BSO Pajjar Wahdat Balochistan

BSO Pajjar Wahdat Balochistan Save Education Save Nation

31/08/2026
29/08/2026

مستونگ کے باغات کاٹنے کی دھمکی بلوچستان کے عوام کے معاشی و ثقافتی وجود پر حملہ ہے، حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ عوام کے سروں پر نہ ڈالے
مرکزی ترجمان: بی ایس او پجار

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے مستونگ کے باغات کو مبینہ طور پر دہشتگردی کے لیے استعمال کیے جانے اور باغات کے مالکان کو انہیں ختم کرنے اور کیمپوں میں منتقل کرنے کی دھمکی پر شدید تشویش اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغات کاٹنے کی دھمکی محض درختوں کو کاٹنے کی بات نہیں، بلکہ بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کے معاشی مستقبل، صدیوں پرانے زرعی کلچر اور عوام کے بنیادی حقوق کو روندنے کی دھمکی ہے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ مستونگ کے باغات کسی فرد یا خاندان کی محض ملکیت نہیں بلکہ نسلوں کی محنت، محبت اور معاشی جدوجہد کی علامت ہیں۔ بلوچستان میں جہاں صنعتیں اور روزگار کے وسیع مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، جہاں ہزاروں نوجوان سرکاری ملازمت کے انتظار میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، وہاں باغات اور زراعت ہزاروں خاندانوں کا واحد ذریعۂ معاش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تہذیبی تاریخ میں زراعت اور زمین سے وابستگی کوئی نئی چیز نہیں۔ مہرگڑھ کی قدیم تہذیب سے لے کر آج تک زمین، پانی، کھیتی باڑی اور باغات بلوچ معاشرے کی معاشی اور ثقافتی زندگی کا بنیادی حصہ رہے ہیں۔ ان باغات کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنا بلوچستان کے تاریخی اور سماجی حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ کسی قوم کے معاشی وسائل اور ثقافتی جڑوں کو کمزور کرکے ترقی، امن اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ امن کے نام پر عوام کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر حکومت کے پاس کسی شخص یا گروہ کے خلاف شواہد موجود ہیں تو ریاستی قوانین اور آئین کے تحت کارروائی کی جائے۔ لیکن کسی جرم کا الزام پورے علاقے، باغات کے مالکان یا عام شہریوں پر ڈال کر ان کے معاشی وسائل تباہ کرنے کی دھمکی دینا نہ انصاف ہے، نہ حکمرانی اور نہ ہی امن کے قیام کا راستہ۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اپنی حکومت کی انتظامی کمزوریوں، ناکام پالیسیوں اور Bad Governance پر پردہ ڈالنے کے لیے آئے روز ایسے متنازع بیانات دینے کے بجائے بلوچستان کے حقیقی مسائل—بے روزگاری، تعلیم، صحت، پانی، روزگار، امن و امان اور بنیادی سہولیات—کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کا کام عوام کے باغات اجاڑنے کی دھمکیاں دینا نہیں بلکہ عوام کے لیے روزگار، تحفظ اور بہتر مستقبل پیدا کرنا ہے۔
مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او پجار بلوچستان کے عوام کے معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی حقوق پر کسی بھی قسم کی یلغار کو خاموشی سے برداشت نہیں کرے گی۔ مستونگ کے باغات بلوچستان کے عوام کی محنت کا ثمر ہیں؛ انہیں دھمکیوں سے نہیں بلکہ تحفظ اور بہتر زرعی پالیسیوں سے مضبوط کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، دھمکیوں اور اجتماعی سزا کی زبان ترک کرے اور عوام کے ساتھ تصادم کے بجائے مکالمے اور آئین و قانون کا راستہ اختیار کرے۔ بلوچستان کے عوام کو خوفزدہ کرکے ان کے معاشی وسائل اور ثقافتی شناخت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنے متنازع بیان کو واپس لیں، مستونگ کے باغات اور ان سے وابستہ خاندانوں کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور کسی بھی بے بنیاد اور غیر آئینی بیانات کا گریز کیا جائے۔
بی ایس او پجار واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام کے معاشی و ثقافتی حقوق پر کسی بھی حملے کے خلاف جمہوری، سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

