BSO BMC UNIT

BSO BMC UNIT BSO (BMC Unit) is a student political organization. Our motive is to raise voice for oppressed.

21/10/2025
بولان میڈیکل کالج انتظامیہ کی جانب سے جاری حالیہ نوٹس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس میں تیسرے سال کے ایم بی بی ایس ...
10/10/2025

بولان میڈیکل کالج انتظامیہ کی جانب سے جاری حالیہ نوٹس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس میں تیسرے سال کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس طلبہ سے 7,000 روپے بطور پی ایم ڈی سی رجسٹریشن فیس دوبارہ طلب کی گئی ہے۔

یہ مطالبہ غیر منطقی اور سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ طلبہ پہلے ہی اپنی رجسٹریشن فیس جمع کرا چکے ہیں اور ان کی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن باقاعدہ طور پر پی ایم ڈی سی پورٹل پر مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ فیس طلب کرنا ناانصافی، شفافیت کی کمی اور اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔

یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد سرکاری میڈیکل کالجز کے غریب طلبہ پر بھاری مالی بوجھ ڈالا جاتا ہے، جو کہ ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ بولان میڈیکل کالج جیسے ادارے سے اس قسم کے اقدامات نہ صرف طلبہ کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ان کی تعلیمی سفر میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. انتظامیہ فوری طور پر یہ غیر منصفانہ نوٹس واپس لے۔
2. پہلے سے جمع شدہ فیسوں اور رجسٹریشن ریکارڈ کے حوالے سے مکمل وضاحت اور آڈٹ رپورٹ پیش کی جائے۔
3. متعلقہ حکام کو اس غلط فیصلے پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

اگر یہ ناانصافیاں ختم نہ کی گئیں تو طلبہ احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
جلد ہی ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی، اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پرامن احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

06/10/2025

Baloch Students Organisation (Balochistan University Unit) Shaal Zone, organized a weekly study circle on the topic

"The Palestinian Movement and What We Can Learn from It."

A large number of students participated, and the lecture was delivered by Zarak Bugti, Member of the Central Committee BSO.

05/10/2025

استاد کا عدل، شاگرد کی امید — بولان میڈیکل کالج کے نام ایک تحریر

یومِ اساتذہ مبارک

۵ اکتوبر

تمام محترم اساتذہ کرام کو یومِ اساتذہ دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو۔
استاد کا درجہ زندگی میں والد کے برابر ہوتا ہے۔ جیسے والد اپنی اولاد کی کامیابی کے لیے رات دن محنت کرتا ہے، ویسے ہی ایک استاد بھی اپنے شاگرد کو کامیاب دیکھنے کی تمنا رکھتا ہے۔
استاد وہ چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے۔ 🕯️

استاد کا مقام

استاد محض کتاب پڑھانے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کردار سازی کرنے والا، رہنمائی کرنے والا اور انسان بنانے والا ہوتا ہے۔
بولان میڈیکل کالج جیسے علمی ادارے میں استاد کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں شاگرد صرف علم نہیں حاصل کرتا بلکہ ایک ایسے پیشے کی تیاری کرتا ہے جہاں انسانیت کی خدمت اس کی بنیاد ہے۔
ایسے میں استاد کا نرم رویّہ، عدل و انصاف، اور اخلاقی تربیت طلبہ کی زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

بولان میڈیکل کالج کے تناظر میں

ہمارے کالج میں کئی ایسے عظیم اساتذہ موجود ہیں جو اپنے علم، محنت، خلوص اور شفقت کے باعث طلبہ کے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہیں۔
ایسے اساتذہ کا احترام نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ ان کی بدولت ہی بولان میڈیکل کالج کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔
ان کے لیے یہ دن عقیدت، محبت اور شکریے کا دن ہے۔

تلخ حقیقتیں اور اصلاح کی ضرورت

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ اساتذہ ایسے رویّے اختیار کرتے ہیں جو استاد کے شایانِ شان نہیں۔
بعض طلبہ کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے گویا وہ دشمن ہوں، شاگرد نہیں۔
زیرِ امتحان طلبہ کو زبانی امتحان (وائیوا) میں بلاوجہ فیل کرنا، صرف وقت گزاری یا ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر، انتہائی افسوسناک ہے۔
مزید برآں، طلبہ کے لباس یا حالتِ معاش پر طنز کرنا، یا محض ظاہری صورت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا، تعلیم کے وقار کے خلاف ہے۔

