Momal Kaiynat writes

Momal Kaiynat writes Novels group

تُو وہ بت ھے ، جسے تخیل کے صنم خانے میں۔۔۔میرے احساس کے آذر نے ، تراشا برسوں۔۔۔!
08/06/2024

تُو وہ بت ھے ، جسے تخیل کے صنم خانے میں۔۔۔
میرے احساس کے آذر نے ، تراشا برسوں۔۔۔!

ہم پر نہیں اب ان کی نظر دیکھ رہے ہیں۔۔۔دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!تھے گھر میں تو بیزار تھے گھر بار سے اپنے۔۔...
08/06/2024

ہم پر نہیں اب ان کی نظر دیکھ رہے ہیں۔۔۔
دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

تھے گھر میں تو بیزار تھے گھر بار سے اپنے۔۔۔
راہوں میں نکل آئے تو گھر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

ہم پیروں کے چھالوں سے چراتے ہوئے نظریں۔۔۔
ہاتھوں کی لکیروں میں سفر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

بھرتے ہیں جہاں زخم تو لے آتی ہے تازہ۔۔۔
ہم چارہ گری تیرے ہنر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

سمجھے تھے محبت میں کہ دستار سجے گی۔۔۔
کر بیٹھے تو کٹتے ہوئے سر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

دنیا نے سبق اتنے سکھائے ہیں کہ اب ہم۔۔۔
الفاظ نہیں لہجہ ، نظر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

اپنوں کی عطا دھوپ میں جھلسائے ہوئے ہم۔۔۔
اغیار کے آنگن میں شجر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

لے دے کے جہاں میں فقط آئینے بچے ہیں۔۔۔
ہم جیسوں کو جو بارِ دگر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

دستک کی تمنا لئے اک عمر سے ابرک۔۔۔
دیواروں کے اس شہر میں در دیکھ رہے ہیں۔۔۔!

جس سمت نہیں ہم، وہ ادھر دیکھ رہے ہیں۔۔۔
ہم بدلے ہوئے شام و سحر دیکھ رہے ہیں۔۔۔!!

اتباف ابرک

یہ خواب ہے، خوشبو ہے، جھونکا ہے کہ پل ہے۔۔۔یہ دھند ہے، بادل ہے، سایہ ہے کہ تم ہو۔۔۔!
21/07/2022

یہ خواب ہے، خوشبو ہے، جھونکا ہے کہ پل ہے۔۔۔
یہ دھند ہے، بادل ہے، سایہ ہے کہ تم ہو۔۔۔!

جو تیرا حق تھا وہ کس کس کے نام کر رہا ہوں۔۔۔یہ میں کہاں تیرے حصے کی شام کر رہا ہوں۔۔۔!
16/03/2022

جو تیرا حق تھا وہ کس کس کے نام کر رہا ہوں۔۔۔
یہ میں کہاں تیرے حصے کی شام کر رہا ہوں۔۔۔!

حلال ہوتی ہے پہلی نظر تو حشر تلک۔۔۔حرام ہو جو ہٹائیں، وہ اتنا دلکش ہے۔۔۔!جو دیکھ لیں اسے تو مصر بھر کے شاہی غلام۔۔۔چھری ...
03/06/2021

حلال ہوتی ہے پہلی نظر تو حشر تلک۔۔۔
حرام ہو جو ہٹائیں، وہ اتنا دلکش ہے۔۔۔!
جو دیکھ لیں اسے تو مصر بھر کے شاہی غلام۔۔۔
چھری پہ ہاتھ چلائیں وہ اتنا دلکش ہے۔۔۔!

عین ممکن ہے کہ حالات کی تلخی ہو کوئی۔۔۔سب کے سب عشق کے مارے تو نہیں ہوتے ناں۔۔۔!مسترد ہونے کو تم دل پہ لیے بیٹھے ہو۔۔۔سب...
01/02/2021

عین ممکن ہے کہ حالات کی تلخی ہو کوئی۔۔۔
سب کے سب عشق کے مارے تو نہیں ہوتے ناں۔۔۔!
مسترد ہونے کو تم دل پہ لیے بیٹھے ہو۔۔۔
سب کے سب جان سے پیارے تو نہیں ہوتے ناں۔۔۔!!

     عینی دروازے میں سن سی کھڑی اندھیرے میں دیکھ رہی تھی، دماغ کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا۔"کیا مطلب تھا اس کی بات کا؟"خال...
31/01/2021





عینی دروازے میں سن سی کھڑی اندھیرے میں دیکھ رہی تھی، دماغ کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا۔

"کیا مطلب تھا اس کی بات کا؟"

خالی خالی نظروں سے سامنے دیکھتی وہ بڑبڑائی۔

"کہ میں وہاج کی اس حالت کی زمہ دار ہوں؟ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟"

وہ بات کی تہہ تک نہیں پہنچ پائی تھی لیکن دل کو دھڑکا سا لگا تھا۔ اگر واقعی ایسا ہوا تو؟ ایک دم اس نے دروازہ بند کیا اور بے چینی کے عالم میں وہاج کے کمرے کی طرف بڑھی۔ اندر جھانک کے دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔ عینی کو لگا وہ سو گیا ہے۔ وہ بنا آہٹ پیدا کیے اندر آئی اور صوفے پہ جا بیٹھی۔ کتنی ہی دیر وہ آنکھیں چھوٹی کیے کچھ سوچتے ہوئے اسے دیکھے گئی۔ اتنا تو اسے اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ ریان اسے پسند نہیں کرتا لیکن یہ سوچ اسے پریشان کیے جا رہی تھی کہ وہ وہاج کی اس حالت کا زمہ دار اسے کیوں ٹھہرا رہا ہے۔

"ساری رات یہیں بیٹھ کے گزارنی ہے کیا؟"

وہاج کی آواز پہ وہ چونکی, اس نے دیکھا اس کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں۔ وہ آواز پیدا کیے بغیر آئی تھی پھر بھی وہ اس کی موجودگی محسوس کر چکا تھا۔

"تم یہ سب چھوڑ کیوں نہیں دیتے وہاج؟"

وہ بے اختیار پوچھ بیٹھی پھر زبان دانتوں تلے دبائی۔ بات ایسے تو نہیں شروع کرنی تھی۔

"یہ سب۔۔۔ کیا؟"

وہاج سر اٹھا کے گردن ترچھی کیے اسے دیکھنے لگا۔ وہ جانتا تھا وہ کس بارے میں بات کر رہی ہے پھر بھی پوچھ لیا۔

"یہ غنڈہ گردی، مار پیٹ۔"

وہاج نے سر پھر سے تکیے پہ گرا لیا۔

"کبھی سوچا ہے تمہیں کچھ ہو گیا تو خالہ اور چاچو کا کیا ہو گا؟"

وہ اٹھ کے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی، ایسے کہ اب وہاج سر اٹھائے اور گردن ترچھی کیے بغیر بھی اسے دیکھ سکتا تھا۔

"چھوڑ دوں گا۔"

بے نیازی سے کہہ کے اس نے آنکھیں موند لیں جیسے بہت سا کرب اپنے اندر چھپایا ہو۔ آنکھوں میں اتنی شدید جلن تھی جیسے کسی نے جلتے ہوئے انگارے آنکھوں پہ رکھ دیے ہوں۔ اس لیے وہ زیادہ وقت کے لیے آنکھیں کھلی نہیں رکھ پا رہا تھا۔ عینی خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کے ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور چہرے پہ سختی تھی، یقیناً وہ تکلیف میں تھا۔ عینی کو یکدم ہی اپنے لہجے کی سختی پہ غصہ آیا۔ کیا تھا جو وہ یہ بات کل پہ اٹھا رکھتی۔

"تمہیں کچھ چاہیے؟"

محض بات بڑھانے کے لیے اس نے پوچھا ورنہ وہ بھی جانتی تھی کہ وہاج اسے کبھی کوئی کام نہیں کہتا تھا۔ وہ اس کے پاس رکنا چاہتی تھی لیکن وہ یہ بھی چاہتی تھی کہ وہاج اسے رکنے کو کہے اور وہ بظاہر اس پہ احسان عظیم کر کے اس کی دیکھ بھال کے لیے وہاں رک جائے۔ وہاج نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ہچکچاتے ہوئے گویا ہوا۔

"مجھے نیند کی گولیاں چاہئیں وہاں الماری میں دوائیوں کا باکس ہے اس میں ہوں گی، اگر تم دے دو تو۔۔۔"

"عادت نہیں ہے، آج سر میں درد ہے تو نیند نہیں آئے گی۔"

عینی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تو اس نے جلدی سے وضاحت پیش کی۔ عینی کا دل نرم پڑنے لگا۔

