Fayyaz Services Point

Fayyaz Services Point courier services, photo copy, easy load, subsidy Disbursement

احساس راشن پروگرام  ایک ہفتہ تاخیر سے شروع ہو گا
22/11/2022

احساس راشن پروگرام ایک ہفتہ تاخیر سے شروع ہو گا

14/08/2022
قابل بنیں انگریزنہیںآپ ترکی اور ترک لوگوں کی ” جہالت ” کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ آپ کو شاید ہی پورے ترکی میں کوئی ای...
12/08/2022

قابل بنیں انگریزنہیں

آپ ترکی اور ترک لوگوں کی ” جہالت ” کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ آپ کو شاید ہی پورے ترکی میں کوئی ایک ترک ڈاکٹر بھی ایسا نظر آئے جو انگریزی لفظ ” پین ” (درد) کے معنی جانتا ہو ۔ اگر آپ ترکی نہیں بول سکتے یا آپ کے ساتھ کوئی ترجمان نہیں ہے تو پھر آپکا ترکی گھومنا خاصا مشکل ہے ۔ آپ چین کی مثال لے لیں ماؤزے تنگ کی ” جہالت ” کا یہ حال تھا کہ انھوں نے ساری زندگی کبھی انگریزی نہیں بولی ۔ جب کبھی کوئی لطیفہ ان کو انگریزی میں سنایا جاتا ان کی آنکھوں کی پتلیوں تک میں کوئی جنبش نہیں ہوتی تھی اور جب کوئی وہی لطیفہ چینی زبان میں سناتا تو قہقہہ لگا کر ہنستے تھے ۔ وہ ہمیشہ بولتے تھے کہ چینی قوم گونگی نہیں ہے ۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو لے لیں ، ان کی ماں نے ساری زندگی گھروں میں کام کیا اور باپ نے اسٹیشن پر چائے بیچی وہ حالات کی وجہ سے گھر سے بھاگے دن رات محنت کے بعد گجرات کے وزیر اعلی بنے اور بعد ازاں ہندوستان جیسے عظیم الشان ملک کے وزیر اعظم بن گئے ۔ آپ نریندر مودی کی کوئی تقریر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو وہ ہندی بولتے نظر آئینگے ۔

ہندوستان کی خود اعتمادی کا یہ حال ہے کہ ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج تک اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہندی میں بات کرتی ہیں ۔ صدر ترکی طیب اردوگان پاکستان آئے سینٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے ترکی زبان میں خطاب کیا ، پاکستانی قوم ، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کو یہ بھی بتا گئے کہ کسی قوم کی ترقی کی علامت اس کی غیرت ہوتی ہے انگریزی نہیں ۔ اور دوسری طرف ہمارے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب بارک اوباما کے سامنے ہاتھ میں پرچی لئیے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ کبھی آپ یوسف رضا گیلانی کی انگریزی سن لیں آپ کو انگریزی پر ترس آنا شروع ہوجائیگا ۔ ہم مرعوبیت کے اس درجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر ہمارا کوئی کرکٹر پاکستان سے باہر اردو میں بات کرلے تو ہم منہ چھپا چھپا کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کی پرفارمنس کو کرکٹ سے ناپنے کے بجائے انگریزی سے ناپتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس خوبصورتی کا معیار گورا رنگ اور قابلیت کا معیار انگریزی ہے ۔ ہمارے ملک میں بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کا واحد مقصد انگریزی ہوتا ہے ۔

کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں کہ امریکا اور برطانیہ میں ماں باپ بچوں کو کیوں اسکول میں داخل کرواتے ہونگے ؟ ہماری ذہنی غلامی کا تماشہ دیکھیں ہم نےاسکولز تک کو انگریزی اور اردو میڈیم بنایا ہے ۔ قوم کا غریب اور زوال پذیر طبقہ اردو پڑھے گا جبکہ امیر اور پیسے والا طبقہ انگریزی۔ دنیا کی معلوم دس ہزار سالہ تاریخ میں کسی قوم نے کسی غیر کی زبان میں ترقی نہیں کی ۔ تخلیق ، تحقیق اور جستجو کا تعلق انگریزی سے نہیں ہوتا اور اگر آپ ان چیزوں کا تعلق بھی انگریزی سے جوڑ دینگے تو پھر وہی ہوگا جو اس ملک کے ساتھ ہورہا ہے ۔ آپ کو پورے ملک میں سوائے دو چار کے کوئی قابل ذکر سائنسدان ، کوئی تحقیق کرنے والا ڈاکٹر اور کچھ نیا ایجاد کرنے والا انجینئیر نہیں ملے گا ۔اس قوم کا نوجوان بھلا کیسے کچھ سوچ سکتا ہے جس کا واحد مقصد اپنی انگریزی درست کر کے اعلی نوکری حاصل کرنا ہو ۔

جو لکیر کا فقیر بن چکا ہو ۔ بے سوچے سمجھے بس رٹے لگائے جائے اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ہمارے بچوں کو انگریزی آتی نہیں ہے اور اردو مشکل لگتی ہے ۔ آپ کسی بھی نوجوان کو راستے میں روکیں اور اس کو انگریزی میں ایک درخواست لکھنے کا بول دیں وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے گا ۔ اصل بیڑہ غرق اس موبائل فون کی رومن اردو نے کیا ہے ۔ ہماری نئی نسل تو اردو کے الفاظ تک لکھنا بھول چکی ہے ۔ حتی کے موبائل کمپنیز کے آفیشل میسجز تک رومن اردو میں موصول ہوتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا تک نہیں ہے ۔ بھائی ! دنیا میں اور کس زبان کے ساتھ یہ ظلم عظیم ہورہا ہے کہ اس کے فونٹس کی موجودگی میں آپ کو ” رومن ” لکھنے کی ضرورت پڑگئی ہے ؟ کسی میں دم نہیں ہے کہ واٹس ایپ یا میسج انگریزی مٰیں کرے ساری قوم اردو میں کرتی ہے لیکن ” رومن ” اردو میں ۔ پلے اسٹور سے ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اس پر اردو لکھنے میں کونسی جان جاتی ہے میں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ ہمیں لکھنی بھی اردو ہے اور اردو میں بھی نہیں لکھنی ہے ۔

مجھے شا ذ و نادر ہی کوئی والدین ایسے ملے ہوں کہ جنھوں نے اپنے بچے کہ اخلاق ، کردار ، گفتگو اور تمیز تہذیب پر بات نہ کی ہو سارا وقت اس کی اخلاقی حالت کو روتے رہے اور آخر میں مدعا یہ ٹہرا کہ آپ کسی طرح اس کی انگریزی ٹھیک کروائیں ۔ میں نے اس ملک میں اور اس دنیا میں قابلیت کا کوئی نمونہ انگریزی کی وجہ سے نہیں دیکھا۔ چین ، جاپان ، ترکی ، جرمنی ، فرانس اور اب تیزی سے ابھرتا ہوا بھارت ان میں سے کونسے ملک نے انگریزی کی وجہ سے کامیابی اور ترقی کی منازل طے کی ہیں ؟ پاکستان کے سب سے بڑے موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ ، بزنس ٹائیکون ملک ریاض اور لکھاری جاوید چوہدری ان میں سے کس نے انگریزی کی وجہ سے ترقی کی ہے ؟ یا آپ نے کبھی ان کو انگریزی بولتے بھی سنا ؟ اسلئیے خدارا خود بھی قابل بننے کی کوشش کیجئیے اور بچوں کو بھی قابل بنایئیے انگریز نہیں .

احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے کی بجائے 1500روپے دینے کا فیصلہ کیاہے۔چودھری پرویزالٰ...
07/08/2022

احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے کی بجائے 1500روپے دینے کا فیصلہ کیاہے۔چودھری پرویزالٰہی
احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو آٹا،دالیں اورگھی سستے داموں ملے گا۔چودھری پرویزالٰہی
وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کی احساس راشن رعایت پروگرام پر عملدر آمد کیلئے وزارتی سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت
سٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہوں گی
احساس راشن رعایت پروگرام کے حوالے سے ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا جائے گا۔چودھری پرویزالٰہی
احساس راشن رعایت پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے موثر مانیٹرنگ نظام تشکیل دیا جائے گا۔چودھری پرویزالٰہی
وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کااحساس پروگراموں کے لئے احساس ایکٹ تیار کرنے کی ہدایت
احساس ایکٹ کو اسمبلی سے منظورکرائیں گے۔چودھری پرویزالٰہی
وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کی سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکرنے کی ہدایت
سماجی تحفظ کے پروگراموں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اورتمام پروگراموں کو یکجاکیاجائے۔چودھری پرویزالٰہی
احساس ہی انسانیت ہے-چودھری پرویزالٰہی
سماجی اورمعاشرتی تحفظ سے محروم افراد فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے۔چودھری پرویزالٰہی
احساس راشن رعایت پروگرام غربت کے خاتمے اورفلاحی ریاست کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے۔چودھری پرویزالٰہی
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس راشن رعایت پروگرام،احساس کارڈاوراحساس تحفظ پروگرام کے خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی
صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،ڈاکٹر ثانیہ نشتر،مشیرعمر سرفراز چیمہ،رکن قومی اسمبلی مونس الہی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر،چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات،ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122اورمتعلقہ حکام کی اجلاس میں شرکت

دسمبر 1996 کی ایک رات PIA  کی فلائٹ امریکہ سے اسلام آباد ائیرپورٹ پہ لینڈ کرتی ہے اس میں سے دو پاکستانی نژاد امریکی خالد...
30/07/2022