28/08/2026

بی ایس او پجار بھاگ زون کے زونل آرگنائزر *ڈاکٹر اسرار بلوچ* کی مبینہ جبری گمشدگی ناقابلِ قبول ہے۔ فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ڈاکٹر اسرار بلوچ کی جبری گمشدگی حکومت اور ریاستی اداروں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ بازیابی تک خاموش نہیں بیٹھیں گے:
*مرکزی ترجمان بی ایس او پجار*

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار، بھاگ زون کے آرگنائزر ڈاکٹر اسرار بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے سیاسی و جمہوری کارکنوں کے بنیادی حقوق پر ایک اور سنگین حملہ قرار دیتی ہے۔
مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر اسرار بلوچ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار شہری اور نوجوانوں کی آواز ہیں۔ ان کو جبری طور پر اغوا کرنا نہ صرف ان کے خاندان کے لیے اذیت اور کرب کا باعث ہے بلکہ بلوچستان بھر کے سیاسی، سماجی اور طلبہ حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر چکا ہے۔
ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، مگر بدقسمتی سے حکومت اور ریاستی ادارے بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ آئے روز بلوچستان کی خونی شاہراہوں پر عوام کو اغوا اور جبری گمشدگیوں کا سامنا ہے۔ سیاسی کارکنوں، طلبہ، ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ حکومتِ وقت ڈاکٹر اسرار بلوچ کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائے۔
بی ایس او پجار حکومت اور متعلقہ اداروں کو واضح کرتی ہے کہ ڈاکٹر اسرار بلوچ کی بازیابی کے معاملے پر تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر انہیں فوری طور پر بازیاب نہ کرایا گیا تو بی ایس او پجار اپنے آئینی، جمہوری اور پُرامن حقِ احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کا راستہ اپنائے گی اور تمام جمہوری و پُرامن احتجاجی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گی۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بی ایس او پجار اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور سیاسی کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ڈاکٹر اسرار بلوچ کی بحفاظت بازیابی تک ہر جمہوری فورم پر ان کی آواز بلند کی جائے گی۔
بی ایس او پجار ایک بار پھر حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر اسرار بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور تمام شہریوں کے بنیادی، آئینی اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

*مرکزی ترجمان*
*بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار*

افغان مہاجرین اور بلاک شناختی کارڈز سے متعلق نیشنل پارٹی کا مؤقف بنیادی اساس ہے، قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: ...
28/08/2026

افغان مہاجرین اور بلاک شناختی کارڈز سے متعلق نیشنل پارٹی کا مؤقف بنیادی اساس ہے، قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: بی ایس او پجار

کوئٹہ: بی ایس او پجار شال زون کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین اور بلاک کیے گئے شناختی کارڈز کے حوالے سے نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کی بنیادی سیاسی اساس کی عکاسی کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ 1978 کے افغان انقلاب کے بعد بلوچستان میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد داخل ہوئی، جنہیں کیمپوں تک محدود رکھنے کے بجائے مبینہ طور پر جعلی شناختی کارڈز جاری کیے گئے، جبکہ بعض افراد نے بلوچستان میں جائیدادیں اور اثاثے بنائے، کاروبار میں حصہ لیا اور ہاؤسنگ اسکیمیں و ٹاؤنز قائم کیے۔ یہ صورتحال بلوچستان کی مقامی آبادی اور عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار بلوچستان میں آباد تمام اقوام کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے کبھی منافرت کی سیاست نہیں کی، تاہم بلوچستان کے مجموعی عوام کے بنیادی حقوق اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی نہیں کیا جائے گا۔