"میں دبا دوں سر؟"

وہ الماری کی طرف جانے کی بجائے بیڈ کی طرف آ گئی۔

"تم واقعی یہاں ہو یا میرے سر پہ کچھ زیادہ ہی گہری چوٹ لگی ہے؟"

وہاج نے بھرپور حیرت سے اسے دیکھا تو وہ خفا خفا سی نظر آنے لگی۔

"تم نے بھی تو میرا اتنا خیال رکھا تھا جب میرے پاؤں میں کانچ چبھا تھا۔ تو مجھے تمہاری فکر نہیں ہو سکتی؟"

"ہو سکتی ہے، فکر تو ہو سکتی ہے بس محبت ہی نہیں ہو سکتی۔"

وہ اچانک اسے بہت اداس لگا، آنکھیں لہو ٹپکانے کے قریب تھیں۔ اس کی آنکھوں سے نظریں چراتے ہوئے وہ دھیرے سے اس کے پاس بیڈ پہ آ بیٹھی۔ وہاج عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے یقین ہو کے ابھی اسے چھوتے ہی وہ ہوا میں تحلیل ہو جائے گی۔ عینی نے دھیرے سے اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا، وہ گم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ وہاج نے پر سکون ہو کے آنکھیں موند لیں۔

"وہاج؟"

اس کے ماتھے پہ ہاتھ الٹ پلٹ کرتے ہوئے عینی نے اسے پکارا۔ اس کا ماتھا توے کی طرح گرم ہو رہا تھا۔

"تمہیں تو بخار ہے۔"

وہاج نے بغیر کچھ کہے اس کا ہاتھ اٹھا کے اپنی آنکھوں پہ رکھا۔

"ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم مجھ سے نفرت نہ کرو۔"

عینی کو شک گزرا کہ وہ اس کی بات نہیں سن رہا ہے۔

"میں نفرت نہیں کرتی تم سے۔"

اس کے لہجے پہ عینی کا دل دہل گیا تھا، اسے اپنے الفاظ پہ سخت شرمندگی ہوئی جن سے وہ وقتاً فوقتاً وہاج سے اپنی نفرت کا اظہار کرتی رہتی تھی۔

"محبت بھی تو نہیں کرتی نا؟"

وہ چپ ہو گئی۔ وہاج ابھی تک اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں پہ رکھے ہوئے تھا اور اس کی آنکھوں کی تپش وہ اپنے ہاتھ پہ محسوس کر سکتی تھی۔ وہ اٹھ کے کچن سے ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لانا چاہتی تھی تا کہ اس کے ماتھے پہ رکھ کے اس کا بخار کم کر سکے لیکن اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس کی آنکھوں سے اپنا ہاتھ ہٹائے۔ نجانے کب تک وہ ایسے ہی بیٹھی رہی، جب اسے اپنے ہاتھ پہ وہاج کے ہاتھ کی گرفت کم ہوتی محسوس ہوئی تو اس نے دوسرے ہاتھ سے وہاج کا ہاتھ اٹھا کے اس کے پہلو میں رکھا اور بہت دھیرے سے اس کے پاس سے اٹھ گئی۔

ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لے کے وہ واپس آئی اور ایک پٹی پانی میں بھگو کے اس کے ماتھے پہ رکھی۔ پھر اس کا سر دبانے لگی۔ پٹی گرم ہونے لگتی تو وہ اسے بدلتی اور پھر سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگتی۔ غنودگی میں وہاج مسلسل کراہ رہا تھا، کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا جو عینی سمجھ نہیں سکی۔ اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب اسے دیکھتے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کے وہاج کے بالوں میں گم ہونے لگے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیوں رو رہی ہے لیکن اس وقت وہاج کی حالت دیکھ کے اس کا دل کرلا رہا تھا۔ وہ تو ہمیشہ بلا جھجک کہا کرتی تھی کہ وہ وہاج سے نفرت کرتی ہے، اس نے ہمیشہ اس کے سامنے اپنی نفرت کا اظہار کیا یہ بھی نہیں سوچا کہ اس کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی۔ اسے اگر نفرت تھی یا شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تو اسے ہمت کر کے سب کے سامنے انکار کرنا چاہیے تھا، اور اگر شادی کر بھی لی تھی تو ایسے لفظوں کے تیر چلا کے وہاج کے دل کو ٹھیس پہنچانے کا اسے کوئی حق نہیں تھا۔ اسی پل اس نے سوچ لیا کہ بس اب وہاج کے ساتھ اپنا رویہ ٹھیک کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ صحیح کہہ رہا ہو، واقعی غلطی کسی اور کی ہو اور اگر ایسا ہوا تو وہ کیسے خود کو معاف کر پائے گی۔ دل نے وہاج کے حق میں دلیلیں دینا شروع کر دی تھیں اور وہ ہمیشہ سے اپنے دل کی سننے والی کیسے انہیں جھٹلا سکتی تھی۔ اس نے وہاج پہ یقین کر لیا۔ وہ جھوٹا نہیں تھا نہ ہی قابل نفرت۔۔۔ اس سے تو محبت ہونی چاہیے تھی۔

"محبت۔۔۔"

اس نے زیر لب دوہرایا۔

"یقیناً۔۔۔ تم محبت کے ہی قابل ہو وہاج۔"

وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔

**********

اگلی دوپہر وہاج کو تھوڑی دیر کے لیے ہوش آیا۔ ریان صبح سویرے ہی کسی ڈاکٹر کو لے آیا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی طبعیت اتنی بگڑ چکی ہو گی۔ وہ اس کی مرہم پٹی کے لیے ڈاکٹر کو ساتھ لایا تھا اور اب اس کی یہ حالت دیکھ کے اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عینی کے ساتھ کیا کر ڈالے۔ اسے وہی وہاج کی اس حالت کی زمہ دار لگ رہی تھی حالانکہ اس کی آنکھوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ساری رات نہیں سوئی ہے۔
ریان نے ایک نفرت بھری نظر اس پہ ڈالی، وہ چاہتا تھا وہ وہاج کے کمرے سے چلی جائے۔ اس کا بس چلتا تو ایک منٹ بھی عینی کو اس کے آس پاس نہ رہنے دیتا۔
بھائی کی دھمکی ملنے پہ ڈیوڈ صحیح معنوں میں گھبرا گیا تھا اور اس نے رات کو ہی ریان کے سامنے تسلیم کر لیا تھا کہ وہ وہاج کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، ان کا مقصد عینی کو اغواء کرنا تھا۔ وہاج کو جو نقصان پہنچا وہ اس لیے پہنچا کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے راستے میں آتا تھا۔ ڈیوڈ یہ نہیں جانتا تھا کہ جن لوگوں نے عینی کو اغواء کرنے کا کہا تھا وہ عینی سے کیا چاہتے ہیں لیکن اس نے بتایا کہ انہیں وہاج کو کوئی نقصان نہ پہنچانے کی سخت تاکید کی گئی تھی۔ ریان یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ عینی جتنی معصوم نظر آتی ہے اتنی ہے نہیں۔ کوئی تو وجہ ہو گی جو اتنے خطرناک لوگ پاکستان میں بھی اس کے پیچھے تھے اور اب لندن تک آ گئے تھے۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہاج کو اس میں ایسا کیا نظر آتا ہے کہ وہ اس کا قصور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ اس کی حالت دیکھ کے ریان نے طے کر لیا تھا کہ وہ اس بارے میں وہاج کو کچھ نہیں بتائے گا، عینی کو کچھ ہوتا ہے تو ہو جائے، بس وہاج کو کچھ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ وہاج کو یہ بات بہت پہلے کی معلوم ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر نے وہاج کو کچھ انجیکشنز دئیے اور پھر ڈرپ لگا دی۔ اس دوران ریان وہیں رہا۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ریان کا جاننے والا ہے اور ان دونوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔ وہ ریان کا ٹیم ڈاکٹر تھا جو اکثر جھڑپوں میں زخمی ہونے والے اس کے لوگوں کو ابتدائی طبی امداد مہیا کرتا تھا۔ ان دونوں کی موجودگی میں عینی زیادہ دیر باہر ہی رہی لیکن جب وہ کام سے جاتی تو ریان چاہتا وہ جلد از جلد باہر چلی جائے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ اندر گئی تو ریان نے صاف لفظوں میں اسے کہہ دیا کہ جب تک وہ وہاج کے پاس ہے اسے وہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عینی کو غصہ تو آیا لیکن ضبط کر گئی۔ باقی سارا وقت وہ باہر ہی رہی۔

