Radio Pakistan Rawalpindi

Radio Pakistan Rawalpindi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Radio Pakistan Rawalpindi, Government Organization, Radio Pakistan, 303, Peshawar Road, Rawalpindi.

Radio Pakistan Rawalpindi was established on 1st September 1950 to cater the needs of Pothohar region by providing education,information and entertainment.This Station explores and presents Pothohari folk music,literature,culture,norms of the region. Through its various programs ,Radio Pakistan Rawlpindi has created awareness in the masses to become socially responsible citizens.Its a public broad

caster and has got diverse listening from urban and rural areas of Rawlpindi and adjacent cities.We present different programs for all age groups,students/youth,minorities etc

پاکستان کا 79واں یومِ آزادی۔۔۔۔۔آٹھ دن باقی
06/08/2026

پاکستان کا 79واں یومِ آزادی۔۔۔۔۔
آٹھ دن باقی







https://www.facebook.com/share/p/1JhAG2bkGh/?mibextid=wwXIfr
05/08/2026

https://www.facebook.com/share/p/1JhAG2bkGh/?mibextid=wwXIfr

بارود: جو شیر شاہ سوری کی کامیابی اور موت دونوں کا سبب بنا

اُس کا اَصل نام "فرید خان" تھا، اور وہ غور (افغانستان) کے ایک قبیلے "سُور" کا ایک عام سا فرد تھا۔

فارسی لغات میں "سُور" اُس خاکستری مائل گھوڑے، خچر یا گدھے کو کہا گیا ہے جس کی کاکل سے دُم تک سیاہ دھاری کھنچی ہو۔ (بحوالہ: “لغت نامۂ دہخدا”، ڈیجیٹل ایڈیشن) قیاس یہ ہے کہ چونکہ اِس قبیلے کے پاس اِسی مخصوص رنگت کے گھوڑے یا خچر کثرت سے تھے، چنانچہ اِسی نسبت سے یہ قبیلہ "سُور" اور اِس کے افراد "سُوری" کہلائے جانے لگے۔ تاہم اِس توجیہہ کی کوئی صریح تاریخی شہادت دستیاب نہیں۔

فرید خان کو اپنی ذاتی جاگیر یا کاروبار نہ ہونے کے سبب اپنی عملی زندگی کا آغاز جونپور کے جمال خان کی ملازمت سے کرنا پڑا، جو ایک پرگنے کی نگرانی پر مشتمل تھی۔ اپنی اِس ملازمت سے بہتر نوکری کی تلاش میں وہ جونپور سے بہار آ گیا اور وہاں حاکمِ بہار کی ملازمت اختیار کر لی۔

ایک روز دَورانِ شِکار ایک شیر اچانک حاکمِ بِہار، سُلطان مُحمّد (اَصل نام: پَہاڑ خان)، کے سامنے آ گیا۔ فَرید خان نے دِلیری کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے نِیام سے تَلوار کھینچی اور شیر پر حَملہ کر کے اُسے مار ڈالا۔ سُلطان مُحمّد اُس کی جُرأت سے بے حد مُتأثّر ہوا اور اُسے “شیر خان” کا خِطاب دے دیا۔ ساتھ ہی اپنے بیٹے جَلال خان کی نِیابت بھی اُس کے سُپرد کر دی، اور یوں وہ تَرقّی پا کر “فَرید خان” سے “شیر خان” بن گیا۔ (بحَوالہ: “تاریخِ شیر شاہی”، ص: ۲۶)

