17/02/2025
تازہ غزل
خونِ دل منہ کو لگا، منہ سے لگی چھوٹ گئی
بادہ کش چھوٹ گئے،بادہ کشی چھوٹ گئی
ہمسفر چھوڑ گئے، ہمسفری چھوٹ گئی
خوش ہیں آرام طلب! دربدری چھوٹ گئی
تجھ سے ملنا تھا کہ دو چند ہوئی گمراہی
میں تو سمجھا تھا کہ بے راہ روی چھوٹ گئی
بارے دیوانگی دشنام تھی پہلے پہلے
اب یہ طعنہ ہے کہ شوریدہ سری چھوٹ گئی
خاک اے دیدۂ بے خواب ترا کچھ نہ رہے
ہاتھ آئی ہوئی خوابوں کی پری چھوٹ گئی
اس نے تجدید محبت کا کہا اور میں نے
معذرت چاہی کہ عادت یہ بری چھوٹ گئی
یار ناراض ہیں منہ پھٹ کوئی اتنا بھی نہ ہو
چپ کا موقع تھا مگر بات کھری چھوٹ گئی
زندگی لگتی ہے پر ہے نہیں آسان ہدف
موت کے منہ سے مقدر کی دھنی چھوٹ گئی
اس میں کیا شرم کہ تھا مان بہت خود پہ ہمیں
ناگ تو وش میں کیا،ناگ منی چھوٹ گئی
اب وہ پہلے سی کشش ہے نہ لگاوٹ نہ وہ آنا جانا
وہ حسیں روٹھ گیا،اس کی گلی چھوٹ گئی
عمر بھر روئے نہیں ضبط کے مارے ہم لوگ
آج ماحول بنا اور ہنسی چھوٹ گئی
اب کہاں جائیں یہ درباری یہ سستے شاعر
شاہ معزول ہوئے بارہ دری چھوٹ گئی
لوگ منکر تھے قیامت کے مگر پھر اک دن
قیدِ افلاک سے ہیبت کی جنی چھوٹ گئی
اپنا غم ایک طرف،اس کی خوشی ہے کاشر
عشق زحمت سے وہ نازوں کی پلی چھوٹ گئی
شوزیب کاشر