رات کے کسی پہر وہاج کو ہوش آیا تو ریان بے تابی سے آگے آیا۔

"اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟"

"ٹھیک ہوں میں۔"

اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو درد کی ایک لہر پورے وجود میں سرایت کر گئی۔

"لیٹے رہو۔"

اسے واپس لٹا کے ریان نے سر دروازے سے نکال کے آواز لگائی۔

"وہاج کو ہوش آ گیا ہے سوپ بنا ہو تو لے آئیں، آپ کی مہربانی ہو گی۔"

آواز دے کے اس نے کھٹاک سے دروازہ بند کیا۔

"میں فرینک کے پاس گیا تھا اس میں عینی کی غلطی نہیں ہے۔"

وہاج کمزور سی آواز میں بولا تو ریان نے اس کی طبعیت کا خیال کرتے ہوئے بمشکل اپنا ہاتھ روکا۔

"وجہ تو وہی ہے نا، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہر مصیبت کی وجہ وہی ہے۔"

وہ سخت تپا بیٹھا تھا۔

"آواز آہستہ رکھو، سن لے گی وہ۔"

"سن لے نا۔ اسے بھی تو پتہ چلے میرے عزیز بھائی اور دوست کیوں اپنی جان گنوانے پہ تلے ہیں۔"

دروازہ کھلا تو وہ چپ ہوا۔ جملے کا آخری حصہ شاید اس نے کچھ کچھ سنا بھی تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی یا اندر آتی ریان نے اس کے ہاتھ سے ٹرے لی اور دروازہ اس کے منہ پہ بند کر دیا۔ عینی صدمے سے گنگ کھڑی رہ گئی۔

"یہ کیا بد تمیزی ہے ریان؟"

"بالکل چپ ہو جاؤ ورنہ بچی کھچی ہڈیاں میں نے توڑ دینی ہیں۔"

اس کا غصہ دیکھ کے وہاج چپ ہو گیا۔ اسے وہاج کی طرح جلدی غصہ نہیں آتا تھا لیکن جب آتا تھا تو وہ کسی کی نہیں سنتا تھا، ایسے میں وہاج بھی اس کے سامنے خاموش ہو جاتا تھا۔ اسے سوپ پینے کا حکم دے کے وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا لیکن وہاج کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ محسوس کر کے اس نے اس کے ہاتھ سے پیالہ لے لیا اور خود اسے سوپ پلانے لگا۔ وہاج بھی شرافت سے سوپ پیتا رہا اور اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ عینی لاؤنج میں بیٹھی بے دلی سے وہاج کے کمرے کے دروازے کو تک رہی تھی۔ ریان کے رویے سے وہ کافی حد تک دل برداشتہ ہو گئی تھی۔ کیوں وہ اس سے اتنی نفرت کرتا تھا؟ وہ وہاج کو نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتی تھی نہ کبھی ایسی کوشش کی تھی۔ وہ بس چاہ رہی تھی وہاج کا خیال رکھے اس سے اپنے پچھلے رویوں کی معافی مانگے لیکن ریان جانے کہاں سے اس کی کہانی میں ولن بن کے آ گیا تھا۔ پچھلی کئی راتوں کی طرح اس کی وہ رات بھی لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے کٹ گئی۔

*************

وہاج کی طبعیت خرابی کی وجہ سے اس ہفتے ان کا پاکستان جانے کا پروگرام ملتوی ہو گیا تھا۔ شام کو ریان کسی کام کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے لیے باہر چلا گیا۔ شاید بہت ہی ضروری کام تھا ورنہ وہ پچھلے دو دنوں سے وہاج کے ساتھ ہی تھا اور اس نے عینی کو وہاج کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا تھا۔ وہ گھر سے نکلا تو عینی اور وہاج دونوں نے سکھ کا سانس لیا۔ اس کے جاتے ہی عینی وہاج کی طرف آئی اور دروازے پہ دستک دی۔

"آ جاؤ قرت۔ تمہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں تمہارے شوہر کا کمرہ ہے۔"

وہ بس مسکرا دی۔

"طبعیت کیسی ہے تمہاری؟"

"ٹھیک ہوں لیکن مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی۔"

وہ کافی فریش لگ رہا تھا۔

"کیوں مجھے کیا ہوا ہے؟"

"آج تم نے میرے شوہر کہنے پہ "زبردستی کا شوہر" کہہ کے میری تصحیح نہیں کی نا۔"

عینی ہولے سے ہنس دی۔

"میں کہوں یا نہ کہوں، رہو گے تو تم زبردستی کے شوہر ہی۔"

"ولیمہ تو تمہاری مرضی سے ہی ہونا ہے، اس کے بعد نہیں رہوں گا۔"

اس وقت وہ بھول گیا کہ اس نے کیا سوچ رکھا ہے پھر یاد آنے پہ دھیما ہوا۔

"ہونا تھا، اگر تم مان جاتی تو۔۔۔"

عینی نے ایک دم اسے دیکھا۔ وہ اب کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اسے دکھ ہوا۔ کیا وہاج واقعی اسے چھوڑ دے گا؟

"آئی ایم سوری میں نے کہا تھا ہم تین مہینے سے پہلے واپس چلے جائیں گے لیکن اب لگتا ہے ریان اتنے جلدی ہلنے نہیں دے گا۔"

اس کے لہجے میں ریان کے لیے محبت ہی محبت تھی۔ عینی کا دل چاہا کہ وہ وہاج سے اس کی نا پسندیدگی کی وجہ پوچھے پھر اس نے خود ہی یہ خیال مسترد کر دیا۔ ہو سکتا ہے یہ صرف اس کا وہم ہو۔

"مجھے گھر جانے کی کوئی جلدی نہیں۔"

"واقعی۔۔۔؟"

"تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاؤں؟"

عینی نے بات بدلی۔

"ہاں لیکن مریضوں والا کھانا مت لانا۔"

"آج کل گھر میں مریضوں والا کھانا ہی بنتا ہے۔"

"تم بھی یہی کھاتی ہو؟ تمہاری کیا مجبوری ہے؟"

"مجھ سے دو دو کھانے نہیں بنتے نا، اس لیے۔"

اس نے کھسیانی سی ہو کے کہا۔ وہاج کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

"ٹھیک ہے لے آؤ جو بنا ہے لیکن تم اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گی۔"

"اب تم اتنے بھی بیمار نہیں ہو کہ خود نہ کھا سکو۔"

"ہاں لیکن یہ بدمزہ کھانے اپنے ہاتھوں سے کھانے کے لیے جو ہمت چاہیے وہ مجھ میں نہیں ہے۔"

وہ مسکراہٹ دباتی باہر نکل گئی۔

واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں دلیے کا پیالہ تھا۔ وہاج نے برا سا منہ بنایا۔ دلیہ تو اسے سوپ سے بھی زیادہ نا پسند تھا۔ عینی اس کے سامنے بیٹھی اور چمچ بھر بھر کے اسے کھلانے لگی۔ وہاج کچھ دیر خاموشی سے کھاتا رہا پھر گویا ہوا۔

"تمہیں غصہ نہیں آیا؟"

"کس بات پہ؟"

"کہ میں نے تم سے دلیہ کھانے کی فرمائش کیوں کی؟"

"نہیں۔"

"میں بیمار اور زخمی نہ ہوتا تو اس قسم کی بات پہ تم نے یہ دلیہ میرے سر پہ گرا دینا تھا۔"

"یہ ابھی بھی گر سکتا ہے اگر تم نے چپ چاپ یہ ختم نہ کیا تو۔"

وہ ہنس کے خاموش ہو گیا۔ باقی وقت وہ خاموش ہی رہا۔ دلیہ ختم ہوتے ہی وہ بولا۔

"پاکستان جانے کے بعد کیا کرو گی تم؟ مطلب مجھ سے طلاق لینے کے بعد؟"

عینی نے اداسی سے پلکیں جھکائیں۔ حلق میں آنسوؤں کا گولا سا اٹکا تھا۔ اسے سمجھ کیوں نہیں آتا کہ مجھے اب طلاق نہیں چاہیے۔ اس نے بے اختیار سوچا۔ اس طرح کے خیالات پی اب اس نے حیران ہونا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے خود سے اقرار کر لیا تھا کہ اسے وہاج سے محبت ہونے لگی ہے۔

"یونیورسٹی جوائن کرنی ہے، جہاں پڑھائی چھوڑی تھی وہیں سے شروع کرنی ہے۔"

"اور؟"

"بس۔"

