Faqeer Abdul Fatah

Faqeer Abdul Fatah میرا مِزاج قلندری ھے، میرا فِکر شھنشاھی ھے، کیوں کہ میں اک رِند ہوں،

مختصر تذکرہ حضرت خلیفہ دائم فقیر خُشک رحہ، قسط 02,بقلم، ✍ فقیر عبدالفتاح قادری📜📜📜📩📩📄📄دائم فقیر اتنے دلیر و جرئت مند تھے ...
01/04/2026

مختصر تذکرہ حضرت خلیفہ دائم فقیر خُشک رحہ،
قسط 02,
بقلم، ✍ فقیر عبدالفتاح قادری
📜📜📜📩📩📄📄
دائم فقیر اتنے دلیر و جرئت مند تھے کہ
موجودہ پیر سائیں قبلہ اک مرتبہ تذکرہ فرمایا کہ اک مرتبہ دائم فقیر شکارپور میں اس وقت کے کلیکٹر یعنی آج کا ای ایس پی، سے سامنہ ھوا تو دائم فقیر گھوڑے پر سوار تھے اور کلیکٹر نیچے کھڑا تھا، کلیکٹر نے سلام کیا تو دائم فقیر گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے جواب دیا، اس پر کلیکٹر نے کھا کہ دائم فقیر ھم سے سب لوگ گھبراتے لیکن آپ ھمیشہ ھم سے بغیر ڈرے اور جرئت سے بات کرتے ھو اس دلیری کی وجہ کیا ھے۔۔؟؟
دائم فقیر نے بیپرواھی سے جواب دیا کہ تم لوگ انگریزوں کے غلام ھو اور ہم اپنے مرشد کامل کے ولیﷲ کی تابعداری یعنی ﷲ کی تابعداری، آپ کو انگریز کی سپوٹ ھے ھمیں ﷲﷻ کی اور جو لوگ ﷲﷻ سے ڈرتے ہوں تو وہ کسی انسان سے بھلا کیوں ڈریں، 😕
پھر پیر سائیں نے فرمایا یہ تھا اعتماد اپنے مرشد پر ﷲ پر لیکن آج کا انسان اک سپاھی سے ڈرتا ھے چونکہ ایمان و یقین کی بھت کمی ھے،

اب دائم فقیر کا وصال۔۔۔۔
دائم فقیر کو وصال سے کچھ دن پھلے کسی مرض کا عارضہ لاحق ھوا تھا،

بیماری کہ وجوہات کا ہمیں معلوم نا ھوسکا، لیکن آخری شام کو دائم فقیر، حضرت بھورل سائیں رحہ کے بنگلے شریف میں موجود تھے کچھ تکلیف تھی، بھورل سائیں بار بار فقیر کا حال پوچھتے مزاج پرسی فرماتے،
عشاء کی نماز کے بعد بھی حضرت بھورل سائیں نے فقیر کو زیارت کرائی اور آپ حویلی شریف میں تشریف لے گئے،
رات کی آخری حصے میں فقیر نے دنیا فانی سے عالم بقا کی طرف سفر فرمایا، صبح کی نماز پر جب پیر کامل حضرت بھورل سائیں تشریف لائے تو اطلاع عرض کیا گیا،
اس وقت کا حاضر خلیفہ صاحب ڈنو فقیر کلوڑ کو آپ نے حکم فرمایا کہ دائم فقیر کی آخری آرام گاھ حضور حافظ الملت کے روضے شریف کے ساتھ شمال کی جانب جگہ بنائی جائے،
تو اس پر صاحب ڈنو نے عرض کیا قبلہ وہ قبرستان تو آپ بزرگوں کے خاندان کے لئے مخصوص ھے۔۔؟
تب آپ نے جوش سے فرمایا کہ دائم فقیر بھی ھمارے خاندان کا ھے ھمارا صحی بیٹا ھے، اس نے ھمارے اور خانقاہ کے لئے ظاھر باطن خدمت کی ھے،
تب صاحب ڈنو کلوڑ نے رشک سے عرض کیا کہ سائیں مجھے بھی یہ شرف بخشنا اس قبرستان میں جگہ عنایت فرمانا،
تب آپ نے سنجیدگی سے فرمایا کہ صاحب ڈنا یہ مقام سفارش یا گذارش سے نھیں ملتا، بلکہ خلوص و وفا اور عملی نمونے سے ملتا ھے، ۰

