Bolshevik Group of Studies

Bolshevik Group of Studies The proletarians have nothing to lose but their chains. They have a world to win. Workers of the World Unite

05/07/2026

تحریر۔ لیاقت علی ایڈووکیٹ
جماعت اسلامی کے بانی امیرمولانا مودودی خود کو سیاست دان سے زیادہ دانشورکہلانا اورجتانا پسند کرتے تھے۔ وہ عوامی آدمی نہیں تھے۔وہ عوام میں گھلنے ملنے کی بجائے ان کو مناسب فاصلے سےملنے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ جماعت اسلامی کےکارکنوں، ہم خیال احباب اور جماعت اسلامی کی فکر جو دراصل مودودی ہی کی فکر کا عکس تھی سے متاثرین کی محفل میں زیادہ خوش اورمطمئن رہتے تھے۔ان کا فہم اسلام، لباس کی تراش خراش،رہن سہن کا انداز،طریقہ گفتگو اور نشست و برخاست پر شمالی ہند کی اردو سپیکنگ مسلمان اشرافیہ کے طبقاتی اثرات کی چھاپ بہت گہری اور نمایاں تھی۔ وہ قیام پاکستان کے بعد بتیس سال تک پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قیام پذیر رہے لیکن انھوں نے اپنی نجی یا سیاسی گفتگو میں پنجابی کا شائد ہی کوئی ایک شبد استعمال کیا ہو۔ جلسوں جلوسوں میں ان کی تقریر کا لب و لہجہ بھی روایتی مقررین کی طرح گھن گرج کے برعکس کتاب پڑھنے جیسا ہوتا تھا۔ پڑھے لکھے کارکنوں کی محافل میں دین و دنیا کے بارے چنیدہ سوالات کے جوابات دینا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ وہ اپنا زیادہ تروقت لکھنے پڑھنے میں گزارتے تھے۔ اپنی اس شخصیت کے اس پہلو کی بنا پر انھوں نے اپنی تمام سیاسی زندگی میں کبھی کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔کچھ لوگوں کا تو یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے فہم اسلام کے مطابق الیکشن پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے اور پچھلے دروازے سےایوان اقتدارمیں داخل ہوکر نظام اسلام نافذ کرنا چاہتے تھے۔شائد اپنے فہم اسلام کے زیر اثر الیکشن کی ڈائنامکس کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔1970 کا الیکشن جماعت نےانہی کی امارت میں لڑااوربری طرح شکست سے دوچار ہوئی تھی۔ پورے پاکستان سے جماعت اسلامی قومی اسمبلی کی صرف چار نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوسکی تھی۔ اس الیکشن کے بعد انھوں نے جماعت کی قیادت سے استعفی دے دیا تھا۔جماعت اسلامی کی امارت سے مستعفی ہونے کے بعد وہ آٹھ سال تک زندہ رہے بظاہر تو انھوں نے جماعت کی قیادت سے کنارہ کشی کرلی ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود جماعت کوئی بڑا سیاسی و تنظیمی فیصلہ ان کی مرضی و منشا کے بغیر نہیں کرسکتی تھی۔

مولانا مودودی کے بعد جماعت کے دوسرے امیرمیاں طفیل محمد کا محض ایک ہی تعارف تھا کہ وہ مولانا مودودی کے پیروکار اور پکے وسچے وفادار تھے۔ ایک ایسے پیروکار جو اپنے رہنما جو ان کے لئے محض سیاسی قائد ہی نہیں مذہبی گائیڈ بھی تھا، کی کہی ہوئی کسی بات کو رد کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتےتھے۔میاں طفیل محمد کی بے وقوفی اور سیاسی نااہلی جسے ان کے مداحین ان کی سادگی اور سادہ لوحی سے تعبیر کرتے تھے کی بابت مودودی کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالی نے میاں صاحب کو عقل کی بجائے خلوص کے دولت سے مالا مال کیا ہوا ہے ۔وہ مودودی کی تفہیم دین اورفہم سیاست کے مکمل طورپر قائل تھےاوراس بارے میں کسی دوسری رائے سننے کے متحمل نہیں تھے۔ وہ فکری طورپراوسط درجے کے شخص تھے۔ میاں طفیل محمد کا تعلق جالندھر کےنچلے درمیانے درجہ کےارائیں خاندان سے تھا۔ وہ اپنی شکل وصورت اور بول چال اور لب و لہجے میں جماعت اسلامی جیسی اہم سیاسی اور مذہبی جماعت کے رہنما کی بجائےکسی سکول کے دینیات کے ٹیچر لگتے تھے۔ان کا واحدعلمی کارنامہ علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب کے اردو ترجمے کا ترجمہ ہے۔ بھٹو دشمنی میں وہ مستقل مزاج تھےاور کیوں نہ ہوتے بھٹو دشمنی توانہیں اپنے مرشد مودودی سے ورثہ میں ملی تھی اوراپنا یہ ورثہ انھوں نےتمام عمربہت سنبھال کررکھا اوراس سے کبھی منہ نہیں موڑاتھا۔۔ بھٹو دشمنی میں وہ آخری حد تک جانے کے لئے ہمہ وقت تیاررہتے تھے۔
مودودی کے بعد بالعموم اور افغانستان میں ہونے والے امریکی سپانسرڈ جہاد کے دوران جماعت اسلامی کی امارت محض نمایشی عہدہ بن گیا اورجماعت میں موثر افراد کا ایک ایسا گروپ وجود میں آیا جو اہم اور کلیدی فیصلے کرتااورامیرجماعت کا کام یہ رہ گیا کہ وہ ان فیصلوں کا اعلان پریس کے روبرو کرئے ۔

