01/08/2026
جرنیلی نظام سے جڑا لیلا ہم سے وفاداری مانگتا ہے… مگر کبھی ہمارے زخموں کا حساب نہیں دیتا۔
ہم وہ لوگ ہیں جن کے بانی کو بیماری میں تنہا چھوڑ دیا گیا… دور کوئٹہ بھیج کر مرنے کے لیے۔
ہم وہ ہیں جن کے ملک کو توڑا گیا، آئین کو روند دیا گیا، جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا۔
ہم نے اپنی ماں، مادرِ ملت، پر لگتے ہوئے الزامات بھی برداشت کیے۔
بلوچ روئے، پختون لہو میں نہائے، کشمیریوں کی چیخیں پہاڑوں میں گونجتی رہیں…
اور پنجابی، سندھی سب کسی نہ کسی طرح اس ظلم کے بوجھ تلے دبے رہے۔
لیکن ہم خاموش رہے…
ہم نے دنیا بھر میں جا کر محنت کی، ذلتیں سہیں، پسینہ بہایا…
اپنی روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج سب کچھ خود کمایا،
حالانکہ یہ سب ریاست کی ذمہ داری تھی۔
اور وہ؟
وہ اس ملک کو نوچ کر، لوٹ کر، بیرونِ ملک محلات کے مالک بن گئے۔
پھر بھی ہم نے کچھ نہ کہا…
لیکن آج؟
آج ہمیں ہی غدار سمجھا جا رہا ہےکہتے وفاداریاں دکھاؤ کیسے؟
یہ صرف سوال نہیں… یہ دل کا درد ہے۔
کشمیری کھڑے ہو چکے ہیں…
اب شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم سب بھی کھڑے ہو جائیں۔
کیونکہ ہم تھک چکے ہیں…
اور وہ اب بھی عیش میں ہیں۔
Raise your voice we are one