اس نے پلکیں نہیں اٹھائیں کہ کہیں وہاج اس کی آنکھوں سے اس کے دل کی بات نہ جان لے۔ اس بات کا ادراک ہونے کے بعد کہ وہ وہاج کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، طلاق کی بات پہ اس کا دل بھر آیا۔
وہ برتن اٹھا کے باہر نکل گئی اور سنک پہ جھک کے کتنی ہی دیر روتی رہی یہاں تک کہ اس کی آنکھیں سوجھ گئیں۔ پہلی بار اسے طلاق لفظ اتنا چبھا تھا۔ وہ ہمیشہ سے اس وقت کا انتظار کرتی رہی تھی جب وہاج اسے چھوڑ دے گا لیکن اب وقت بدل گیا تھا اور اس کے دل کی حالت بھی۔ وہاج اس کے دل کی حالت سے بے خبر تھا اور عینی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیسے بتائے۔ اسے ڈر تھا کہ وہ اسی کی طرح اسے دھتکار نہ دے، اس پہ یقین نہ کرے اور کہیں اس کی نفرت سہتے سہتے اس کی محبت ختم نہ ہو گئی ہو۔ یہی وہ خدشات تھے جن کی بنا پر وہ وہاج سے کچھ بھی کہنے سے ڈر رہی تھی۔ اس لیے وہ چاہتی تھی کہ وہاج ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کہے بغیر اس کے دل کی بات جان لے لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ محبت کو اظہار کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔

"اتنی دیر لگا دی واپس آنے میں۔"

"برتن دھو رہی تھی۔"

عینی نے براہ راست اس کی طرف نہیں دیکھا تھا۔

"تم رو رہی تھی؟"

اس کی بھیگی آواز سے اسے اندازہ ہو ہی گیا۔ عینی کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے۔ وہاج بے چینی سے آگے ہوا۔

"کیا ہوا قرت؟"

"کچھ نہیں بس ایسے ہی۔"

عینی نے بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔ وہاج نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔

"آنسو یونہی تو نہیں آتے، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟"

اس کے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگے۔ وہاج نے اسے اپنے ساتھ لگائے رکھا اور رونے دیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے آنسوؤں سے اس کی شرٹ کا بڑا حصہ گیلا کر دیا۔ رو رو کے دل ہلکا ہوا تو وہ چپ ہو گئی۔

"اب بتاؤ کیا ہوا ہے؟"

وہاج نے اسے الگ کیا اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔

"مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں۔ مجھے لگتا ہے مجھ سے سب چھن جائے گا۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہاج۔"

"میں ہوں نا جاناں۔ زبردستی مسلط کیا گیا شوہر ہی سہی۔ تم مجھے ہر جگہ، ہر وقت اپنے پاس پاؤ گی۔ اللہ نہ کرے موت مجھ سے پہلے تم تک پہنچے اور اپنی آخری سانس تک میں تمہارے ساتھ ہوں۔"

اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کے یقین دہانی کروائی۔

"چھوڑو گے تو نہیں مجھے؟"

"بالکل نہیں۔"

عینی نے اس کی کہنی میں ہاتھ ڈال کے اس کے کندھے پہ سر رکھ دیا۔

"تم نے پرفیوم بدل لی؟"

"ہاں اسی لیے تو میرے پاس آ کے بھی تمہارا دم نہیں گھٹتا۔"

وہ مسکرایا۔ عینی نے کچھ نہیں کہا۔ کچھ دیر بعد وہاج نے دیکھا تو وہ سو چکی تھی۔ کندھے کے زخم پہ رکھا اس کا سر اسے تکلیف دے رہا تھا۔ وہاج نے نرمی سے اپنا بازو اس کے نیچے سے نکالا اور اس کا سر اپنے سینے پہ رکھا۔ اس نے دھیرے سے اس کی آنکھوں کو چھوا، نجانے وہ کتنی راتوں سے جاگ رہی تھی۔

میسج کی آواز پہ وہ چونکا۔ پاکستان سے اس گارڈ کا میسج تھا جس کی تحویل میں وہ بہروپیا تھا۔ وہاج نے کل صبح اسے چھوڑنے کا حکم دے کے گارڈ کو اس کے پیچھے لگا دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس شخص سے ضرور ملے گا جس کے کہنے پہ وہ یہ سب کر رہا ہے۔ میسج میں کسی لڑکی کی تصویر دیکھ کے وہ چونکا۔ مشرق کی لڑکیاں اس کی توقع سے زیادہ تیز ثابت ہو رہی تھیں۔ اس لڑکی نے چہرہ چادر سے ڈھانپ رکھا تھا اس کے باوجود وہ وہاج کو بہت جانی پہچانی سی لگی۔ اس نے ایک ہاتھ سے بمشکل تصویر زوم کی اور اگلے ہی لمحے اسے سخت دھچکا لگا۔ یہ کپڑے، چادر، سینڈل بہت دفعہ کی دیکھی ہوئی تھی۔ وہ تصویر کسی اور کی نہیں بلکہ اس کی اپنی بہن فاطمہ کی تھی۔ یقین کرنا بہت مشکل تھا۔ دروازہ کھلا تو وہ جیسے کسی خواب سے جاگا۔ اس نے ایک نظر ریان کو دیکھا جو ماتھے پہ بل ڈالے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور دوسری نظر عینی پہ ڈالی جو پر سکون سی سو رہی تھی۔ وہاج نے ہاتھ سے اسے چپ رہنے اور باہر جانے کا اشارہ کیا۔ وہ خفگی سے اسے دیکھتا باہر نکل گیا۔ وہاج نے احتیاط سے عینی کا سر تکیے پہ رکھا اور ریان کے پیچھے گیا۔ وہ جلا بھنا اس کمرے میں بیٹھا تھا جو بچپن میں اس کا ہوا کرتا تھا۔ اب بھی جب وہ آتا تھا تو یہیں رہتا تھا۔

"اس کی سوتن جیسا برتاؤ کرنا بند کرو ریان۔"

وہ اکتا کے بولا تو ریان کو اتنے غصے میں بھی ہنسی آ گئی۔

"یہ دیکھو، اس لڑکی کو جانتے ہو تم؟"

اس نے موبائل کی سکرین ریان کے سامنے کی۔

"یہ۔۔۔ یہ تو فاطمہ ہے۔"

وہ غور سے دیکھتے ہوئے بولا تو وہاج کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔ ریان جانے کیا کہہ رہا تھا وہ غائب دماغی سے سنتا رہا۔ پھر کس خیال کے تحت ایک دم اٹھا اور باہر نکل گیا۔ ریان حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا۔

**************
(جاری ہے)

Don't copy paste without permission.

آگ بجھتی ہے بظاہر یہ لگی رہتی ہے۔۔۔وہ گلی چھوٹ کے بھی اپنی گلی رہتی ہے۔۔۔!یہ نمائش ہے کہ ہونٹوں پہ ہنسی رہتی ہے۔۔۔ورنہ س...
13/01/2021

آگ بجھتی ہے بظاہر یہ لگی رہتی ہے۔۔۔
وہ گلی چھوٹ کے بھی اپنی گلی رہتی ہے۔۔۔!
یہ نمائش ہے کہ ہونٹوں پہ ہنسی رہتی ہے۔۔۔
ورنہ سوچوں میں سمندر سی نمی رہتی ہے۔۔۔!
غم دوراں کا بہت سخت ہے پہرہ پھر بھی۔۔۔
دل کے آنگن میں کوئی کھڑکی کھلی رہتی ہے۔۔۔!
کچھ تو دھندلا گیا ہے آئینہ تیرے دل کا۔۔۔
کچھ مرے چہرے پہ بھی گرد جمی رہتی ہے۔۔۔!
سب میسر ہے یہاں تک کہ بہت زائد ہے۔۔۔
کم تو کچھ بھی نہیں اور پھر بھی کمی رہتی ہے۔۔۔!
کچھ نہ کچھ ہوتی ہے ہر شخص کی ہی مجبوری۔۔۔
بس یہی سوچ کے اب سب سے بنی رہتی ہے۔۔۔!
لوگ تعبیر لیے بیٹھے ہیں دل کی چوکھٹ۔۔۔
نا خلف دل کی وہیں سوئی اڑی رہتی ہے۔۔۔!
میری باتوں میں کوئی بات نہیں ہوتی ہے۔۔۔
پھر بھی ہر بات پہ اک بات بنی رہتی ہے۔۔۔!
کتنا باریک ہے یہ خ*ل تمہارا ابرک۔۔۔
صاف دکھتا ہے کہ اس پار غمی رہتی ہے۔۔۔!!