خیر دائم فقیر رحہ کو اس خاص قبرستان میں دفنایا گیا جھاں خانقاہ بھرچونڈی شریف کے خاندان کے اور خاص قربانی دینے والے فقیراء کے مقبرہ موجود ھیں،
خیرات سے لیکر چالیسویں تک کا سارے انتظامات خانقاہ کے لنگر سے مکمل ہوئے،
اور اپنے پیچھے اک جریب زمین کا بھی درویش نے نھیں چھوڑا تھا جو کیا فقط خانقاہ کے لئے سبحانﷲ ۔۔۔
آج تک دائم فقیر کے قصے بڑے فقیروں کے پاس یادگار طور بیان کئے جاتے،

وہ وفا کر بھی گئے،
سلا لے بھی گئے،
دوستو اگر اس فانی دنیا میں کچھ رھتا ھے تو فقط کردار رھتا ھے،
لھذا آپ ھم سب اپنے ارد گرد دیکھیں کہ ھم نے کیا کھویا کیا پایا ھے، ھمارا کردار کو پیر سائیں سمیت جماعت کیا جانتی ھے سمجھتی ھے،
پچھلے سال پیر سائیں قبلہ نے دس محرم شریف کو قبرستان میں خطاب کے دوران فرمایا کہ مینے پچاس سال سے اوپر کا وقت آپ جماعت کے ساتھ گذارا ھے لیکن کسی اک بندے نے بھی میرا مقصد نھیں سمجھا اس لئے میں آپ تمام جماعت بمعہ خلفاء سب سے راضی نھیں ہوں😭😴
بھرچونڈی شریف کی معزز جماعت خدارا اپنے زندگی کا کوئی مقصد بنائیں اس کو انجوائے منٹ میں یا فضول نا گذاریں،
طالب دعا، فقیر عبدالفتاح

ملفوظات مالکان، جام عرفان، 📗📔عنوان، حق کی رضا صُورت اور لَباس کی پابند نھیں ھوتی، معرفت: 136 تحریر✍ فقیر عبدالفتاح قادری...
31/03/2026

ملفوظات مالکان، جام عرفان، 📗📔
عنوان، حق کی رضا صُورت اور لَباس کی پابند نھیں ھوتی،
معرفت: 136
تحریر✍ فقیر عبدالفتاح قادری،

کیچی فقیر بیان کرتے ھیں کہ اک دن حضور حافظ الملت، حافظ محمد صدیق القادری علیہ رحمت، بانی خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف، آرام پذیر تھے کہ آپ اچانک نیند سے بیدار ھوئے اور فقیر ﷲبخش کو طلب فرما کر حُکم فرمایا کہ، اونٹ تیار کرو اور ڈہرکی ریلوے اسٹیشن پر جاؤ، وھاں ریل میں سے اک آدمی اترے گا، اس کی شکل صورت کچھ یوں ھوگی، اس کا لباس ھندوو پنڈت جیسا گیڑو رنگ کا ھوگا،
اس کی داڑھی اور سر کے بال نھایت لمبے ھونگے، اس کے گلے میں عقیق پتھر والا ھار پھنا ھوگا، خاکی رنگ کا لباس ھوگا، اس کو اونٹ پر بٹھا کر لے آؤ،

فقیر ﷲبخش جلدی سے جاکر ریلوے اسٹیشن ڈہرکی پہنچا اور دیکھا ٹھیک اسی نشانیوں کے مطابق وھی آدمی کھڑا تھا، پنڈت نے فقیر ﷲبخش سے آنے کی وجہ پوچھی فقیر نے اپنے مرشد حافظ الملت کا احوال سارا سنایا، تب وہ پنڈت اونٹ پر سوار ھوا، اور حضور حافظ الملت کی خدمت اقدس میں حاضر ھوا، وھ کچھ دن خانقاہ بھرچونڈی شریف میں بطور مھمان رھا، اور جب بھی اس پنڈت سے حضور حافظ الملت کی صُحبت ھوتی تو جماعت میں ذوق شوق سے آہ گریہ طاری ھوجاتی، جب وہ پنڈت مستفیض ھوکر چلا گیا،
تو اس کے جانے کے بعد بھی تین دن تک ذوق شوق کا اثر جاری رھا،