پچھلے کچھ عرصے میں اول، دوم، سوم اور خصوصاً آخری سال کے طلبہ کو غیر معمولی طور پر فیل کیا گیا، جو کہ فکرمندی کا باعث ہے۔
امتحانی پرچے جان بوجھ کر مشکل بنانا، یا طلبہ کا مذاق اڑانا، نہ صرف علم بلکہ استاد کے رتبے کو بھی مجروح کرتا ہے۔

بہتری کے لیے تجاویز

تنقید کا مقصد بغاوت نہیں، اصلاح ہے۔ استاد اگر اپنی عظمت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو چند باتوں پر غور ضروری ہے:

1 انصاف اور دیانت داری کو امتحان کا بنیادی اصول بنایا جائے۔
2 زبانی امتحان میں طلبہ کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر پرکھا جائے۔
3 غریب یا سادہ طلبہ کو کم تر نہ سمجھا جائے، کیونکہ قابلیت ظاہری کپڑوں سے نہیں، علم سے پہچانی جاتی ہے۔
4 استاد اپنے طلبہ کے لیے رہنماء اور مددگار بنے، سزا دینے والا نہیں۔
5 کالج انتظامیہ کو چاہیے کہ استاد اور شاگرد کے درمیان عدل و احترام پر مبنی نظام کو مضبوط کرے۔
6 اساتذہ کے لیے تربیتی نشستیں رکھی جائیں جن میں اخلاقی اور تدریسی آداب پر بات ہو۔
7 کسی بھی طالبِ علم کے ساتھ زیادتی کی شکایت کو غیر جانب دار کمیٹی کے ذریعے سنا جائے۔

استاد کی خود احتسابی

حقیقی استاد وہ ہے جو اپنے علم کے ساتھ اپنے کردار پر بھی نگاہ رکھے۔
استاد کو چاہیے کہ وہ خود کو اس مقام پر رکھے جہاں طلبہ اس سے سیکھنے کے ساتھ اس پر اعتماد بھی کر سکیں۔
اگر استاد انصاف، شفقت، اور رحم کا پیکر بن جائے تو شاگرد اس کی رہنمائی میں نہ صرف کامیاب ڑاکٹر بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنتا ہے۔

شاگردوں کا پیغام

ہم اپنے اساتذہ سے محبت کرتے ہیں، ان کی عزت کرتے ہیں، اور ان کی رہنمائی کے شکر گزار ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ استاد ہمیں اپنے بچوں کی طرح سمجھیں، ہماری کمزوریوں پر ہمیں ڈانٹیں نہیں بلکہ سنواریں۔
علم کا سفر تبھی کامیاب ہوتا ہے جب استاد اور شاگرد دونوں ایک دوسرے کے احترام کے رشتے کو مضبوط بنائیں۔

آخر میں

تمام مخلص، ایماندار، اور علم و اخلاق سے مزین اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے یومِ اساتذہ مبارک۔
آئیے ہم سب مل کر ایسا تعلیمی ماحول قائم کریں جہاں استاد کا رتبہ بھی بلند ہو اور شاگرد کا وقار بھی محفوظ رہے۔

25/09/2025

تنظیم چیئرمین زبیر بلوچ کے بیہیمانہ قتل پر رنجیدہ ہے: بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بی ایس او پجار کے سابق چیئرمین زبیر بلوچ کے بہیمانہ قتل پر گہرے رنج و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ بلوچ طلبا تحریک اور قومی جدوجہد کو کچلنے کی منظم سازش ہے۔ زبیر بلوچ کو نشانہ بنا کر دراصل بلوچ طلبا سیاست کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں تحریکوں کو مٹانے کے بجائے مزید طاقتور بنا دیتی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ زبیر بلوچ نے اپنی زندگی تعلیم، انصاف، قومی شعور اور طلبا کے حقوق کے لیے وقف کی۔ وہ ایک جری اور اصولی رہنما تھے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں نوجوانوں کو امید اور رہنمائی دی۔ ان کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قوم کے باشعور بیٹوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے گھناؤنی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔

بی ایس او اس بہیمانہ قتل کی شدید ترین مذمت کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ زبیر بلوچ جیسے رہنما جسمانی طور پر مارے جا سکتے ہیں مگر ان کے نظریات اور قربانیاں کبھی ختم نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا خون بلوچ طلبا کے لیے عزم اور مزاحمت کا نیا عہد ہے۔تنظیم شہید زبیر بلوچ کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ اس دوران تمام تنظیمی سرگرمیاں محدود رکھی جائیں گی اور مختلف تقریبات کے ذریعے شہید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ شہید زبیر بلوچ کی قربانی اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچ طلبا اپنے قومی حق، اپنی شناخت اور اپنی سرزمین کے تحفظ کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے خون کا ایک ایک قطرہ بلوچ قوم کے اجتماعی عزم کو اور زیادہ مضبوط کرے گا۔

07/09/2025

Press Release

In strong protest against the tragic blast at Shahewani Stadium, a complete shutter-down and wheel-jam strike will be observed across Balochistan on September 8.

As part of this province-wide protest, all public and private educational institutions will remain closed. We respectfully urge the heads and administrators of all institutions to honor this call and ensure that schools, colleges, and universities remain closed on the announced day.

This collective action is a demonstration of solidarity with the victims and a firm message against such acts of violence.

Students’ Alliance, Balochistan

(BSO,BSO Pajjar,PSO,PSF,ISF)

بی ایس او شال زون کے زیرِ اہتمام اجلاس میں سردار عطاءاللہ مینگل کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور بی ایم سی یونٹ کی نئی آرگ...
02/09/2025

بی ایس او شال زون کے زیرِ اہتمام اجلاس میں سردار عطاءاللہ مینگل کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور بی ایم سی یونٹ کی نئی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی، بی ایس او شال زون۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کوئٹہ زون کے زیرِ اہتمام تنظیمی سرکل کا انعقاد شال زون کے نگرانی میں اور زیرِ صدارت بی ایم سی یونٹ سیکرٹری منعقد ہوا۔ اجلاس میں بڑی تعداد میں اراکین اور طلباء شریک ہوئے۔ اس موقع پر شرکاء نے بزرگ بلوچ رہنما سردار عطاءاللہ خان مینگل کی سیاسی جدوجہد، ان کے قومی کردار اورشعوری و تعلیمی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اجلاس میں مقررین نے کہا کہ سردار عطاءاللہ خان مینگل کی جدوجہد بلوچ قومی تحریک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کی محکوم اقوام کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔ ان کی سیاسی بصیرت اور عوامی جدوجہد سے نئی نسل کو رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ شرکاء نے سردار عطاءاللہ خان مینگل کی لازوال قربانیوں اور قومی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بی ایس او ان کے مشن اور جدوجہد کو مزید آگے بڑھائے گی اور طلباء کو شعوری و فکری بنیادوں پر منظم کرتی رہے گی۔

اجلاس میں بی ایس او بی ایم سی یونٹ کے اراکین بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ موجودہ یونٹ باڈی کی مدت مکمل ہو چکی ہے، لہٰذا یونٹ باڈی کو تحلیل کر کے ایک نئی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اتفاقِ رائے سے آرگنائزر، ڈپٹی آرگنائزر، آرگنائزنگ کمیٹی ممبر اور انفارمیشن سیکرٹری منتخب کیے گئے۔ یہ کمیٹی جلد از جلد نئی ممبر سازی، تنظیم سازی اور بعد ازاں یونٹ باڈی کے انتخابات منعقد کرے گی۔

مزید برآں اجلاس میں یہ بھی زور دیا گیا کہ موجودہ صدی کے تقاضوں کے مطابق بی ایس او کے ممبران کو علمی و فکری رجحانات کو تعلیمی اداروں میں فروغ دینا ہوگا تاکہ طلباء مستقبل کے سیاسی، سماجی اور سائنسی چیلنجز کا مقابلہ شعوری اور سائنسی بنیادوں پر کر سکیں۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم، تحقیق اور جدید سائنسی سوچ ہی وہ ہتھیار ہیں جن کے ذریعے محکوم اقوام اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہیں۔

اجلاس میں سابق یونٹ سیکرٹری مجیب مینگل سمیت بڑی تعداد میں طلباء اور ممبران شریک تھے، جنہوں نے تنظیمی فعالیت کو مزید بہتر بنانے کے لئے بی ایس او کی کاوشوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

31/08/2025

بی ایس او کا راہشون سردار عطاءاللہ مینگل کے برسی کے مناسبت سے 2 ستمبر کو جلسہ و بی ایس او کے زیر اہتمام سیمینار کے تیاریوں کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس منعقد

