Gabol House Rajanpur

Gabol House Rajanpur Kachehry Bangla Located In Middle of Rajanpur City, A Dera You Might Say Which is Dedicated For The S

14/10/2025
05/11/2022

Deeply saddened to announce the passing of our beloved, Mir Balakh Sher Mazari.

May Allah grant him the highest place in Jannat-ul-Firdaus. Ameen

The Namaz-e-Janaza will be held on Sunday 06-November 2023 after Zuhr Namaz in Rojhan Mazari, District Rajanpur, Punjab.

11/10/2022

By grace of almighty arranged free medical camp equipped with laboratory and pharmacy taken place in Gabol Jagir today.

11/10/2022

By grace of almighty arranged free medical camp equipped with laboratory and pharmacy taken place in Gabol Jagir today.

16/08/2022

این اے 246 سے پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار نبیل گبول ہونگے ۔

ضلع راجن پور کی غیور عوام کے نام چشم کشا تحریر
30/07/2022

ضلع راجن پور کی غیور عوام کے نام چشم کشا تحریر

ضلع راجن پور کے سیلاب متاثرین کے نام کھلا خط

قدرتی آفات ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں یا خداوند کریم آزمائش لیتا ہے شاید انہی آفات کی وجہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ انسانیت کے خیرخواہ کون لوگ ہیں، ضلع راجن پور میں بیشتر ہل ٹورنٹس ہیں جہاں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں اور پانی آباریوں کی طرف آ جاتا ہے پچھلے کچھ سالوں میں کوہ سلیمان پر بہت زیادہ بارشیں ہورہی ہیں، راجن پور کے لوگو اب آپ لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا کیونکہ ضلع سے تعلق رکھنے والے تمام سیاستدانوں کی تمام تر مصروفیات لاہور میں لگے سیاسی سرکس میں لگی ہیں ان کو اپنی سیٹیں کرسیاں اور اقتدار بچانا ہے انہیں اس عوام سے کوئی مطلب نہیں جو عوام ان کو منتخب کر کے ان ایوانوں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ اپنی عوام کے مفادات کا تحفظ کر سکیں مگر راجن پور کے لوگو اب ایسا نہیں ہے، راجن پور کی تاریخ میں ایک ایسا ڈی سی او گزرا ہے جن کے وقت میں اس ضلع کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا سیلاب آیا تھا لاکھوں کیوسک پانی آبادیوں میں داخل ہوا جسے شاید روکنا تو ممکن نا تھا مگر جو لاکھوں غیور لوگ گھروں سے بے گھر ہوئے ان کی مدد کرنا انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں کیلئے ممکن تھا اور یہی کیا ایک انسان دوست ڈی سی او غازی امان اللہ خان جتوئی صاحب نے، سیلاب آنے کے بعد آپ نے پنجاب گورنمنٹ سے ضلع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی آپ نے کم و بیش ایک لاکھ لوگوں میں وطن کارڈ کی شفاف تقسیم یقینی بنائی راتوں کو فیلڈ میں رہے کھانا تقسیم کرتے رہے خیمہ بستیاں بنائی اور نجانے کتنی راتیں جاگے ضلع کی پوری مشینری کو دن رات ایکٹیویٹ رکھا اور گراونڈ کی صورتحال سے اپنے ہیڈ آفس کو مسلسل اپڈیٹ رکھا اور آپ کی اسی انتھک محنت اور وقت پر پیش کی جانے والی رپورٹس کی وجہ سے ضلع کے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ سیلاب متاثرین کے پاس ہر طرح کی امداد بروقت پہنچی، مگر راجن پور کے لوگو مجھے معاف کیجیئے گا کیونکہ میں مایوس ہوں ان سیاسی اداکاروں سے ان لوگوں سے جو آپکی ہمدردی کا دعوی کرتے ہیں مگر آپکے ہمدرد نہیں، غازی صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے اس وقت کہ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی بھی آپکے پیچھے چلتے تھے، اور اب وہی لوگ لاہور میں اپنی سیاست بچانے کیلئے مگن ہیں، غازی صاحب راجن پور کے غیور لوگ اب بھی آپ کو یاد کرتے ہیں آپکی انسانیت دوستی کو یاد کرتے ہیں اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب آپکے آفس آنے کیلئے کسی اپوائینٹمنٹ کی ضروت نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ کمیٹی روم کا دروازہ کھولے سائیلین کے منتظر ہوتے تھے یاد کرتے ہیں اس وقت کو جب ان کے ساتھ کی گئ کسی بھی نا انصافی کی صورت میں صرف آپ کو مطلع کرنے کی دیر ہوتی تھی اور ان کی داد رسی ہو جاتی تھی یاد کرتے اس وقت کو جب آپکے ہوتے ہوئے ان کو ان سیاسی لوگوں کے ڈیروں کے دھکے نہیں کھانے پڑتے تھے اور سیاسی اداکاروں کے ڈیرے ویران ہو گئے تھے غازی صاحب 2012 کی ان قیامت راتوں میں آپ کا ہر وقت فیلڈ میں رہنا اس غیور عوام کو یاد ہے مگر غازی صاحب اب ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں اب جن آبادیوں میں پانی گھس گیا ہے وہ لوگ بے یارومددگار صرف خدا کی آس لیئے کھلے آسمان تلے بیٹھے آپکو یاد کرتے ہیں، غازی صاحب یہ آپکا دیا گیا شعور تھا کہ آپکے ٹرانسفر کے بعد پہلے الیکشن میں راجن پور شہر سے روایتی سیاستدانوں میں سے ایک بھی ایک پولنگ سٹیشن نا جیت سکا کیونکہ آپ ان غیور لوگوں کی آنکھیں اپنے عمل سے کھول کر جا چکے تھے اور اب ان لوگوں میں شعور آ چکا ہے، اب ضلع کے لوگوں کو آپ جیسا سول سرونٹ چاہیئے یہ لوگ کسی نوکر شاہی کو قبول کرنے پر تیار نہیں یہ لوگ ہر آنے والے افسر میں آپکی شخصیت کو تلاش کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب آنے والے اعلی آفیسران اپنے تعیں آپ جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں مگر بن نہیں پاتے، ضلع راجن پور کے غیور لوگو اب صرف خدا کی آس رکھو اب غازی صاحب جیسا افسر موجود نہیں کہ جس کے پیچھے سیاسی لوگ بھاگتے پھریں گے اب آپ کے نمائندے لاہور میں اپنی پر تعیش زندگیوں میں مگن ہیں اور ان کو آپکی تکلیفوں سے کوئی سروکار نہیں