میاں طفیل محمد کے بعد جماعت اسلامی کے آج تک چار امیر بن چکے ہیں اوران چاروں کا تعلق اپنے دور طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبا سے رہا۔ قاضی حسین احمد جب امیر جماعت بنےاس وقت افغان جہاد پورے عروج پرتھا اورجماعت اس سی ۔آئی اے سپانسرڈ جہاد میں آئی۔ایس۔آئی کے زیر سایہ بھرپورحصہ لے رہی تھی اور جہاد کے مالی اور معاشی فوائد سمیٹ رہی تھی۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان دنوں فوجی اشرافیہ کو جماعت کے لئے ایک پختون امیر کی ضرورت تھی جو افغان جہاد کو آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر کوآرڈی نیٹ کرسکے اس لئے امیر جماعت بننے کا قرعہ قاضی حسین احمد کے نام نکلا تھا۔ انھیں بلا مقابلہ رکن سینٹ بنوایا گیا اور ملکی پریس میں بڑی دھوم دھام سے لانچ کیا گیا تھا۔ قاضی حسین احمد نے اپنا علیحدہ تشخص بطورامیرجماعت بنانے کی بھرپورکوشش کی لیکن ان کی کوششیں ثمرآور ثابت نہ ہوسکی تھیں کیونکہ جماعت اپنی تنظیمی ڈھانچے اور فکری رحجانات کے باعث عوامی سیاسی جماعت بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ قاضی حسین احمد مودودی کی طرح نہ تو عالم دین تھےاورنہ ہی میاں طفیل محمد کی طرح ان کےمقلد محض۔ وہ جماعت کو مین سٹریم سیاست کا حصہ بنانا چاہتے تھے اور ایسا کرنے کے لئے ہر قسم کی سودے بازی اورسمجھوتے بازی کرنے میں انھیں کوئی باک نہ تھا۔ وہ فوج کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوری اتحاد بھی بنا لیتے تھے اورایم ایم اے کی صورت میں جنرل پرویز مشرف کی حمایت بھی کرگزرتے تھے۔ وہ جماعت کی سیاست کو طلبا سیاست کے انداز میں ایجی ٹیشن کی راہ پرڈالنے پر کوشش کرتے تھے۔ جماعت کے اندر موجود فکری طور پر مودودی کے عہد میں منجمد گروہ قاضی حسین احمد کی پالیسوں سے نالاں رہتا تھا لیکن جماعت میں امیر کو آمرانہ اختیار حاصل ہیں لہذا بغاوت کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ویسے بھی جماعت کی مرکزی قیادت ہو یا صوبائی وہ جماعت کے کسی نہ کسی کمرشل یا خیراتی ادارے سے باقاعدہ تنخواہ اور مراعات وصول کرتی ہے اور مالی منفعت کی یہ صورت جماعت میں اختلاف رائے اور باغیانہ خیالات یا اقدامات کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے۔
قاضی حسین احمد نے خود بھی ایک سے زاید الیکشن لڑے اورجماعت کےدیگرارکان کے الکینش میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ پہلی دفعہ انھیں افغان جہاد کے دورمیں گورنر سرحد لیفٹینٖٹ فضل حق نے رکن سینٹ منتخب کریا تھا ۔پھر وہ اسلامی جمہوری اتحاد کی ٹکت پر رکن قومی اسمبلی بنے تھے،سینٹر بنے اوربیٹی کو بھی رکن قومی اسمبلی بنوایا حتی کہ ہر وہ کام کیا جو اقتداری سیاست کے لئے ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ ظالمو قاضی آرہا ہے کا نعرہ ان کی ایجی ٹیشنل سیاست سے یاد گار ہے۔
قاضی حسین احمد کے بعد جماعت کے امیر منور حسن بنے۔ دلی سے تعلق رکھنے والے اردو سپکینگ مہاجر منور حسن اپنی اوائل عمری میں کچھ عرصہ کے لئے ترقی پسند طلبا تنظیم این۔ایس۔ایف سے بھی وابستہ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے این۔ایس۔ایف سے اپنی راہیں جدا کرلیں اور جماعت سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے بھی اپنی سیاسی کئیر یئرکا آغاز طلبا سیاست سے کیا تھا۔ منور حسن فکری تنگ نظری ، پسماندہ سماجی اقدار کے چیمپئن اور فوجی اشرافیہ کے جہادی تصور کے مداح اور حمایتی تھے۔ یہ منور حسن ہی تھے جنہوں نے اسامہ بن لادن کو شہید قراردیا تھا۔ وہ افغان طالبان کے نظریاتی حلیف اور ان کی کاز کو اسلامی احیا پرستی کا سمبل سمجھتے تھےان کا عہد امارت جماعتی تاریخ میں کسی خاص اہمیت کا حامل نہ ہے۔ وہ اپنی مدت امارت پوری ہونے کے بعد خاموشی سے گھر چلے گئے اور چند سال قبل فوت ہوگئے ۔

