Poonch Literary Society

Poonch Literary Society راولاکوٹ کے سنجیدہ لکھاریوں کی نمائندہ تنظیم
======================================
یہ پیج اردو شاعری سے شغف رکھنے والوں کے لیے بنایا گیا ہے

تازہ غزلخونِ دل منہ کو لگا، منہ سے لگی چھوٹ گئیبادہ کش چھوٹ گئے،بادہ کشی چھوٹ گئیہمسفر چھوڑ گئے، ہمسفری چھوٹ گئیخوش ہیں ...
17/02/2025

تازہ غزل

خونِ دل منہ کو لگا، منہ سے لگی چھوٹ گئی
بادہ کش چھوٹ گئے،بادہ کشی چھوٹ گئی

ہمسفر چھوڑ گئے، ہمسفری چھوٹ گئی
خوش ہیں آرام طلب! دربدری چھوٹ گئی

تجھ سے ملنا تھا کہ دو چند ہوئی گمراہی
میں تو سمجھا تھا کہ بے راہ روی چھوٹ گئی

بارے دیوانگی دشنام تھی پہلے پہلے
اب یہ طعنہ ہے کہ شوریدہ سری چھوٹ گئی

خاک اے دیدۂ بے خواب ترا کچھ نہ رہے
ہاتھ آئی ہوئی خوابوں کی پری چھوٹ گئی

اس نے تجدید محبت کا کہا اور میں نے
معذرت چاہی کہ عادت یہ بری چھوٹ گئی

یار ناراض ہیں منہ پھٹ کوئی اتنا بھی نہ ہو
چپ کا موقع تھا مگر بات کھری چھوٹ گئی

زندگی لگتی ہے پر ہے نہیں آسان ہدف
موت کے منہ سے مقدر کی دھنی چھوٹ گئی

اس میں کیا شرم کہ تھا مان بہت خود پہ ہمیں
ناگ تو وش میں کیا،ناگ منی چھوٹ گئی

اب وہ پہلے سی کشش ہے نہ لگاوٹ نہ وہ آنا جانا
وہ حسیں روٹھ گیا،اس کی گلی چھوٹ گئی

عمر بھر روئے نہیں ضبط کے مارے ہم لوگ
آج ماحول بنا اور ہنسی چھوٹ گئی

اب کہاں جائیں یہ درباری یہ سستے شاعر
شاہ معزول ہوئے بارہ دری چھوٹ گئی

لوگ منکر تھے قیامت کے مگر پھر اک دن
قیدِ افلاک سے ہیبت کی جنی چھوٹ گئی

اپنا غم ایک طرف،اس کی خوشی ہے کاشر
عشق زحمت سے وہ نازوں کی پلی چھوٹ گئی

شوزیب کاشر

14/02/2025

Baqir Waseem sir ❤️

14/02/2025

Haris Khurshid jeety raho ah umda shair ❤️

اس پہ کیا رونا کہ اک شاخ تری سوکھ گئیخشک سالی میں تو ہر چیز ہری سوکھ گئیکوزہ گر دوسرے کاموں میں پڑا بھول گیامیری مٹی کسی...
09/02/2025

