Meera sain public library ranipur

Meera sain public library ranipur Meeran sain public library is situated at the heart of ranipur city.

Its building is surrounded by chairman town committe ranipur,Ranipur pressclub and near water supply office ranipur.

27/08/2023

*حضرت امام حسینؑ عليه السلام فرمايو* اسان جا پیروڪار اھي آھن جن جون دليون ھر قسم جي خیانت ، ڌوکي ء فریب کان پاڪ ھونديون آھن۔

01/09/2018

تون منھنجو دوست آھين؟ پوء تہ سڀ کان وڌيڪ خوف مان توکان ڪريان
ڇوتہ جڏهن تون دشمن ٿيندين تڏھن سڀ کان خراب دشمن ٿيندين
شيخ اياز

30/08/2018

زمیں بیچ ڈالی ، زمن بیچ ڈالا ،
لہو بیچ ڈالا ، چمن بیچ ڈالا،
مین روٹی اور کپڑوں میں الجھا رہا ،
ایک شخص نے میرا وطن بیچ ڈالا۔

30/08/2018

کل کے مخبر
آج کے رہبر
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن صاحب نے ایک تھیسس لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ھے۔ جس کا عنوان ھے...
Punjab and the War of . Indpendence 1857
اس تھیسس میں انہوں نے جنگ آزادی کے حالات پر روشنی ڈالی ھے. جس کے مطابق اس جنگ میں جن خاندانوں نے جنگ آزادی کے مجاھدین کے خلاف انگریز کی مدد کی، مجاھدین کو گرفتار کروایا اور قتل کیا اور کروایا ان کو انگریز نے بڑی بڑی جاگیریں مال و دولت اور خطابات سے نوازا ان کے لئے انگریز سرکار نے وظائف جاری کئے۔
اس تھیسس کے مطابق تمام خاندان وہ ھیں جو انگریز کے وفادار تھے اور اس وفاداری کے بدلے انگریز کی نوازشات سے فیضیاب ھوئے۔ یہ خاندان آج بھی جاگیردار ھیں اور آج بھی اپنے انگریز آقا کے جانے کے بعد ھر حکومت میں شامل ھوتے ھیں۔
Griffin punjab chifs
Lahore ;1909
سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز سرکار نے ان کی خدمات کے عوض 300 روپے خلعت اور سند عطا کی تھی۔
Proceeding of the Punjab Political department no 47, june 1858
کے مطابق دربار حضرت بہاؤالدین زکریا کے سجادہ نشین اور تحریک انصاف کے رھنما شاہ محمود قریشی کے اجداد نے مجاھدین آزادی کے خلاف انگریز کا ساتھ دیا۔ انہیں ایک رسالہ کے لئے 20 آدمی اور گھوڑے فراھم کئے۔ اس کے علاوہ 25 آدمی لیکر
خود بھی جنگ میں شامل ھوئے۔
انگریزوں کے سامان کی حفاظت پر مامور رھے۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں تین ھزار روپے کا تحفہ دیا گیا۔ دربار کیلیئے 1750 روپے کی ایک قیمتی جاگیر اور ایک باغ دیا گیا جس کی اس وقت سالانہ آمدن 150 روپے تھی۔
جو حوالہ وزیر اعظم گیلانی کا ھے وھی اپوزیشن لیڈر چوھدری نثار علی خان کے اجداد چوھدری شیر خان کا ھے۔ان کی مخبری پر کئی مجاھدین کو گرفتار کر کے قتل کیا گیا۔ انعام کے طور پر چوہدری شیر خان کو ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار دیا گیا اور جب سب لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا تو انہیں پندرہ بندوقیں رکھنے کی اجازت اور 500 روپے خلعت دی گئی۔
Gujranwala Guzts 1935-36
Govt of Punjab.
کے مطابق حامد ناصر چٹھہ کے بزرگوں میں سے خدا بخش چٹھہ نے جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا وہ اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھے۔
قصور کے خیرالدین خان جو خورشید قصوری کے خاندان سے تھے نے انگریزوں کے لیئے 100 آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور خود بھتیجوں کے ساتھ جنگ میں شامل ھوا۔ انگریزوں نے اسے 2500 روپے سالانہ کی جاگیر اور ھزار روپے سالانہ پنشن دی۔
"۔’’احمد خاں کھرل کی مقبولیت بڑھی تو انگریزوں کو ڈر پیدا ہوا کہ ان کے مقامی سپاہی جلد یا بدیر احمد یا کھرل سے جا ملے گے۔ اس لئے 10جون1857ء کو ملتان چھاؤنی میں پلاٹون نمبر 69 کو بغاوت کے شبہ میں نہتا کیا گیا او رپلاٹون کما نڈر کو مع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑادیا گیا۔ آخر جون میں بقیہ نہتے پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا او رتہ تیغ کردیا جائے گا۔ سپاہیوں نے بغاوت کردی تقریباً بارہ سو سپاہیوں نے علم بغاوت بلند کیا۔ انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاؤنی کے درمیان پل شوالہ پر دربار بہاء الدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا او رتین سو کے قریب نہتے مجاہدین کو شہید کردیا۔ یہ شاہ محمود قریشی ہمارے موجودہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑ دادا تھے۔ ان کا نام ان ہی کے نام پر رکھا گیا کچھ باغی دریائے چناب کے کنارے شہرسے باہر نکل رہے تھے کہ انہوں نے دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا او ران کا قتل عام کیا ۔مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگ لگادی کچھ ڈوب کر جان بحق ہوگئے او رکچھ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ۔پار پہنچ جانے والوں کو سیدسلطان قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلال پور پیروالہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کردیا۔ جلال پور پیروالہ کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق علی بخاری انہی کی آل میں سے ہیں۔ مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کو نگاکی طرف نکل گئی جسے پیر مہر چاہ آف حویلی کورنگانے اپنے مریدوں او رلنگریال، ہراج، سرگانہ ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیرلیا او رچن چن کر شہید کردیا۔ مہر شاہ آف حویلی کورنگا سید فخرامام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا ۔اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد او رایک مربع اراضی عطا کی گئی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کو1857ء کی جنگ آزادی کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سواسی روپے آٹھ چاہات جن کی سالانہ آمدنی ساڑھے پانچ سوروپے تھی بطور معافی دوام عطاہوئی مزید یہ کہ1860ء میں وائسرائے ہند نے بیگی والا باغ عطا کیا مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے معاوضہ کے طور پر وسیع جاگیر عطا کی گئی