تب حضور حافظ الملت نے فرمایا
👈 اے جماعت کے فقیرو یاد رکھو، حق کی رضا صورت اور لباس کی پابند نھیں ھے بلکہ،

یَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۷۴﴾

اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔

یہ محض ﷲ تعالی کا فضل ھے جس کو چاھے وہ عطا فرماتا ھے،
۔۔۔

مختصر تذکرہ حضرت فقیر دائم فقیر خشک، تحریر✍ فقیر عبدالفتاح قادری۔۔۔۔🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁دائم فقیر 👈 خشک قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، ...
31/03/2026

مختصر تذکرہ حضرت فقیر دائم فقیر خشک،
تحریر✍ فقیر عبدالفتاح قادری۔۔۔۔
🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁🍀🍁
دائم فقیر 👈 خشک قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، خانقاہ بھرچونڈی شریف کے دوسرے صاحب سجادہ خواجہ حضرت پیر عبدالرحمن المعروف بھورل سائیں علیہ رحمت سے دس بعیت اور خاص خدمتگار بھی تھا،
دائم فقیر اس وقت کے انگریز افسروں سے جب خانقاہ یا جماعت کے معاملات کے سلسلے میں ملاقات کرتا تو بڑے پُر رعب دبدبے سے برابری سے بیٹھ کر سامنا کرتا،
افسران خود دائم فقیر کی پر ھیبت شخصیت سے متاثر رھتے اور مودب بیٹھ کر بات چیت کرتے،
آخر ایسا کیوں نا ھوتا چونکہ دائم فقیر، فنا فی الشیخ کی منزل پر پھنچا ھوا تھا،
مرشد کی صُورت اس قدر دائم فقیر پر طاری رھتی تھی کہ جب گھوڑی پر سوار ھوکر مرشد کی پیروی کرتے ھوئے عمامہ پھن کر جس جگہ سے بھی گُذرتا لوگ دائم فقیر کو بھورل سائیں سمجھ لیتے تھے،
خانقاہ کے لنگر کا مکمل چندہ، لین دین سب دائم فقیر کے ھاتھ میں تھی لیکن فکر کا یہ عالم تھا کہ جسم پر پھٹا لباس پیوند لگا پھنتے، اک مرتبہ کسی انگریز افسر سے ملاقات کے وقت اس انگریز نے پیوند لگا لباس دیکھا تو طنزن آنکھ دکھائی، تب غیرت اور جوش میں آکر دائم فقیر نے بھورل سائیں کو عرض کیا قبلہ، اگر آپ کی اجازت ھوتو اک نیا لباس سلواؤں، کیونکہ جب غیروں سے ملاقات کرتا ھوں اور اس پیوند لباس سے تو میرے مرشد پر انگلی اٹھتی ھے بھورل سائیں کے خلیفے خادم مسکین غربت کے مارے ھوئے ھیں،؟؟
اس پر بھورل سائیں نے فرمایا دائم فقیر ھم نے تو سب کچھ آپ کے حوالے کیا ھے پوچھنے کیا ضرورت ھے تم ھم میں سے ھو ھم تم میں سے ھے، 😍سبحانﷲ
یہ سچائی سادگی سیدھا پن تھا،
استاد الھی بخش مرحوم نے مجھے (فقیر عبدالفتاح ) کو بتایا کہ اک مرتبہ حضرت بھورل سائیں کسی خلیفا پر برھم ھوئے تو جلالی میں فرمایا کہ کسی بھی کامل پیر سے اس کی بیوی اور ساتھ رھنے والے لوگ کبھی فیض نھیں لے سکتے کیونکہ وہ پیر کی بشری اوصاف یعنی کھانا پینا بیمار ھونا واشروم استمعال کرنے جیسی عادات دیکھ کر اپنے جیسا سمجھ لیتے ھیں اور اس وجہ سے فیض سے محروم رھتے ھیں،
یہ سن کر دائم فقیر سے چیخ نکل گئی اور شدت روتے ھوئے عرض کیا حضور پھر تو ھماری قیامت کالی ھوگئی ھم نے سب کچھ گنوا دیا۔۔۔۔
تب حضرت بھورل سائیں نارمل ھوئے اور دائم فقیر کو نزدیک کرتے فرمایا نا دائم فقیر کچھ فقیر خدمتگار ایسے بھی ھوتے ھیں جیسے ماں کی گود میں بیٹھے بچے کی طرح وہ بچہ ماں کی گود میں پاخانہ کرتا ھے پیشاب کرتا ھے لیکن ماں کو ذرا برابر بھی اس بچے سے کراہت یا نفرت نھیں ہوتی، لیکن وہ مزید پیارا لگتا ھے،
اے دائم فقیر سب بات کردار کی ھے، یہ سن کر دائم فقیر بھورل سائیں کے قدموں پر گرپڑا اور عرض کی ھمیں ھر حال میں قبول فرما۔۔۔آہ آہ

