BSO BMC UNIT

Directions

BSO BMC UNIT BSO (BMC Unit) is a student political organization. Our motive is to raise voice for oppressed.

بولان میڈیکل کالج میں دو سال سے زائد عرصے سے اسپورٹس ویک کا انعقاد نہ ہونا لمحۂ فکریہبولان میڈیکل کالج بلوچستان کا سب سے...
17/07/2026

بولان میڈیکل کالج میں دو سال سے زائد عرصے سے اسپورٹس ویک کا انعقاد نہ ہونا لمحۂ فکریہ

بولان میڈیکل کالج بلوچستان کا سب سے قدیم اور اہم طبی تعلیمی ادارہ ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے اس ادارے میں اسپورٹس ویک کا انعقاد نہیں کیا جا سکا۔ یہ صرف ایک کھیلوں کی سرگرمی کی بندش نہیں بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت، ذہنی صحت اور مثبت تعلیمی ماحول پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔

دنیا بھر کی معروف میڈیکل یونیورسٹیز میں کھیل، تحقیق، سیمینارز، ادبی سرگرمیاں اور ثقافتی پروگرام تعلیمی نظام کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اچھا ڈاکٹر صرف کتابوں سے نہیں بنتا بلکہ اس میں قائدانہ صلاحیت، ٹیم ورک، برداشت، نظم و ضبط، جسمانی فٹنس اور ذہنی استحکام بھی ہونا چاہیے، اور یہ تمام خصوصیات کھیلوں کے ذریعے پروان چڑھتی ہیں۔

افسوس کی بات ہے کہ بولان میڈیکل کالج کا مرکزی فٹبال گراؤنڈ، جو کبھی طلبہ کی کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا، طویل عرصے سے بند پڑا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر اس گراؤنڈ کو طلبہ کے لیے دوبارہ کیوں نہیں کھولا جا رہا؟ جب کھیلوں کی بنیادی سہولت ہی بند ہو تو طلبہ سے صحت مند اور فعال کیمپس کلچر کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

اسی طرح مثبت طلبہ سرگرمیوں، ویلکم پروگرامز، علمی نشستوں اور غیر نصابی پروگراموں پر غیر ضروری پابندیاں تعلیمی ماحول کو محدود کرتی ہیں۔ ایک مضبوط تعلیمی ادارہ وہ ہوتا ہے جہاں طلبہ کو ذمہ داری کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

صرف عمارتوں پر رنگ و روغن کر دینا کسی ادارے کی ترقی کا معیار نہیں ہوتا۔ حقیقی ترقی اس وقت آتی ہے جب:

* کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہوں۔
* جدید نصاب مؤثر انداز میں نافذ ہو۔
* تحقیق اور علمی ماحول کو فروغ دیا جائے۔
* طلبہ کے مسائل کو سنا جائے۔
* انتظامی شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
* کیمپس کو خوف کے بجائے اعتماد اور احترام کی بنیاد پر چلایا جائے۔

تعلیمی ادارے مضبوط عمارتوں سے نہیں بلکہ مضبوط پالیسیوں، معیاری تعلیم، فعال کھیلوں، تحقیقی ماحول اور طلبہ کی فلاح سے بنتے ہیں۔ اگر ہم واقعی بولان میڈیکل کالج کو بلوچستان کا مثالی طبی ادارہ بنانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اسپورٹس ویک کو فوری طور پر بحال کیا جائے، مرکزی فٹبال گراؤنڈ دوبارہ طلبہ کے لیے کھولا جائے اور ایک ایسا تعلیمی ماحول قائم کیا جائے جہاں طلبہ خود کو ادارے کا اہم حصہ محسوس کریں، نہ کہ صرف تماشائی۔

بولان میڈیکل کالج کے طلبہ کا مطالبہ محض کھیلوں کا انعقاد نہیں، بلکہ ایک ایسے تعلیمی ماحول کا قیام ہے جہاں تعلیم، تحقیق، کھیل، احترام، شفافیت اور طلبہ کے حقوق کو یکساں اہمیت دی جائے۔ یہی ایک کامیاب اور باوقار طبی ادارے کی حقیقی پہچان ہے۔