     ہر اٹھتا قدم عینی کو اس کالی وین کے قریب تر لے جا رہا تھا۔ وین کی پچھلی سیٹ پہ کھلے دروازے کے بالکل ساتھ بیٹھے اس ش...
10/01/2021





ہر اٹھتا قدم عینی کو اس کالی وین کے قریب تر لے جا رہا تھا۔ وین کی پچھلی سیٹ پہ کھلے دروازے کے بالکل ساتھ بیٹھے اس شخص کی نظریں ساعت بھر کے لیے بھی اس سے نہیں ہٹ رہی تھیں، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ایک لمحے کی بھی تاخیر ان کی ساری محنت پہ پانی پھیر سکتی ہے۔ جب وہ محض چند قدم دور رہ گئی تو اس نے جیب سے ایک شیشی نکالی اور مہارت سے اس کی ایک خاص مقدار ہاتھ میں پکڑے رومال پہ انڈیلی، لیکن اسی وقت عینی کو رکتے دیکھ کے وہ چونکا اور آنکھیں سکیڑ کے اردگرد کا بغور جائزہ لینے لگا۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا چیز عینی کے رکنے کی وجہ بنی۔
وہ مڑ کے کمر پہ ہاتھ رکھے کھڑی منتظر سی کھڑی تھی۔ آخر اسے وہ وجہ نظر آ ہی گئی۔ اس نے غصے سے وین کے اندرونی حصے پہ مکہ مارا۔ اس کے ردعمل پہ اس کے ساتھی بھی چونک کے باہر دیکھنے لگے۔
وہاج دور سے بھاگتا ہوا عینی کی طرف آ رہا تھا۔ اس نے شاید اسے آواز بھی دی تھی تبھی وہ رک گئی تھی۔
غصے سے اس نے وین کا دروازہ زور سے بند کیا اور فون کان کے ساتھ لگایا۔

"وہ پھر بیچ میں آ گیا ہے۔ کہو تو گولی چلا دوں؟"

وہ وہاج پہ نظریں جمائے دانت پیستے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اس کی جان لینے کے لیے کتنا بے تاب ہے۔ جواب سن کے اسے مایوسی ہوئی۔ وہ جو بھی تھا نجانے کیوں وہاج کو نقصان پہنچانے پہ کبھی آمادہ نہیں ہوتا تھا۔
فون ساتھ والی سیٹ پہ پھینک کے اس نے پیچھے مڑ کے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا جو اب آمنے سامنے کھڑے تھے۔ وہاج کا چہرہ اس کی طرف تھا، اسی پل اس نے وہاج کی نظریں وین پہ محسوس کیں تو کالے شیشوں کے باوجود لا شعوری طور پر پیچھے ہو کے خود کو اس کی نظروں سے بچانے کی کوشش کی۔ رخ موڑ لینے کی وجہ سے وہ یہ نہیں دیکھ سکا کہ وہاج کی گہری نظروں نے دور تک اس کی گاڑی کا پیچھا کیا تھا جس کی نمبر پلیٹ پہ لکھا نمبر اسے بہت جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔

زبردستی واپس گھر لائے جانے کی وجہ سے عینی گھر تک وہاج کا دماغ چاٹتی آئی تھی اور وہاج ہمیشہ کی طرح تحمل سے سن رہا تھا۔ وہ یہ جاننا چاہ رہی تھی کہ وہاج اسے قید کر کے کیوں رکھنا چاہ رہا ہے۔ گھر آ کے بھی وہ کڑی نظروں سے اسے گھورتی رہی اور وہاج کمال مہارت سے اس کی گھوریاں نظرانداز کرتا رہا۔

"وجہ بس یہی ہے کہ مجھے تمہاری فکر ہے۔"

بلآخر اس نے زبان کھولی۔

"سیریسلی؟"

اس نے ایک ابرو اٹھا کے طنزیہ پوچھا۔

"ہاں جاناں۔۔۔ یقیناً تم نہیں چاہو گی کہ تمہارے اس غنڈے موالی شوہر کے گھٹیا قسم کے لوفر اور بد دماغ دشمن جو مجھے نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تمہیں اٹھا کے لے جائیں۔"

انتہائی سکون سے کہتا وہ اسے بے سکون کر گیا۔

"م۔۔۔ مجھے کیوں لے جائیں گے؟ تمہارے دشمن ہیں تمہیں لے جائیں۔"

عینی کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدلے۔

"تمہیں یاد ہے بچپن میں ہم جادوگر والی کہانی سنا کرتے تھے جسے مارنے کے لیے طوطے کی جان لینا لازم تھا؟"

"ہاں، کیونکہ اس جادوگر کی جان طوطے میں۔۔۔"

بولتے بولتے وہ رکی اور تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔

"کہنا کیا چاہ رہے ہو تم؟"

"یہی کہ وہ اگر وہ عقلمند ہوئے تو طوطے میں زیادہ دلچسپی لیں گے، اور ایک بات میں تمہیں بتا دوں میں بے وقوفوں سے دشمنی نہیں رکھتا۔"

وہاج کے اس رویے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی تھی ایسا تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ سمجھ رہی تھی وہ محض اسے تنگ کرنے کے لیے ہر جگہ اس کے پیچھے چلا آتا ہے۔

"تو تمہارے عقلمند دشمنوں کو یہ پتہ نہیں ہو گا کہ یہ محبت کی نہیں زبردستی کی شادی ہے؟"

"شادی تو ہے نا جاناں۔ رہی بات محبت کی تو تمہیں ان دو مہینوں میں بھی مجھ سے محبت نہیں ہوئی؟"

وہاج گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ غائب تھی اور وہ یہ سوال پوچھتے ہوئے مکمل طور پہ سنجیدہ تھا۔

"دو مہینوں میں تو کیا ساری زندگی تمہارے ساتھ رہ کے بھی مجھے تم سے محبت نہیں ہو گی۔"

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے سفاکیت سے بولی۔

"اتنے بڑے بڑے دعوے مت کرو کہ کبھی اظہار کرنا پڑے تو خود سے بھی نظریں نہ ملا سکو۔"

"ایسی نوبت ہی نہیں آئے گی، ایک مہینہ گزر جائے تو شکرانے کے نوافل پڑھوں گی میں۔"

وہاج خاموش دیکھ کے وہ تن فن کرتی کمرے میں آ گئی اور سارا غصہ دروازے پہ نکالا۔ وہاج آنکھیں چھوٹی کیے کچھ سوچتے ہوئے اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔

"محبت اور اس سے؟ مجھے اس سے کم نفرت اور زیادہ نفرت ہو سکتی ہے بس۔"

غصے سے کہتی وہ بیڈ پہ گر گئی اس بات سے بے خبر کہ عنقریب وہ وہاج کی جگہ ہو گی، تب اسے اس کا درد محسوس ہو گا۔ وہ اگر دکھاتا نہیں تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اسے واقعی عینی کی بے رخی سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ کئی بار اس کا دل چاہتا اسے اس کے حال پہ چھوڑ دے، اگر وہ اس سے دور رہ کے خوش ہے تو ایسے ہی سہی۔ لیکن پھر وہ اپنے اندر اتنی ہمت نہ پاتا کہ اسے خود سے دور کر سکے۔ محبت پہ اختیار نہیں ہوتا اور اب رفتہ رفتہ وہ خود سے بھی اختیار کھوتا جا رہا تھا۔ اس کی محبت میں اس سے وہ کام ہونے لگے تھے جو اس نے کبھی نہیں کیے اور وہ ترک ہو گئے جنہیں چھوڑنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے لیکن یہ اتنا ہی بھیانک بھی ہے۔ محبت اگر جینے پہ آمادہ کر سکتی ہے تو زہر بن کے رگوں میں پھیل کے قطرہ قطرہ جان نکال بھی سکتی ہے۔ یہی حال اس کا بھی تھا، محبت اس پہ اتنی مہربان کبھی نہیں رہی تھی کہ وہ ایک بار بھی اس کی خوبصورتی محسوس کر سکے۔ وہ اجنبی بن کے اسے ملی تو ہر پل کھو جانے کے خوف کے ساتھ اور جب اس کی ہوئی تو جیسے ہمیشہ کے لیے لاحاصل ہو گئی۔
وہ اب مایوس ہو رہا تھا۔۔۔ حد درجہ مایوس۔ اگر وہ اتنا وقت اس کے ساتھ گزار کے بھی اس کی آنکھوں میں اپنی محبت نہیں دیکھ سکی تھی تو وہاج جو چاہے کر لے وہ آگے بھی لا علم ہی رہے گی۔ اس پہر وہ اتنا بے رحم ہو گیا تھا کہ اس نے ترک کرنے کا فیصلہ کر دیا، اس سے یہ بات بالکل بھی برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ ڈیوڈ نے اسے خوفزدہ کرنے کے لیے عینی کو استعمال کیا تھا۔ عینی اس کے ساتھ صرف خوش نہ رہتی تو وہ اسے کبھی نہ چھوڑتا لیکن وہ اس کے ساتھ غیر محفوظ تھی یہ خیال اس کی دھڑکنیں روک دیتا۔ اسے اب یقین ہونے لگا تھا کہ پاکستان میں بھی جو کوئی عینی کے پیچھے تھا وہ اسی کی وجہ سے تھا، اس کا مقصد بھی عینی کے دل میں وہاج کے لیے نفرت پیدا کرنا تھا۔ اس پہ آنے والے سبھی خطرات کہیں نہ کہیں وہاج کی ذات سے جڑے تھے۔ لیکن اسے ڈر تھا کہ وہ اسے نہیں پائے گا، جب سارا اختیار اس کے ہاتھ میں ہوا تو وہ عین موقع پہ کمزور پڑ جائے گا۔ دل کو سمجھانا بہت مشکل تھا لیکن وہ یہ کر ہی لے گا، اسے کرنا ہی پڑے گا۔