بی ایس او پجار شال زون کے ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف واضح ہے کہ جو خاندان 1979 سے قبل بلوچستان میں آباد تھے، انہیں بلوچستان کے مقامی باشندے تصور کیا جائے، جبکہ 1979 کے بعد بیرونِ ملک سے آکر بلوچستان میں آباد ہونے والے خاندانوں کے بلاک کیے گئے شناختی کارڈز فی الفور منسوخ کیے جائیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اس معاملے پر کسی بھی قسم کا سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور بلوچستان کے عوام کے قومی مفادات کا ہر فورم پر دفاع جاری رکھا جائے گا۔

27/08/2026

تربت:; نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالات تیزی سے ابتری کی طرف جا رہے ہیں، سیاست آزاد نہیں، عدلیہ آزاد نہیں اور صحافت بھی آزاد نہیں، تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود ہمیں راستہ نکالنا ہوگا۔

بلوچستان میں وزیرستان طرز کے کسی بھی آپریشن کے بلوچ سماج پر منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات انتہائی نازک اور گھمبیر ہوچکے ہیں، شاہراہیں بند، سڑکیں غیر محفوظ، بھتہ خوری کا سلسلہ جاری اور مجموعی طور پر جنگی کیفیت ہے جبکہ سیاسی اور معاشی صورتحال بھی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز تربت پریس کلب کے دورے کے موقع پر منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے دورے کے دوران اپنے فنڈز سے زیر تعمیر تربت پریس کلب کی نئی عمارت اور بی ایس ڈی آئی فنڈز سے تعمیر و تزئین و آرائش کیے گئے آڈیٹوریم کا معائنہ کیا۔

اس موقع پر تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو آڈیٹوریم اور زیر تعمیر نئی عمارت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے پریس کلب کی سالانہ گرانٹ میں اضافے اور پریس کلب کی ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری کے لیے تعاون کی درخواست کی۔حافظ صلاح الدین سلفی نے کہا کہ تربت پریس کلب کے لیے یہ باعث خوش بختی ہے کہ انہیں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جیسا مخلص اور ایماندار نمائندہ میسر ہے جو گزشتہ سال خود پریس کلب آئے اور نئی عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں عمارت اب تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔

یہ آڈیٹوریم پریس کلب کو دلانے کے لیے بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خصوصی دلچسپی لی اور میئر تربت بلخ شیر قاضی کو ہدایات جاری کیں جس کے بعد بی ایس ڈی آئی کے ذریعے آڈیٹوریم کی تعمیر و تزئین و آرائش مکمل کی گئی ہے۔جبکہ سینیٹر جان محمد بلیدی نے بھی ڈیجیٹل اسٹوڈیو کے قیام کیلئے 40لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربت پریس کلب ایک فعال ادارے کے طور پر عوامی مسائل اور مشکلات کو اجاگر کرنے، ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ اور معاشرے کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 20، 22 سال سے بلوچستان اور بلوچ سماج مختلف مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور اب صورتحال انتہائی نازک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ چار لاشیں نہ گریں اور چار نوجوان نہ اٹھائے جائیں۔ وزیرستان طرز کے آپریشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ اس نوعیت کے آپریشن کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، تاہم بلوچ سماج پر اس کے تباہ کن اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خدا بلوچستان میں ایسا دن نہ لائے کہ بلوچ اپنے ہی گھروں میں آئی ڈی پیز بن جائیں لیکن حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، ان میں بہتری کی امید کم اور صورتحال مزید ابتر ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ فریقین بات چیت کیلئے تیارنہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور بلوچستان کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ شاہراہوں کی بندش، سڑکوں کا غیر محفوظ ہونا، بھتہ خوری اور بدامنی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ سیاسی صورتحال کے ساتھ معاشی حالات بھی خراب ہیں۔