جماعت اسلامی کے چوتھےامیر سراج الحق نہ تو مولوی تھے اور نہ ہی کوئی دینی عالم۔ وہ سیدھے سادھے جماعتی کارکن ہیں جنھوں نے اپنا سیاسی کئیریر اسلامی جمعیت طلبا کے پلیٹ فارم سے شروع کیا تھا۔مودودی سے ان کا تعلق محض ان کی کتابوں کی وساطت سے ہوتو ہو براہ راست ان کو مولانا سے ملنے اتفاق ش*ذ ہی ہوا ہوگا۔ وہ جماعت کے پہلے چار سربراہوں کے مقابلے میں انتہائی ماٹھے اور فکری اور علمی طور پر کم زور تھے۔انھوں نے اوائل جوانی میں اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کر لی تھی۔وہ ایم۔ایم اے کی حکومت میں سنئیر وزیر رہے۔ وہ صوبی سرحد کے وزیر خزانہ بنے وہ سینٹر بھی بنے تھے۔ وہ عملی سیاست کے تقاضوں کے تحت ہر قسم کے حکومتی جورتوڑ میں شریک رہتے تھے اور اقتدار کی لوٹ سیل میں اپنا حصہ وصول کرنا نہیں بھولتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ بنگلہ دیش کا قیام انتخابی نتائج قبول نہ کرنے کی بدولت وجود میں آیا تھا۔ سراج الحق کی بات تو درست تھی اور ہے لیکن وہ یہ کہتے ہوئے یہ حقیقت بھول جاتے تھے کہ انتخابی نتائج کو نہ ماننے والوں میں مولانا مودودی اورمیاں طفیل جیسے جماعت اسلامی کے امیر شامل تھے۔ انہی اصحاب نے نام نہاد رضا کار تنظیموں البدر اور الشمس کے ذریعے بنگالی دانشوروں ، ادیبوں اور سیاسی کارکنوں کا قتل عام کرایا تھا اور جب میجر جنرل راو فرمان علی نے عوامی لیگ کے ارکان اسمبلی کو نااہل کروا کر ضمنی الیکشن کرائے تھے تو جماعت نے اپنے حصےکی ریوڑیاں مشرقی پاکستان اسمبلی نشستوں کی صورت وصول کی تھیں۔ دراصل سراج الحق خود پاکستان کی سیاسی تاریخ سے بے بہرہ اور ناوواقف تھے اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے لوگوں کو بھی پاکستان کے تاریخی حقایق سے شناسائی نہیں ہے۔ سراج الحق دو مرتبہ امیر جماعت اسلامی رہ کر اب جماعت کے تحت منظم ہونے والی لیڈر شپ ٹریننگ پروگرامز میں بطور مقرر حصہ لیتے اور جماعتی پنشن پر گذارا کرتے ہیں

