APCA Balochistan

APCA Balochistan ALL PAKISTAN CLERKS ASSOSIATION BPS -1 TO BPS- 16

10/03/2026

قلات میں الیکشن کنڈکٹ کرانے والے آفیسرز نے قسم اٹھایا ۔ کہ دھندلی نہیں کریں گے

قلات۔ پی بی 36 قلات میں سات پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر DRO ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر DMO اسسٹنٹ کمشنرقلات محمد طاہر سنجرانی،مانیٹرنگ افیسر MO اےڈی ای او قلات غلام فاروق مینگل سے حلف لے رہے ہیں

27/01/2026
ایم پی اے چاغی حاجی محمد صادق سنجرانی صاحب نے ملازمین کے ڈی آر اے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز ...
09/01/2026

ایم پی اے چاغی حاجی محمد صادق سنجرانی صاحب نے ملازمین کے ڈی آر اے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صاحب کو باقاعدہ لیٹر لکھ دیا ہے،

حاجی محمد صادق سنجرانی نے سی ایم بلوچستان کو کہا ہے کہ ملازمین کا یہ مسلہ حل کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں ۔
تاکہ ملازمین یکسوئی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔

02/01/2026

کمشنرز کو اختیارات دینا اور انہیں جسٹس آف پیس کے متبادل کے طور پر نامزد کرنا محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ عدالتی اختیارات کو انتظامیہ کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ موجودہ نوٹیفکیشن توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے، جسے بلوچستان بار کونسل مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف ہر ممکن قانونی اور آئینی جدوجہد کی جائے گی۔

01/01/2026

بلوچستان: ڈی سی اور کمشنرز کو ’عدالتی اختیارات‘ کی واپسی، عوام کے لیے سہولت یا ’ایگزیکٹو مجسٹریسی‘ کی بحالی؟

تحریر: مرتضیٰ زیب زہری

خاران کے نواحی علاقے کے رہائشی عبدالکریم کو گذشتہ برس اپنی زمین پر قبضے کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے لیے تین ماہ تک تھانے کے چکر لگانے پڑے۔

جب پولیس نے مقامی اثر و رسوخ کی بنا پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو عبدالکریم کے پاس واحد راستہ یہ بچا کہ وہ 300 کلومیٹر دور کوئٹہ یا کسی قریبی بڑے شہر کی ڈسٹرکٹ کورٹ سے رجوع کریں وکیل کریں اور ’جسٹس آف پیس‘ (سیشن جج) سے آرڈر لے کر آئیں کہ پولیس ان کی فریاد سنے۔

ایسا صرف عبدالکریم کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ بلوچستان کے ان ہزاروں سائلین کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے جو صوبے کے وسیع و عریض جغرافیے اور عدالتی نظام مشکل رسائی کی وجہ سے انصاف سے محروم رہ جاتے ہیں۔

تاہم حکومتِ بلوچستان کے ایک حالیہ فیصلے کے بعد اب عبدالکریم جیسے سائلین کو عدالت جانے کے بجائے شاید اپنے شہر کے اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک جانا ہو گا کیونکہ صوبائی حکومت نے انتظامیہ کو ’جسٹس آف پیس‘ کے اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز اب ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 22-A اور 22-B کے تحت وہی اختیارات استعمال کر سکیں گے جو عام طور پر ایڈیشنل سیشن جج کے پاس ہوتے ہیں یعنی پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دینا۔

بظاہر یہ فیصلہ عوامی سہولت کا دکھائی دیتا ہے لیکن قانونی ماہرین اور بیوروکریسی کے امور پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک پرانی اور حساس بحث کا نیا باب ہے۔

ماضی کے دریچوں سے: ایگزیکٹو مجسٹریسی کی کشمکش
پاکستان کی انتظامی تاریخ میں ’ایگزیکٹو‘ (انتظامیہ) اور ’جوڈیشری‘ (عدلیہ) کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی نئی نہیں ہے۔

انگریز دور سے لے کر سنہ 2001 تک پاکستان میں ’ایگزیکٹو مجسٹریسی‘ کا نظام رائج تھا جہاں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کے پاس بیک وقت انتظامی اور عدالتی اختیارات ہوتے تھے۔

وہ ضلع کا سربراہ بھی ہوتا تھا اور مجسٹریٹ بھی۔

تاہم سابق صدر ر جنرل پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرائے گئے ’پولیس آرڈر 2002‘ کے تحت پولیس کو ڈی سی کے کنٹرول سے نکال دیا گیا اور عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا۔ اس وقت دلیل یہ دی گئی تھی کہ انتظامی افسر غیر جانبدار منصف نہیں ہو سکتا۔