وحید صاحب اپنے آفس میں فائلوں میں سر دیے بیٹھے تھے جب ٹیلیفون کی گھنٹی نے ان کی مصروفیت میں خلل ڈالا۔ انہوں نے فائل سے نظریں ہٹائے بغیر کریڈل کان کے ساتھ لگایا لیکن کریڈل میں سے آتی آواز سن کے ان کے ہاتھ سے قلم چھوٹ کے کاغذات کو داغدار کر گیا۔

"تو کیا سوچا تم نے؟"

"میں بس یہ چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کو کچھ نہ ہو۔"

"واقعی؟"

دوسری جانب موجود شخص ان کے جواب پہ خاصا محظوظ ہوا تھا۔

"یقیناً اب تم سمجھ گئے ہو گے کہ میں کچھ غلط نہیں کر رہا۔"

وحید صاحب نے بے حد کرب سے آنکھیں بند کیں۔

"تم نے میرے لیے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا تھا۔"

عینی کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہی وہاج گھر سے باہر نکلا اور دوبارہ گھر نہیں گیا تھا۔ جانتا تھا اگر پھر اس نے عینی کے ساتھ وقت گزارا تو وہ فیصلہ بدلنے پہ مجبور ہو جائے گا۔ اس میں جانے ایسا کیا تھا کہ وہ اسے اپنے سحر میں جکڑ لیتی تھی۔ وہ اسی سحر سے بچنے کے لیے اس سے چھپتا پھر رہا تھا۔ عینی کو اس نے میسج کر دیا تھا کہ وہ شہر سے باہر ہے۔ اس دوران وہ ریان کے فلیٹ میں رکا رہا۔ اس نے پہلے دن ہی ریان کو ساری باتوں سے آگاہ کر کے عینی کی حفاظت کا ذمہ اسے سونپ دیا۔ خود وہ سارا دن اور ساری رات آوارہ گردیوں میں مصروف رہتا۔ کبھی دل چاہتا تو فلیٹ میں چلا جاتا ورنہ یونہی بے مقصد سڑکوں پہ گھومتا رہتا۔ اس کی حالت دیکھ کے لگ رہا تھا کہ عینی کو چھوڑنے کے بعد وہ پھر کبھی مسکرا بھی نہیں سکے گا۔ اس شام بھی وہ بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ حسرت سے آس پاس سے گزرتے خوش و خرم، ہنستے مسکراتے چہروں کو دیکھتا کسی انجانی منزل کی طرف رواں دواں تھا جب ریان کی کال آئی۔
وہ اسے وہاں بلا رہا تھا جہاں اس نے ڈیوڈ کو قید رکھا تھا۔ ریان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ ڈیوڈ کے تمام جرائم کے ثبوت اکٹھے کرے گا اور اسے پولیس کے حوالے کر دے گا، وہاج بھی اس سے متفق تھا۔ اس لیے آج ریان کے اچانک وہاں بلانے پہ وہ کچھ حیران ہوا تھا۔ ریان اسی کا منتظر تھا، اس نے وہاج کے آتے ہی اس کالی وین کے مالک کی ساری تفصیلات اس کے سامنے رکھیں۔ وہ فرینک تھا، جو ڈیوڈ کی غیر موجودگی میں اس کے گینگ کا سرغنہ تھا۔ وہاج تو یہ واقعہ کب کا فراموش کر چکا تھا، اب یہ جاننے کے بعد کہ وہ فرینک تھا وہ اور وہاں پارک میں عینی کے قریب موجود تھا وہاج کے تن بدن میں گویا آگ لگ گئی۔

"مجھے اس سے بات کرنی ہے۔"

جیب سے موبائل، بٹوہ اور ضروری کاغذات نکال کے میز پہ رکھتے اس نے ریان کو مخاطب کیا۔
اس کا لہجہ اتنا ٹھوس تھا کہ ریان کو کچھ بھی کہنا بیکار لگا۔ وہ خاموشی سے چابی اٹھا کے ایک طرف بڑھ گیا، وہاج نے بھی اس کی پیروی کی۔ راہداری میں مڑتے ہی اسے وہ نظر آ گیا جو ایک سلاخوں والے کمرے میں زنجیروں میں جکڑا سر جھکائے کھڑا تھا۔ قدموں کی آواز پہ ڈیوڈ نے سر اٹھا کے دیکھا اور اس پہ نظر پڑتے ہی عجیب سے انداز میں مسکرایا۔

"ایک مقابلہ ہو جائے؟"

اس کے لہجے پہ ڈیوڈ کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

"سوچ لو، تم کب کے یہ سب چھوڑ چکے ہو۔"

"دیکھتے ہیں۔"

وہاج کے اشارے پہ ریان نے اس کی ہتھکڑیاں کھول دیں اور خود باہر نکل گیا۔

"میں جیت گیا تو مجھے یہاں سے آزادی چاہیے۔"

"مل جائے گی۔"

اس نے بے نیازی سے کہہ کے کف موڑے۔

"یعنی تمہیں اپنی جیت کا یقین ہے؟ تم جیتے تو مجھے کیا کرنا ہو گا؟"

"کچھ نہیں۔"

وہاج نے جھک کے پنڈلی کے ساتھ بندھا چاقو کھولا اور کچھ فاصلے پہ زمین میں گاڑ دیا۔

ڈیوڈ نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"تو پھر تم۔۔۔۔"

جملہ پورا ہونے سے پہلے وہاج کا زور دار گھونسا اس کے چودہ طبق روشن کر گیا۔ یہ ایسی لڑائی کی دعوت کا اشارہ تھا جس کے کوئی اصول نہیں ہوتے، مقابل کی جان بھی لی جا سکتی ہے اور کوئی اس پہ اعتراض نہیں کر سکتا۔ ڈیوڈ نے جوابی حملہ کر کے بتایا کہ اسے یہ چیلنج قبول ہے۔ کچھ ہی وقت میں ڈیوڈ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اس سے جیت نہیں سکتا۔ اسے وہ سارے داؤ پیچ یاد تھے جو ان کی دوستی کے وقتوں میں ڈیوڈ نے خود اسے سکھائے تھے اور وہ اس سے زیادہ مہارت اور چستی سے ان کا استعمال کر رہا تھا۔ ڈیوڈ کو جب اپنی ہار سامنے نظر آئی تو وہ جھکا اور زمین میں گڑا چاقو نکال کے پوری قوت سے اس کے سینے پہ مارا، عین وقت پہ جھکنے کی وجہ سے نشانہ خطا ہوا اور چاقو وہاج کے کندھے میں پیوست ہو گیا۔ ایک پل کے لیے وہاج کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا جس کا فائدہ اٹھا کے ڈیوڈ نے اس کے چہرے پہ گھونسا مارا۔ وہ اوندھے منہ زمین پہ گر گیا۔ ڈیوڈ کو اپنی طرف آتا دیکھ کے وہاج نے اس کی ٹانگ کھینچ کے اسے گرایا اور ہلنے کا موقع دیے بغیر اس کی ٹانگ کو ایک خاص زاویے پہ پوری قوت سے موڑا۔ ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی اور ڈیوڈ کی چیخیں پورے گھر میں گونجنے لگیں۔ وہاج نے اس کی دوسری ٹانگ پہ ہاتھ رکھا اور ذرا سا جھٹکا دیا۔

"کیا چاہتے ہو تم؟"

درد کی شدت سے وہ چلا کے بول رہا تھا۔

"یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم میری بیوی کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟"