۱۵۲۶ء میں جب مُغَل بادشاہ ظہیرُ الدِّین مُحمّد بابر ہِندوستان میں وَارِد ہوا تو یہ شیر خان حاکمِ بِہار کی مُلازمت سے بہتر وسیلہ روزگار کی تلاش میں اُس کے دَربار میں بھی پہنچا۔ ایک دَعوتِ طَعام میں شاہی دَسترخوان پر مچھلی پیش کی گئی تو دَرباری آداب سے ناواقف ہونے کے باعث اُس نے اپنے خَنجر سے مچھلی کاٹنا شروع کر دی۔ بابر نے یہ مَنظر دیکھا تو اپنے مُعتمَدین سے اِس اَفغان کی غیر معمولی حَرکت کا ذِکر کیا۔ شیر خان سادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اِتنا مُحتاط بھی تھا کہ بابر کی اپنے مُعتمَدین کے ساتھ اُس کے مچھلی کھانے کے مُعاملے میں ہونے والی کانا پھوسی دیکھ کر اُسے اَندیشہ ہوا کہ بابر اُس کے خِلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنا چاہتا ہے؛ چُنانچہ وہ خاموشی سے وہاں سے نکل آیا اور سَسرام پہنچ کر سانس لیا۔

گو کہ شیر خان ۲۱ اَپریل ۱۵۲۶ء کو ظہیرُ الدِّین مُحمّد بابر اور سُلطان اِبراہیم لودھی کے مابَین ہونے والی جَنگ میں عَمَلی طور پر شریک نہیں تھا، تاہم اُس جَنگ نے اُس کی شَخصیّت پر کئی گہرے اَثرات مُرتّب کیے۔ اَوّل: اُس نے بابر کی کامیابی اور اِبراہیم لودھی کی ناکامی کی وُجوہات کا عَسکری اُمور کے کسی شائِق طالبِ عِلم کی مانند نِہایت عَمیق مُطالَعہ کیا اور اُس کے نَتائِج کو اپنی باقی ماندہ زِندگی کے لیے مَشعلِ راہ بنا لیا۔ دُوم: خُود ایک اَفغان ہونے کی حَیثیّت سے اُس نے اپنے ایک “اَفغان بھائی” (اِبراہیم لودھی) کی شِکست کو اپنے دِل پر لیا۔ سُوم: اُس نے اپنے تئیں مُغَلوں کو غاصِب سمجھ کر اُنہیں ہِندوستان سے باہر نِکال دینے کا عَزمِ مُصمَّم کر لیا۔ (بحَوالہ: “تاریخِ شیر شاہی”، ص: ۶۳)

شیر خان نے بابر اور اِبراہیم لودھی کے مابَین ہونے والی جَنگِ پانی پَت سے جو بُنیادی نُکتہ سیکھا، وہ بارود کے بہترین اور بَروقت اِستعمال سے مُتعلّق تھا۔

شیر خان کی رائے یہ تھی کہ بابر نے بارود سے چلنے والی عُثمانی طرز کی توپوں اور فَتیلہ دار بندوقوں کے زور پر سُلطان اِبراہیم لودھی کی رِوایتی جَنگی حِکمتِ عَمَلی کو ناکام بنا کر اُسے شِکست سے دُوچار کیا تھا۔مثال کے طور پر لودھی سِپاہ کا ایک بڑا مُؤثّر عُنصر اُس کے جَنگی ہاتھی تھے، لیکن جب اِن ہاتھیوں نے مُغَل توپوں سے داغے گئے گولوں کے دَھماکے پہلی مرتبہ سُنے تو وہ خَوف زَدہ ہو کر اپنی ہی صَفّوں میں گھس گئے اور اپنے ہی لَشکر کو روندنے لگے۔

چنانچہ اِبراہیم لودھی کی شِکست کے جملہ اسباب کو پیش نظر رکھ شیر خان کو یَقین ہو گیا کہ اب ہِندوستان میں آئِندہ کسی بھی جَنگ کو جیتنے کے لیے صرف ہاتھی، تَلوار اور نَیزہ کافی نہیں ہوں گے؛ اب بارود اور توپ خانے کا کِردار ہی فَیصلہ کُن ہو گا۔