نیشنل پارٹی کے قائد نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ شخصیات کے بجائے اداروں کی مضبوطی پر توجہ دی ہے۔ تعلیمی ادارے، ادبی و ثقافتی ادارے، پریس کلب اور دیگر سماجی ادارے کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ کوئی بھی قوم مضبوط اداروں کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے تربت پریس کلب کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کی جانب سے جو ذمہ داری سونپی جائے گی، اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت پریس کلب کی ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے آئندہ بجٹ میں ایک کروڑ روپے مختص کرانے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ صحافت میں نئے اور نوجوان افراد کو آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، تحقیقی صحافت کو فروغ دیا جائے اور صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں پر توجہ دی جائے۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے رہنما کہدہ اکرم دشتی، واجہ ابوالحسن، واجہ ملا برکت بلوچ، ڈاکٹر محمد نور بلوچ، قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ،حاجی شوکت دشتی، ضلعی صدر یونس جاوید، جنرل سیکرٹری سرتاج گچکی، بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

24/08/2026

تعزیتی و خراج عقیدت بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار شال زون
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) شال زون کے انتہائی متحرک، باصلاحیت اور مخلص کارکن عرفان بلوچ کی پہلی برسی کے موقع پر ہم انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
عرفان بلوچ کا شمار ان نوجوانوں میں ہوتا تھا جنہوں نے طلباء سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے علمی بیداری اور طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔وہ صرف ایک تنظیمی رکن نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے لیے ایک ہمدرد اور فکری رہنما تھے۔ انہوں نے شال کے تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو کتاب، قلم اور شعور سے جوڑنے کے لیے محنت کی۔ وہ فکری نشستوں، مطالعاتی دائروں میں پیش رہتے تاکہ بلوچ نوجوانوں میں سیاسی و تعلیمی شعور بیدار کیا جا سکے۔ ان کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سچا نظریاتی کارکن وہی ہوتا ہے جو اپنے عمل سے دوسروں کو متاثر کرے۔
ان کا یوں اچانک بچھڑ جانا نہ صرف بی ایس او پجار بلکہ ان کے تمام دوستوں کے لیے ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان کی سچی دوستی، فکری سوچ اور روشن کردار ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ عرفان بلوچ کے درجات بلند فرمائے، اور خاندان، دوست احباب اور تنظیم کے دوستوں کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
دوستی جس کی مخلص، اور کردار جن کا زندہ ہو، وہ مر کے بھی نہیں مرتے۔
منجانب: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار شال زون

19/08/2026

گوادر: بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین بوہیر صالح بلوچ، نیشنل پارٹی کے صوبائی میڈیا سیکرٹری حفیظ علی بخش، بی ایس او پجار کے مرکزی رہنما نوید تاج اور نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے سابق جنرل سیکرٹری چیرمین فضل کریم نے نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے صدر ہوت عبدالغفور کی شریکِ حیات کے انتقال پر ان کے گھر جا کر تعزیت کی اور مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی۔ اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

14/08/2026

🎓 **ADMISSIONS OPEN | BS SESSION 2026–2030**

Govt. Boys Postgraduate College, Sariab Road, Quetta, announces **BS Admissions for Session 2026–2030**.

Take the first step toward a **bright future, quality education, and academic excellence**. Choose from a wide range of BS programs and begin your journey toward a successful career.

✨ **BS Programs Available:**
Zoology • Chemistry • Physics • Mathematics • Education • Computer Science • English • Urdu • Political Science • Sociology • History • Economics • Islamic Studies • Geography • Brahavi • Balochi • Pashto

🌐 **Apply Online:**
[https://portal.chte.gob.pk/session](https://portal.chte.gob.pk/session)

📞 **For Information:** Baloch student orientation ( Pajjar) shall zone

Asmat Baloch: 0334-2309234
Hamid Baloch: 0313-8280892
Jameel Baloch: 0317-0970644

**Don’t miss the opportunity — Apply Now & Build Your Future!** 🎓✨

Address

Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO Pajjar Wahdat Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share