وہاج اتنے سکون سے اس کے سامنے بیٹھا تھا کہ ڈیوڈ کو شک گزرا کہ شاید چاقو اس کے کندھے میں گھسا ہی نہیں۔

"بتاؤ گے یا؟"

اسے چپ دیکھ کے وہاج نے اس کی ٹانگ پہ دباؤ بڑھایا۔

"بتاتا ہوں۔۔۔ ایک آدمی نے مجھے اور فرینک کو آفر کی تھی کہ اگر ہم تمہاری بیوی کو اغواء کر کے اس کے حوالے کریں تو وہ ہمارے قدموں میں دولت کے انبار کھڑے کر دے گا۔ ہم لالچ میں آ گئے تھے ورنہ تم جانتے ہو ہم اپنے جھگڑوں کے بیچ گھر والوں کو نہیں لاتے۔"

"کون ہے وہ آدمی؟"

"پتہ نہیں۔"

"پتہ کرنا چاہیے تھا نا۔"

"تمہیں علم نہیں ان کاموں میں ادھوری معلومات کتنی خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔"

اسے پیچھے کی جانب دھکیل کے وہ اٹھا اور کندھے سے خنجر نکالا اور دور پھینکا۔

"تم اپنے اصول بھولتے جا رہے ہو ڈیوڈ اور یہ بالکل بھی اچھی بات نہیں ہے۔ یاد رہے کہ تمہارا ایک چھوٹا بھائی ہے جو ابھی بھی مجھے اور تمہیں دوست ہی سمجھتا ہے۔"

"تم میرے بھائی کو کچھ نہیں کہو گے وہ معصوم ہے۔"

وہ بے بسی سے چلایا۔

"تو میری بیوی نے کون سا تمہارے گھر والوں کو بم سے اڑانے کی کوشش کی تھی؟ اس کی معصومیت نہیں نظر آئی تمہیں؟"

اپنی بات پوری کر کے اس کا جواب سنے بغیر وہ باہر نکل آیا۔ ریان اسے دیکھ کے پریشان ہو گیا۔ چاقو نکالنے کے بعد خون ابل ابل کے زخم سے باہر آ رہا تھا۔

"کیا ضرورت تھی اس سے الجھنے کی؟"

وہ پٹی کرنے کے ساتھ ساتھ وہاج کو ڈانٹ بھی رہا تھا۔ اسے ہمیشہ خود سے زیادہ وہاج کی فکر رہتی تھی۔ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ ایک ماموں تھے جو والدین کی وفات کے بعد اسے اپنے ساتھ لندن لے آئے تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں ان کا بھی ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تو وہاج اسے زبردستی اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ وحید صاحب نے محسوس کیا کہ گھر میں وہ ہر وقت شرمندہ شرمندہ سا رہتا ہے تو انہوں نے اسے اور وہاج کو بورڈنگ اسکول میں بھیج دیا۔ یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیتے ہی اس نے اپنے لیے جاب ڈھونڈ لی اور اپنے خرچے خود اٹھانے لگا۔ ابھی بھی وہ اکثر وہاج کے گھر آیا کرتا تھا، سب لوگ اسے اپنے گھر کا حصہ ہی مانتے۔ پاکستان جانے کے وقت وہاج کے بہت اصرار کے بعد بھی وہ ساتھ نہیں گیا تھا۔

"کسی طرح تو اپنا غصہ ٹھنڈا کرنا تھا۔"

وہاج سر جھکائے بہت دھیرے سے بولا۔

"اگر تم اسے نہیں چھوڑنا چاہتے تو مر چھوڑو یار، ایسے خود کو تکلیف مت دو۔"

ویسے تو ریان عینی سے ملے بغیر بھی اسے بہت ناپسند کرتا تھا لیکن اس سے اپنے دوست کی یہ حالت بھی نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ وہاج نے ذرا سے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہا ہو کہ اس بارے میں بات نہ کی جائے تو بہتر ہو گا۔ ریان ٹھنڈی آہ بھر کے خاموش ہو گیا۔

رات کے تین بج رہے تھے اور عینی لاؤنج میں بیٹھی موبائل پہ کوئی ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی۔ وہاج نے اسے کہا تھا کہ وہ کام کے سلسلے میں شہر سے باہر ہے۔ تب سے اس کی راتیں لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے کٹ جاتیں اور سارا دن وہ پڑی سوئی رہتی۔ میسج کی بیپ پہ وہ چونکی، کسی نامعلوم نمبر سے تصویر آئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ دیکھتی دروازے پہ ہونے والی آہٹ پہ اس کے کان کھڑے ہو گئے۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے باہر سے کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اسے اور کچھ نہ سوجھا تو جلدی سے صوفے کے پیچھے چھپ گئی اور ذرا سا سر باہر نکال کے دروازے کو دیکھنے لگی۔ اندر آنے والا وہاج تھا۔ وہ خوش ہو کے اٹھنے ہی والی تھی جب وہاج کو جیب سے پستول نکالتا دیکھ کے رکی۔ وہ عینی کے کمرے کے بند دروازے پہ ایک نظر ڈالتا اب جھک کے دونوں پنڈلیوں کے ساتھ بندھے بڑے سائز کے دو چاقو اتار رہا تھا۔ عینی کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

"کہیں یہ کسی کو قتل کر کے تو نہیں آ رہا؟"

اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے سوچا۔ باہر نکلنے کا ارادہ اس نے ترک کر دیا تھا۔ چاقو اور پستول ہاتھ میں لیے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے قدموں میں واضح طور پہ لڑکھڑاہٹ محسوس کی جا سکتی تھی۔ عینی اس کے جانے کے بعد بھی باہر نہ آئی۔ کچھ دیر گزری تو اس کا دل چاہا وہاج سے مل آئے۔

"پستول اور چاقو ہیں تو کیا ہوا، مجھے تھوڑی ہی قتل کر دے گا۔"

خود کو تسلی دیتی وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھی۔

دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہاج نے ہڑبڑا کے سر اٹھایا۔ اس کا رخ دروازے کی طرف نہیں تھا اس لیے عینی نہیں دیکھ سکی کہ وہ کیا کر رہا تھا۔ اسے دروازے میں ایستادہ دیکھ کے وہاج نے غیر محسوس انداز میں شرٹ کندھے پہ ٹھیک کی۔ سیاہ شرٹ کی وجہ سے خون نظر نہیں آ رہا تھا ورنہ اس کے کندھے کے زخم سے دوبارہ خون رس رہا تھا۔ ڈیوڈ سے نمٹنے کے بعد بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو وہ ریان کو بتائے بغیر فرینک کی طرف گیا تھا۔ فرینک بھی اس آدمی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا یا شاید جانتا تھا بھی تو بتانا نہیں چاہتا تھا۔ غصے میں وہ تن تنہا فرینک کے گینگ کے ساتھ بھڑ گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے جسم پہ ان گنت زخموں کے نشان تھے لیکن وہاں سے اس کا زندہ واپس آنا ہی کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔

"تم سوئی نہیں؟"

وہ نرمی سے پوچھتا اٹھا۔ اب اس کی چال سے بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر پہلے لڑکھڑاتا ہوا گھر میں داخل ہوا ہے۔

"نہیں۔"

عینی کی آنکھوں میں بلاوجہ ہی موتی جھلملانے لگے۔ وہاج کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔

"رو کیوں رہی ہو قرت؟"

وہ بے قراری سے اس کی طرف بڑھا۔

"کہاں تھے تم اتنے دن؟"

اس نے آنسوؤں کے درمیان پوچھا۔

"کام سے گیا تھا، میری طرف دیکھو ہم اگلے ہفتے واپس جا رہے ہیں اور وہاں جاتے ہی میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ پھر ہمیشہ کے لیے اس آوارہ گرد سے جان چھوٹ جائے گی تمہاری۔"

بات کو مذاق کا رنگ دینے کے لیے وہ ہنسا۔ عینی کو اس وقت اس بات میں قطعاً دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کے اس کے زخمی چہرے کو دیکھا۔

"تم تکلیف میں ہو؟"

"یقیناً قرت تمہارے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں۔"

"تم اندر آئے جب میں لاؤنج میں تھی، میں نے دیکھا تم جیسے چل رہے تھے۔ کیا ہوا ہے تمہیں؟"

"کچھ نہیں بس ذرا سا ایکسیڈنٹ ہوا، تم سو جاؤ جا کے میں ٹھیک ہوں۔"

