01/05/2020
⭕ *" یکم مئی، یومِ مزدُور "* ⭕
*ہاتھ پاؤں یہ بتاتے ہیں کہ مزدُور ہُوں میں*
*اور ملبُوس بھی کہتا ہے کہ مجبُور ہُوں میں*
۔
*فخر کرتا ہُوں کہ کھاتا ہُوں فقط رزقِ حلال*
*اپنے اس وصفِ قلندر پہ تو مغرُور ہُوں میں*
۔
*سال تو سارا ہی گُمنامی میں کَٹ جاتا ہے*
*بس "یکم مئی" کو لگتا ہے کہ مشہُور ہُوں میں*
*بات سُنتا نہیں میری کوئی ایوانوں میں*
*سب کے "منشُور" میں گو "صاحبِ منشُور" ہُوں میں*
*اہنے بچوں کو بچا سکتا نہیں فاقوں سے*
*اُنکو تعلیم دِلانے سے بھی معذُور ہُوں میں*
*پیٹ بھر دیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے*
*اُس کی اِس طفل تسلی پہ تو رنجُور ہُوں میں*
۔
*یومِ مزدور ہے، چُھٹی ہے، مرا فاقہ ہے*
*پھر بھی یہ دن تو مناؤں گا کہ مزدُور ہُوں میں*
*مُجھ کو پردیس لئے پھرتی ہے روزی واصفؔ*
*اپنے بچوں سے بہت دُور، بہت دُور ہُوں میں*