26/08/2026
تراتانی کے پہاڑوں سے اٹھنے والی آواز آج بھی زندہ ہے، نواب اکبر بگٹی کی شہادت بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ بی ایس او
کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے نواب اکبر خان بگٹی کی 20ویں برسی کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 اگست 2006 کو تراتانی کے پہاڑوں میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت بلوچستان کی تاریخ کا ایک سیاہ اور المناک باب ہے۔ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی شہادت، اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ان کے جسدِ خاکی سے متعلق سوالات آج بھی بلوچستان کے عوام کے سامنے جواب طلب ہیں۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ نواب اکبر خان بگٹی نے اپنی سیاسی زندگی میں بلوچستان کے عوام کے سیاسی، جمہوری، آئینی اور معاشی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان کی شہادت نے بلوچستان کے سیاسی بحران کو مزید گہرا کیا اور آج بھی ان کا نام بلوچستان کے سیاسی شعور اور تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کو طاقت کے ذریعے خاموش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے عوام کے حقوق کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے دو دہائیاں بعد بھی بلوچستان کے بنیادی سیاسی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں، جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ طاقت کسی سیاسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔
بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے حوالے سے آج بھی شفاف تحقیقات، حقائق سامنے لانے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ان کے جسدِ خاکی اور آخری رسومات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا بھی جواب دیا جانا چاہیے تاکہ تاریخ کے اس باب پر موجود ابہام ختم ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے وسائل پر اختیار، سیاسی نمائندگی، انصاف، انسانی حقوق اور باوقار زندگی کا حق حاصل ہے۔ ریاست کو طاقت کے بجائے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور بامعنی سیاسی مکالمے کا آغاز کرنا ہوگا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بی ایس او نواب اکبر خان بگٹی کو ان کی 20ویں برسی پر سلامِ عقیدت اور خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ان کی جدوجہد اور شہادت بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کے نام سے وابستہ سوالات کو محض خاموشی کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
تراتانی کے پہاڑ آج بھی بلوچستان کی تاریخ کے گواہ ہیں، بی ایس او مطالبہ کرتی ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت سے متعلق تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور ان کے جسدِ خاکی و آخری رسومات سے متعلق موجود سوالات کا بھی واضح جواب دیا جائے۔