شیر خان سمجھتا تھا کہ اگر اِبراہیم لودھی کے پاس (بابر کی طرح کا) بارود ہوتا تو پانی پَت کا میدان کبھی بابر کے ہاتھ نہ لگتا۔ چُنانچہ اُس نے اپنی تَوسیع پَسند طَبیعت کو پہلے “اِبراہیم لودھی کی غَلطیوں سے سَبَق یافتہ اَفغان” کے سانچے میں ڈھالا اور پھر مغلوں کو ہندوستان سے چلتا کرنے کے اپنے منصوبے کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔

۱۵۳۰ء میں شیر خان کے گھُڑسواروں کی تَعداد چھ ہزار تھی جسے اس نے ۱۵۳۷ء میں بڑھا کر ستّر ہزار تک پہنچایا۔ تاہم اُس کی اَصل توجہ ، بارود کے وافِر ذَخیرے اور اُس کے دُرست اِستعمال پر ہی مرکوز رہی۔

اگر بنگاہِ حقیقت دیکھا جائے تو یہ بارود ہی تھا جس کو اپنی اَصل عَسکری طاقت بناتے ہوئے شیر خان نے پہلے بِہار اور پھر بَنگال، قَنّوج اور آگرہ کو زیرِ نِگیں کیا اور پھر آخِر میں ۱۵۴۰ء میں دِہلی پر بھی قَبضہ کر لیا۔ اب وہ “شیر خان” نہیں، “شیر شاہ” تھا؛ “خاندانِ سُوریہ” کا پہلا بادشاہِ ہِند، جس نے بابر کے بیٹے نَصیرُ الدِّین ہُمایوں سے بِزورِ شَمشیر اِقتدار چھینا تھا۔

فَرید خان کا “شیر شاہ” کے طور پر ۱۷ مئی ۱۵۴۰ء کو ہِندوستان کی زِمامِ اِقتدار سنبھالنا تاریخِ ہِند کا ایک اَہم واقعہ شُمار کیا جاتا ہے، جس نے بڑی حد تک یہاں کے اِنتظامی، عَسکری، مالیاتی اور مُواصَلاتی نِظام کے خَدّوخال کو بدلا۔ تاہم فَرید خان کو قُدرت سے یہ شِکوہ رہا کہ وہ اُس پر تب مِہربان ہوئی جب وہ بُڑھاپے میں قَدم رکھ چُکا تھا۔ اپنی شاہی کے اِبتدائی دِنوں میں ایک دَفعہ آئینے میں اپنے سفید بال دیکھ کر بے اِختیار بولا: ”اَفسوس! تَخت مجھے اُس وَقت ملا، جب میری عُمر کا سُورج غُروب ہونے کو ہے۔“ (بِحَوالہ: کیمبرج ہِسٹری آف اِنڈیا، ص: ۴۳۷)

اگر شیر شاہ سُوری کی عَسکری کامیابیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ گھُڑسوار دَستوں کو مَضبوط کرنے اور نَقد تَنخواہوں کا نِظام مُستحکم کرنے کے کہیں بڑھ کر بَندوقچیوں کے مُستقل دَستے تیار کرنے، بارود کے گولے اور بارود کی مَدد سے لوہے، سیسے اور دِیگر دَھاتوں کی گولے پھینکنے والی ہَلکی اور بھاری توپیں بنوانے اور بارود کے بُنیادی عَناصِرِ تَرکیبی (شُورے اور گَندھک) کی تَرسیلی کَڑی کے بِلا تَعَطُّل ہونے کے مَرهُونِ مِنّت نظر آتی ہیں۔

اِسی لیے کُچھ مُؤرِّخین کی رائے یہ ہے کہ شیر شاہ نے حَقیقی مَعانی میں “بارود” اور اُس سے جُڑی جَنگی مَشینری کی طاقت کی بُنیاد پر “سُوری سَلطنت” یا “سُوری بادشاہت” کی بُنیاد رکھی تھی۔

