27/08/2023
*بلوچستان میں پی ایم ایس(PMS) کا نفاذ اور بی ایس ایس (BSS)و بی سی ایس(BCS) تنازع۔*
سابقہ و زیر اعلیٰ بلوچستان، جام کمال صاحب کے دورِ حکومت میں بی ایس ایس (BSS)اور بی سی ایس (BCS)سروس گروپس کے تنازع کے حل کے لئے ایک 21 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں دونوں گروپوں کے درمیان 10 سال سے زائد ذیرالتوا مقدمہ بھی معزز ہائی کورٹ نے اسی کمیٹی کو ریفر کیا تاکہ بی ایس ایس (BSS)اور بی سی ایس(BCS) کے درمیان یہ تنازع حکومتِ وقت حل کرے۔
یاد رہے کہ بی ایس ایس(BSS) یعنی سیکرٹیریٹ سروس اور بی سی ایس (BCS)یعنی فیلڈ سروس میں افسران ایک جیسا امتحان یعنی PCS پاس کرکے تعینات ھوتے ہیں، لیکن ان دونوں سروس گروپس کے درمیان شروع سے ایک قانونی تنازع چل رہا ہے۔
21 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے کافی غور اور جائزے کے بعد درج زیل سفارشات جام صاحب کے حکومت کو پیش کی:-
1) بی ایس ایسBSS (یعنی سیکرٹیریٹ سروس) اور بی سی ایس BCS (یعنی فیلڈ سروس) کے درمیان غیر منصفانہ پروموشن شئیر کو وفاق سے ملنے والی 32 پوسٹیں , بی ایس ایس(BSS) کو دے کر حل کیا جائے۔
2) بلوچستان میں پی ایم ایس (PMS) سروس کا نفاذ تاکہ آئندہ وقتوں کے لئے یہ مسئلہ نہ ہو اور بی ایس ایس(BSS)، بی سی ایس( BCS) الگ الگ سروسز کے بجائے ایک یونیفائیڈ سروس یعنی پی ایم ایس( PMS)ہو۔
3) چونکہ موجودہ بی سی ایس(BCS)کے افسران بنا کسی سروس رول کے سیکریٹیریٹ میں بھی بطور SO، ڈپٹی سیکریٹری اور سیکریٹری پوسٹنگ لیتے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے، لہذا بی ایس ایس (BSS) یعنی سیکریٹیٹ سروس کے آخری batches 3 کے افسران جوکہ پی سی ایس (PCS)کے ذریعے ڈائریکٹ SO لگے ہیں، کو بھی بنیادی ٹریننگ کے بعد فیلڈ میں بطور ای سی(AC)، ڈی سی(DC) تعینات کیا جائے۔
جام صاحب کے صوبائی کابینہ نے 21 رکنی کمیٹی کے سفارشات متفقہ طور پر منظور کیے اور ساتھ ہی ایک کمیٹی بنائی کے دونوں سروس گروپ کے افسران اپنی تحفظات کمیٹی کے سامنے ایک مہینے کے اندر پیش کے جس کا بی سی ایس (فیلڈ سروس) نے بائیکاٹ کیا-
صوبائی کابینہ کے منظوری کے بعد، پہلے شِک کے تحت 32 وفاقی پوسٹیں جو بی ایس ایس (سیکٹریٹ سروس) کو ملنی تھیں، پر بی سی ایس(BCS) نے احتجاج کیا اور بالآخر سیکرٹیریٹ سروس کی طرف سے فراخ دلی کا مظائرہ کیا گیا اور ان پوسٹوں میں سے 40 فیصد بی سی ایس(BCS) کو دی گئ۔
کابینہ کے فیصلے کے پہلے شِک سے فائدہ اُٹھانے کے بعد بی سی ایس BCS (فیلڈ افسران) باقی دو شِکوں سے مکر گئے اور غیر قانونی احتجاج کا راستہ اپنا لیا۔
میر عبد القدوس بزنجو کے دور میں تحفظاتی کمیٹی نے دونوں سروس گروپس سے مشاورت کے بعد رپورٹ پیش کی کہ کابینہ کے فیصلے کو بلوچستان کے مفاد میں نافذ کیا جائے ، جسکی وزیر اعلیٰ میر عبد القدوس نے منظوری دی۔
اب فیلڈ افسران کابینہ کے فیصلے کے خلاف ہیں اور پی ایم ایس(PMS) کا نفاذ نہیں ہونے دے رہے اور نہ ہی سیکرٹیریٹ سروس کے آخری 3 بیچز کو فیلڈ میں آنے کی اجازت دے رہے حالانکہ خود بنا کسی سروس رول کے سیکرٹیریٹ کے پوسٹوں پر نہ صرف بیٹھے ہیں بلکہ غیر قانونی پروموشن بھی لیتے ہیں۔
سابقہ چیف سیکرٹری عبدالعزیز اوقیلی حکومتی احکامات کے برخلاف صوبائی کابینہ کے فیصلے کو نافذ نہیں کر رہے تھے اور حیلے بہانے سے کام لے رہے تھے۔ تاکہ دونوں گروپس آپس میں الجھے اور موسوف کا ٹرانسفر بد انتظامی حالت کے باعث نہ ہو۔
مزید یہ کہ پی ایم ایس(PMS) کے نفاذ سے صوبائی سول سروس مضبوط ہوگی اور ڈی ایم جی(DMG) جوکہ صوبے پر قابض ہے ، پنجاب، سندھ اور KPK کی طرح کمزور پڑ جائے گی جہاں PMS سسٹم رائج ہے۔
ایک مفاد پرست ٹولہ جو کہ فیلڈ میں زمباد گاڑی، پٹرول اور چین کا پیسہ کھا رہے ہیں یہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے قابل اور محنتی نوجوان فیلڈ میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔
پی ایم ایس(PMS) کے نفاذ سے بلوچستان میں یہ جھگڑا ہمیشہ کے لئے ختم ہوگا۔ اور آنے والے PCS امتحان کے تحت جو افسران تعینات ہونگے وہ سیکرٹریٹ اور فیلڈ میں بلا امتیاز جا سکیں گے۔ مزید یہ کہ پی ایم ایسPMS باقی تینوں صوبوں میں ہے اور وہاں طلباء پی ایم ایس PMSاور سی ایس ایسCSS کے لئے ایک ہی کورس پڑھتے ہیں۔ جبکہ بلوچستان میں طلباء کو الگ الگ سلیبس پڑھنا پڑتا ہے۔
سِتم ظریفی یہ ہے کہ 2 پیپرز سے لگنے والا
تحصیلدار جو کہ بورڈ آف ریونیو کا ملازم ہے، وہ بھی سیکرٹریٹ میں SO تعینات ہوتا ہے جوکہ سراسر عدالتی فیصلوں کے برعکس غیر قانونی مرجر ہے اور اسکے خلاف عدالت سےجلد رجوع کیا جائے گا۔