Salahuddin Sarim

Directions Contact the organization

Salahuddin Sarim ⚖️ Lawyer | 🛡️ Human Rights Activist | ✍️ Poet

جرگہ یا عدالت؟ انصاف کہاں زیادہ آسان ہے؟پاکستان، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، جرگہ کوئی نیا نظام نہیں۔ یہ ...
15/09/2026

جرگہ یا عدالت؟ انصاف کہاں زیادہ آسان ہے؟

پاکستان، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، جرگہ کوئی نیا نظام نہیں۔ یہ ہماری قبائلی اور دیہی زندگی کا ایک پرانا حصہ ہے۔ زمین کا جھگڑا ہو، خاندانی تنازع ہو یا دو خاندانوں کے درمیان کوئی مسئلہ، لوگ برسوں سے اپنے معتبر بزرگوں کے سامنے بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔

جرگے کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں معاملہ عموماً سیدھا اور سادہ ہوتا ہے۔ نہ لمبی تاریخیں، نہ بار بار عدالت کے چکر اور نہ ہی زیادہ اخراجات۔ کئی مرتبہ جو تنازع عدالت میں برسوں چل سکتا ہے، وہ جرگے میں چند نشستوں کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ جرگہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ دونوں فریق دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے قابل ہو جائیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ عدالت جانے سے پہلے اپنے علاقے کے معتبر لوگوں کے ذریعے معاملہ حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا جرگے کو ہر قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے؟

جواب یقیناً نہیں۔

جرگہ اس وقت مسئلہ بن جاتا ہے جب وہ صلح اور ثالثی سے آگے بڑھ کر خود عدالت بن بیٹھے۔ کسی کو سزا دینا، کسی خاندان کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دینا، خواتین کو تنازعے کے بدلے شادی پر مجبور کرنا یا ایسا کوئی فیصلہ کرنا جو کسی انسان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہو، اسے صرف اس لیے درست نہیں کہا جا سکتا کہ فیصلہ جرگے نے کیا ہے۔

یہاں عدالتی نظام کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

عدالت کسی سردار، قبیلے یا مقامی رسم کے تحت نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تحت فیصلہ کرتی ہے۔ یہاں الزام کے ساتھ ثبوت دینا پڑتا ہے، گواہوں کو سنا جاتا ہے، وکیل کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق ملتا ہے اور اگر فیصلہ غلط محسوس ہو تو اس کے خلاف اپیل کا راستہ بھی موجود ہوتا ہے۔

مگر ہماری عدالتوں کا اپنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انصاف کا قانونی راستہ موجود تو ہے، لیکن بعض اوقات اتنا طویل اور مہنگا ہو جاتا ہے کہ عام آدمی تھک جاتا ہے۔ سالہا سال مقدمات، مسلسل پیشیاں، سفری اخراجات اور قانونی خرچ لوگوں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اسی لیے میرے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ جرگہ بہتر ہے یا عدالت۔

اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو جلد، سستا اور منصفانہ انصاف کیسے دیا جائے؟

جرگے کی اچھی چیز، یعنی لوگوں کو بٹھانا، بات سننا، صلح کرانا اور تنازع ختم کرنا، ہمارے قانونی نظام کا حصہ بن سکتی ہے۔ اسے ثالثی، مصالحت اور ADR کے قانونی نظام کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔

لیکن جہاں معاملہ جرم، سزا، خواتین کے حقوق، انسانی آزادی یا کسی کمزور شخص کے بنیادی حقوق کا ہو، وہاں فیصلہ رسم و رواج نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

جرگہ ہماری روایت ہو سکتا ہے، مگر کوئی بھی روایت آئین اور بنیادی انسانی حقوق سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

اب سوال آپ سے ہے:

کیا جرگہ نظام ختم کر دینا چاہیے، یا اسے قانون کے دائرے میں لا کر صرف صلح، ثالثی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے استعمال کرنا چاہیے؟

#جرگہ #عدالت #انصاف #بلوچستان #پاکستان #قانون

23/06/2026

Pakistan Hamesha Zindabad ❤️

28/05/2026

وسیم اک حج کے دوران بولنگ کے انداز میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے

