۔
ان بھکاریوں کا 50 فیصد کراچی، 16 فیصد لاہور، 7 فیصد اسلام آباد اور بقایا دیگر شہروں میں پھیلا ہوا ہے۔
کراچی میں روزانہ اوسط بھیک 2ہزار روپے، لاہور میں 1400 اور اسلام آباد میں 950 روپے ہے۔
پورے ملک میں فی بھکاری اوسط 850 روپے ہے۔
روزانہ بھیک کی مد میں یہ بھکاری 32 ارب روپے لوگوں کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں۔
سالانہ یہ رقم117 کھرب روپے بنتی ہے۔
ڈالر کی اوسط میں یہ رقم 42 ارب ڈالر بنتی ہے۔
اب دوسری طرف آئیے
3 کروڑ 80 لاکھ افراد اگر کام کریں تو فی کس اوسطا" 2 ہزار روپے کی پروڈکٹ بناسکتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ روزانہ 76 ارب روپے یعنی 27 کروڑ ڈالر کی گھریلو صنعت کی پروڈکٹس بناسکتے ہیں اور سالانہ کام کے دنوں کے اعتبار سے 78 ارب ڈالر کی پروڈکٹس تیار کرسکتے ہیں۔
اگر ہم پچاس فیصد ہی ایفیشنسی ریٹ لے لیں تب بھی سالانہ 39 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ متوقع ہے۔
بغیر کسی منافع بخش کام کے بھکاریوں پر ترس کھاکر انکی مدد کرنے سے ہماری جیب سے سالانہ 42 ارب ڈالر نکل جاتے ہیں۔ اس خیرات کا نتیجہ ہمیں سالانہ 21 فیصد مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اور ملکی ترقی کے لئیے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد کی عظیم الشان افرادی قوت کسی کام نہیں آتی۔
جبکہ ان سے کام لینے اور معمولی کام ہی لینے کی صورت میں آمدنی 38 ارب ڈالر متوقع ہے جو چند برسوں میں ہی ہمارے ملک کو مکمل اپنے پاؤں پر نہ صرف کھڑا کرسکتی ہے بلکہ موجودہ بھکاریوں کے لئیے باعزت روزگار بھی مہیا کرسکتی ہے۔
گلی گلی موجود لنگر خانے، ایدھی ، سیلانی اور دیگر تنظیموں کی طرف سے مفت کھانے کی فراہمی صرف ہڈ حرام پیدا کررہی ہے اور ملک کی تباہی میں ان سب کا بھی بھرپور حصہ ہے۔
یہ ادارے ریڈی میڈ گارمنٹس ، ویلڈنگ ڈیزائن، کاشتکاری اور بیشمار زرائع میں اس مین پاور کو استعمال کریں اور ان ملازمین کو اجرت کے ساتھ کھانا بھی فراہم کردیں۔ بنگلہ دیش ماڈل اس کے لئیے ہماری مدد کرسکتا یے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بھیک، مدرسوں کے چندے، مزارات کے چڑھاوے اور غیر مستحق کو دئیے جانے والے صدقات سے اگر کسی کو بھی کوئی فوائد حاصل ہوئے ہوں اور اللہ کے وعدے کے مطابق ایک کا دس فوری ملا ہو تو وہ بیشک اپنا عمل جاری رکھے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اللہ کبھی ان غیر مستحقین کو دئیے جانے کا بدلہ نہیں دیگا کیونکہ سنت کے مطابق آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے پیالہ بیچ کر کلہاڑی خرید کے دی تھی امداد نہیں کی تھی۔
اب اگر عوام اسی مہنگائی میں جینا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کی روٹی ان بھکاریوں کو دیکر مطمئن ہیں تو بیشک اگلے سو سال اور ذلت میں گزارئیے۔
لیکن
اگر آپ چند سالوں میں ہی مضبوط معاشی استحکام اور اپنے بچوں کے لئیے پرسکون زندگی دینا چاہتے ہیں تو آج ہی سے تمام بھکاریوں کو خداحافظ کہہ دیجیے۔ مدرسوں کے چندے اور مفت کھلانے کے تمام عوامل کا بائیکاٹ کردیجیے۔ اولا" تو اس کے خلاف بیشمار فتاوی ملینگے، مزارات والے آپکو گستاخ و منکر کہیں گے، سخت عذاب سے بھی ڈرائینگے اور بھی بہت کچھ متوقع ہے لیکن پانچ سال کے بعد آپ اپنے فیصلے پر انشاللہ نادم نہیں ہونگے اور اپنے بچوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر خوشی محسوس کرینگے۔
بنگلہ دیش نے جس دن بھکاری سسٹم کو خداحافظ کہا تھا، اس کے صرف چار سال بعد اسکے پاس 52 ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔ کیا ہم اچھی بات اور مستند کام کی تقلید نہیں کرسکتے۔
اب اپنے بچوں کے لئیے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔

منقول

28/09/2023

‏کل کے شیطان کا مسلئہ وجودِ عمرؓ تھا❤️
آج کے شیطان کا مسلئہ ذِکر عمرؓ ہے🦋

*آج یوم آزادی کے موقع پر خود کو آزاد کریں ہر اس بری عادت سے جو آپ کے اللَّه کو نا پسند ہے آزاد کریں خود کو شیطان کے جھال...
14/08/2023

*آج یوم آزادی کے موقع پر خود کو آزاد کریں ہر اس بری عادت سے جو آپ کے اللَّه کو نا پسند ہے آزاد کریں خود کو شیطان کے جھال سے آزاد کریں خود کو گناہوں کے دلدل سے آزاد کریں خود کو ہر بے حیائ سے اور پھر دعا کریں اپنے وطن کے بہتر مستقبل کے لیے کیوں کہ خود کو بدلے بغیر وطن کے لیے دعائیں کرنا بے کار ہے کیونکہ ہمارا ملک ہم سے ہے💚*

بے حِساب حسرتیں نہ پالیئے ♠️جو مِلا ھے اُسے سنبھالیئے.🔥
06/02/2023

بے حِساب حسرتیں نہ پالیئے ♠️

جو مِلا ھے اُسے سنبھالیئے.🔥

13/02/2022

Address

Pindi Bhattian

Telephone

+923095516042

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nabeel abbas attari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category