کیا وقت تھا وہ لوگ سچائی ایمانداری سے خدمت بھی کرتے ساتھ زاری بھی کرتے کے مبادا خدمت قبول ھے یا نھیں۔۔
بقول بھٹائی شاھ صاحب۔۔
👈 سنگ پسي سرھي نه ٿي متان پرين نه پنھنجو ڪن..
لکين لوڌائي ڇڏيون ٻانھيون ٻاروچن،
روئنديون رت وتن جيڪي در مٿي ھيون دادليون...
یعنی مرشد محبوب سے قریب ھوکر تکبر بڑھائی نا کر، اس کے در سے کئے بے ادبی کے باعث ذلیل ھوکر نکالے گئے،آج وہ دن رات خون کے آنسو رو رھے جو مرشد سے حُجت کرتے تھے۔۔۔

افسوس آج ھم دکھاوا کرتے فوٹو سیشن کرتے بے ادبی کا مظاھرہ کرتے بے ڈھنگے ھوکر کھانا کھاتے، اور بے حد مطئمن بھی ھیں😭😭

جاری۔۔۔قسط پھلی تھی
دوسری انشاءﷲ اگلے دن
شیئر کریں شکریہ
Khanqah Alia Qadria Bharchoundi Sharif Daharki
Dargah Alia Bharchundi Sharif

31/03/2026

حلال کھا اور سچ بول، پھر اگر خُدا نا ملے تو مُجھ سے پوچھ✊

حضرت شاھ عبدالطیف بھٹائی علیہ رحمت کی مزار شریف پر فقراء بھرچونڈی شریف کے ساتھ یادگار تصاویر، 💞💞💞
28/03/2026

حضرت شاھ عبدالطیف بھٹائی علیہ رحمت کی مزار شریف پر فقراء بھرچونڈی شریف کے ساتھ یادگار تصاویر، 💞💞💞

فقیر سائين جو 72 ساليانو ٻارھو فقير سائين جو ٻارهو وڏي عظمت، شان ۽ شوڪت سان ملهايو ويندو، جتي جماعتِ فقير ۽ فقراء وڏي تع...
27/03/2026

فقیر سائين جو 72 ساليانو ٻارھو
فقير سائين جو ٻارهو وڏي عظمت، شان ۽ شوڪت سان ملهايو ويندو، جتي جماعتِ فقير ۽ فقراء وڏي تعداد ۾ شرڪت ڪري هن روحاني تقريب کي چار چنڊ لڳائيندا
زیر صدارت: محبوب مرشد ڪريم سائين بادشاھ پير عبدالخالق القادري سجادہ نشین خانقاہ عالیہ درگاہ ڀرچونڊي شریف

زيرنگراني: جماعت ڀرچونڊي شريف و فقير غلام حسين قادري عرف فقير سائين ثاني

26/03/2026

سفر نورانی نور
23،03،2026
عید الفطر کا ٹوئر،
شاھ بلاول نورانی علیہ رحمت، بلوچستان،
لاھوتی سفر،

27/08/2025

ڀالوا، مَائي مَاروي جو کُوھ🎪🏜
مُڪمل پَڙھجو، دِلچسپ معلومات،

عُمر ماروي لوڪ داستان ھڪ سچي ڪھاڻي تي مشتمل آھي، جنھن ۾ کوڙ پھلو بطور سبق سمجھي سگھجن ٿا...

