15/09/2026
جرگہ یا عدالت؟ انصاف کہاں زیادہ آسان ہے؟
پاکستان، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، جرگہ کوئی نیا نظام نہیں۔ یہ ہماری قبائلی اور دیہی زندگی کا ایک پرانا حصہ ہے۔ زمین کا جھگڑا ہو، خاندانی تنازع ہو یا دو خاندانوں کے درمیان کوئی مسئلہ، لوگ برسوں سے اپنے معتبر بزرگوں کے سامنے بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔
جرگے کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں معاملہ عموماً سیدھا اور سادہ ہوتا ہے۔ نہ لمبی تاریخیں، نہ بار بار عدالت کے چکر اور نہ ہی زیادہ اخراجات۔ کئی مرتبہ جو تنازع عدالت میں برسوں چل سکتا ہے، وہ جرگے میں چند نشستوں کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ جرگہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ دونوں فریق دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے قابل ہو جائیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ عدالت جانے سے پہلے اپنے علاقے کے معتبر لوگوں کے ذریعے معاملہ حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
کیا جرگے کو ہر قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے؟
جواب یقیناً نہیں۔
جرگہ اس وقت مسئلہ بن جاتا ہے جب وہ صلح اور ثالثی سے آگے بڑھ کر خود عدالت بن بیٹھے۔ کسی کو سزا دینا، کسی خاندان کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دینا، خواتین کو تنازعے کے بدلے شادی پر مجبور کرنا یا ایسا کوئی فیصلہ کرنا جو کسی انسان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہو، اسے صرف اس لیے درست نہیں کہا جا سکتا کہ فیصلہ جرگے نے کیا ہے۔
یہاں عدالتی نظام کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
عدالت کسی سردار، قبیلے یا مقامی رسم کے تحت نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تحت فیصلہ کرتی ہے۔ یہاں الزام کے ساتھ ثبوت دینا پڑتا ہے، گواہوں کو سنا جاتا ہے، وکیل کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق ملتا ہے اور اگر فیصلہ غلط محسوس ہو تو اس کے خلاف اپیل کا راستہ بھی موجود ہوتا ہے۔
مگر ہماری عدالتوں کا اپنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انصاف کا قانونی راستہ موجود تو ہے، لیکن بعض اوقات اتنا طویل اور مہنگا ہو جاتا ہے کہ عام آدمی تھک جاتا ہے۔ سالہا سال مقدمات، مسلسل پیشیاں، سفری اخراجات اور قانونی خرچ لوگوں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اسی لیے میرے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ جرگہ بہتر ہے یا عدالت۔
اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو جلد، سستا اور منصفانہ انصاف کیسے دیا جائے؟
جرگے کی اچھی چیز، یعنی لوگوں کو بٹھانا، بات سننا، صلح کرانا اور تنازع ختم کرنا، ہمارے قانونی نظام کا حصہ بن سکتی ہے۔ اسے ثالثی، مصالحت اور ADR کے قانونی نظام کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔
لیکن جہاں معاملہ جرم، سزا، خواتین کے حقوق، انسانی آزادی یا کسی کمزور شخص کے بنیادی حقوق کا ہو، وہاں فیصلہ رسم و رواج نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
جرگہ ہماری روایت ہو سکتا ہے، مگر کوئی بھی روایت آئین اور بنیادی انسانی حقوق سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔
اب سوال آپ سے ہے:
کیا جرگہ نظام ختم کر دینا چاہیے، یا اسے قانون کے دائرے میں لا کر صرف صلح، ثالثی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے استعمال کرنا چاہیے؟
#جرگہ #عدالت #انصاف #بلوچستان #پاکستان #قانون