17/07/2026

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون بلوچستان ایجوکیشنل اینڈ انڈومنٹ فنڈ (بیف) کی جانب سے پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے مختص اسکالرشپس میں کمی اور بی ایس، اے ڈی ایس سمیت دیگر ڈگری پروگراموں کے طلبہ کے لیے ٹاپ 20 اسکالرشپس کو کم کرکے صرف ٹاپ 10 تک محدود کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

مزید تفصیلات پڑھنے کے لیے کمنٹ میں موجود لنک وزٹ کریں

بولان میڈیکل کالج: مسائل کی اصل وجوہات اور طلبہ کے خلاف بنائے گئے بیانیے کی حقیقتبولان میڈیکل کالج بلوچستان کا قدیم اور ...
14/07/2026

بولان میڈیکل کالج: مسائل کی اصل وجوہات اور طلبہ کے خلاف بنائے گئے بیانیے کی حقیقت

بولان میڈیکل کالج بلوچستان کا قدیم اور اہم طبی تعلیمی ادارہ ہے، جہاں سے ہزاروں ڈاکٹر فارغ التحصیل ہو کر قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس ادارے کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے بجائے اکثر توجہ صرف ظاہری اقدامات پر مرکوز رہی ہے، جبکہ اصل تعلیمی، انتظامی اور طلبہ سے متعلق مسائل آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

گزشتہ سال ہاسٹلز اور کالج کی بندش کے بعد آج تک بولان میڈیکل کالج میں اسپورٹس ویک بحال نہیں کیا جا سکا۔ کھیلوں کی سرگرمیاں کسی بھی تعلیمی ادارے کا لازمی حصہ ہوتی ہیں کیونکہ یہی سرگرمیاں طلبہ میں صحت مند مقابلے، قائدانہ صلاحیت، ٹیم ورک اور ذہنی آسودگی کو فروغ دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے طلبہ کو اس بنیادی حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

اسی طرح طلبہ کو اپنی مدد آپ کے تحت ویلکم پارٹیز یا دیگر مثبت تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کی بھی مناسب اجازت نہیں دی جاتی، جس سے کیمپس کی تعلیمی اور سماجی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں، بولان میڈیکل کالج کے مرکزی فٹبال گراؤنڈ کو تالہ لگا دینا اس بات کی علامت ہے کہ کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کو کس حد تک نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے اکثر کالج کی عمارتوں کو رنگ و روغن کر کے اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف عمارتوں کو رنگنے سے کسی ادارے میں تعلیمی انقلاب نہیں آتا۔ اصل ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب تعلیمی معیار بہتر ہو، جدید نصاب مؤثر انداز میں نافذ ہو، تحقیق کو فروغ ملے، طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں اور انتظامی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

گزشتہ عرصے میں مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایسے بیانیے بھی تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ بولان میڈیکل کالج کے مسائل کی بنیادی وجہ طلبہ یا طلبہ تنظیمیں ہیں۔ یہ مؤقف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھی ہاسٹل کی تعمیر و مرمت کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم نہیں کیے جاتے تھے ۔ اگر بنیادی سہولیات کے لیے وسائل فراہم ہی نہ کیے جائیں تو اس کی ذمہ داری طلبہ پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

ہاسٹل کے افسوسناک واقعے میں طلبہ کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا، ہاسٹل کے کمروں میں توڑ پھوڑ ہوئی، لاکھوں روپے مالیت کے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان غائب ہو گیا، مگر آج تک نہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات سامنے آئیں اور نہ ہی ذمہ دار عناصر کا مؤثر احتساب کیا گیا۔ اس کے برعکس مختلف مواقع پر ذمہ داری کا رخ طلبہ کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ گزشتہ برسوں میں ہاسٹل فنڈز، اسپورٹس فنڈز اور دیگر ترقیاتی وسائل کہاں خرچ ہوئے؟ اگر ان فنڈز کا شفاف آڈٹ اور عوامی احتساب کیا جائے تو بہت سے حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ اداروں کی بہتری کے لیے شفافیت اور جوابدہی ناگزیر ہے۔

طلبہ کی جانب سے جب بھی احتجاج کیا گیا تو اس کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ ادارے میں موجود انتظامی بدعنوانی، تعلیمی مسائل، ہاسٹل کے مسائل، طلبہ کے حقوق اور شفاف نظام کا مطالبہ تھا۔ آج بھی طلبہ انہی مسائل کو مختلف آئینی اور جمہوری فورمز پر اجاگر کر رہے ہیں، کیونکہ خاموشی اختیار کرنا مسائل کا حل نہیں۔