جماعت اسلامی کے چھٹے اور موجود امیر حافظ نعیم الرحمان جن کا تعلق کراچی اور اردو سپکینگ کمیونٹی سے ہے نسبتاً نوجوان ہیں۔ انھوں نے بھی اپنے سیاسی کیرئیر کاآغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا تھا۔ وہ جماعت اسلامی کےمختلف تنظیمی عہدوں پر فا یز رہ چکے ہیں۔ وہ بھی قاضی حسین احمد کی پیروی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو عوامی اور مین سٹریم سیاست کا حصہ بنانے کے خواہاں اور اس کے لئے بہت دوڑ دھوپ کررہے ہیں لیکن اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں یا جماعت سے جڑے ان کے مفادات انھیں اس زمینی حقیقت کا ادراک نہیں ہونے دیتے کہ جماعت اسلامی اپنے عہد زوال میں داخل ہوچکی ہے۔اب جماعت اپنی اثاثوں کی بنا پر تو زندہ رہ سکتی ہے لیکن اپنی سیاسی قوت کے بل بوتے پر پاکستان کی سیاست میں رول اداکرنے کا دور گذر چکا ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست کے تضادات کا دلچپسپ پہلو۔ کے پی کے میں جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوکر الیکشن لڑ تی ہے جب کہ فاٹا میں وہ جمعیت کے خلاف الیکشن میں حصہ لیتی ہے اسے کہتے ہیں عملی سیاست جو نظریاتی سیاست کو طاق پر رکھ دیتی ہے۔

جماعت اسلامی سیاسی اور نظریاتی طور پر قصہ پارینہ بن چکی ہے اب اسے کوئی حافظ نعیم الرحمان یا اس قسم کا شعبدہ باز دوبارہ سیاست میں فریق نہیں بناسکتا ہے البتہ جماعت اسلامی کے اثاثوں کی حفاظت اور ان سے مستفید ہونے کے لئے جماعتی کارٹل کی سرگرمیاں ضرور جاری رہیں گی
Written by Liaquat Ali
Advocate Lahore
Published by Bolshevik Group of Studies ...............





BBC URDU
Nusrat Afghani
Pakistan Peoples Party - PPP

01/05/2026

20/04/2026
04/04/2026

ذوالفقار علی بھٹو کا قتل ایک assassination تھا جو کہ طاقت کی لڑائی کا لازمی نتیجہ تھا۔
بھٹو کی مبینہ پھانسی اور ضیاء الحق کی موت ایک جیسے ہی حالات کا نتیجہ تھے۔
بھٹو نے امریکہ کو سفید ہاتھی پکارنے کے باوجود اپنی خدمات کی پیشکش کی تھی جبکہ ضیاء الحق نے جینوا معاہدے پر امریکہ سے اختلاف کیا تھا۔
دونوں نے اسلامی بنیاد پرستی کو فروغ دیا تھا۔
سندھی ہوکر بھی بھٹو نے لانڈھی میں مزدوروں کا قتل عام کیا تھا جبکہ ضیاء الحق نے پنجابی ہوکر بھی ملتان میں مزدوروں پر گولی چلاوائی تھی۔
اسکے باوجود اگر کوئی ضیاء الحق کو پنجابی ہونے کی بنیاد پر بھٹو سے بڑا ظالم سمجھتا ہے تو اسکو چاہیے کہ پنجاب کے مشہور کمیونسٹ لکھاری اور دانشور جناب عبداللہ ملک کی تحریریں پڑھ لیں جنہوں نے بھٹو کو پنجابی سے بڑا پنجابی کا خطاب دیا تھا۔
کئی لحاظ سے بھٹو کی نسبت ضیاء الحق بہتر تھا جیسا کہ ضیاء الحق نے نیپ پر سے پابندی ختم کی اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا۔
بھٹو فوج کی پیداوار تھا جبکہ ضیاء الحق اسی ادارے کا حصہ تھا جس نے بھٹو کو جنم دیا۔
ضیاء الحق بھلے ہی امریکی آشیرباد سے آیا ہو لیکن بھٹو کو اسکی موت کے بعد بھی برطانوی خفیہ اداروں نے پروموٹ کیا تاکہ سوویت یونین کے حمایت یافتہ کمیونسٹوں کو کمزور کیا جاسکے۔
(نصرت افغانی۔ بالشویک گروپ آف اسٹڈیز)
Murder of Zulfikar Ali Bhutto was an assassination that was an inevitable result of power struggle. Bhutto's alleged hanging and Zia-ul-Haq's death happened under similar circumstances. Bhutto had offered services to the US, despite calling it a 'white elephant,' while Zia-ul-Haq had disagreements with the US over Afghanistan. Both promoted Islamic fundamentalism. Bhutto, despite being a Sindhi, ordered the killing of workers in Karachi's Landhi, while Zia-ul-Haq, a Punjabi, ordered firing on laborers in Multan. Despite this, if someone considers Zia-ul-Haq more tyrannical because he was Punjabi, they should read the writings of Abdullah Malik, a prominent Punjabi communist intellectual, who wrote that Bhutto was a bigger Punjabi than Punjabis. Zia-ul-Haq was better in some aspects, like lifting the ban on NAP and releasing political prisoners. Bhutto was a product of the military, while Zia-ul-Haq was part of the institution that created Bhutto. Zia-ul-Haq may have had US backing, but Bhutto, even after his death, was promoted by British secret agents to counter Soviet-backed communists.
( Nusrat Afghani. Bolshevik Group of Studies )