ڀالوا ھي ننگر پارڪار تعلقي جو ھڪ علائقو آھي جتي مائي ماروي جو گھر ھيو..
اچو داستان طرف....
نالي عُمر ھڪ بادشاھ ٿي گذريو آھي جيڪو سومرو قبيلي سان تعلق رکي ٿو،
سندس جُوڙيل عمرڪوٽ جو جڳ مشھور قلعو اڄ به پنھنجي ھيبت، عبرت دٻدٻي سان موجود آھي،
انھي مُلڪ ۾ ريٻار قبيلي منجھ ھڪ عورت رھندي ھئي جنھنجو نالو مائي ماروي ھيو،
ماروي پنھنجي برادري جي ھڪ نوجوان نالي کيت سان مڱيل پڻ ھئي،
ريٻار قبيلو ھڪ مالوند مسڪين قبيلو ھيو جنھنجو گُذران فقط مال🐏🐐🐂، ڏُڌ سانگي سان ھيو،
ھڪ ڀيري ڪنھن شخص اچي عُمر بادشاھ جي دربار ۾ مائي ماروي جي حُسن جي ڏاڍي ھاڪ ھنئي، اُن تعريف عُمر بادشاھ تي گِھرو اثر ڪيو،
جنھن سببيان ھُو، پنھنجين خاص ساٿين سان لباس مٽائي، عُمرڪوٽ کان 170 ڪلوميٽر جي لڳ ڀڳ سفر ڪري، اچي ڀالوا پھتو،
ماروي جي ڳوٺ ٻاھريان جتي اڄ به ھي کوھ موجود آھي اتي اچي لڪي ويٺو،
ڪا ويرم گُذري، ته ماروي به اچي سھيلين سان پاڻي ڀرڻ لاءِ پھتي،
عُمر اٽڪل سان ٻاھر نڪري کوھ طرف اچي ماروي کان پئيڻ لاءِ پاڻي جي گُھر ڪئي،
جنھن تي ماروي کيس پاڻي ڏنو، ٻُڪ سان پاڻي پئيندي عُمر سندس حُسن، سُونھن جو مُشاھدو ڪري ورتو، ۽ ساٿين کي اشاري سان سڏرائي، ماروي کي اُٺن تي سوار ڪري کڻي اچي عُمرڪوٽ قلعي پُھتو،
جتي ھُن ماروي کي ساڻن نڪاح ڪرڻ ھي پيشڪش ڪئي،
ليڪن ماروي سخت خفگي سان اھا پيشڪش کيس ٺُڪرائي ڇڏي،
عُمر بادشاھ کڻي ته آيو، اھو طريقو ته سندس غلط ھو، پر ڪنھن پارين ھُو مُڙس ماڻھو به ھو، ڇو ته ھُن ماروي کي به اھا ڳالھ ڪئي ته ھو جيسين راضي خوشي نڪاح نه ڪندي ته زبردستي نڪاح به نه ڪندو ۽ نه وري ڪا بد اخلاقي جو مظاھرو ڪندو،
خير
ھِن مائي ماروي کي راضي ڪرڻ لاءِ مختلف حيلا ھلايا، جھڙوڪ، نوان بخمل، ريشمي ڪپڙا، ان سان گڏ سينگار جو سامان، آڏو آندو، ۽ پلنگ، مٺايون، عمدہ نفيس کاڌا پيتا، مال دولت مطلب سڀ ڪجھ آڏو رکيو،
پر ماروي انھن سڀين شين ڏانھن اک کڻي به نه ڏٺو، ڇو ته ھُو ھڪ غيرت مند نياڻي ھئي جنھن تي اڄ به ٿر وارا فخر سان ڳاٽ اوچو ڪري ماروي جا ڳيچ. ڳائيندا آھن،
اگر ڏٺو وڃي ته ماروي نھايت مسڪين گھراڻي منجھان ھئي، ڪپڙا، زيور، کاڌا، مال دولت، عزت شھرت، سڀيئي سندس ضرورتون ھيون، پر غيرت، عزت حقيقي جو ڀرم رکيائين سڀ ٿُڏي ڇڏيائين،
شاھ ڀٽائي کيس ڏاڍو ڳايو آھي..
👇👇👇👇👇👇
آرَمَ ھَڏِ مَ اوڍِيان، پَٽولا، پَٽَ چِيرَ؛
ٻانڌُوڻا ٻَنِ ڏِيان، اَرغَچَ ۽ عَبِيرَ؛
مارُوءَ سين شَلَ ماڻِيان، کَٿِيُون جَھِڙيُون کِيرَ!
اَندَرُ اُڃَ اُڪِيرَ، مُون کي پِرينءَ پنوَھارَ جِي.
ترجمو،
مان ارمڪ (ريشمي ڪپڙا) ۽ پٽ پٽيھر ھرگز نہ پھرينديس. قيمتي پوتيون، بافتا ۽ آسماني رنگ جا نفيس لباس مان ٻن وجهان. شل مان ماروءَ سان (پنھنجي ورکيت سين) کير جھڙيون اڇيون ۽ اوجل کٿيون وڃي ماڻيان. مون کي پنھنجي اندر ۾ محبوب پنوھار جي پياس آهي.