دسمبر 1996 کی ایک رات PIA کی فلائٹ امریکہ سے اسلام آباد ائیرپورٹ پہ لینڈ کرتی ہے اس میں سے دو پاکستانی نژاد امریکی خالد رفیق اور نجم افتخار اترتے ہیں۔ یہ نجم افتخار وہی ہیں جو بعد میں امریکہ میں الیکشن لڑتے ہیں اور پاکستان کے حق میں لابنگ کرتے ہیں۔ یہ دونوں دوست بھی تھے اور ان کا مشترکہ دوست بل گیٹس اس وقت کمپیوٹر کی دنیا کا بادشاہ بن چکا تھا۔ ان دونوں کے پاس پاکستان کی تقدیر بدلنے کی کنجی تھی۔ بل گیٹس پاکستان میں مائیکروسافٹ کا سیٹ اپ بنانا چاہتا تھا۔ اس نے ان دونوں دوستوں کو کہا کہ پاکستان میں وزیر اعظم سے میری ملاقات کا بندوبست کریں۔ دونوں دوست پاکستان کا بہتر مستقبل آنکھوں میں سجائے اسلام آباد اترتے ہیں اور اگلے 10 دن باوجود کوشش کہ کہ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات ہو جائے تاکہ بل گیٹس کی آفر کے بارے بتا سکیں اور ٹائم لے سکیں۔ ان دس دنوں میں ملاقات تو دور کی بات فون پہ بات بھی نا ہو سکی۔ مگر ان کوششوں کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ ان کو وزیر پلاننگ احسن اقبال سے ملاقات کا 5 منٹ ٹائم مل گیا۔
اسی کو غنیمت جانتے ہوئے کہ جب وزیر صاحب کو بل گیٹس کی آفر کا پتہ چلے گا وہ اسی وقت وزیر اعظم سے ملاقات کروا دیں گے۔ خیر ملاقات ہوئی اور اس میں دونوں دوستوں نے بڑے جوش سے بل گیٹس کی آفر کا بتایا کہ بل گیٹس پاکستان میں آئ ٹی- پارک بنانا چاہتے ہیں۔ احسن اقبال نے بد دلی سے پوچھا کہ پارک میں کمپیوٹر والے جھولے ہوں گے؟
دونوں دوست شل ہو کر رہ گئے اور تفصیل بتائ کہ یہ کمپیوٹر کے فیلڈ میں پاکستان میں انقلاب آ جائے گا۔ مگر وزیر صاحب ابھی تک بات سمجھ نہیں رہے تھے۔ اور کہا کہ یوں کہیں نا ک بل گیٹس ہم سے کمانا چاہتا ہے بزنس کرنا چاہتا ہے۔ اب نجم صاحب نے تھوڑا غصے میں ۔ جناب آپ کیسی بات کر رہے ہیں اس قدم سے پاکستان میں انقلاب آ جائے گا اور اگلے دس سال میں ہم خود مختار ہو جائیں گے۔ اب وزیر احسن اقبال نے آخری فقرہ کہہ کر ملاقات ختم کر دی کہ ' اسے کہو کہ مجھے ایک درخواست لکھ کہ بھیجے میں غور کروں گا کہ اجازت دینی ہے یا نہیں ۔۔
جب دونوں دوست احسن اقبال کہ کمرے سے نکلے تو خالد رفیق صاحب بتاتے ہیں کہ نجم صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ زور زور سے سر دائیں بائیں ہلا رہے تھے۔
واپسی پہ ان کہ چہروں کو دیکھ کر بل گیٹس سمجھ گیا۔
اس نے اپنے انڈین دوستوں کو کہا تو اگلے 15 دنوں بعد بل گیٹس دہلی کے ہوائی اڈے پہ سرکاری مہمان کے پروٹوکول کے ساتھ اترا اور اس کا استقبال اس وقت کے انڈین وزیر اعظم نے خود کیا حالانکہ وزیراعظم کبھی ائیرپورٹ نہیں جاتا۔
انڈین گورنمنٹ اور بل گیٹس کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوتا ہے۔ جس میں مائیکروسافٹ نے ایک سافٹ وئیر انجینئرگ کا شہر بسانا تھا جس کے لئیے جے-پور کو چنا گیا۔ اس معاہدے کی ایک اور خاص شق یہ تھی کہ 2004 سے ہر سال 2000 (جی دو ہزار) آئی ٹی انجینئرز کو امریکہ کا ویزہ ملے گا اور 500 انجینئرز کو گرین کارڈ۔ آج آپ کو گوگل ٹویٹر فیس بک کے CEOs صرف انڈین ہی ملیں گے۔ اور اس میں انڈینز کا کوئی کمال نہیں۔ بلکہ صرف ایک جی صرف ایک شخص کی نااہلی، رعونت ، بے حسی اور مستقبل بینی کی کمی نے اس نادر موقع کو ضائع کیا ۔ اگر احسن اقبال اس دن بل گیٹس کو آنے کی دعوت دے دیتے تو آج پاکستان ان اندھیروں سے نکل چکا ہوتا۔ ہمارے بچے یوں مارے مارے نہ پھر رہے ہوتے۔
نجم صاحب تو فوت ہو گئے ہیں مگر خالد صاحب آج بھی اکثر دوستوں میں بیٹھ کر آہیں بھرتے ہیں۔
مکتوب۔ جمشید عباسی ۔ واشنگٹن امریکہ
بشکریہ ثریا بابر صاحبہ
شاہد سلیم بزدار کی وال سے کاپی کیا گیا۔

fast and reliable courier service at cheap rates
14/07/2022

fast and reliable courier service at cheap rates

Address

Mohalla Ghareb Abad Piplan Near Pepsi Agency
Piplan
42000

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 11:30
14:30 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00
Sunday 08:00 - 17:00

Telephone

+923074849808

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fayyaz Services Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Fayyaz Services Point:

Share

Category