خدا آپکا حامی و ناصر ہو

22/07/2022

اپنا نمبر تلاش کریں مگر قسم لگے کہ باز نہ آنا۔ ایسے ہی اپنی اپنی جماعت کے پیچھے چلتے رہو۔ ایک دن آئے گا جن کے پیچھے چل رہے ہو یہ سب باہر ہوں گے اور آپ لوگ اسی ملک میں ایک دوسرے کو نوچ کر کھائیں گے۔

نہ یہاں زرداری و آل اولاد کا کچھ ہے، نہ شریفین کا ، نہ فضل الرحمن کا، نہ ہی کسی اور چھوٹے بڑے لیڈر کا۔ آفشور کمپنی نیازی صاحب کی بھی برآمد ہوئی تھی جس کو انہوں نے مان لیا تھا اور انصافیوں نے اسے بھی جسٹفائی کر لیا تھا۔ اور کتنی آفشور ہیں یہ جب کبھی پھر برآمد ہوئیں تب پتا لگے گا ۔

یہ سارے اسٹیبلشمنٹ کے کھلونے ان سب کا مستقبل بیرون ملک محفوظ ہے۔ نہ اس ملک میں کوئی جرنیل رئیٹائر ہونے کے بعد رہتا ہے نہ اپنی آل اولاد یہاں رکھتا ہے۔ سب یہاں سے نکل لیتے ہیں۔ نہ کوئی جج نہ کوئی بیوروکریٹ یہاں ٹکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق چار لاکھ حاضر سروس و رئیٹائر افسران نے دوہری شہریت لے رکھی ہے۔ ان سب نے اپنا مستقبل باہر ہی پلان کر رکھا ہے۔

باقی کیری آن سیاست زدہ دوستو۔ اپنی جماعت کے گلا پھاڑ نعرے لگاتے رہو۔ مخالفین پر گولے پھینکتے رہو۔غیر ہمخیال لکھنے والوں کو کوستے رہو۔ مست رہو۔ یہ نشہ جس دن ہرن ہوا اس دن خود کو گولی مارنے کے سوا کوئی راہ نہیں دِکھے گی۔

08/07/2022

Request for vote and support in town committee mirpur sakro.