اِيَّ نہ مارُنِ رِيتِ، جِئَن سيڻَ مَٽائِنِ سونَ تي؛
اچِي عُمرَڪوٽَ ۾، ڪندِيَسِ ڪانَ ڪُرِيتِ؛
پَکَنِ جي پرِيتِ، ماڙيءَ سين نہ مَٽِيان.
---
مارن جو اِهو دستور ناهي، جو سون جي لالچ تي پنھنجا سيڻ بدلائي ڇڏين. مان امر ڪوٽ ۾ اچي، اهڙي ڪڌي روش اختيار نہ ڪنديس. اَباڻن پکن لاءِ جا محبت اٿم، سا محل جي ماڙيءَ سان ھرگز نہ مٽينديس.
سبحانﷲ..
بھرحال قصو ڪُوتاھ،
عمر جا جڏنھن وس نه ھليا لاچار ٿي ته کوڙ ڏينھن بعد واپس کڻي اچي عزت سان سندس خاندان برادري ۾ اچي پھتو ۽ سڀن کي وڏي واقعي چيائين ته ماروي سان نڪاح ڪرڻ ٿي چاھيو پر ان جي مڪمل انڪار تي ساڳوئي پاڪدامني سان اوھان وٽ پھتي آھي، اُن غلط نا سمجھجو..
خير عمر بادشاھ تي واپس موٽي ويو،
پر سماج ڪٿي ٿو اھڙي داغ کي قبول ڪري، والدين تي رحم ڪندي قبوليو پر سندس مڱيندي، کيت ٺِپ انڪار ڪيو ته ھيترا ڏينھن بادشاھي محل ۾ رھي، ڪئين ٿي عزت بچائي سگھي،
پنچائت ڪٺ ۾ جڏنھن کيت انڪار ڪيو تڏنھن، غيرت، خودداري سان ڀريل مائي ماروي جوش منجھان اعلان ڪيو ته، سڀان ھن پنچائت جي سامھون باھ جو مُچ مچايو وڃي، آئون انھي باھ جي چخي منجھ گھڙندس، اگر سچي ھوندس ته جھان ڏسندو، اگر ڪُوڙي ھوندس ته مرجان سڙي رُک ٿيان باقي ان مھڻي سان نٿي جي سگھان،
خير
ٻي ڏينھن واقعي باھ جو آڙاھ ٻاريو ويو، روايت آھي ته ماروي نالو ڌڻي جو وٺي اُن آڙاھ ۾ ڪاھي پئي، ۽ 03 ڀيرا ان مچ باھ جي ۾ آئي ۽ وئي، پر سندس ھڪ وار کي به تئو ڪون آيس،
جنھنتي ماروي سَتي ثابت ٿي،
دوستو قصو مختصر ڪرڻ جي ڪوشش ڪـئي پر الھي وڌي ويو حالانڪه کوڙ حقيقتون بيان ناھيان ڪري سگھيو،
پر ھاڻ سنگت ڪمينٽ ڏي ته اوھان ان قصي بابت ڇا ڄاڻو ٿا ۽ ھن ۾ ڪيترا سبق سماجي موجود آھن، ۽ ڪيترا سبق روحاني ڀريل آھن..
ڪجھ گھڙيون اسان به اتي ويھي سنگت سان رھاڻ ڪئي سي..
طالب دعا، فقیر عبدالفتاح قادری

Address

Khanqah Bhharchundi Shareef
Raharki
663

Telephone

+923073260700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faqeer Abdul Fatah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Faqeer Abdul Fatah:

Share