اس پہ کیا رونا کہ اک شاخ تری سوکھ گئی
خشک سالی میں تو ہر چیز ہری سوکھ گئی

کوزہ گر دوسرے کاموں میں پڑا بھول گیا
میری مٹی کسی کونے میں پڑی سوکھ گئی

کیسی دلکش ہوا کرتی تھی مگر کل دیکھی
ہجر اسے چاٹ گیا ، کانٹا بنی ، سوکھ گئی

شاخ سے ٹوٹی مگر پھر بھی ترو تازہ رہی
اس کی زلفوں سے جو اتری تو کلی سوکھ گئی

اس نے ہنستے ہوئے کی بات یونہی مرنے کی
میرا دل بیٹھ گیا میری ہنسی سوکھ گئی

زندہ رہنے کے لیے کرنا پڑا کام ہمیں
کام بھی ایسا کہ ہڈیوں کی تری سوکھ گئی

عمر بھر نخلِ وفا اپنی نمو کو ترسا
بیل چاہت کی ذرا منڈھے چڑھی سوکھ گئی

اس نے تجدید محبت کا کہا اور میں نے
معذرت چاہی کہ یہ نس ہی مری سوکھ گئی

میں تری یاد میں اے یوسفِ جاں رویا ہوں
اتنا رویا ہوں کہ اشکوں کی چھڑی سوکھ گئی

خبر آئی کہ ادھر تین سو ستر منسوخ
خواب ادھر آیا مجھے نیل فری سوکھ گئی

میں تھا اور لوگ کئی سنگ بکف اور پھر کیا
بے بہا خون بہا پھر وہ گلی سوکھ گئی

ہو نہ پائی وہ ملاقات جو طے تھی کاشر
وہ تو لوٹ آیا محلے کی ندی سوکھ گئی

شوزیب کاشر

09/02/2025
28/01/2025

یہ تری طرزِ جفا ہے کہ وفا ہے کیا ہے
اتنا ناداں بھی نہیں سارا پتا ہے کیا ہے

تُو مری ذات میں موجود نہیں ہے تو بتا
میرے سینے میں جو دھک دھک کی صدا ہے کیا ہے

تُجھ کو اِقرار نہیں جُرم کا اپنے لیکن
تیرے چہرے کا جو یہ رنگ اُڑا ہے کیا ہے

میں کسی اور کا تعویذ گلے میں ڈالوں
پھر ترا عشق جو ہر ردِ بلا ہے کیا ہے

پہلے تو خود ہی بنایا ہے تماشا میرا
پِھر وہ خود پُوچھ رہا ہے کہ یہ کیا ہے کیا ہے

کیوں کروں تیری اطاعت کہ مرا تُو کوٸی
پیر و مرشد ہے؟ پیمبر ہے؟ خدا ہے؟ کیا ہے؟

تیرا انکار نہیں کرتا مگر یہ بھی سمجھ
میرے ماتھے کی شکن نے جو کہا ہے کیا ہے


--------------------------------------------------------------------------
غزل

کس لیے پوچھتے رہتے ہیں زمانے والے
ہم کسی کو ہیں کہاں زخم دکھانے والے

یہ تو ناداں ہیں ہواٶں سے ڈراتے ہیں انھیں
جو دیے اپنے لہو سے ہیں جلانے والے

راہ میں ہم کو بٹھایا ہے انھی لوگوں نے
جن کو ہم لوگ تھے پلکوں پہ بٹھانے والے

اس تکبّر کا نتیجہ تو یہی ہونا تھا
ہو گۓ خاک مری خاک اڑانے والے

آتے جاتوں کو سرِ راہ نہ یوں بیٹھ کے دیکھ
لوٹ کر آتے نہیں ہیں کبھی جانے والے

اب تو وہ ہاتھ ملانے سے بھی مجبور ہوۓ
آنکھ سے آنکھ جو کل تک تھے ملانے والے

کوٸ دن ایک صدا آتی رہی جنگل سے
تیرے بارے میں بتاتے ہیں بتانے والے

کیسے ہوتے ہیں یہ کربل کی تُو خاک سے پوچھ
ایسے ہوتے ہیں محمد کے گھرانے والے

تِیشہء بغض سے پھر کاٹنے لگتے ہیں مجھے
یوں مرے قد کو بڑھاتے ہیں گھٹانے والے

میں تو نوکیلی چٹانوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا
مرحبا ! دل میں مرے رستہ بنانے والے
لیاقت شعلان

تازہ غزلکسی کا نام اُچھالیں تو نام بنتا ہےہمارے شہر میں ایسے مقام بنتا ہے..................................................
28/01/2025

تازہ غزل

کسی کا نام اُچھالیں تو نام بنتا ہے
ہمارے شہر میں ایسے مقام بنتا ہے....................................................
کسی دلیل کے قائل نہیں ہیں جب یہ لوگ
تو بحث پھر نہیں بنتی,سلام بنتا ہے.....................................................
نکھار صبح کے ماتھے پہ تیرے دم سے ہے
شب ِ ملال ! ترا احترام بنتا ہے...................................................
وہاں بھی آپ اُصُولوں کی بات کرتے ہیں ؟
جہاں پہ آنکھ دکھانے سے کام بنتا ہے!......................................................
مرا تو عجز بھی ہوتا نہیں قبول یہاں
ترا غرور بھی اے خوش خرام بنتا ہے....................................................
یہ کون دیکھے گا اس دور ِ بے لطافت میں
ہماری فلم کا اب اختتام بنتا ہے......................................

مسعود ساگر

دل بچھڑ جانے کے آثار نہیں دیکھتا ہے یہ تو دیوار کے اس پار  نہیں دیکھتا ہےراہ کے تیر یا تلوار نہیں دیکھتا ہےکوئی مجنوں کو...
24/01/2025

دل بچھڑ جانے کے آثار نہیں دیکھتا ہے
یہ تو دیوار کے اس پار نہیں دیکھتا ہے

راہ کے تیر یا تلوار نہیں دیکھتا ہے
کوئی مجنوں کوئی دیوار نہیں دیکھتا ہے

نفسیاتی سے مرے پیار کا کوئی حل ہو
پاوں سے پہلے جو رخسار نہیں دیکھتا ہے

جھولیاں بھر کے مجھے وصل اٹھا لینے دیں
بھوکا معیار یا مقدار نہیں دیکھتا ہے

بس اسی شخص کا دن اچھا گزرتا ہے یہاں
شام سے پہلے جو اخبار نہیں دیکھتا ہے

جلد بازی کا بھی الزام ہمارے سر ہے
آسماں اپنی تو رفتار نہیں دیکھتا ہے

احمد عطاءاللہ

23/12/2024

SAJ TV ❤️

Address

Rawala Kot

Telephone

+923333751055

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Poonch Literary Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category