02/08/2026
میں نے وردی اور بغیر وردی کے سبھی حکمرانوں، سیاستدانوں، سرکردہ صحافیوں اور دانشوروں سے کہا کہ بھارت کی آزادکشمیر کے ساتھ 750 کلومیٹر سرحد ھے جس میں سے تقریبا 150 کلومیٹر برفانی اور دشوار گزار ھے جبکہ 600 کلومیٹر سے زیادہ ایسے علاقے ھیں جہاں سے لوگ بارڈر کراس کر سکتے ھیں بھارت جس کی بلوچستان سے کوئی سرحد نہیں ملتی اور اگر وہ وہاں جا کر آپ کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ھے تو آزادکشمیر میں اپ کے لیے مسائل پیدا کرنا اس کے لیے اس وقت بہت آسان ھو جائے گا جب آزادکشمیر کے لوگ آپ سے ناراض ھو جائیں گے بالخصوص جن کے بچے یا بہن بھائی رشتہ دار شہید ھو جائیں گے تو ان میں تو بدلے لینے کی جستجو پیدا ھو جائے گی وہ اپنے پیاروں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کسی سے بھی مدد لینے کے لیے تیار ھو جائیں گے اور پاکستان کا دشمن بھارت موقع کی تلاش میں ھے جس طرح اس نے 1971 میں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں کیا تھا اور اسے مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بنا دیا تھا لہذا کشمیر میں طاقت کا استعمال کر کے لوگوں کو دیوار سے لگانے کے بجائے ان کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کریں ۔ یہ مکمل طور پر ایک مقامی اور سیاسی مسئلہ ھے اور آپ نے اس میں گھس کر خواہ مخواہ اسے سکیورٹی کا مسئلہ بنالیاھے جو سرے سے آپ کا مسئلہ ھی نہیں تھا دوسری یہ بات کہ آزادکشمیر مسلہ کشمیر کا حصہ ھے جو متنازعہ ھے اور ایک ملین سے زیادہ کشمیری بیرون ملک ھیں جو آزادکشمیر میں ھونے والی زیادتیوں پر آواز اٹھائیں گے اور آپ کے لیے مقامی اور سطح پر مسائل پیدا ھوں گے لیکن کچھ کو میری بات سمجھ نہیں کچھ بے بس نظر آئے اور کچھ کو اپنی طاقت پر غرور تھا اور وہ کسی دلیل کو ماننے کے بجائے اپنی ضد اور ھٹ دھرمی پر کھڑے تھے اور آج وھی ھوا کہ پوری دنیا میں پاکستان کی عزت و وقار خاک میں مل گئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑھے گا میں حیران ھوں کہ بڑے بڑے عہدوں پر پہنچنے والے یہ لوگ کس قدر ضدی اور عقل سے عاری ھیں جو خود کو ھی محب وطن بلکہ خود کو ھی وطن سمجھتے ھیں اور باقی سب اس وطن میں عزت سے جینے کا اختیار دینے کے بھی حق میں نہیں
Javed rathore