08/09/2025
جب عمران ریاض کو اٹھا کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا گیا تب "صحافت خطرے میں نہیں تھی"۔
جب ارشد شریف کو شہید کیا گیا تب "صحافت خطرے میں نہیں تھی"۔
جب درجنوں حق گو صحافی جلاوطنی پر مجبور ہوئے، ایاز میر اور اوریا مقبول جان کو ذلیل کیا گیا، جمیل فاروقی کو ننگا کر کے تشدد سہنا پڑا… تب بھی "صحافت خطرے میں نہیں تھی"۔
لیکن آج جب عوام نے ایک بکے ہوئے درباری صحافی کو مسترد کیا اور اس پر ردِعمل دیا تو اچانک سب کو "صحافت خطرے میں" دکھائی دینے لگی۔
یہ دہرا معیار عوام پہچان چکی ہے، اب یہ کھیل نہیں چلے گا۔