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون میں مشاورتی اجلاس بی ایس او جامعہ بلوچستان یونٹ کے سرکل پر منعقد ہوا جس میں مہمان خاص بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ صمند بلوچ جبکہ اعزازی مہمانان مرکزی جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر بلوچ، سی سی کے اراکین عاطف رودینی بلوچ، بیبرگ واحد بلوچ اور محمد ایوب بلوچ تھے. اجلاس میں شال زون کے آرگنائزر کبیر بلوچ سمیت شال زون کے زونل عہدیداران سمیت تمام یونٹس کے عہدیداران و سینیئر اراکین نے شرکت کی

اجلاس کی شروعات شہدائے بلوچستان کے یاد میں 2 منٹ کی خاموشی سے کی گئی، اجلاس کی کاروائی شاہد بلوچ نے چلائی

اجلاس میں بلوچ نیشنلزم کے علمبردار قومی راہشون سردار عطاءاللہ خان مینگل کے سیاسی فکری جدوجھد اور لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت و خراجِ تحسین پیش کی گئی. مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2 ستمبر 2025 کو شال میں منعقدہ جلسہ عام بلوچ قوم کے عہد کا دن ہیں جس میں ہمیں سرزمین بلوچستان کے خاطر راہشون سردار عطاء اللہ کے دکھائیں ہوئے راہ پر چل کر جدوجھد کو قوت بخشنا ہوگا. 2 ستمبر کا جلسہ عام کوئی عام جلسہ نہیں بلکہ راہشون سردار عطاء اللہ مینگل کے فکر و فلسفے کی پرچار و عہد کا دن ہیں جس میں بلوچ و دیگر مظلوم اقوام بھرپور شرکت کرکے کامیاب بنائیں

آخر میں قومی راہشون سردار عطاءاللہ خان مینگل کے چھوتی برسی کے مناسبت سے بی این پی کے زیر اہتمام 2 ستمبر 2025 کو شال میں منعقد جلسہ عام اور بی ایس او کے زیر اہتمام سیمینار کے تیاریوں کے سلسلے میں مختلف کمیٹیاں جس میں نظم و ضبظ، انتظامی و دیگر کمیٹیاں تشکیل دی گئی

بولان میڈیکل کالج میں سات ماہ کی بندش، اربوں کی کرپشن اور طلبہ دشمن انتظامیہ بے نقاب۔بولان میڈیکل کالج، جو کہ بلوچستان ک...
30/08/2025

بولان میڈیکل کالج میں سات ماہ کی بندش، اربوں کی کرپشن اور طلبہ دشمن انتظامیہ بے نقاب۔

بولان میڈیکل کالج، جو کہ بلوچستان کا سب سے بڑا میڈیکل ادارہ ہے اور جہاں سے مستقبل کے ڈاکٹر تیار ہونے تھے، آج بدعنوانی کی نذر ہو چکا ہے۔ سات مہینے تک ہاسٹلز کو بند کر کے طلبہ کو ذلیل و خوار کیا گیا، ان کے تعلیمی وقت کو ضائع کیا گیا اور اس بندش کو رنگ و روغن اور جھوٹے دعووں میں چھپایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظامیہ نے ناکامی کو کامیابی دکھانے کے لیے اربوں روپے کا کھیل رچایا، کاغذوں میں ترقی کے دعوے کیے لیکن زمینی حقیقت بالکل برعکس ہے۔

ہاسٹلز کی حالت آج بھی خستہ حال ہے۔ کمروں کے، بیڈز، کرسیاں اور میزیں گھٹیا معیار کی لگائی گئیں جو تین مہینے بھی برداشت نہ کر سکیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں۔ پرانے معیاری پنکھے نکال کر نقلی اور سستے پنکھے لگائے گئے جو روز جلتے ہیں اور طلبہ کو گرمی میں اذیت دی جاتی ہے۔ بجلی کے نظام میں اتنی غیر معیاری وائرنگ کی گئی کہ کئی کمروں میں شارٹ سرکٹ ہوا، آگ لگی، قیمتی سامان، کتابیں اور لیپ ٹاپس جل گئے، لیکن اس نقصان کا کوئی ازالہ نہیں کیا گیا۔

