08/07/2026
کوئٹہ بلوچستان
بانی قومی مرکز علامہ محمد آصف حسینی نے قومی مرکز کے وفد کے ہمراہ ہنہ اورک اور زیارت میں بے گناہ پشتون شہریوں کے المناک قتل کے خلاف شہداء کے لواحقین کی جانب سے بی اے مال، ائیرپورٹ روڈ پر دیے گئے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
اس موقع پر قومی مرکز کی جانب سے جاری بیان میں ہنہ اورک اور زیارت میں بے گناہ پشتون شہریوں کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ معصوم اور نہتے انسانوں کا قتل اسلام کی تعلیمات، آئین و قانون، اخلاقی اصولوں اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسے سفاکانہ واقعات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی سانحہ ہیں بلکہ بلوچستان کے امن، بھائی چارے، قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی پر بھی حملہ ہیں۔
قومی مرکز نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد از جلد شفائے کاملہ نصیب کرے اور تمام سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہنہ اورک کے عوام دہائیوں سے کوئٹہ شہر کے لیے محبت، امن، رواداری اور مہمان نوازی کی روشن مثال رہے ہیں۔ ایسے پرامن شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
قومی مرکز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر شہری نہ شاہراہوں پر محفوظ ہوں اور نہ اپنے گھروں میں، تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری ہر شہری کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کرنا اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔
بیان میں وفاقی و صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ سیکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اس دلخراش واقعے میں ملوث دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
قومی مرکز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف، مظلوموں کی حمایت، قومی یکجہتی، امن اور انصاف کے قیام کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