07/05/2026
جبری لاک ڈاؤن اور تاجر قائدین پر مقدمات کا اندراج ناقابلِ قبول، کاشف حیدری
ناجائز مقدمات اور انتقامی کارروائیاں تاجر برادری کے جمہوری حقِ احتجاج کو دبانے کی مذموم کوشش ہے، جبری بندشیں معاشی قتل کے مترادف ہیں، ترجمان
حکومت تاجروں کے صبر کا امتحان نہ لے، محمد کاشف چوہدری اور سید عبدالقیوم آغا پر درج مقدمات فوری ختم نہ کیے گئے تو سخت لائحہ عمل پر مجبور ہونگے، بیان
کوئٹہ/ اسلام آباد ( ) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن اور تاجر قائدین کے خلاف تھانہ مری میں مقدمات کے اندراج کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی بوکھلاہٹ اور فاشزم قرار دیا ہے، انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی صدر محمد کاشف چوہدری، جنرل سیکرٹری سید عبدالقیوم آغا اور مری کے مقامی تاجر رہنماؤں پر استغاثہ دائر کرنا سراسر زیادتی، ظلم اور تاجر برادری کے جمہوری حقِ احتجاج پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، ریاست اس وقت تاجروں کو معاشی ریلیف فراہم کرنے اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اب اپنی نااہلی و ناکامی کو چھپانے کے لیے سنگین مقدمات اور جبری لاک ڈاؤن کا سہارا لے کر عوام کا استحصال کر رہی ہے، ہم حکومت اور انتظامیہ کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ تاجروں کا معاشی قتل عام اور قائدین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں، تاجر برادری ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت انہیں سہولیات دینے کے بجائے تھانہ کچہری کے چکروں میں الجھانا چاہتی ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے اور تاجر رہنماؤں پر قائم تمام جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو فی الفور اور بلا مشروط ختم کرنے کا اعلان کرے ورنہ ہم کوئٹہ سمیت ملک گیر سطح پر شٹر ڈاؤن ہڑتال اور دمادم مست قلندر کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ نااہل حکمرانوں اور مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی، تاجر برادری اپنے حق کے لیے ہر حد تک جائے گی اور جبری بندشوں کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک کو اب منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیا جائے گا کیونکہ اب بقا کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