20/06/2022

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

خداوند کریم نے رزق کی قسمیں بنائی ہیں صرف کھانا پینا ہی رزق نہیں، کچھ لوگوں کو خدا بہترین ذہن رزق کی صورت میں عطا فرماتا ہے کچھ لوگوں کو خدا علم کی صورت میں رزق عطا فرماتا ہے، اسی طرح خداوند کریم کی ہر نعمت رزق میں شمار کی جائے تو کچھ لوگ خدا کی طرف سے اپنی مخلوق کیلئے بہترین نعمت و رزق ہوتے ہیں، ایسی ایک شخصیت جنہیں خدا تعالی نے راجن پور کی عوام کیلئے نعمت کے طور پر نوازا وہ سردار غازی امان اللہ خان جتوئی صاحب ہیں بطور مجسٹریٹ سروس کا آغاز کرنے والے غازی صاحب سردار گڑھ کی انتہائی شریف اور پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، آپ جیسے سروس مین شاید ہی اس ملک کی سول سروس نے دیکھے ہوں گے، بے انتہا شرافت خوف خدا جذبہ خدمت سے سرشار غازی صاحب واقعی اس بدبودار کرپٹ نظام سے عزت کے ساتھ ریٹائر ہونے والے حقیقی غازی ہیں، کلیدی عہدوں پر رہنے والے غازی صاحب 2012 میں ڈی سی او راجن پور تعینات ہوتے ہیں آپکی ضلع میں تعیناتی کے بعد راجن پور کی دھرتی کی خدا نے سن لی ہو جیسے، ضلع کیلئے آپکی خدمات بیان کرنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے مگر چیدہ چیدہ خدمات گوشگزار کر رہا ہوں: پورے ضلع کے قبرستانوں کی چاردیواریاں آپ نے منظور کی اور بنوائی نا صرف بنوائی بلکہ ہر روز علی الصبح جاری ترقیاتی سکیموں کا وزٹ کرنا میٹریل چیک کرنا آپکا معمول تھا، راجن پور شہر کا مکمل روڈ نیٹ ورک اور سیوریج سسٹم جو مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا آپ نے لیپس ہوتے فنڈز کو بچا کر بنوایا جن میں خورشید گیلانی روڈ' سردار شوکت مزاری روڈ' ناصر کھوسہ روڈ' مولانا عبیداللہ سندھی روڈ' کینال روڈ' شامل ہیں، ضلعی روڈ نیٹ ورک کو دیکھا جائے تو کم و بیش دو سو پچاس کلومیٹر روڈز آپ نے تجویز کیں فنڈز مختص کرائے اور انکی شفاف تعمیر کرائی، اسکے علاوہ راجن پور کو دیے جانے والے میگا پراجیکٹس میں شہر کے پارکس جن میں فخر جہاں پارک سرسید پارک قائم دریشک پارک فاضل پور میں ڈاکٹر عبداللہ پارک داجل میں ضامن پارک راجن پور شہر میں فاطمہ جناح لیڈیز پارک روجھان کا مین پارک جام پور میں وسیع پارکس و ماڈل بازار، دانش سکول فاضلپور جیسا میگا پراجیکٹ اور سکول آف ایکسیلنس بھی غازی صاحب کی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جن کی مکمل تعمیر سے لگا کر ایک ایک پھول کی نشونما اور آبیاری تک کو غازی صاحب کو نے روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا، ڈسٹرکٹ پبلک سکول جو ضلعی بجٹ پر سفید ہاتھی تھا اور ہر ماہ لاکھوں روپے نقصان میں تھا تعلیمی معیار گر چکا تھا شرفا اپنے بچے داخل کرانے سے ڈرتے تھے اس سفید ہاتھی کو غازی صاحب نے تمام غلاظتوں سے پاک کیا سکول کو ایمبولینس دی سکول کو نئ بلڈنگ دی مکمل چاردیواری دی معززین شہر و تعلیمی ماہرین پر مشتمل بورڈ آف ڈائیریکٹرز بنایا جنہوں نے میرٹ کو یقینی بنایا جام پور سکول کی برانچ قائم کی اور آپکی محنتوں کا ثمر صرف تھوڑے عرصے میں یوں حاصل ہوا کہ حکومت کا مقروض یہ سکول نا صرف امتحانات میں اچھا رزلٹ دینے لگا بلکہ جب غازی صاحب کا ٹرانسفر ہوا تو سکول کا اکاونٹ کروڑوں روپے سرپلس تھا اور بہترین تعلیمی معیار میں میں سب سے آگے تھا، میڈیکل کالونی جو کھنڈر کا منظر پیش کرتی تھی اسکے سیوریج