شیر شاہ کے زَمانے میں بارود تین بُنیادی اَجزاء (شُورہ، گَندھک اور لکڑی کے کوئلے) سے تیار ہوتا تھا۔ اِن میں سب سے اَہم جُز شُورہ (Saltpetre) تھا، اور اِتّفاق سے بِہار، جہاں سے شیر شاہ نے اپنی سِیاسی زِندگی کا آغاز کیا، پُورے بَرِّصغیر میں شُورے کی پَیداوار کا سب سے بڑا مَرکز تھا۔ اِس طرح اُسے بارود کے بُنیادی خام مال تک بَراہِ راست رَسائی حاصل تھی۔ کوئلہ بھی مَقامی طور پر عام دَستیاب تھا۔ گَندھک کے تاجِروں کو کیونکہ شیر شاہ کی اَفسر شاہی کے مُتعلّقہ دَفاتر سے اُن کے مال کی نَقد اَدائیگی ہو جاتی تھی، اِس لیے یہ جِنس بھی بارود کی تَیاری کے لیے ہَمہ وَقت وافِر مِقدار میں مَوجود رہتی تھی۔

بارود کی وافِر دَستیابی کے باعث شیر شاہ نے ہِندوستان میں فَنِّ توپ سازی کو باقاعدہ طور پر مُنظّم کیا۔ “ضَرب زَن” کہلانے والی ہَلکی اور مُتحرّک توپوں میں نِسبتاً کم تانبا اِستعمال ہوتا تھا اور اُن کی نال باریک رکھی جاتی تھی تاکہ یہ کم بارود سے چھوٹے دَھاتی گولے داغ سکیں۔ دو یا تین توپچی اُنہیں فصیلوں پر آسانی سے نَصب کر کے چلا سکتے تھے۔ اِس کے ساتھ مُحاصروں کے لیے بھاری توپیں بھی تیار کی گئیں۔

شیر شاہ کی مُتعارف کردہ ہَلکی اور کم خَرچ توپوں کا یہ تَصوّر اِتنا مُؤثّر ثابت ہوا کہ اَکبر کے عَہد میں بھی اِسی نَوع کی مُتحرّک توپیں مَقبول رہیں۔

شیر شاہ کے توپ خانے کی تَرقّی کا ایک اَہم ثُبوت آج بھی مَحفوظ توپوں اور اُن پر کَندہ فارسی کُتبوں کی صُورت میں مَوجود ہے۔ اَندور، ڈھوبیلا، وَریندر رِیسرچ میوزیم راجشاہی اور بَنگلہ دیش کے قَومی عَجائب گھر میں شیر شاہی توپوں کے مُتعدّد نَمونے مَحفوظ ہیں۔ بَنگال سے ملنے والی بعض توپوں پر ۹۴۸ھ تا ۹۴۹ھ (۱۵۴۱ء تا ۱۵۴۳ء) کے سِنین دَرج ہیں۔ اُن کے کُتبوں میں توپ ساز کا نام “سَیّد اَحمد رُومی” اور ایک نَمونے پر اُن کی تَیاری کا حُکم دینے والے اَفسر کا نام “خواجہ بِشارت سُلطانی” دَرج ہے۔

مَذکورۂ بالا توپوں میں سے بعض کے دَہانے شیر کے کُھلے ہوئے مُنہ کی مانِند ڈھالے گئے تھے، جو اُس دَور کی دَھات کاری اور توپ سازی کے اَعلیٰ مِعیار کی نِشان دِہی کرتے ہیں۔ جَدید مُحقّقین “ سید اَحمد رُومی” کو عُثمانی رِوایت سے وابَستہ توپ ساز قرار دیتے ہیں؛ چُنانچہ اُس کے نام کے ساتھ “رُومی” کی نِسبت مَحض جُغرافیائی لَقَب نہیں بلکہ عُثمانی توپ سازی سے اُس کے فَنّی تَعلّق کی بھی عَلامت مَعلوم ہوتی ہے۔

