27/07/2026
چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، سردار محمد صغیر خان نے راولاکوٹ اور گرد ونواح میں شہریوں کے خلاف ریاستی طاقت کے وحشیانہ استعمال، اندھا دھند فائرنگ، تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن طور پر مظفرآباد کی جانب مارچ کرنے والے شہریوں پر گولیاں برسانا، انہیں تشدد کا نشانہ بنانا اور طاقت کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش ریاستی جبر، استبداد اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی پامالی ہے، جس نے ایک اور سیاہ باب رقم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کو گولی، لاٹھی اور طاقت کے ذریعے کچلنے کی پالیسی کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ ریاستی تشدد اور خوف و ہراس کے ذریعے عوام کو خاموش کرانے کی ہر کوشش نہ صرف اخلاقی اور سیاسی طور پر ناکام ہوگی بلکہ اس سے خطے میں مزید بے چینی، عدم استحکام اور بداعتمادی کو فروغ ملے گا۔
سردار محمد صغیر خان نے کہا کہ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے سیاسی معاملات میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی مسلسل مداخلت اور پس پردہ کردار نے حالات کو مزید پیچیدہ اور کشیدہ بنایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذاکراتی عمل سے خفیہ ایجنسیوں کا کردار اور فیصلہ سازی کومکمل طور پر ختم کیا جائے اور تمام معاملات سیاسی انداز میں حل کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی قیادت اپنی آئینی اور سیاسی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی باگ ڈور خود سنبھالے اور احتجاج کرنے والے عوام کے نمائندوں کے ساتھ فوری، بامقصد، سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ طاقت کے بجائے سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ فائرنگ اور تشدد کے تمام واقعات کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR)، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ)، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (FIDH)، ایشین ہیومن رائٹس کمیشن (AHRC) اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کی کہ وہ پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، شہریوں کے قتل، زخمی کیے جانے اور اظہارِ رائے و پرامن احتجاج کے حق پر حملوں کا فوری نوٹس لیں، حقائق پر مبنی آزاد تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالیں اور مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
آخر میں سردار محمد صغیر خان نےواضح کیا کہ ظلم، جبر، تشدد اور ریاستی طاقت کے ذریعے عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ عوام کے سیاسی، قومی اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام ہی دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت ہے، جبکہ طاقت اور جبر کی پالیسی صرف نفرت، تصادم اور مزید خونریزی کو جنم دے گی۔
- International Federation for Human Rights