17/04/2021
عوام اور پولیس مار کٹائی... کیا. صحیح کیا غلط...
دوستوں کافی عرصہ کے بعد یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں آپکی توجہ اور رائے چاہتا ہوں
آئے دن دیکھنے کو ملتا ہے کہ فلاں فلاں جگہ احتجاج ہو رہا ہے پولیس جاتی ہے یا تو حالات قابو میں آ جاتے ہیں اور لوگ واپس چلے جاتے ہیں یعنی مزاکرات ہو گئے اور معاملات طے پا گئے اور ذیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ اتنی جلدی حالات قابو میں نہیں آتے اور مظاہرین پولیس پر حاوی ہو جاتے ہیں اور اور ڈنڈے پتھر سب کچھ استعمال کرتے ہیں, پولہس بھی اپنا پورا زور لگاتی ہے ہجوم پر قابو پانے کو. ایسے ہی مناظر تحریک لبیک کے لوگوں اور پولیس کے ساتھ دیکھنے کو ملے ہیں. عوام نے پولیس والوں کو. گھیرے میں ایسے لیا جسے مسلمانوں نے کافروں کو. پکڑ لیا ہو جیسے پولیس ہی اصل بیماری کی جڑ ہے جیسے پولیس والے ہی منافقین ہیں اور غیر مسلم. ہیں, خوب مارا پولیس والوں کو پکڑ پکڑ کر گھسیٹ گھسیٹ کر ڈنڈے مار مار کر رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے حق میں نعرے لگوائے, اور ویڈیوز ایسے بنا بنا کے اپلوڈ لیں جیسے یہ دیکھو کافروں کو. مسلمان کرایا جا رہا ہو.. گورنمنٹ پراہرٹی کو نقصان پہنچایا گیا, آگ انتشار پھیلانے کی سازش کی گئی ملک کا خوب نقصان کیا گیا. ارے بھائی سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اگر آپ دین کی خاطر نکلے ہیں تو ایسے طریقے سے نکلیں کہ دنیا کہے کہ اسلام پر امن مزہب ہے امن اور سلامتی کا مزہب ہے, آپ کے ساتھ کوئی ذیادتی ہوتی ہے تو بھی پر امن رہیں اور سلامتی کے لیے صبر کریں کیونکہ معاملہ دین کا ہے اور دین کو بچانا ہے تو حیسے اللہ کا حکم ہے ویسے ہی چلنا ہو گا تاکہ آپ لوگوں کو بتا سکیں کہ ہمارا دین امن اور سلامتی والا دین ہے ظلم اور جبر والا دین نہیں. اور دوسری بات یہ کہ ملک کی فورسز کے ساتھ ٹکر لینا اچھی بات نہیں پہلے عوام نے پولیس کی درگت بنائی اور ویڈیوز اپلوڈ کیں پھر ریاست نے طاقت دکھائی اور اپنی رٹ قائم کی اور گرفتاریاں کیں اور پولیس نے بھی خوب درگت بنائی. پولیس کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کہ بدلے میں ویڈیوز بنا کے اپلوڈ کریں یہ پروفیشنلزم نہیں ہے. ایسا کرنے سے لوگ بالخصوص وہ جنکی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہوئی ہیں ساری عمر پولیس کی عزت نہیں کریں گے اور پولیس اپنا وقار عوام میں کھو دے گی. پولیس والے جو بھی کرتے مگر ان لوگوں کو بعد میں عزت سے کرسی پر بٹھا کے ان کے بیان سوشل میڈیا پر اپکوڈ کرتے کہ ہم. نے غلطی ہے اور آئندہ ایسا نہ کریں گے. پولیس نے بھی وہی کام. کیا جو لوگوں نے کیا و دونوں میں کوئی فرق باقی نہ رہا. اور یاد رکھیں میں ہھر یہی کہوں گا کہ سسٹم ایسا ہی ہے جس کے تحت پولیس کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے جان بوجھ کے پولیس کی بے عزتی کروائی جاتی ہے. ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پولیس کے پاس اتنی نفری اور وسائل ہوں کہ لوگ سوچ ھی نہ سکیں پنگا لینے کی. جان بوجھ کہ پولیس کی ایسی تربیت بھی نہیں کی جاتی اور نہ ہی ہولیس کو طاقتور بنا کے اپریشن کے لیے بھیجا جاتا ہے. چوہے کو مارنا درکار ہو تو شیر کی طاقت کے ساتھ جانا چاہئے تاکہ وقار اور عزت قائم رہ سکیں. پولیس والے جاتے ہیں لوگوں کی منتیں کرتے ییں اور لوگ جب اسقدر بے بس اور مجبور پولیس والوں کو دیکھتے ہیں تو خوامخواہ بد تمیزی بھی کرتے ہیں اور لڑائی بھی. وسائل اور طاقت دی جائے تو پولیس کی بات لوگ سنیں گے بھی اور سٹیٹ کا نقصان بھی نہیں ہو گا. سسٹم کو بدلنا ہو گا ہولیس کو جدید کرنا ہو گا تب ہی امن و امان کو قائم رکھا جائے گا اور پولیس کی عزت بھی ہو گی. پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے اور نہایت مہربان ہونے کی تاکید بھی کی جائے. پولیس کا کام عوام کو عزت دینا اور تحفظ دینا اور عوام اور سٹیٹ کی رکھوالی کرنا ہے اور یاد رکھیں عوام آپکو خود بخود. عزت دے گی جب آپ جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھی ہونگے اور مہربان بھی ہونگے. بقلم بابا کڑوا