توپوں کے عِلاوہ بارود سے چلنے والی “فَتیلہ دار بَندوقیں”، جِنہیں بَرِّصغیر میں “توڑے دار بَندوقیں” بھی کہا جاتا تھا، شیر شاہ کی جَنگی مَشینری کا ایک اَہم حِصّہ بنیں۔ اُس نے بَندوقچیوں کے باقاعدہ دَستے قائم کیے اور اُنہیں اَہم قِلعوں اور فَوجی مَراکِز میں مُستقل طور پر تَعینات کیا۔ہمعصر تاریخی ماخذات سے اَخذ کردہ جَدید تَخمینے کے مُطابق شیر شاہ کے زیرِ خِدمت بَندوقچیوں کی مَجموعی تَعداد پچّیس سے ستّائیس ہزار کے دَرمیان تھی، تاہم یہ سب اُس کی مَرکزی سِپاہ میں یَکجا نہیں تھے بلکہ سَلطنت کے مُختلف قِلعوں اور چھاؤنیوں میں تَقسیم تھے۔

شیر شاہ نے اپنی مُتعدّد مَیدانی لَڑائیوں میں فَتیلہ دار بَندوقوں اور ہَلکی توپوں سے کام لیا، جبکہ مَضبوط قِلعوں کی تَسخیر کے لیے وہ بھاری تانبے کی توپوں اور بارود سے بھرے آتَشیں گولوں کا بھی اِستعمال کرتا رہا۔ دُوسرے لَفظوں میں، اُس نے بارود کو ایک مُنظّم رِیاستی اور عَسکری قُوّت میں تَبدیل کیا۔

رائے سَین کے قِلعے کا مُحاصرہ جب طُول پکڑنے لگا تو شیر شاہ نے حُکم دیا کہ لَشکر کے بازاروں، سِپاہیوں کے ڈَیروں اور کھانے پینے کے بَرتنوں میں مَوجود تمام تانبا جمع کر لیا جائے اور اُس سے بھاری توپیں ڈھالی جائیں۔ حُکم کی تَعمیل میں دَستیاب تانبا جمع کیا گیا اور مَوقع ہی پر توپیں تیار کی گئیں۔ جب یہ توپیں تیار ہو گئیں تو شیر شاہ نے حُکم دیا کہ قِلعے کی فَصیل کو چاروں طرف سے ایک ہی وَقت میں گولہ باری کا نِشانہ بنایا جائے۔ “تاریخِ شیر شاہی” کے مُطابق، شَدید گولہ باری سے قِلعے کی دِیواروں میں جگہ جگہ شِگاف پڑ گئے، جس سے پُورن مَل خَوف زَدہ ہوا اور بالآخِر قِلعہ شیر شاہ کے حَوالے کرنے پر آمادہ ہو گیا۔

اِس واقعے سے مَعلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ کی فَوج مُحاصرے کے دَوران مَقامی طور پر دَستیاب دَھات جمع کر کے مَوقع ہی پر بھاری توپیں تیار کرنے اور اُنہیں فَوری طور پر قِلعہ شِکنی کے لیے اِستعمال کرنے کی صَلاحیّت رکھتی تھی۔ (بِحَوالہ: “تاریخِ شیر شاہی”، ص: ۲۱۲)

رائے سَین کی فَتح کے بعد شیر شاہ نے اپنی فَوجی تَوَجُّہ کالِنجر کے مَضبوط قِلعے کی طرف مَبذول کی۔ تاہم بَدقِسمتی سے یہ اُس کی آخِری فَوجی مُہم ثابت ہوئی۔ کالِنجر کے مُحاصرے میں بھی بَندوقوں اور بارود سے بھرے آتَشیں گولوں کا اِستعمال کیا گیا۔ شیر شاہ نے قِلعے کی فَصیلوں پر یہ گولے پھینکنے کا حُکم دیا تاکہ اندر آگ لگائی جا سکے اور مُدافِعین کی مُزاحمت توڑی جا سکے۔