کالج کی لیبارٹریز کا حال بھی کسی تباہ شدہ عمارت سے کم نہیں۔ بایو کیمسٹری لیب میں کیمیکلز سالوں سے ایکسپائر ہو چکے ہیں، فزیالوجی لیب میں عملی تعلیم کا کوئی ذریعہ نہیں، اور طلبہ صرف خانہ پوری کر کے فارغ کر دیے جاتے ہیں۔ یہ کیسا میڈیکل کالج ہے جہاں پریکٹیکل تعلیم کا جنازہ نکال دیا گیا ہو؟ ہا سپٹل لائبریری کے لیے بجٹ ہڑپ کر لیا گیا لیکن وہاں آج تک روشنی کا ایک بلب تک نہیں لگایا گیا۔ ہسپتال کی لائبراری اور ہالز کے لیے کاغذوں میں اربوں کے اخراجات دکھائے گئے مگر عملی طور پر کچھ بھی نہیں بدلا۔

ہاسٹلز کے میس کو کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ طلبہ سے اتنے زیادہ نرخ وصول کیے جا رہے ہیں کہ باہر کے ہوٹلوں کے برابر ہیں۔ انتظامیہ اور ان کے ساتھ شریک کار عناصر اس میس کے ذریعے ناجائز منافع کما رہے ہیں۔ یہ سب کچھ طلبہ کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے اور کرپشن کو چھپانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ طلبہ دشمن بن چکی ہے۔ نہ یہ طلبہ کی کوئی بات سنتے ہیں اور نہ ہی ان کے مسائل حل کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف فنڈز ہڑپ کرنا اور طلبہ کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ لیکن ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ ہمارے پاس اس کرپشن کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ کاغذوں میں ترقی دکھانے والے جھوٹے منصوبوں اور زمینی حقیقت کے درمیان اتنا بڑا فرق ہے کہ کوئی بھی آزادانہ انکوائری انتظامیہ کا چہرہ بے نقاب کر دے گی۔

بولان میڈیکل کالج کے طلبہ اب مزید دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے۔ یہ ادارہ تعلیم کا ہے، کرپشن کا اڈہ نہیں۔ یہ مستقبل کے ڈاکٹر تیار کرنے کی جگہ ہے، کسی کے ذاتی کاروبار یا تجوری بھرنے کی جگہ نہیں۔ جو لوگ طلبہ کا استحصال کر رہے ہیں، وہ دراصل بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے مجرم ہیں۔

ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ طلبہ کو سہولتیں دینا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور اگر یہ ذمہ داری پوری نہیں کی جاتی تو ہم ہر سطح پر احتجاج کریں گے۔ ہم اپنی آواز گونجدار بنائیں گے، ہم اس کرپشن کو عوام کے سامنے لائیں گے اور ان عناصر کو بے نقاب کریں گے جنہوں نے تعلیم کے مقدس ادارے کو لوٹ مار کا گڑھ بنا دیا ہے

29/08/2025

چیئرمین بورڈ کی نااہلی نے بلوچستان کے تعلیمی نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ مرکزی ترجمان بی ایس او

کوئٹہ:(پ ر) بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان بورڈ آفس کی بدترین غفلت، اقربا پروری اور چیئرمین کی نااہلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ طلبہ کے مستقبل کو برباد کرنے کا اڈہ بن چکا ہے

ترجمان نے کہا کہ خصوصاً میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات و نتائج میں ہزاروں طلبہ کے ساتھ سنگین زیادتیاں کی گئی ہیں. متعدد محنتی طلبہ کو جان بوجھ کر فیل کیا گیا، مارکس شیٹس میں سنگین غلطیاں ڈال کر ان کی مستقبل کی راہیں مسدود کی گئیں، جبکہ سفارش اور رشوت کے ذریعے نااہل امیدواروں کو نمبر دیے گئے۔ اس قسم کی دھاندلیاں اور ناانصافیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بورڈ آفس کی پوری مشینری میرٹ دشمن اور کرپٹ نظام پر چل رہی ہے

بی ایس او نے واضح کیا کہ بورڈ آفس انتظامیہ اپنی نااہلی کے باعث تعلیمی ادارے کو شفافیت اور انصاف سے چلانے میں ناکام رہے ہیں. آج بلوچستان کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ اقربا پروری، سفارش اور کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے. یہ صورتحال نہ صرف طلبہ کی محنت کو ضائع کر رہی ہے بلکہ ان کے مستقبل پر کاری ضرب ہے

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کےآخر میں کہا کہ ہم حکومتی زمہ داران کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر بورڈ آفس میں فوری طور پر اصلاحات، شفاف نظام اور میرٹ پر مبنی فیصلے نہ کیے گئے اور موجودہ چیئرمین کو برطرف نہ کیا گیا تو بی ایس او بلوچستان بھر میں ایک بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی. اس تحریک کی تمام تر ذمہ داری بورڈ حکام اور حکومت پر عائد ہوگی