بدقسمتی سے طلبہ کو یہ شکایات بھی درپیش رہی ہیں کہ داخلوں سے لے کر مختلف انتظامی دفاتر تک بعض مقامات پر غیر ضروری رکاوٹیں، تاخیری حربے اور بعض اوقات مالی بدعنوانی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اگر کوئی ذمہ دار ہے تو اس کا احتساب ہو اور ادارے پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔

اسی طرح ماضی میں دو تعلیمی سیشنز کے دوران پی ایم ڈی سی فیسوں سے متعلق بے ضابطگیاں بھی سامنے آئے۔ اگرچہ چند افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، لیکن اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی مکمل نہیں ہوئی تو اس کی شفاف تحقیقات بھی ضروری ہیں تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

تعلیمی اعتبار سے بھی بولان میڈیکل کالج کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ جدید ماڈیولر نصاب کو مکمل اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں تاخیر ہوئی، حالانکہ طلبہ نے اس نظام کے بہتر نفاذ کے لیے مسلسل آواز اٹھائی۔ مختلف تجاویز بھی منظور ہوئیں، لیکن عملی پیش رفت مطلوبہ رفتار سے نہ ہو سکی۔ اس کی ذمہ داری بھی طلبہ پر ڈالنا حقیقت کے منافی ہے، کیونکہ نصاب کی منصوبہ بندی اور نفاذ انتظامیہ اور متعلقہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

طلبہ یہ شکایت بھی کرتے رہے ہیں کہ فنگر پرنٹ حاضری کے نظام کے باوجود انہیں مختلف طریقوں سے غیر ضروری ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط ضروری ہے، مگر نظم و ضبط کا مقصد طلبہ کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں خوف یا دباؤ میں رکھنا۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا بھر کے کامیاب تعلیمی اداروں میں اسپورٹس، ادبی سرگرمیاں، طلبہ سوسائٹیز، سیمینارز، مباحثے، ویلکم پروگرام، تحقیقی سرگرمیاں اور طلبہ کی نمائندہ تنظیمیں ایک مضبوط تعلیمی ماحول کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ ایسی سرگرمیاں طلبہ میں قائدانہ صلاحیت، ذمہ داری، برداشت، تنظیم سازی، تنقیدی سوچ اور معاشرتی شعور پیدا کرتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کو محدود کرنے سے ادارے مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اگر کسی ادارے میں مسائل موجود ہیں تو ان کا حل طلبہ کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ شفاف احتساب، مؤثر انتظام، تعلیمی اصلاحات، مالی شفافیت اور طلبہ کے ساتھ مثبت مکالمہ ہے۔ طلبہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا سب سے اہم فریق ہوتے ہیں۔ انہیں دشمن یا رکاوٹ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ادارے کی تعمیر و ترقی میں شریک سمجھا جانا چاہیے۔

بولان میڈیکل کالج کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب رنگ و روغن سے آگے بڑھ کر تعلیمی معیار، تحقیقی ماحول، کھیلوں کی بحالی، ہاسٹل کی بہتری، مالی شفافیت، جدید نصاب کے مؤثر نفاذ اور طلبہ کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ادارے کو ایک مضبوط، باوقار اور مثالی طبی درسگاہ بنا سکتا ہے۔

📚 میڈیکل بک بینک انیشیٹو | Bolan Medical College Studentsتمام MBBS اور BDS طلبہ (فرسٹ ایئر تا فائنل ایئر) اور دیگر تمام ...
01/07/2026

📚 میڈیکل بک بینک انیشیٹو | Bolan Medical College Students

تمام MBBS اور BDS طلبہ (فرسٹ ایئر تا فائنل ایئر) اور دیگر تمام میڈیکل کالجز کے طلبہ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس تعلیمی مہم کا حصہ بنیں۔

ہم نے ضرورت مند طلبہ کی تعلیمی معاونت کے لیے Medical Book Bank Initiative کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت میڈیکل کی Textbooks، Lecture Notes، MCQs، Study Guides اور دیگر تعلیمی مواد جمع کیا جائے گا تاکہ ایسے طلبہ تک پہنچایا جا سکے جو مالی یا دیگر وجوہات کی بنا پر یہ کتب حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ صرف کتابیں جمع کرنے کی مہم نہیں بلکہ ایک مستقل Book Bank System قائم کرنے کی کوشش ہے۔