تھیلپاٹھی وجے — ایک فیصلے کی پوری کہانیشروعات کہاں سے ہوئیوجے 1990 کی دہائی سے تمل فلموں میں کام کر رہا تھا۔ باپ کے ساتھ...
12/05/2026

تھیلپاٹھی وجے — ایک فیصلے کی پوری کہانی

شروعات کہاں سے ہوئی

وجے 1990 کی دہائی سے تمل فلموں میں کام کر رہا تھا۔ باپ کے ساتھ چھوٹے کرداروں سے آغاز کیا، پھر آہستہ آہستہ اپنی الگ پہچان بنائی۔ اس کی فلموں میں شروع سے ہی ایک سیاسی رنگ دکھائی دیتا تھا۔ وہ غریب آدمی کا ہیرو تھا، بدعنوان سیاستدانوں کو للکارنے والا کردار اس پر خوب جچتا تھا اور لوگ اسے اسی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔

2017 — جب حکومت نے پہلی بار اسے سنجیدگی سے لیا

2017 میں وجے کی فلم “مرسل” ریلیز ہوئی۔ فلم کے ایک ڈائیلاگ میں GST ٹیکس پالیسی پر تنقید کی گئی تھی۔ بی جے پی کے تمل ناڈو رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وہ سین فلم سے نکالا جائے۔ یہ پہلا موقع تھا جب سیاسی طاقت نے کھل کر وجے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر وجے نے سین ہٹانے سے انکار کر دیا۔ اسی لمحے ایک نئی کہانی نے جنم لیا۔ کچھ وجے کے ذہن میں بدلا، اور کچھ عوام کے ذہن میں۔

2019 — ووٹ اور اشارہ

اپریل 2019 کے عام انتخابات میں وجے ووٹ ڈالنے گیا۔ میڈیا نے سوالات کیے، تصویریں بنائیں۔ وجے نے صرف اتنا کہا کہ ووٹ ڈالنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ بات سادہ تھی، مگر اُس وقت کے سیاسی ماحول میں اس کے معنی بہت گہرے تھے۔ تمل ناڈو میں مرکزی حکومت کے خلاف ناراضگی عروج پر تھی اور وجے کے مداح اس بیان کو خاموش اشارہ سمجھ رہے تھے۔

2021 — سیاست کی طرف پہلا واضح قدم

2021 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں وجے نے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ اس بار اس نے کہا کہ عوام کو صحیح قیادت کا انتخاب کرنا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں نے لکھنا شروع کر دیا کہ وجے جلد سیاست میں داخل ہونے والا ہے۔ وجے نے نہ کھل کر انکار کیا نہ اقرار، مگر اس کے قریبی حلقوں کی سرگرمیوں سے واضح ہو رہا تھا کہ پس پردہ کچھ بڑا تیار ہو رہا ہے۔

2023 — پارٹی کا اعلان

اکتوبر 2023 میں وجے نے باضابطہ اعلان کیا کہ وہ “تمیزھاگا ویترا کژگم” یعنی TVK کے نام سے سیاسی جماعت بنا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ موجودہ سیاستدانوں نے عوام کو مایوس کیا ہے اور اب نئی سوچ رکھنے والے لوگوں کو آگے آنا ہوگا۔ یہ اعلان کسی فلمی انداز میں نہیں بلکہ ایک سادہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ وجے نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ اس کا آخری فیصلہ ہے اور اب وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔

اسی دوران اس نے فلموں سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ “لیو” اس کی آخری بڑی فلم بنی اور اس کے بعد اس نے صاف کہہ دیا کہ اب اس کی مکمل توجہ سیاست پر ہوگی۔

2024 — عوام سے عہد

فروری 2024 میں TVK کی پہلی بڑی کانفرنس چنئی کے قریب منعقد ہوئی جہاں لاکھوں لوگ جمع ہوئے۔ وجے نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر وعدہ کیا کہ وہ بدعنوانی نہیں کرے گا، ذات پات کی سیاست نہیں کرے گا، مذہب کو سیاسی ہتھیار نہیں بنائے گا اور غریب، نوجوان اور کسان اس کی ترجیح ہوں گے۔ اس نے اعلان کیا کہ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں TVK پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