29/08/2025
بولان یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کالج کی بدانتظامی اور طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان بولان میڈیکل کالج اور بولان یونیورس...
18/08/2025

بولان یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کالج کی بدانتظامی اور طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان

بولان میڈیکل کالج اور بولان یونیورسٹی کی صورتِ حال روز بہ روز بگڑتی جا رہی ہے۔ تعلیمی نظام، جو اصل میں مستقبل کے معماروں کو تیار کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، بدانتظامی اور نااہلی کی نذر ہو چکا ہے۔ طلبہ کو تعلیم دینے کے بجائے، ان پر ایسے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں جو سراسر دشمنی پر مبنی محسوس ہوتے ہیں۔

ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے امتحانات بولان یونیورسٹی کے تحت لیے جا رہے ہیں مگر ان کا معیار اور طریقہ کار کسی اصول و ضابطے کا پابند نہیں۔ پرچے اتنے سخت اور ناقص بنائے جاتے ہیں کہ طالب علم کو جان بوجھ کر ناکام کرنے کی سازش صاف نظر آتی ہے۔ زبانی امتحانات بھی اس بدنظمی کی نذر ہیں۔ وہاں بھی کوئی مقررہ معیار نہیں، سب کچھ اساتذہ کے ذاتی رویے اور موڈ پر منحصر ہے۔ بعض اوقات جان بوجھ کر سوالات ایسے پوچھے جاتے ہیں کہ طالب علم کو نیچا دکھا کر فیل کر دیا جائے۔

یہ ساری بدانتظامی صرف پرچوں تک محدود نہیں۔ نتائج کے اعلان میں بھی طلبہ کو سخت اذیت دی جاتی ہے۔ امتحان ختم ہونے کے بعد مہینوں تک نتائج روک دیے جاتے ہیں، جیسا کہ حالیہ مثال ہے کہ پہلے فرسٹ ائیر کے امتحانات کو ہوئے چار ماہ گزر چکے ہیں لیکن نتیجہ اب تک منظرِ عام پر نہیں آیا۔ یہی نہیں، امتحانات میں جان بوجھ کر زیادہ تعداد میں طلبہ کو فیل کیا جاتا ہے تاکہ فیسوں کی مد میں ان سے مزید پیسے بٹورے جائیں۔ ہر سال امتحانات میں ناقص اور غیر معیاری پرچے دیے جاتے ہیں اور ساٹھ فیصد سے زائد طلبہ کو فیل کر دیا جاتا ہیں تاکہ دوبارہ فیسوں کے ذریعے جیبیں بھری جا سکیں۔

مزید برآں، بولان میڈیکل کالج میں ماڈیولر سسٹم بھی لاگو کر دیا گیا ہے۔ یہ نظام طلبہ کی تعلیم کو بہتر بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر رہا ہے کیونکہ اس کے نفاذ سے قبل اساتذہ کو کوئی تربیت نہیں دی گئی اور نہ ہی کالج نے اس کے لیے مناسب انتظامات کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ماڈیولر سسٹم بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اس ناکامی کی براہِ راست ذمہ داری کالج کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے بغیر تیاری اور منصوبہ بندی کے طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔

انتظامیہ کا رویہ طلبہ کے مسائل سننے کے بجائے انہیں مزید رسوا کرنے والا ہے۔ جب طلبہ اپنی شکایات لے کر پرنسپل کے پاس جاتے ہیں تو انہیں سہارا دینے کے بجائے مزید ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ اس رویے نے طلبہ میں شدید مایوسی اور بے بسی پیدا کر دی ہے۔

سچ یہ ہے کہ بولان یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کالج کی انتظامیہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ایک سنگین کھیل کھیل رہی ہے۔ امتحانات کا معیار، نتائج کا تاخیر سے آنا، فیسوں کی لوٹ مار، ماڈیولر سسٹم کی ناکامی، اور غیر تربیت یافتہ نظام نافذ کرنا سب اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہاں تعلیم نہیں بلکہ بدانتظامی، ذاتی مفاد اور طلبہ کو ہراساں کرنے کی پالیسی چل رہی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف طلبہ بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، جس پر خاموشی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی-

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO BMC UNIT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share