مُحاصرے کے دَوران بارود سے بھرا ایک آتَشیں گولا قِلعے کی فَصیل سے ٹکرایا اور پَلٹ کر اُس مَقام پر آ گرا جہاں ایسے گولوں اور بارود کا بڑا ذَخیرہ مَوجود تھا۔ اُس کے گِرتے ہی ذَخیرے نے آگ پکڑ لی اور یَکے بعد دِیگرے زَبردست دَھماکے ہونے لگے۔ شیر شاہ بھی اِن دَھماکوں کی زَد میں آ کر بُری طرح جُھلس گیا۔

شَدید زَخمی ہونے کے باوُجود شیر شاہ نے حَملہ روکنے کے بَجائے اپنے اُمَرا کو حُکم دیا کہ میرے زِندہ رہتے ہوئے قِلعہ فَتح کرو۔ اُس کے حُکم پر اَفغان سِپاہ ہر طرف سے قِلعے پر ٹوٹ پڑی اور دَوپہر تک کالِنجر فَتح کر لیا گیا۔

فَتح کی خَبر سُن کر شیر شاہ کے چِہرے پر خُوشی کی لَہر دَوڑ گئی، لیکن بارود سے لگنے والے زَخم جان لَیوا ثابت ہوئے اور ۲۲ مئی ۱۵۴۵ء کی نِصف شَب کے بعد اُس کا اِنتقال ہو گیا۔

یوں تاریخ نے ایک عَجیب مَنظر دیکھا کہ شیر شاہ سُوری نے جس بارود کو اپنی سَلطنت کے حُصول اور پھر اُس کے اِستحکام کے لیے اِستعمال کیا، وہی بارود اُس کی زِندگی کے خاتِمے کی سَبیل بنا۔

تَلوار نے “فَرید خان” کو “شیر خان” بنایا اور بارود نے “شیر خان” کو “شیر شاہ” بنایا، مگر اَمرِ اِلٰہی، جو نہیں ٹل سکتا، کہ یہی بارود بالآخِر شیر شاہ کی مَوت کا سَبب بنا۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی، ریڈیو پاکستان







Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Dera Ismail Khan Radio Pakistan Gilgit FM93 Radio Pakistan Rawalpindi University of Peshawar University of Oxford Allama Iqbal Open University FM101abbottabad Bahria University Radio Pakistan Bhitshah FM 101.4 MHz Radio Pakistan Khairpur FM 101 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN Anjuman Daira-tul-Islam Welfare Association Sindh Registered Radio Pakistan FM93 Faisalabad

05/08/2026

جشن آزادی کی تیاریاں
رپورٹ
وانیہ رضوان ۔ انٹرن
فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی ۔
سپر وائزر سینیئر پروڈیوسر مہ وش راجہ

05/08/2026

program: Raabta
Topic :Yome Istehsale Kashmir
Guest : Abid Abbassi , Finance Secretary National press club Islamabad
Host : Farukh Qaseem
Producer:Roohi Bano

05/08/2026
05/08/2026

یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے معروف تاریخ دان اور اسکالر ڈاکٹر ریاض احمد کی خصوصی گفتگو۔۔۔۔۔


05/08/2026


04/08/2026

Program : Raabta
Topic Yome Istehsale Kashmir
Guest: Farooq Rehmani Senior Leader APHC,
Ex Convenor APHC AJK
Producer: Roohi Bano

04/08/2026

Program: Raabta
Topic Yome Istehsale Kashmir
Guest : Zahid Mujtaba Senior Leader APHC
Producer: Roohi Bano۔






Address

Radio Pakistan, 303, Peshawar Road
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radio Pakistan Rawalpindi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Radio Pakistan Rawalpindi:

Shortcuts

Share