مخالفت کا آغاز

جیسے ہی TVK منظم ہونا شروع ہوئی، مخالفین بھی سرگرم ہو گئے۔ بی جے پی سے جڑے مذہبی حلقوں نے وجے پر الزام لگانا شروع کیا کہ اس کی فلمیں ہندو دیوتاؤں کی توہین کرتی ہیں۔ پرانی فلموں کے مناظر کاٹ کر سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وجے تہذیب اور مذہب کا دشمن ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج ہوئے اور بعض جگہوں پر TVK دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

لیکن جین زی نے اس مہم کا رخ بدل دیا۔ نوجوانوں نے ویڈیوز کا فیکٹ چیک کیا، اصل سیاق و سباق عوام کے سامنے رکھا اور سوشل میڈیا پر ایسی جوابی مہم چلائی جو نفرت پر مبنی بیانیے سے کہیں زیادہ تیز، مؤثر اور وسیع ثابت ہوئی۔

2026 — انتخابات اور نتیجہ

2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں TVK نے بھرپور حصہ لیا۔ نوجوان ووٹروں کی ایک بڑی تعداد پہلی بار ووٹ ڈالنے نکلی۔ شہروں، قصبوں اور دیہات میں وجے کا وہ مداح موجود تھا جو کل تک اسے پردے پر دیکھتا تھا اور آج اسمبلی میں دیکھنا چاہتا تھا۔

نتائج نے ثابت کیا کہ جب کوئی شخص برسوں تک ایک ہی پیغام دیتا رہے اور پھر خود اسی راستے پر چلنے کے لیے میدان میں اتر آئے تو لوگ اس پر یقین کرتے ہیں۔ مذہبی نعروں پر مبنی سیاست اس بار مؤثر ثابت نہ ہو سکی کیونکہ سامنے وہ نسل کھڑی تھی جو نعروں سے زیادہ نتائج مانگتی ہے۔

وجے نے سینما میں جو بویا تھا، وہ اسمبلی میں کاٹا۔

#وجے #سیاست #انقلاب

10/05/2026

بنیان مرصوص
ہمیشہ تیار ہیں ہم!

17/04/2026

🛑 اسرائیل پر اللہ کا عذاب؟ 🛑
​دوستو! یہ منظر دیکھ کر روح کانپ جائے! اسرائیل کے شہروں میں کروڑوں، لاکھوں شہد کی مکھیوں نے اچانک حملہ کر دیا ہے۔ پورا آسمان مکھیوں سے بھر گیا ہے اور لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو چکا ہے۔ 🐝💥
​کیا یہ واقعی کوئی قدرتی اتفاق ہے یا پھر اللہ کا عذاب؟ جب انسان ظلم کی حد پار کرتا ہے، تو اللہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق سے بھی بڑے بڑوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ 🤲🔥
​ویڈیو میں دیکھیں کیسے یہ لشکر شہروں پر مسلط ہو چکا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور حق کی فتح نصیب فرمائے۔ آمین! 🤲✨
​نیچے کمنٹس میں 'آمین' لکھیں اور اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ باقی لوگ بھی یہ عبرت ناک منظر دیکھ سکیں۔ 👇
​

Breaking Newsایران کا ابنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
17/04/2026

Breaking News
ایران کا ابنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

17/04/2026

ایران اور پاکستان کے گہرے تعلقات کی عکاسی کرتی ایک خوبصورت ویڈیو! ایرانی فنکار نے اپنی آواز کے ذریعے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو والہانہ خوش آمدید کہہ کر دونوں ممالک کی دوستی کا حق ادا کر دیا۔
آپ کی فیس بک پوسٹ کے لیے ایک موزوں تحریر:
پاک ایران دوستی زندہ باد! 🇵🇰🤝🇮🇷
ایران کی سرزمین پر پاکستانی سپہ سالار فیلڈ مارشل (جنرل) عاصم منیر کے اعزاز میں ایرانی گلوکار کا خوبصورت ہدیہ۔ یہ نغمہ محض الفاظ نہیں بلکہ دو اسلامی بھائیوں کے درمیان محبت اور مضبوط دفاعی و ثقافتی رشتوں کا ثبوت ہے۔
فوجی قیادت کا یہ دورہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس پرجوش استقبال نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
ویڈیو ملاحظہ فرمائیں! 👇
#ایران #پاکستان

10/04/2026

دریا ہے ہمارا

Address

Gwadar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Salahuddin Sarim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Salahuddin Sarim:

Shortcuts

Share