26/05/2026
پریس ریلیز: نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ (NSM)
موضوع: چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام میں اربوں کی کرپشن اور 30 ہزار نوجوانوں کا معاشی قتل عام اور حکومت وعدوں کی ناکامی ۔
حکومت بلوچستان کے دعووں اور وعدوں کا پول کھل گیا۔ اکتوبر 2024 میں صوبے کے 30 ہزار نوجوانوں کو عالمی معیار کی فنی تربیت دے کر یورپ اور خلیجی ممالک میں باعزت روزگار فراہم کرنے کا خواب دکھایا گیا تھا۔ لیکن آج یہ منصوبہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے بجائے ذہنی اذیت، معاشی قتل عام اور حکومتی نااہلی کا شاہکار بن چکا ہے۔ دو سال کے طویل انتظار کے بعد 30 ہزار کے ہدف کے مقابلے میں بمشکل 250 نوجوانوں کو سعودی عرب بھیجا گیا، جہاں انہیں کسی مستند کمپنی کے بجائے تھرڈ پارٹی سپلائر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ نوجوان سعودی عرب میں گزشتہ 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم اور بے یار و مددگار ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نوجوانوں کو یورپ بھیجنے کا وعدہ کیا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج تک ایک بھی نوجوان یورپ نہیں جا سکا۔ اس پروگرام کے جھانسے میں آکر سیکڑوں نوجوانوں نے اپنی جمع پونجی داؤ پر لگا دی اور موجودہ ملازمتیں چھوڑ دیں۔ ہر نوجوان نے اپنی جیب سے 50,000 روپے خرچ کیے، جو صرف 1500 نوجوانوں کے 7 کروڑ 50 لاکھ (75,000,000) روپے بنتے ہیں، اور یہ خطیر رقم اب ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔ جب متاثرہ نوجوانوں نے حکام کے چکر لگائے تو ایم ڈی سے لے کر سیکرٹری تک کا رویہ غیر مناسب اور تضحیک آمیز رہا۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ جب یہ معاملہ صوبائی اسمبلی کے فلور پر اٹھایا گیا، تو وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے متاثرہ نوجوانوں کی دادرسی کرنے کے بجائے ان کی شدید تذلیل کی۔ وزیر اعلیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ہم انہیں وہاں کسی اعلیٰ اسکل کے لیے نہیں بلکہ مزدوری کے لیے بھیج رہے تھے، ان نوجوانوں کا خیال تھا کہ وہاں ریڈ کارپیٹ ہوگا اور یہ شیخوں سے ملیں گے۔ نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ وزیر اعلیٰ کے اس ہتک آمیز بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ نوجوان وہاں ریڈ کارپیٹ یا شیخوں سے ملنے نہیں، بلکہ اپنی حلال کی مزدوری اور عزت نفس کے لیے گئے تھے، لیکن حکومت انہیں وہ مزدوری دلوانے میں بھی ناکام رہی۔ اس منصوبے میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے، جسے وزیر اعلیٰ ٹیکنیکل ایشو کا نام دے کر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب جو نوجوان بھیجے گئے ہے وہاں پر اس گرمی میں ایک تنگ کمرے میں 10 بچوں کی رہائش ہے جہاں گرمی اور آکسیجن کی کمی کا شکار ہںوجاتے ہے اس کے باوجود ان کو 6 ماہ کی تنخواہ نہیں دی جاتی جب ہںو تنخواہ کی بات کرتے ہے تو ان پر تشدد کر کے جیل بیجھ دیا جاتا ہے اس تشدد کے تصویر ہمارے پاس موجود ہے جو بعد میں میڈیا کے ساتھ شئرکیا جائے گا ۔ پھر تشدد کے بعد ان سے زبردستی اسٹام پیپر پر انگھوٹے لگائے جاتے ہے کے ہم اپنی مرضی سے واپس پاکستان جا رہے ہے پھر ان کو ڈی پورٹ کیا جاتا ہے
متاثرین کی کمیٹی کے بنیادی مطالبات
1) جن نوجوانوں کی ٹریننگ مکمل ہو چکی ہے اور وہ دو سال سے در بدر ہیں، انہیں فوری طور پر سرکاری وعدے کے مطابق یورپ بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں۔
2)سعودی عرب میں موجود نوجوانوں کو فوری طور پر معتبر کمپنیوں میں منتقل کیا جائے، ان کا روزگار بحال کیا جائے اور بقایاجات ادا کیے جائیں۔
3)اگر حکومت بیرون ملک بھیجنے میں ناکام رہی ہے، تو تمام تربیت یافتہ نوجوانوں کو صوبے کے اندر سرکاری یا نجی شعبے میں فوری باعزت روزگار دیا جائے۔
4اس پروگرام میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ کرپشن، فنڈز کے ضیاع اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والے ذمہ داروں کے خلاف فوری ہائی کورٹ کے جج کے تحت جوڈیشل انکوائری کا آغاز کیا جائے۔
یہ تمام جائز مطالبات ہے حکومت کو چاہیں کے ہںو ان متاثرہ نوجوانوں کی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر ان مسائل کا حل تلاش کرے۔ اگر حکومت نے ان جائز مطالبات پر فوری کان نہ دھرے اور نوجوانوں کی تذلیل کا سلسلہ بند نہ کیا، تو عید کی چھٹیوں کے بعد آئیندہ لائحہ عمل میں نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ متاثرہ نوجوانوں کے ہمراہ بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس درج کرے گی، سخت ترین احتجاجی تحریک شروع کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر ہوگی۔
نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ کے صوبائی جنرل سیکرٹری صورت خان کاکڑ و دیگر کی پریس کانفرنس ۔