اس کا طریقۂ کار درج ذیل ہوگا:

* عطیہ کی گئی تمام کتابوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے گا۔
* ضرورت مند طلبہ کو کتابیں باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد ایک تعلیمی سال کے لیے فراہم کی جائیں گی۔
* تعلیمی سال یا پروفیشنل امتحانات مکمل ہونے کے بعد طلبہ کتابیں دوبارہ Book Bank میں جمع کروائیں گے۔
* یہی کتابیں اگلے سیشن میں نئے ضرورت مند طلبہ کو فراہم کی جائیں گی۔
* اس طرح ایک ہی کتاب کئی برسوں تک مختلف طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرتی رہے گی۔

فی الحال ہم صرف کتابیں جمع کر رہے ہیں۔ جب ہمارے پاس مناسب تعداد میں کتابیں جمع ہو جائیں گی تو ان کی مکمل فہرست باقاعدہ شیئر کی جائے گی، جس کے بعد ضرورت مند طلبہ رجسٹریشن کے ذریعے ان کتابوں سے استفادہ کر سکیں گے۔

اگر آپ کے پاس ایسی میڈیکل کتابیں یا تعلیمی مواد موجود ہے جو اب آپ کے استعمال میں نہیں، تو براہِ کرم اسے عطیہ کریں اور اس تعلیمی اقدام کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

📲 رابطہ برائے کتاب عطیہ:
WhatsApp: +92 319 1892707

18/06/2026
بولان میڈیکل کالج، کوئٹہ کے فرسٹ ایئر طلبہ انتظامیہ کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات اور سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ پورا ...
12/06/2026

بولان میڈیکل کالج، کوئٹہ کے فرسٹ ایئر طلبہ انتظامیہ کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات اور سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ پورا تعلیمی سال ہمیں واضح طور پر ماڈیولر سسٹم کے تحت پڑھایا گیا، اسی کے مطابق ہماری تدریسی سرگرمیاں، اسیسمنٹ اور امتحانی تیاری مکمل کروائی گئی۔ اس کے باوجود امتحانات (اینول ویوا) سے چند روز قبل اچانک کنونشنل سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ نہ صرف غیر متوقع ہے بلکہ طلبہ کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔

یہ طرزِ عمل انتظامی غیر سنجیدگی، پالیسی میں عدم تسلسل اور فیصلوں میں واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے، جس کا براہِ راست نقصان طلبہ کے تعلیمی مستقبل، محنت اور ذہنی صحت پر پڑ رہا ہے۔ امتحان کے عین وقت پر قواعد و ضوابط میں تبدیلی نہ صرف تعلیمی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ادارے پر طلبہ کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

طلبہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیمی ادارے کسی بھی صورت میں اس طرح کے غیر منظم اور اچانک فیصلوں کے ذریعے طلبہ کو غیر مستحکم پالیسیوں کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ اگر انتظامیہ ماڈیولر سسٹم کو نافذ کرنے کی صلاحیت یا نیت نہیں رکھتی تھی تو پورے سال طلبہ کو اسی نظام کے مطابق تیار کروانا ایک سنگین انتظامی غلطی ہے، جس کی مکمل ذمہ داری ادارے پر عائد ہوتی ہے۔

ہم سخت الفاظ میں مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور امتحانات اسی ماڈیولر سسٹم کے تحت منعقد کیے جائیں جس کے مطابق طلبہ نے پورا سال تیاری کی ہے۔ بصورت دیگر طلبہ اپنے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس میں ویوا امتحانات کا مکمل بائیکاٹ اور منظم احتجاج شامل ہوگا۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری مکمل طور پر انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

طلبہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ تعلیمی انصاف، شفافیت اور بروقت پالیسی سازی ہر ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور ان اصولوں سے انحراف کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہم انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس غیر منصفانہ فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور طلبہ کے مستقبل کو مزید غیر یقینی صورتحال سے بچائے۔