وہاج نے نظریں چرائیں۔ پہلے ہی وہ اسے کیا کیا سمجھتی تھی اگر اس کے زخم دیکھتی تو شاید مزید بدگمان ہو جاتی۔ عینی کی نظریں بیڈ کے ساتھ رکھی میز پہ ٹھہر گئی تھیں جہاں اس کا پستول، دو چاقو اور ایک خون سے بھری پڑی رکھی تھی جو ابھی اندر آنے کے بعد اس نے اپنے زخم سے اتاری تھی۔ وہاج نے گہری سانس لی، اب اس سے کچھ بھی چھپانا بےکار تھا۔

"چھوٹا سا جھگڑا ہو گیا تھا جاناں۔۔۔"

وہ اس کا گال چھوتے چھوتے رکا، اس کے ہاتھوں پہ بھی خون لگا تھا۔ عینی نم آنکھوں سے کبھی اس کے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی کبھی اس کے چہرے کو۔ اس نے ہر ممکن حد تک چہرے پہ لگنے سے خود کو بچایا تھا لیکن اس کے باوجود کہیں کہیں چوٹیں آئی تھیں۔

"وہاج یہ۔۔۔"

وہ اس کے ہونٹ کے کنارے پہ جمے خون پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔

"کہاں کہاں لگی ہے اور؟"

اس نے جیسے پوچھا وہاج کو حیرت ہوئی۔ اسے لگا تھا وہ ابھی اسے سنائے گی، دو چار طعنے دے کے اپنے کمرے میں جا کے زور سے دروازہ بند کرے گی لیکن وہ تو اس کی تکلیف پہ آنسو بہا رہی تھی۔ وہاج بمشکل اس کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا، وہ اتنی جلدی موم نہیں ہونا چاہتا تھا۔ لیکن پھر وہی ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔۔۔ اس کا خود سے اختیار ختم ہونے لگا۔ دماغ چلا چلا کے کہہ رہا تھا اسے ابھی جھڑک کے باہر بھیج دے مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو کندھے سے شرٹ سرکاتے دیکھا۔
اس نے کندھے سے شرٹ ہٹائی تو عینی نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں۔ زخم اتنا گہرا تھا کہ اسے دیکھ کے ہی خوف آنے لگا۔

"وہاج پلیز ڈاکٹر کے پاس چلو، یہ بہت گہرا زخم ہے۔"

"پولیس کیس بن جائے گا۔"

عینی کپکپاتے ہاتھوں سے پہ اس کے زخموں پہ دوائی لگانے لگی۔ گہرے زخم پہ روئی رکھتے ہوئے وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتی پھر کھول کے وہاج کے تاثرات دیکھتی۔ وہاج دلچسپی سے اس کی کارروائی دیکھ رہا تھا۔

"درد ہو رہا ہے؟"

"یہ اس درد کے سامنے کچھ بھی نہیں جو تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ کے مجھے ہوتا ہے۔"

اس نے عینی کا ہاتھ زور سے اپنے زخم پہ رکھا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ پھر سے آنسو بہانے کے لیے تیار ہو گئی ہے تو اس نے روئی اس کے ہاتھ سے لے لی۔

"میں ریان کو بلاتا ہوں، میرا دوست ہے وہ کر لے گا۔"

وہاج نے موبائل اٹھا کے کچھ ٹائپ کیا۔

"اور تب تک؟"

"میں کچھ کرتا ہوں۔"

اس نے فرسٹ ایڈ باکس میں سے کوئی دوائی نکالی اور زخم پہ چھڑکی۔

"اس سے خون رک جائے گا۔"

عینی نے سر ہلا دیا پھر بھی وہ ریان کے آنے تک اس کے ساتھ رہی، یہ الگ بات کہ اس سارے وقت میں اس نے وہاج سے نظر نہیں ہٹائی تھی لیکن وہاج نے ایک بار بھی سر اٹھا کے اسے نہیں دیکھا۔ عینی کو اس کا رویہ کچھ عجیب لگا۔ کہاں ایک منٹ میں وہ بیس دفعہ اس پہ نظر ڈال لیا کرتا تھا اور آج۔۔۔

گھنٹی کی آواز پہ اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔ ریان سے وہ پہلی دفعہ ملی تھی لیکن تعارف کی ضرورت کسی نے محسوس نہیں کی۔ رسمی سلام دعا کے بعد وہ وہاج کے کمرے میں چلا گیا، عینی باہر ہی رک گئی تھی۔

ریان اندر جاتے ہی اس پہ برس پڑا۔

"دل تو کرتا ہے سارے کا سارا پستول خالی کر دوں تم پہ، ایک ہی بار مر جاؤ مجنوں کی اولاد۔"

اس نے باقاعدہ پستول نکال لیا۔

"میں نے ایسا بھی کیا کیا ہے؟"

وہ بے نیازی سے بولا۔ ریان اسے طبی امداد دیتے ہوئے زبان سے بھرپور وار کر رہا تھا۔

"تم اکیلے فرینک کے اڈے پہ چلے گئے؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بیس تیس مشٹنڈے ہر وقت اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔"

"تو کیا؟ ہرا کے آیا ہوں سب کو، بے ہوش پڑے ہیں سب کے سب۔"

اس کی بے نیازی عروج پہ تھی۔

"بہت اچھا کام کیا ہے، میڈل کے حق دار ہو تم۔"

"بس بھی کرو اب۔ میں نے فرینک کو اپنے گھر یا قرت کے آس پاس پھر دیکھا تو میں دوبارہ جاؤں گا، اس کے آدھے مشٹنڈے تو تب تک زیر علاج ہوں گے، تب وہ مجھ سے بچ نہیں پائے گا۔ اور وہ آدمی جو بھی ہے کتنوں کو قرت کے پیچھے لگائے گا؟ میں سب کو مار دوں گا پھر اسے خود سامنے آنا پڑے گا اور دیکھنا کیا حال کرتا ہوں میں اس کا۔"

"یہ سب تم اس کے لیے کر رہے ہو نا؟ جو دن گن رہی ہے کہ کب تم سے چھٹکارا ملے اور تم۔۔۔ لعنت ہے تم پہ۔"

وہاج ہنسا اور ہنستا چلا گیا اتنا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ریان نے جل بھن کے اس نے اس کے ہنستے چہرے کو دیکھا۔

"تمہیں محبت نہیں ہوئی نا کبھی، ہو بھی نہیں سکتی اس کے لیے زندہ دل ہونا ضروری ہے۔"

"دل کا پتہ نہیں لیکن میرے پاس ایک عدد دماغ ہے جو ایسی حماقتوں کی اجازت بالکل نہیں دیتا۔"

"محبت کوئی حماقت نہیں ہے۔"

"یاد رکھو تم اسے چھوڑنے والے ہو۔"

"مجھے کچھ وقت پہلے ایسا لگا جیسے اس فیصلے پہ نظر ثانی کی ضرورت ہو۔"

ریان نے پٹی پہ پن لگاتے جان بوجھ کے اسے چبھوئی۔

"چلو اب نکلو اور کہہ دینا ڈیوڈ سے کل بورڈنگ اسکول سے کال آئے تو مجھ سے شکوہ نہ کرے۔"

"وہاج تم ایسا نہیں کرو گے، ہم ان لوگوں جیسے نہیں ہو سکتے۔"

"میں کیا کیا کر سکتا ہوں تم بھی دیکھ لینا اور ڈیوڈ بھی دیکھ لے گا۔"

ریان افسوس سے اسے دیکھتا باہر نکل گیا۔ لاؤنج میں عینی ابھی تک ٹہل رہی تھی۔ ریان نے اسے بے تاثر نظروں سے دیکھا۔ یہ لڑکی جس پہ اس کا دوست اتنا فدا تھا اسے بالکل پسند نہیں آئی تھی۔ ہاں وہ بہت خوبصورت تھی لیکن یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ خوبصورت لڑکیوں کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دو۔

"ہونہہ۔۔۔"

اسے دیکھ کے وہ سر جھٹک کے اسے نظرانداز کرتا دروازے کی طرف بڑھا۔
عینی اسے چھوڑنے دروازے تک گئی، وہ بار بار اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی اور وہ بے مروت بنا سنتا رہا۔ پھر دروازے سے نکل کے رکا۔

"میرا دوست مجھے بہت عزیز ہے اور کسی کی بھی وجہ سے اسے کچھ ہوا تو میں پہلا قتل کرنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاؤں گا۔"

اسے حیران پریشان چھوڑ کے وہ اندھیرے میں گم ہو گیا اور عینی کتنی ہی دیر کھلے دروازے میں کھڑی اس کی بات پہ غور و فکر کرتی رہی۔

(جاری ہے)

Don't copy paste without permission.

Address

Rawala Kot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Momal Kaiynat writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category