سسٹم کی ریپئیر و بحال کیا کالونی کی چاردیواری بنا کر چادر اور چاردیواری کی عزت کی محفوظ کیا، ضلع کی صحت پر آپکی ہمیشہ خصوصی توجہ رہی اسی ضمن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی بنائی جسے آپ خود چئیر کرتے تھے ڈاکٹرز کی حاضری سے لگا کر دوائیوں کی فراہمی تک ہسپتالوں کی صفائی ستھرائی سے لگا کر مریضوں سے بہتر رویے تک سب پر کڑی نگاہ اور عوام کے فلاح و سکون اچھی صحت کو عزیز رکھنے والا یہ مرد قلندر کبھی اپنی صحت کو ملحوظ خاطر نا لاتے ہوئے لیٹ نائٹ ڈیوٹیز چیک کرنا آپ کا معمول تھا، عیدگاہیں جو ستر سالوں میں کبھی نا بنی تھی نا مرمت کی گئیں تھی ضلع کی اسی فیصد عید گاہوں کو مرمت کرایا کئ کو نئے سرے سے بنوایا، کس کس کارنامے کا ذکر کروں ستر سال کی محرومیوں کا ازالہ آپ نے اپنے محدود ٹینیور میں ختم کرنے کی کوشش کی اور کئ کو ختم بھی کیا شاید ہی راجن پور کے نصیب ایسا مسیحا پھر آئے مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے غازی صاحب کے ٹرانسفر کو سالوں گزرنے کے بعد بھی آج تک راجن پور کی غیور عوام آپکو سنہری لفظوں میں یاد کرتی ہے، آپ کی بہتریں ایڈمنسٹریشن کو دیکھتے ہوئے شہباز شریف انتظامیہ نے ایک بار پھر آپکو راجن پور تعینات کیا، غازی صاحب کے عوامی فلاح کے کارناموں میں ایک بہت بڑا کارنامہ آبی گزرگاہ بخاری ڈرین کی بھل صفائی اسکی بند مضبوط کرنا بھی شامل ہے محمکہ بلڈوزر جس کی مشینری گیراجوں میں گل سڑ گئ جسکے ملازمین نے کبھی ڈیوٹی نا کی تھی غازی صاحب کے مکمل ٹینیور میں کبھی بھی وہ خالی نا بیٹھے تھے آبی گزرگاہیں صاف کرائیں فلڈ بندہیں ڈلوائیں جس سے جانی و مالی نقصان بہت حد تک کم ہوا، راجن پور ضلع میں بہت سے میگا پراجیکٹس آپکی مرہون منت ہیں، تعلیم دوستی غازی صاحب کا خاصہ تھی راجن پور بوائز کالج سے ملحقہ یونیورسٹی بلاک آپ نے تعمیر کرائے، راجن پور کو سٹیڈیم جیسا تحفہ بھی آپکی مرہون منت ہے، جمنیزیم جیسے میگا پراجیکٹس بھی آپ کے وقت مکمل ہوئے، فلڈ کے دوران فلڈزدہ علاقوں میں راشن و کھانے کی تقسیم کو یقینی بنایا ان آفت کے دنوں میں راتوں کو جاگ جاگ کر کھانے کے فراہمی کے عمل کو مانیٹر کرنا آپکا معمول تھا، راجن پور کیلئے آپکی خدمات کو بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہو گا مگر آپکا ایک ایسا کام جسے بہت کم لوگ جانتے ہوں وہ یہ کہ آپنے بے سہارا بیوہ عورتوں کی فلاح کیلئے ایک اپنے دوستوں کے ساتھ ایک فنڈ قائم کیا جس سے آپ نے بے شمار یتیم بچیوں کی شادیاں کروائیں، بہت سی بیوہ بے سہارا خواتین کیلئے روزگار فنڈ کا اجرا کیا اور انکو باعزت روزگار دینے کیلئے سلائی مشینیں دی، یہ قلیل لفظ شاید ہی سردار غازی امان اللہ خان صاحب کی تمام خدمات اور کاوشوں سے انصاف کر پائیں راجن پور کی عوام شاید ہی کسی ڈی سی او صاحب کے نام تک سے واقف ہوں مگر جس دن غازی امان اللہ صاحب کا ٹرانسفر ہوا اس دن سینکڑوں آنکھوں کو اشک بار پایا گیا، میرے خیال میں غازی صاحب جیسے لوگ اس معاشرے کا حسن ہیں، کرپشن کی ہوا بھی آپکو چھو کر نہیں، خدا تعالی آپکا حامی و ناصر ہو خدا کرے غازی صاحب جیسے لوگ اس ملک کی تقدیر بنیں، آپ واقعی میں "محسن راجن پور" ہیں

Address

Rajanpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gabol House Rajanpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Gabol House Rajanpur:

Share