09/06/2026

بی ایس او شال زون کے وفد نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ وفد میں شال زون کے آرگنائزر کبیر بلوچ، ڈپٹی آرگنائزر حاجی گل بلوچ، فیض محمد روڈ یونٹ کے یونٹ سیکریٹری انس، ڈپٹی یونٹ سیکریٹری سعد اور پولی ٹیکنک کالج یونٹ کے ڈپٹی یونٹ سیکریٹری صغیر بلوچ شامل تھے۔

اس موقع پر رہنماؤں نے سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر عدم تحفظ کی بڑھتی ہوئی صورتحال حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ ایک ایسے ہسپتال میں جہاں ہزاروں مریض روزانہ علاج کے لیے آتے ہیں، ڈاکٹرز اور طبی عملے کا خود غیر محفوظ ہونا انتہائی تشویشناک امر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے سیاسی کارکنوں، طلبہ اور اظہارِ رائے پر قدغن لگانے میں تو متحرک نظر آتے ہیں، مگر عوام، ڈاکٹرز، اساتذہ اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مسلسل ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ سول ہسپتال کا واقعہ اس عمومی بدانتظامی اور لاپرواہی کی ایک اور کڑی ہے جس نے بلوچستان کے عوام کو عدم تحفظ کے ماحول میں دھکیل دیا ہے۔

بی ایس او شال زون کے رہنماؤں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے احتجاج اور مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ڈاکٹرز، طبی عملے اور میڈیکل طلبہ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس او شال زون ہر اس آواز کے ساتھ کھڑی ہے جو انصاف، تحفظ اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

08/06/2026

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی نااہلیوں و پرامن سیاسی جدوجہد کو بزورِ طاقت روکنے کی پالیسی سے تمام ادارے مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ چکے ہیں۔ تمام تر ریاستی مشینری کو صرف تنقید کرنے والے سیاسی کارکنوں کو بزورِ طاقت زیر کرنے پر لگایا جا رہا ہے۔
مزید تفصیلات پڑھنے کے لیے کمنٹ میں موجود لنک وزٹ کریں.

07/06/2026

بلوچستان میں نہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز محفوظ ہیں، نہ ہی اساتذہ کرام۔ تمام ادارے غیر فعال۔
ریاستی طاقت کا زیادہ تر استعمال صرف تنقید کرنے والے سیاسی کارکنوں کو بزورِ طاقت دبانے پر کیا جا رہا ہے۔
سول ہسپتال واقعہ انسانیت سوز ہے، ڈاکٹرز کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ بی ایس او شال زون

کوئٹہ،
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی نااہلیوں و پرامن سیاسی جدوجہد کو بزورِ طاقت روکنے کی پالیسی سے تمام ادارے مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ چکے ہیں۔ تمام تر ریاستی مشینری کو صرف تنقید کرنے والے سیاسی کارکنوں کو بزورِ طاقت زیر کرنے پر لگایا جا رہا ہے۔ ریاست کے خود ساختہ ٹھیکے دار محض شعبدہ بازی پر لگے ہوئے ہیں، جبکہ حقیقی حوالے سے تمام اداروں کو مکمل طور پر کمزور کیا جا چکا ہے۔

ہسپتالوں میں نہ ڈاکٹرز محفوظ ہیں اورنہ اساتذہ کرام و معاشرے کے دیگر طبقات ۔ آئے روز دلخراش واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن حکومتی سنجیدگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر قاتلانہ حملہ کیا گیا، جو تاحال کراچی میں زیرِ علاج ہیں۔ اس واقعے کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی جائے اور محرکات کو سامنے لایا جائے۔

بلوچستان بھر میں شہری سیکیورٹی کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کو مخصوص ایجنڈے کے تحت تقویت دے کر 16ویں صدی کی کاونٹر انسرجنسی کی ناکام تھیوریز و دانشوری کو بلوچستان پر مسلط کیا گیا ہے۔ اداروں کی فعالیت، لوگوں کی سیاسی شراکت داری و سماجی انصاف کے بجائے تمام تر توانائی کو سیاست پر کنٹرول حاصل کرنے پر لگایا گیا ہے، جس کے منفی معاشرتی اثرات اب نمودار ہو رہے ہیں۔

آج بلوچستان ایک شدید انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بلوچستان کے تمام سنجیدہ سیاسی طبقات کو اس معاشرتی جمود اور سیاسی عدم فعالیت کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، تاکہ ایسے درندگی کے واقعات اور ان کے محرکات کا سدباب کیا جا سکے۔

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO BMC UNIT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share