کاپی بشکریہ حیدر جمال صاحب

مفکر

19/08/2018

ساقي

ڇا تون ٻڌائیندي؟
آزادي ڇا آھي..؟

وقت جي ھنج م
بکي پيٽ رلندڙ
اماس راتين م
ڌين، ڌرم، مذھب کان
بي خبر وجود
پنھنجي بکي پيٽ کي
پنھنجو مذھب بڻائي،
ھن وقت جي انڌن ٻوڙن گونگن
حڪمرانن جي منھن تي ڀونڊا پيا ڏين،..!
ڇا تون ان بکي پيت کي
آزادي جھڙي لفظ جي معني سمجھائي سگھندي؟
ڇا تون ٻڌائیندي؟؟
آزادي ڇا آھي؟؟

زندگي جي روشنين م
معصوم مرڪن، دل سان نڪتل
ٽھڪن تي لڳل ڪرفيو،
چانڊوڪين جي ڪرڻن تي
اوندھ جي حڪمراني
بابا جي آخري پيشاني تي ڏنل چمي..!
ڀاء جو ڪيل آخري واعدو عيد جي خرچي..!
وڃايل ڪيئي وجود
انھن جي جدائي م تڙپندڙ سنڌ پچي ٿي..!
ڇا تون ٻڌائیندي؟؟
آزادي ڇا آھي؟؟

16/08/2018

تھیں یہی وادیاں تھے یہی پربت تھایہی پیارکاموسم
شاخوں میں تھے پھول سہانےپھولوں پرتھی شبنم
اِنکوتوھم بھول چکےھیں تمکوبھول نہ پائے

11/08/2018

ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﻋﺎﻟﻢ ﺟﺴﮯ ﺟﻮﻧﻌﻤﺖ ﺩﯾﺘﺎﮨﮯ ﺑﮧ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺩﻭﺍﻡ ﺩﯾﺘﺎﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺯﺍﺋﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻣﺴﺘﺤﻘﯿﻦ ﮐﻮﺩﯾﻨﺎﺑﻨﺪﮐﺮﺩﯾﺘﺎﮨﮯ-
امام تقی ع

08/08/2018

تعليم سان ئي تقدير بدلائي سگهجي ٿي

02/08/2018

سنڌ حڪومت سرڪاري نوڪري لاء عمر جي حد ۾✔ 15 سالن جو اضافو ڪري ڇڏيو
✅ 18 کان 43✔ سال
مهرباني ڪري هي پوسٽ شيئر ڪندا
نوٽيفيڪشن جاري

Address

Near Press Club Ranipur
Ranipur Riyasat

Telephone

03072625502

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meera sain public library ranipur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Meera sain public library ranipur:

Share

Category