Imperialism spreading Bourgeoise Democracy 🗓 On March 24, 1999, the North Atlantic bloc started bombing Yugoslavia. The ...
25/03/2026

Imperialism spreading Bourgeoise Democracy

🗓 On March 24, 1999, the North Atlantic bloc started bombing Yugoslavia. The "military operation" against a sovereign state became a tragic milestone in the life of the Serbian people and delivered a devastating blow to international law.

The US & its cronies bombed the cities, including Belgrade, villages & civilian infrastructure for 78 days, blowing up bridges, passenger trains and buses and killing women, children & elderly people. In doing so, the West destroyed the post-WWII foundations of European security and started replacing the legitimate mechanisms that regulated international relations with a “rules-based order”.

▪️ 3'000 cruise missiles were fired at a sovereign European republic & 80'000 tonnes of bombs were dropped on its people.

The use of depleted uranium ammunition contaminated vast areas & caused an unprecedented rise in cancer-related diseases that continues to affect people to this day.

Serbian authorities estimate that approximately 2'500 people, including 89 children, were killed during the barbaric bombardment. Over 12'500 people were injured, and 1'500 settlements were destroyed. According to some sources, the material damage was estimated at between $30 billion and $100 billion.

Using the mocking label of “humanitarian intervention,” NATO targeted primarily civilian sites: residential areas, hospitals, schools, bridges, passenger transport and refugee convoys.

❗️ The US and NATO "military operation" against Belgrade was launched without approval from the UN Security Council, based on unfounded accusations against the authorities of Yugoslavia of conducting "ethnic cleansing" in Kosovo, allegedly triggering a humanitarian disaster in the region.

More than 200'000 non-Albanian residents of Kosovo, forced to flee their homes, have yet to return.

Under the cover of NATO's aggression, members of the so-called "Kosovo Liberation Army" committed heinous crimes, including the abduction and murder of Serbs for the illegal trade of human organs.

❗️ None of the NATO representatives has been called to account. The victims of the aggression were written off as “collateral damage,” meaning losses that "accompany" the fulfillment of the geopolitical ambitions of the US, the UK, and their satellites.

The issue of the NATO allies’ responsibility for the damage they have done to international relations and Yugoslavia remains unresolved.

***

📖 The book by the Chairman of the Foundation for the Study of Democracy Maxim Grigoriev 'War Crimes of NATO in the Territory of the Former ' was published in English.

👉 Read in full: War Crimes of NATO in the Territory of the Former Yugoslavia

https://shorturl.at/iXq5b

(Bolshevik Group of Studies)
Courtesy: Russian Foreign Ministry

The most sacred family for the Englishmen as well as the hero of British middle class.....اس شخص کا تعلق برطانیہ کے سب س...
21/02/2026

The most sacred family for the Englishmen as well as the hero of British middle class.....
اس شخص کا تعلق برطانیہ کے سب سے مقدس خاندان یعنی شاہی خاندان سے ہے جو بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں شریک پایا گیا۔ برطانوی مڈل کلاسیوں کا ہیرو۔

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bolshevik Group of Studies posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share