بلوچستان حکومت کا حالیہ فیصلہ درحقیقت اسی پرانے نظام کی طرف ایک جزوی واپسی ہے جسے بیوروکریسی اپنی کھوئی ہوئی طاقت کی بحالی کے طور پر دیکھتی ہے۔

دیگر صوبوں میں کیا صورتحال ہے؟

بلوچستان حکومت کا یہ اقدام اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ دیگر صوبوں میں بھی ایسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن وہاں نتائج مختلف رہے۔

سنہ 2016 میں پنجاب حکومت نے بھی ضابطہ فوجداری میں ترمیم کے ذریعے کمشنرز اور ڈی سی کو ’جسٹس آف پیس‘ کے اختیارات دیے تھے۔ اس اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

جنوری 2017 میں لاہور ہائی کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں ان اختیارات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ یہ اختیارات عدلیہ کے دائرہ کار میں مداخلت اور ’اختیارات کی تقسیم‘ کے آئینی اصول کے منافی ہیں۔

صوبہ سندھ میں کمشنری نظام بحال ہے اور وہاں بیوروکریسی خاصی مضبوط ہے تاہم عدالتی اختیارات کے معاملے پر وہاں بھی اعلیٰ عدلیہ کا رویہ سخت رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جو اقدام پنجاب میں عدلیہ مسترد کر چکی ہے، کیا بلوچستان میں وہ قانونی طور پر برقرار رہ سکے گا؟

بلوچستان کا جغرافیہ: حکومت کی سب سے بڑی دلیل

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا موازنہ پنجاب سے نہیں کیا جا سکتا۔

بلوچستان کے ایک سینئر سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’’پنجاب میں ہر چند کلومیٹر بعد عدالت موجود ہے، لیکن بلوچستان میں صورتحال مختلف ہے۔

یہاں اضلاع کا رقبہ اتنا وسیع ہے کہ سائل کو عدالت تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ہر تحصیل میں موجود اسسٹنٹ کمشنر کو یہ اختیار دینا دراصل عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف دینے کی کوشش ہے۔‘‘

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو گا اور پولیس کی من مانیوں پر انتظامیہ کا چیک اینڈ بیلنس رہے گا۔

’لوگو‘ مونوگرام کی ممانعت اور بیوروکریسی کا شوق

اس سنجیدہ پیش رفت میں ایک پہلو دلچسپ اور قدرے طنزیہ بھی ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس بننے والے افسران اپنی گاڑیوں پر اس کا ’لوگو‘ نہیں لگا سکیں گے۔

پاکستان میں بیوروکریسی کے کلچر سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہاں عہدے کا اختیار اور گاڑی کی نمبر پلیٹ کا سائز اکثر ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے یہ پیشگی ممانعت شاید اس خدشے کا اظہار ہے کہ کہیں افسران اس اختیار کو انصاف کی فراہمی کے بجائے اپنی شان و شوکت اور پروٹوکول بڑھانے کے لیے استعمال نہ کرنا شروع کر دیں۔

خدشات کیا ہیں؟

وکلاء برادری اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ضلع میں امن و امان کا ذمہ دار ہوتا ہے اور پولیس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

’’اگر ایک شخص پولیس کے رویے کے خلاف ڈی سی کے پاس جاتا ہے، اور اسی ڈی سی کو اسی پولیس سے امن و امان کے کام بھی لینے ہیں تو کیا وہ غیر جانبداری سے پولیس کے خلاف فیصلہ دے سکے گا؟‘‘

یہ وہ سوال ہے جو قانونی حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے اور اس کی نقول ہائی کورٹ اور متعلقہ اداروں کو بھجوا دی گئی ہیں۔

پنجاب کی عدالتی نظیر کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وکلاء تنظیمیں یا سول سوسائٹی اس اقدام کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہیں۔

عبدالکریم جیسے شہریوں کے لیے تو یہ خبر خوش آئند ہو سکتی ہے کہ اب ان کی داد رسی قریب ہی ممکن ہو گی لیکن کیا انتظامی افسران جن پر پہلے ہی پرائس کنٹرول سے لے کر پولیو مہم تک کی ذمہ داریاں ہیں ’جج‘ کا کردار بخوبی نبھا پائیں گے؟

01/01/2026

سال 2026 کا پہلا تحفہ بلوچستان کے عوام کو مبارک ہو

اب شہری انتظامیہ کے خلاف احتجاج نہیں کرسکتے کیونکہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے انتظامیہ کو عدلیہ کے اختیارات دے دیئے ہیں جس کے بعد انتطامیہ کسی بھی شہری کے خلاف کوئی بھی ایکشن لے سکتی ہے۔

ساڈا حق اتھے رکھ
26/06/2025

ساڈا حق اتھے رکھ

Address

Agriculte Extension Sariab Road Quetta
Quetta
83700

Telephone

+923003828625

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when APCA Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share